53- بَاب فِي خِيَارِ الْمُتَبَايِعَيْنِ
۵۳-باب: بیچنے اور خریدنے والے کے اختیار کا بیان
3454- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، إِلا بَيْعَ الْخِيَارِ >۔
* تخريج: خ/البیوع ۴۲ (۲۱۰۷)، ۴۳ (۲۱۰۹)، ۴۴ (۲۱۱۱)، ۴۵ (۲۱۱۲)، ۴۶ (۲۱۱۳)، م/البیوع ۱۰ (۱۵۳۱)، (تحفۃ الأشراف: ۸۳۴۱، ۸۲۸۲)، وقد أخرجہ: ت/البیوع ۲۶ (۱۲۴۵)، ق/التجارات ۱۷ (۲۱۸۱)، ط/البیوع ۳۸ (۷۹)، حم (۲/۴، ۹، ۵۲، ۵۴، ۷۳، ۱۱۹، ۱۳۵) (صحیح)
۳۴۵۴- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’بائع اور مشتری میں سے ہر ایک کو بیع قبول کرنے یا رد کرنے کا اختیارہوتا ہے جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں ۱؎مگر جب بیع خیا ر ہو ‘ ‘ ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی عقد کو فسخ کرنے سے پہلے مجلس عقد سے اگر بائع اور مشتری دونوں جسمانی طور پر جدا ہوگئے تو بیع لازم ہو جائے گی اس کے بعد ان دونوں میں سے کسی کو فسخ کا اختیار حاصل نہیں ہوگا ۔
وضاحت ۲؎ : یعنی خیار کی شرط کر لی ہو تو مجلس علیحد گی کے بعد بھی شروط کے مطابق خیار باقی رہے گا۔
3355-حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْماَعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: أَوْ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: اخْتَرْ۔
* تخريج: خ/ البیوع ۴۳ (۲۱۰۹)، م/ البیوع ۱۰ (۱۵۳۱)، (تحفۃ الأشراف: ۷۵۱۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴، ۷۳) (صحیح)
۳۴۵۵- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں یوں ہے: ’’یا ان میں سے کوئی اپنے ساتھی سے کہے
’’اخْتَرْ‘‘ یعنی لینا ہے تو لے لو، یا دینا ہے تو دے دو(پھر وہ کہے: لے لیا، یا کہے دے دیا، تو جدا ہونے سے پہلے ہی اختیار جاتا رہے گا)‘‘۔
3456- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ مَالَمْ يَفْتَرِقَا، إِلا أَنْ تَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ، وَلا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَ صَاحِبَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ >۔
* تخريج: ت/البیوع ۲۶ (۱۲۴۷)، ن/البیوع ۹ (۴۴۸۸)، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۸۳) (حسن)
۳۴۵۶- عبداللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’ خر ید و فروخت کر نے والے دونوں جب تک جدا نہ ہوں معاملہ ختم کر دینے کا اختیار رکھتے ہیں ، مگر جب بیع خیار ہو،( تو جدا ہو نے کے بعد بھی واپسی کا اختیار باقی رہتا ہے)، با ئع و مشتری دونوں میں سے کسی کے لئے حلال نہیں کہ چیز کو پھیر دینے کے ڈر سے اپنے ساتھی کے پاس سے اٹھ کر چلا جائے‘‘۔
3457- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْوَضِيئِ، قَالَ: غَزَوْنَا غَزْوَةً لَنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلا، فَبَاعَ صَاحِبٌ لَنَا فَرَسًا بِغُلامٍ، ثُمَّ أَقَامَا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمَا وَلَيْلَتِهِمَا، فَلَمَّا أَصْبَحَا مِنَ الْغَدِ حَضَرَ الرَّحِيلُ فَقَامَ إِلَى فَرَسِهِ يُسْرِجُهُ فَنَدِمَ، فَأَتَى الرَّجُلَ وَأَخَذَهُ بِالْبَيْعِ، فَأَبَى الرَّجُلُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَبُو بَرْزَةَ صَاحِبُ النَّبِيِّ ﷺ، فَأَتَيَا أَبَا بَرْزَةَ فِي نَاحِيَةِ الْعَسْكَرِ، فَقَالا لَهُ هَذِهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ: أَتَرْضَيَانِ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَكُمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا > قَالَ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ: حَدَّثَ جَمِيلٌ أَنَّهُ قَالَ: مَا أَرَاكُمَا افْتَرَقْتُمَا۔
* تخريج: ق/التجارات ۱۷ (۲۱۸۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۹۹)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۲۵) (صحیح)
۳۴۵۷- ابو الو ضی کہتے ہیں: ہم نے ایک جنگ لڑ ی ایک جگہ قیام کیا تو ہمارے ایک ساتھی نے غلام کے بدلے ایک گھوڑا بیچا، اور معاملہ کے وقت سے لے کر پورا دن اور پوری رات دونوں وہیں رہے ، پھر جب دوسرے دن صبح ہوئی اور کوچ کا وقت آیا، تو وہ ( بیچنے والا) اٹھا اور( اپنے) گھوڑے پر زین کسنے لگا اسے بیچنے پر شرمندگی ہوئی( زین کس کر اس نے واپس لے لینے کا ارا دہ کر لیا) وہ مشتری کے پاس آیا اوراسے بیع کو فسخ کرنے کے لئے پکڑا تو خریدنے والے نے گھوڑا لوٹانے سے انکار کر دیا ، پھر اس نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان ر سول ﷺکے صحابی ابوبرزہ رضی اللہ عنہ موجود ہیں( وہ جو فیصلہ کر دیں ہم مان لیں گے) وہ دونوں ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اس وقت ابو برزہ لشکر کے ایک جانب ( پڑائو ) میں تھے ، ان دونوں نے ان سے یہ وا قعہ بیان کیا تو انہوں نے ان دونوں سے کہا: کیا تم اس با ت پر راضی ہو کہ میں تمہارے درمیان رسول اللہﷺ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کردوں؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے:’’ دونوں خریدو فروخت کر نے والوں کو اس وقت تک بیع فسخ کر دینے کا اختیار ہے ، جب تک کہ وہ دونوں ( ایک مجلس سے) جدا ہو کر ادھر ادھر نہ ہو جائیں‘‘۔
ہشام بن حسان کہتے ہیں کہ جمیل نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا :میں سمجھتا ہوں کہ تم دونوں جدا نہیں ہوئے ہو ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : چونکہ یہ دونوں اسی جگہ ٹھہرے رہے جہاں آپس میں خرید وفروخت کا معاملہ ہوا تھا اور ایجاب وقبول کے بعد دونوں جسمانی طور پر جدا نہیں ہوئے بلکہ ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اپنا معاملہ بھی ایک ساتھ ہو کر لائے اسی لئے انہوں نے بیچنے والے کے حق میں فیصلہ دیا ، اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ صحابی رسول ﷺ آپ کے قول
’’ما لم يتفرقا‘‘ کو
’’تفرق بالأبدان‘‘ پر مجہول کرتے تھے نہ کہ تفرق بالا قوال پر ۔
3458- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْجَرْجَرَائِيُّ، قَالَ: مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ أَخْبَرَنَا، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ قَالَ: كَانَ أَبُو زُرْعَةَ إِذَا بَايَعَ رَجُلا خَيَّرَهُ، قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ: خَيِّرْنِي، وَيَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَاهُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا يَفْتَرِقَنَّ اثْنَانِ إِلا عَنْ تَرَاضٍ>۔
* تخريج: ت/البیوع ۲۷ (۱۲۴۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۹۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۵۳۶) (حسن صحیح)
۳۴۵۸- یحییٰ بن ایوب کہتے ہیں: ابو زرعہ جب کسی آدمی سے خر ید و فروخت کرتے تو اسے اختیار دیتے اور پھر اس سے کہتے: تم بھی مجھے اختیار دے دو اور کہتے: میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’دو آدمی جب ایک ساتھ ہوں تو وہ ایک دوسرے سے علا حدہ نہ ہوں مگر ایک دوسرے سے راضی ہو کر‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : چا ہے وہ کلاس کے دو ساتھی ہوں یا ٹرین و بس کے دو ہم سفر، یا با ئع و مشتری ہوں یا کوئی اور انہیں ایک دوسرے سے علیحدہ اس طرح ہونا چاہئے کہ وہ ایک دوسرے سے خوش ہوں۔
3459- حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا مُحِقَتِ الْبَرَكَةُ مِنْ بَيْعِهِمَا >.
قَالَ أَبو دَاود: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ وَحَمَّادٌ، وَأَمَّا هَمَّامٌ فَقَالَ: < حَتَّى يَتَفَرَّقَا أَوْ يَخْتَارَ ثَلاثَ مِرَارٍ >۔
* تخريج: خ/البیوع ۱۹ (۲۰۷۹)، ۲۲ (۲۰۸۲)، ۴۲ (۲۱۰۸)، ۴۴ (۲۱۱۰)، ۴۶ (۲۱۱۴)، م/البیوع ۱ (۱۵۳۲)، ت/البیوع ۲۶ (۱۲۴۶)، ن/البیوع ۴ (۴۴۶۲)، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۲۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۰۲، ۴۰۳، ۴۳۴) (صحیح)
۳۴۵۹- حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :’’ بائع اور مشتری جب تک جدا نہ ہوں دونوں کو بیع کے با قی رکھنے اور فسخ کر دینے کا اختیار ہے ، پھر اگر دونوں سچ کہیں اور خوبی و خرابی دونوں بیان کر دیں تو دونوں کے اس خرید وفروخت میں برکت ہوگی اور اگر ان دونوں نے عیوب کو چھپایا، اور جھوٹی باتیں کہیں تو ان دونوں کی بیع سے برکت ختم کردی جائے گی‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ اور حماد نے روایت کیا ہے ، لیکن ہمام کی روایت میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ با ئع ومشتری کو اختیار ہے جب تک کہ دونوں جدا نہ ہوں ، یا دونوں تین مرتبہ اختیار کی شرط نہ کر لیں‘‘۔