76- بَابٌ فِي الرَّجُلِ يفْلس فَيَجِدُ الرَّجُل مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ [عِنْدَهُ]
۷۶-باب: آدمی مفلس (دیوالیہ) کے پاس اپنا سامان بعینہ پائے تو اس کا زیادہ حق دار وہی ہوگا
3519- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ (ح) وَحَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ -الْمَعْنَى- عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ [بْنِ مُحَمَّدِ] بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < أَيُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ فَأَدْرَكَ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ > ۔
* تخريج: خ/الاستقراض ۱۴ (۲۴۰۲)، م/المساقاۃ ۵ (۱۵۵۹)، ت/البیوع ۲۶ (۱۲۶۲)، ن/البیوع ۹۳ (۴۶۸۰)، ق/الأحکام ۲۶ (۴۳۵۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۸۶۱)، وقد أخرجہ: ط/البیوع ۴۲ (۸۸)، حم (۲/۲۲۸، ۴۷، ۴۹، ۲۵۸، ۴۱۰، ۴۶۸، ۴۷۴، ۵۰۸)، دی/ البیوع ۵۱ (۲۶۳۲) (صحیح)
۳۵۱۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’ جو کوئی مفلس ہوجائے، پھر کوئی آدمی اپنا مال اس کے پاس ہو بہو پائے تو وہ ( دوسرے قرض خواہوں کے مقابل میں) اسے واپس لے لینے کا زیادہ مستحق ہے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اس باب کی احادیث کی روشنی میں علماء نے کچھ شرائط کے ساتھ ایسے شخص کو اپنے سامان کا زیادہ حقدار ٹھہرایا ہے جو یہ سامان کسی ایسے شخص کے پاس بعینہٖ پائے جس کا دیوالیہ ہوگیا ہو ، وہ شرائط یہ ہیں : (الف) سامان خریدار کے پاس بعینہٖ موجود ہو، (ب) یا پاجانے والا سامان اس کے قرض کی ادائیگی کے لئے کافی نہ ہو ، (ج) سامان کی قیمت میں سے کچھ بھی نہ لیا گیا ہو ، (د) کوئی ایسی رکاوٹ حائل نہ ہو جس سے وہ سامان لوٹایا ہی نہ جاسکے ۔
3520- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ مَتَاعًا فَأَفْلَسَ الَّذِي ابْتَاعَهُ وَلَمْ يَقْبِضِ الَّذِي بَاعَهُ مِنْ ثَمَنِهِ شَيْئًا فَوَجَدَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، وَإِنْ مَاتَ الْمُشْتَرِي فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ > ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۸۶۱) (صحیح)
(یہ روایت مرسل ہے ، پچھلی سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے )
۳۵۲۰- ابو بکر بن عبدالرحمن بن حا رث بن ہشام کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جس آدمی نے اپنا سامان بیچا اورخریدار مفلس ہوگیا، اور بیچنے والے نے اپنے مال کی کوئی قیمت نہ پا ئی ہو، اور اس کا سامان خریدار کے پاس بعینہٖ موجو د ہو تو وہ اپنا سامان واپس لے لینے کا زیادہ حق دار ہے ، اور اگر خریدار مر گیا ہو تو سامان والا دوسرے قرض خواہوں کی طرح ہے‘‘۔
3521- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ -يَعْنِي ابْنَ وَهْبٍ- أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ ابْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ، زَادَ: < وَإِنْ [كَانَ قَدْ] قَضَى مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ فِيهَا >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۳۵۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۸۶۱) (صحیح)
(یہ بھی مرسل ہے اور حدیث نمبر (۳۵۱۹) سے تقویت پاکر یہ بھی صحیح ہے)
۳۵۲۱- یونس، ابن شہاب سے روایت کرتے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ مجھے ابو بکر بن عبدالرحمن بن حا رث بن ہشام نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺنے…پھر آگے انہوں نے مالک کی حدیث جیسی روایت ذکر کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ اگر مشتری اس مال کی کسی قدر قیمت دے چکا ہے ، تو وہ مال والا دوسرے قرض خواہوں کے برابر ہو گا ۔
3522- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ [الطَّائِيُّ]، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عَبْدِالْجَبَّارِ -يَعْنِي الْخَبَايِرِيَّ- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ- عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، [قَالَ أَبو دَاود: وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ أَبُوالْهُذَيْلِ الْحِمْصِيُّ] عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَهُ، قَالَ: < فَإِنْ كَانَ قَضَاهُ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ، وَأَيُّمَا امْرِئٍ هَلَكَ [وَ] عِنْدَهُ مَتَاعُ امْرِئٍ بِعَيْنِهِ، اقْتَضَى مِنْهُ شَيْئًا أَوْ لَمْ يَقْتَضِ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ >.
[قَالَ أَبو دَاود: حَدِيثُ مَالِكٍ أَصَحُّ] ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۳۵۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۸۶۱) (صحیح)
۳۵۲۲- اس سند سے بھی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے،اس میں ہے: ’’اگر بائع نے اس کی قیمت میں سے کچھ پا لیا ہے تو باقی قرض کے سلسلہ میں وہ دیگر قرض خواہوں کی طرح ہوگا ،اور جو شخص مر گیا اور اس کے پاس کسی شخص کی بعینہٖ کوئی چیز نکلی تو اس میں سے اس نے کچھ وصول کیا ہو یا نہ کیا ہو، ہر حال میں وہ دوسرے قرض خواہوں کے برابر ہوگا‘‘۔
ابوداود کہتے ہیں:مالک کی روایت(بہ نسبت زبیدی کی روایت کے) زیادہ صحیح ہے۔
3523- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ [هُوَ الطَّيَالِسِيُّ]، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ خَلْدَةَ قَالَ: أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي صَاحِبٍ لَنَا أَفْلَسَ، فَقَالَ: لأَقْضِيَنَّ فِيكُمْ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ أَفْلَسَ أَوْ مَاتَ فَوَجَدَ رَجُلٌ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ >۔
* تخريج: ق/الأحکام ۲۶ (۲۳۶۰)، انظر حدیث رقم : (۳۵۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۲۶۹) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’ابو المعتمر بن عمرو بن رافع‘‘ مجہول ہیں )
۳۵۲۳- عمر بن خلدہ کہتے ہیں: ہم اپنے ایک ساتھی کے مقدمہ میں جو مفلس ہوگیا تھا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے کہا: میں تمہارا فیصلہ رسول اللہﷺ کے فیصلہ کے مطا بق کروں گا ،آپ ﷺ نے فرمایا ہے: ’’جو مفلس ہوگیا ،یا مر گیا، اور بائع نے اپنا مال اس کے پاس بعینہ موجود پایا تو وہ بہ نسبت اور قرض خواہوں کے اپنا مال واپس لے لینے کا زیا دہ حق دار ہے‘‘۔