- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
25- بَاب فِي جُلُوسِ الرَّجُلِ
۲۵-باب: آدمی کس طرح بیٹھے ؟
4846- حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ إِذَا جَلَسَ احْتَبَى بِيَدِهِ.
قَالَ أَبو دَاود: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ شَيْخٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۴۱۲۰) (صحیح)
۴۸۴۶- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بیٹھتے تھے تو اپنے ہاتھ سے احتباء کرتے تھے ۱؎ ۔
ابو داود کہتے ہیں: عبداللہ بن ابراہیم ایک ایسے شیخ ہیں جو منکر الحدیث ہیں۔
وضاحت ۱؎ : سرین زمین پر لگا کر دونوں پائوں کھڑے کر کے اور دونوں ہاتھوں سے پا ئوں پر حلقہ بنا کر بیٹھنے کو احتبا ء کہتے ہیں۔
4847- أَحْمَد بْن حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ ابْنُ حَسَّانَ الْعَنْبَريُّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتَايَ صَفِيَّةُ وَدُحَيْبَةُ ابْنَتَا عُلَيْبَةَ، قَالَ مُوسَى: بِنْتِ حَرْمَلَةَ، وَكَانَتَا رَبِيبَتَيْ قَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ، وَكَانَتْ جَدَّةَ أَبِيهِمَا أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُمَا أَنَّهَا رَأَتِ النَّبِيَّ ﷺ وَهُوَ قَاعِدٌ الْقُرْفُصَاءَ، فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ الْمُخْتَشِعَ، وَقَالَ مُوسَى: الْمُتَخَشِّعَ، فِي الْجِلْسَةِ أُرْعِدْتُ مِنَ الْفَرَقِ۔
* تخريج: ت/الإشتذان ۵۰ (۲۸۱۴)، الشمائل (۶۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۴۷) (حسن)
۴۸۴۷- قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا، ا ٓپ دونوں ہاتھ سے احتباء کرنے والے کی طرح بیٹھے ہوئے تھے تو جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو بیٹھنے میں مختشع اور موسی کی روایت میں ہے متخشع ۱؎ دیکھا تو میں خوف سے لرز گئی ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : ان دونوں لفظوں میں سے پہلا باب افتعال، اور دوسرا باب تفعل سے ہے، دونوں کے معنیٰ عاجزی اور گریہ وزاری کرنے والا ہے۔
وضاحت ۲؎ : یہ نور الٰہی کا اجلال تھا کہ عاجزی کے باوجود رسول اللہ ﷺ کا رعب دل میں اتنا زیادہ سما گیا۔