32- بَاب فِي كَفَّارَةِ الْمَجْلِسِ
۳۲-باب: مجلس کے کفارہ کا بیان
4857- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلالٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ: كَلِمَاتٌ لا يَتَكَلَّمُ بِهِنَّ أَحَدٌ فِي مَجْلِسِهِ عِنْدَ قِيَامِهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ إِلا كُفِّرَ بِهِنَّ عَنْهُ، وَلا يَقُولُهُنَّ فِي مَجْلِسِ خَيْرٍ وَمَجْلِسِ ذِكْرٍ إِلا خُتِمَ لَهُ بِهِنَّ عَلَيْهِ، كَمَا يُخْتَمُ بِالْخَاتَمِ عَلَى الصَّحِيفَةِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۸۱)، وقد أخرجہ: ت/الدعوات ۳۹ (۳۴۲۹)، حم (۲/۴۹۴) (صحیح) دون قولہ : '' ثلاث مرات''
۴۸۵۷- عبداللہ بن عمرو بن عا ص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ تین کلمے ایسے ہیں جنہیں کوئی بھی مجلس سے اٹھتے وقت تین مرتبہ پڑھے تو یہ اس کے لئے(ان گناہوں کا جو اس مجلس میں اس سے ہوئے) کفارہ بن جاتے ہیں، اور اگر انہیں نیکی یا ذکر الٰہی کی مجلس میں کہے گا تو وہ مانند مہر کے ہوں گے جیسے کسی تحریر یا دستاویز پر اخیرمیں مہر ہوتی ہے اور وہ کلمات یہ ہیں
''سبحانك اللهم وبحمدك، لا إله إلا أنت، أستغفرك وأتوب إليك'' (اے اللہ!تو پاک ہے ، اور تو اپنی ساری تعریفوں کے ساتھ ہے، نہیں ہے معبود برحق مگر تو ہی اور میں تجھی سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری ہی طرف رجو ع کرتا ہوں)۔
4858- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ عَمْرٌو: و حَدَّثَنِي بِنَحْوِ ذَلِكَ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، مِثْلَهُ۔
* تخريج: انظر ماقبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۸۱) (صحیح)
۴۸۵۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں ۔
4859- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْجَرْجَرَائِيُّ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، أَنَّ عَبْدَةَ بْنَ سُلَيْمَانَ أَخْبَرَهُمْ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ ديِنَارٍ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ بِأَخَرَةٍ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ مِنَ الْمَجْلِسِ: < سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ > فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَتَقُولُ قَوْلا مَا كُنْتَ تَقُولُهُ فِيمَا مَضَى، يَا رَسُوْلَ اللَّه، فَقَالَ: < كَفَّارَةٌ لِمَا يَكُونُ فِي الْمَجْلِسِ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۰۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۲۵)، دي/الاستئذان ۲۹ (۲۷۰۰) (حسن صحیح)
۴۸۵۹- ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مجلس سے اٹھنے کا ارا دہ کرتے ، تو آخر میں فرماتے:
''سبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ'' تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اب ایک ایسا کلمہ کہتے ہیں جو پہلے نہیں کہا کرتے تھے ، آپ نے فرمایا: ''یہ کفارہ ہے ان (لغزشوں) کا جو مجلس میں ہو جاتی ہیں''۔