• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
46- بَاب الْمُؤَاخَاةِ
۴۶-باب: بھائی چارے کا بیان​


4893- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لا يَظْلِمُهُ، وَلا يُسْلِمُهُ؛ مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ فَإِنَّ اللَّهَ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ >۔
* تخريج: خ /المظالم ۳ (۲۴۴۲)، الإکراہ ۷ (۶۹۵۱)، م/البر والصلۃ ۱۵(۲۵۸۰)، ت/الحدود ۳ (۱۴۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۶۸۷۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۹۱) (صحیح)
۴۸۹۳- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ''مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، وہ نہ (خود) اس پر ظلم کرتا ہے ، اور نہ اسے (کسی ظالم) کے حوالہ کرتا ہے ، جو شخص اپنے بھائی کی کوئی حاجت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے ، اللہ تعالی اس کی حاجت کی تکمیل میں لگا رہتا ہے ، اور جو کسی مسلمان کی کوئی مصیبت دور کرے گا ،تو اس کے بدلہ میں اللہ تعالی قیامت کے دن اس کے مصائب ومشکلات میں سے اس سے کوئی مصیبت دور فرما ئے گا ، اور جو کوئی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
47- بَاب الْمُسْتَبَّانِ
۴۷-باب: باہم گا لی گلوج کر نے والوں کا بیان​


4894- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ- عَنِ الْعَلاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالا فَعَلَى الْبَادِي مِنْهُمَا مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ >۔
* تخريج: ت/البر والصلۃ ۵۱ (۱۹۸۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۰۵۳)، وقد أخرجہ: م/البر والصلۃ ۱۸ (۲۵۸۷) (صحیح)
۴۸۹۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''باہم گالی گلوج کر نے والے جو کچھ کہتے ہیں اس کا گناہ اس شخص پر ہوگا جس نے ابتدا ء کی ہو گی جب تک کہ مظلوم اس سے تجاوز نہ کرے''( اگر وہ تجاوز کر جائے تو زیادتی وتجا وز کا گناہ اس پر ہوگا)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
48- بَاب فِي التَّوَاضُعِ
۴۸-باب: تواضع (خاکساری) کا بیان​
ٍ

4895- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّى لا يَبْغِيَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ وَلا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ >۔
* تخريج: ق/الزہد ۱۶ (۴۱۷۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۱۶) (صحیح)
۴۸۹۵- عیاض بن حما ر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' اللہ نے مجھ کو وحی کی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو یہاں تک کہ تم میں سے کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر فخر کرے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
49- بَاب فِي الانْتِصَارِ
۴۹-باب: بدلہ لینے کا بیان​


4896- حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْمُحَرَّرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ جَالِسٌ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ وَقَعَ رَجُلٌ بِأَبِي بَكْرٍ، فَآذَاهُ، فَصَمَتَ عَنْهُ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ آذَاهُ الثَّانِيَةَ، فَصَمَتَ عَنْهُ أَبُوبَكْرٍ، ثُمَّ آذَاهُ الثَّالِثَةَ، فَانْتَصَرَ مِنْهُ أَبُو بَكْرٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ حِينَ انْتَصَرَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَوَجَدْتَ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < نَزَلَ مَلَكٌ مِنَ السَّمَاءِ يُكَذِّبُهُ بِمَا قَالَ لَكَ، فَلَمَّا انْتَصَرْتَ وَقَعَ الشَّيْطَانُ، فَلَمْ أَكُنْ لأَجْلِسَ إِذْ وَقَعَ الشَّيْطَانُ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۹۷، ۱۳۰۵۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۳۶) (حسن لغیرہ)
(سعیدبن المسیب تابعی ہیں ، اس لئے یہ سندارسال کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن یہ حدیث آنے والی حدیث سے تقویت پاکرحسن ہے)
۴۸۹۶-سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ بھی تھے کہ اسی دوران ایک شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ سے الجھ پڑا اورآپکو ایذاء پہنچائی تو آپ اس پرخاموش رہے ، اس نے دوسری بار ایذاء دی ، ابو بکر اس بار بھی چپ رہے پھر اس نے تیسری بار بھی ایذاء دی تو ابو بکر نے اس سے بدلہ لے ، جب ابو بکر بدلہ لینے لگے تو رسول اللہ ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے ، ابو بکر نے عرض کیا : اللہ کے رسول! کیا آپ مجھ سے ناراض ہوگئے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا تھا، وہ ان باتوں میں اس کے قول کی تکذیب کر رہا تھا ، لیکن جب تم نے بدلہ لے لیا تو شیطان آپڑا پھر جب شیطان آپڑا ہو تو میں بیٹھنے والا نہیں‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اگرچہ بدلہ لینا جائز تھا، لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ صدیقیت کے جس بلند مرتبہ پر فائز تھے اس کے شایان شان نہیں تھا، اسی لئے نبی اکرمﷺ نے اسے مستحسن نہیں جانا اور آپ وہاں سے اٹھ آئے۔


4897- حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلا كَانَ يَسُبُّ أَبَا بَكْرٍ، وَسَاقَ نَحْوَهُ.
قَالَ أَبو دَاود: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ كَمَا قَالَ سُفْيَانُ ۔ *تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۰۵۰، ۱۸۶۹۵) (حسن)
۴۸۹۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ابو بکر رضی اللہ عنہ کو گالی دے رہا تھا، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔
ابو داود کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے صفوان بن عیسی نے ابن عجلا ن سے روایت کیا ہے جیسا کہ سفیان نے کیا ہے۔


4898- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي (ح) و حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ [بْنُ مُعَاذٍ]، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: كُنْتُ أَسْأَلُ عَنِ الانْتِصَارِ {وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ} فَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ امْرَأَةِ أَبِيهِ -قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَزَعَمُوا أَنَّهَا كَانَتْ تَدْخُلُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ- قَالَتْ: قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَعِنْدَنَا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ، فَجَعَلَ يَصْنَعُ شَيْئًا بِيَدِهِ، فَقُلْتُ بِيَدِهِ، حَتَّى فَطَّنْتُهُ لَهَا، فَأَمْسَكَ، وَأَقْبَلَتْ زَيْنَبُ تَقَحَّمُ لِعَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا، فَنَهَاهَا، فَأَبَتْ أَنْ تَنْتَهِيَ، فَقَالَ لِعَائِشَةَ: < سُبِّيهَا > فَسَبَّتْهَا، فَغَلَبَتْهَا، فَانْطَلَقَتْ زَيْنَبُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِي اللَّه عَنْه فَقَالَتْ: إِنَّ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا وَقَعَتْ بِكُمْ، وَفَعَلَتْ، فَجَائَتْ فَاطِمَةُ فَقَالَ لَهَا: < إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ > فَانْصَرَفَتْ، فَقَالَتْ لَهُمْ: أَنِّي قُلْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ لِي كَذَا وَكَذَا، قَالَ: وَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِي اللَّه عَنْه إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَكَلَّمَهُ فِي ذَلِكَ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۲۰)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۳۰) (ضعیف الإسناد)
۴۸۹۸- ابن عون کہتے ہیں: آیت کریمہ {وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ} ۱؎میں بدلہ لینے کا جو ذکر ہے اس کے متعلق میں پوچھ رہا تھا تو مجھ سے علی بن زید بن جد عان نے بیان کیا ،وہ اپنی سوتیلی ماں ام محمد سے روایت کر رہے تھے ،( ابن عون کہتے ہیں: لوگ کہتے ہیں کہ وہ (ام محمد) ام المو منین ۲؎کے پاس جا یا کرتی تھیں ) ام محمد کہتی ہیں: ام المومنین نے کہا: میرے پاس رسول اللہ ﷺ آئے ، ہمارے پاس زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا تھیں آپ اپنے ہاتھ سے مجھے کچھ چھیڑنے لگے ( جیسے میاں بیوی میں ہو تا ہے) تو میں نے ہاتھ کے اشارہ سے آپ کو جتاد یا کہ زینب بنت حجش بیٹھی ہوئی ہیں ، تو آپ رک گئے اتنے میں زینب آکر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے الجھ گئیں اور انہیں برا بھلا کہنے لگیں، تو آپ نے انہیں اس سے منع فرمایا لیکن وہ نہ ما نیں، تو آپ نے ام المومنین عائشہ سے فرمایا:’’ تم بھی انہیں کہو‘‘ ، تو انہوں نے بھی کہا اور وہ ان پر غالب آگئیں، تو ام المومنین زینب رضی اللہ عنہا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں، اور ان سے کہا کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے تمہیں یعنی بنوہاشم کو گالیاں دیں ہیں (کیونکہ ام زینب ہاشمیہ تھیں) پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا (نبی اکرمﷺ کے پاس ام المو منین عائشہ رضی اللہ عنہا کی شکایت کرنے) آئیں تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: قسم ہے کعبہ کے رب کی وہ(یعنی عائشہ) تمہارے والد کی چہیتی ہیں تو وہ لوٹ گئیں اور بنوہاشم کے لوگوں سے جاکر انہوں نے کہا: میں نے آپ سے ایسا اور ایسا کہا تو آپ نے مجھے ایسا اور ایسا فرمایا، اور علی رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرمﷺ کے پاس آپ سے اس سلسلے میں گفتگو کی۔
وضاحت ۱؎ : اور جو لوگ اپنے مظلوم ہونے کے بعد (برابر کا) بدلہ لے لیں تو ایسے لوگوں پر الزام کا کوئی راستہ نہیں (سورۃ الشوریٰ : ۴۱)
وضاحت ۲؎ : اس سے مرادام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
50- بَاب فِي النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى
۵۰-باب: مردوں کو برا بھلا کہنا منع ہے​


4899- حَدَّثَنَا [زُهَيْرُ] بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللّه عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ [وَ] لا تَقَعُوا فِيهِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۲۸۲)، وقد أخرجہ: الرقاق ۴۲ (۶۵۱۶)، ن/الجنائز ۵۲ (۱۹۳۸)، حم (۶/۱۸۰) (صحیح)
۴۸۹۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' جب تمہارا ساتھی (یعنی مسلمان جس کے ساتھ تم رہتے سہتے ہو) مر جائے تو اسے چھوڑ دو ۱؎ اس کے عیو ب نہ بیان کرو۔
وضاحت ۱؎ : یعنی اس کے سلسلہ میں کوئی ایسی بات نہ کہو جس سے اگر وہ زندہ ہوتا تو اسے تکلیف ہوتی۔


4900- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَنَسٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَطَاءِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ، وَكُفُّوا عَنْ مَسَاوِيهِمْ >۔
* تخريج: ت/الجنائز ۳۴ (۱۰۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۲۸) (ضعیف)
(عمران بن انس ضعیف راوی ہیں)
۴۹۰۰- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم اپنے مُردوں کی خوبیاں بیان کرو اور ان کی برائیاں بیان کر نے سے باز رہو'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : مرے ہوئے کافروں اور فاسقوں کی برائیوں کا ذکر اگر اس لئے کیا جائے تا کہ لوگ اس سے بچیں اور عبرت حاصل کریں توجائز ہے، اسی طرح سے ضعیف اور مجروح رواۃ حدیث پر جرح وتنفید بھی باتفاق علماء جائز ہے، خواہ وہ مردہ ہو یا زندہ ، اس لئے کہ اس کا مقصد عقیدہ، علم، اور حدیث کی خدمت وحفاظت ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
51- بَاب فِي النَّهْيِ عَنِ الْبَغْيِ
۵۱-باب: ظلم و زیادتی اور بغاوت منع ہے​


4901- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < كَانَ رَجُلانِ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ مُتَوَاخِيَيْنِ، فَكَانَ أَحَدُهُمَا يُذْنِبُ وَالآخَرُ مُجْتَهِدٌ فِي الْعِبَادَةِ، فَكَانَ لا يَزَالُ الْمُجْتَهِدُ يَرَى الآخَرَ عَلَى الذَّنْبِ فَيَقُولُ: أَقْصِرْ، فَوَجَدَهُ يَوْمًا عَلَى ذَنْبٍ، فَقَالَ لَهُ: أَقْصِرْ، فَقَالَ: خَلِّنِي وَرَبِّي، أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا؟ فَقَالَ: وَاللَّهِ لا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ، أَوْ لا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ، فَقَبَضَ أَرْوَاحَهُمَا، فَاجْتَمَعَا عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ فَقَالَ لِهَذَا الْمُجْتَهِدِ: أَكُنْتَ بِي عَالِمًا؟ أَوْ كُنْتَ عَلَى مَا فِي يَدِي قَادِرًا؟ وَقَالَ لِلْمُذْنِبِ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي، وَقَالَ لِلآخَرِ: اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ > قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَوْبَقَتْ دُنْيَاهُ وَآخِرَتَهُ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۵۱۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۲۳) (صحیح)
۴۹۰۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ''بنی اسرائیل میں دو شخص برابر کے تھے، ان میں سے ایک تو گناہ کے کاموں میں لگا رہتا تھا'' اور دوسرا عبا دت میں کوشاں رہتا تھا،عبادت گزار دوسرے کو برابر گناہ میں لگا رہتا دیکھتا تو اس سے کہتا : باز رہ ، ایک دفعہ اس نے اسے گناہ کرتے پایا تو اس سے کہا: باز رہ اس نے کہا:قسم ہے میرے رب کی تو مجھے چھوڑ دے(اپنا کام کرو) کیا تم میرا نگہبان بنا کر بھیجے گئے ہو ؟ تو اس نے کہا: اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں بخشے گا یا تمہیں جنت میں داخل نہیں کرے گا ، پھر ان کی روحیں قبض کرلی گئیں تو وہ دونوں رب العا لمین کے پاس اکٹھا ہوئے ، اللہ نے اس عبادت گزار سے کہا: تو مجھے جانتا تھا، یا تو اس پر قادر تھا ، جو میرے دست قدرت میں ہے ؟ اور گنہ گا ر سے کہا: جا اور میری رحمت سے جنت میں داخل ہوجا، اور دوسرے کے متعلق کہا:اسے جہنم میں لے جاؤ۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جا ن ہے ، اس نے ایسی بات کہی جس نے اس کی دنیا اور آخرت خراب کر دی ۔


4902- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ تَعَالَى لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الآخِرَةِ مِثْلُ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ >۔
* تخريج: ت/صفۃ القیامۃ ۵۷ (۱۵۱۱)، ق/الزہد ۲۳ (۴۲۱۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۹۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۸) (صحیح)
۴۹۰۲- ابو بکر ہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''ظلم و بغاوت اور قطع رحمی (رشتہ ناتا تو ڑ نے) جیسا کوئی اور گناہ نہیں ہے ، جو اس لائق ہو کہ اللہ تعالی اس کے مرتکب کو اسی دنیا میں سزا دے با وجو د اس کے کہ اس کی سزا اس نے آخرت میں رکھ چھوڑی ہو'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : بغی سے مراد باغی کا ظلم یا سلطان کے خلاف بغاوت یا کبروغرور ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
52- بَاب فِي الْحَسَدِ
۵۲-باب: حسد کا بیان​


4903- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ [الْبَغْدَادِيُّ] حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ -يَعْنِي عَبْدَالْمَلِكِ بْنَ عَمْرٍو- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ؛ فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ > أَوْ قَالَ < لْعُشْب >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۸۸) (ضعیف)
۴۹۰۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: '' تم لوگ حسد ۱؎ سے بچو ، اس لئے کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا لیتا ہے ، جیسے آگ ایندھن کو کھا لیتی ہے یا کہا گھاس کو(کھا لیتی ہے)۔
وضاحت ۱؎ : حسد سے مراد مال وجائداد اور دنیوی عزت ومرتبت میں حسد ہے، اخروی امور میں رشک کرنا مذموم نہیں۔


4904- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الْعَمْيَاءِ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَأَبُوهُ عَلَى أَنَسِ ابْنِ مَالِكٍ بِالْمَدِينَةِ، [فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِيزِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي صَلاةً خَفِيفَةً دَقِيقَةً كَأَنَّهَا صَلاةُ مُسَافِرٍ أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ أَبِي: يَرْحَمُكَ اللَّهُ! أَرَأَيْتَ هَذِهِ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ أَوْ شَيْئٌ تَنَفَّلْتَهُ، قَالَ: إِنَّهَا الْمَكْتُوبَةُ، وَإِنَّهَا لَصَلاةُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، مَا أَخْطَأْتُ إِلا شَيْئًا سَهَوْتُ عَنْهُ] فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَقُولُ: < لا تُشَدِّدُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَيُشَدَّدَ عَلَيْكُمْ، فَإِنَّ قَوْمًا شَدَّدُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ فَشَدَّدَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ؛ فَتِلْكَ بَقَايَاهُمْ فِي الصَّوَامِعِ وَالدِّيَارِ {وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ} > [ثُمَّ غَدَا مِنَ الْغَدِ فَقَالَ: أَلا تَرْكَبُ لِتَنْظُرَ وَلِتَعْتَبِرَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَرَكِبُوا جَمِيعًا فَإِذَا هُمْ بِدِيَارٍ بَادَ أَهْلُهَا وَانْقَضَوْا وَفَنُوا خَاوِيَةٍ عَلَى عُرُوشِهَا، فَقَالَ: أَتَعْرِفُ هَذِهِ الدِّيَارَ؟ فَقُلْتُ: مَا أَعْرَفَنِي بِهَا وَبِأَهْلِهَا، هَذِهِ دِيَارُ قَوْمٍ أَهْلَكَهُمُ الْبَغْيُ وَالْحَسَدُ؛ إِنَّ الْحَسَدَ يُطْفِئُ نُورَ الْحَسَنَاتِ، وَالْبَغْيُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ، وَالْعَيْنُ تَزْنِي وَالْكَفُّ وَالْقَدَمُ وَالْجَسَدُ وَاللِّسَانُ، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ]۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۹) (حسن)
(اس میں سعید بن عبدالرحمن لین الحدیث ہیں، شواہد وطرق کی بناء پر حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحۃ ۳۱۲۴ وتراجع الألباني ۱۳)
۴۹۰۴- سہل بن ابی امامہ کا بیان ہے کہ وہ اور ان کے والدعمر بن عبدالعزیز کے زما نے میں جب وہ مدینے کے گورنر تھے ، مدینے میں انس رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو دیکھا ، وہ ہلکی یا مختصر صلاۃ پڑھ رہے ہیں ، جیسے وہ مسا فر کی صلاۃہو یا اس سے قریب تر کوئی صلاۃ، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میرے والد نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے ، آپ بتائیے کہ یہ فرض صلاۃ تھی یا آپ کوئی نفلی صلاۃپڑھ رہے تھے تو انہوں نے کہا : یہ فرض صلاۃ تھی ، اور یہ رسول اللہ ﷺ کی صلاۃ ہے ،اور جب بھی مجھ سے کوئی غلطی ہوتی ہے، میں اس کے بدلے سجدہ سہو کر لیتا ہوں ، پھر کہنے لگے : رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے : اپنی جا نوں پر سختی نہ کرو ۲؎ کہ تم پر سختی کی جائے ۳؎ اس لئے کہ کچھ لوگوں نے اپنے او پر سختی کی تو اللہ تعالی نے بھی ان پر سختی کر دی تو ایسے ہی لوگوں کے باقی ماندہ لوگ گرجا گھروں میں ہیں انہوں نے رہبا نیت کی شروعات کی جو کہ ہم نے ان پر فرض نہیں کی تھی پھر جب دوسرے دن صبح ہوئی تو کہا: کیا تم سوا ری نہیں کرتے یعنی سفر نہیں کرتے کہ دیکھو اور نصیحت حاصل کرو، انہوں نے کہا : ہاں(کرتے ہیں) پھر وہ سب سوا ر ہوئے تو جب وہ اچا نک کچھ ایسے گھروں کے پاس پہنچے ، جہاں کے لوگ ہلا ک اور فنا ہوکر ختم ہو چکے تھے ، اور گھرچھتوں کے بل گرے ہوئے تھے ، تو انہوں نے کہا: کیا تم ان گھروں کوپہنچا نتے ہو ؟ میں نے کہا:مجھے کس نے ان کے اور ان کے لوگوں کے بارے میں بتا یا؟ (یعنی میں نہیں جانتا ) تو انس نے کہا: یہ ان لوگوں کے گھر ہیں جنہیں ان کے ظلم اور حسد نے ہلا ک کر دیا ، بیشک حسد نیکیوں کے نور کو گل کر دیتا ہے اور ظلم اس کی تصدیق کرتا ہے یا تکذیب اور آنکھ زنا کرتی ہے اور ہتھیلی ، قدم جسم اور زبا ن بھی اور شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔
وضاحت ۱؎ : دشوار اور شاق عمل کرکے جیسے صوم دہر، پوری پوری رات شب بیداری اور عورتوں سے مکمل علاحدگی وغیرہ اعمال۔
وضاحت ۲؎ : یعنی یہ اعمال تم پر فرض قرار دے دئیے جائیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
53- بَاب فِي اللَّعْنِ
۵۳-باب: لعنت کر نے کا بیان​


4905- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نِمْرَانَ يَذْكُرُ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا لَعَنَ شَيْئًا صَعِدَتِ اللَّعْنَةُ إِلَى السَّمَاءِ فَتُغْلَقُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ دُونَهَا، ثُمَّ تَهْبِطُ إِلَى الأَرْضِ فَتُغْلَقُ أَبْوَابُهَا دُونَهَا، ثُمَّ تَأْخُذُ يَمِينًا وَشِمَالا فَإِذَا لَمْ تَجِدْ مَسَاغًا رَجَعَتْ إِلَى الَّذِي لُعِنَ، فَإِنْ كَانَ لِذَلِكَ أَهْلا وَإِلا رَجَعَتْ إِلَى قَائِلِهَا >.
قَالَ أَبو دَاود: قَالَ مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ: هُوَ رَبَاحُ بْنُ الْوَلِيدِ، سَمِعَ مِنْهُ، وَذَكَرَ أَنَّ يَحْيَى بْنَ حَسَّانَ وَهِمَ فِيهِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۰۰) (حسن)
۴۹۰۵- ام الدردا ء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ابو الدرداء کو کہتے ہوئے سناکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بندہ جب کسی چیز پر لعنت کرتا ہے ، تو یہ لعنت آسما ن پر چڑھتی ہے، تو آسما ن کے درواز ے اس کے سا منے بند ہو جاتے ہیں پھر وہ اترکر زمین پر آتی ہے ، تو اس کے دروازے بھی بند ہو جاتے ہیں پھر وہ دا ئیں بائیں گھو متی ہے ، پھر جب اسے کوئی را ستہ نہیں ملتا تو وہ اس کی طرف پلٹ آتی ہے جس پر لعنت کی گئی تھی ، اب اگر وہ اس کا مستحق ہو تا ہے تو ٹھیک ہے ، ورنہ وہ کہنے والے کی طرف ہی پلٹ آتی ہے۔


4906- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < { لا تَلاعَنُوا بِلَعْنَةِ اللَّهِ وَلا بِغَضَبِ اللَّهِ وَلابِالنَّارِ} >۔
* تخريج: ت/البر والصلۃ ۴۸ (۱۹۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۹۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۵) (حسن)
۴۹۰۶- سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:''اللہ کی لعنت یا اللہ کا غضب یا جہنم کی لعنت کسی پر نہ کیا کرو'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی یوں نہ کہو: تجھ پر اللہ کی لعنت ہو، یا اللہ کا غضب ہو،یااللہ تجھے جہنم میں داخل کرے، یہ ممانعت اس صورت کے ساتھ مخصوص ہے کہ آدمی کسی معین شخص پر لعنت بھیجے، اور اگر کسی وصف عام یاوصف خاص کے ساتھ لعنت بھیج رہاہو مثلاً یوں کہے ''لعنة الله على الكافرين''، یا ''لعنة الله على اليهود'' ،یاکسی ایسے متعین کافرپرلعنت بھیج رہاہو جس کاکفر کی حالت میں مرنا معلوم ہو تویہ جائز ہے جیسے ''لعنة الله على الكافرين''، یا ''لعنة الله على أبي جهل''کہنا۔


4907- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ أُمَّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < لا يَكُونُ اللَّعَّانُونَ شُفَعَاءَ وَلا شُهَدَاءَ >۔
* تخريج: م/البروالصلۃ ۲۴ (۲۵۹۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۸۰)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۴۸) (صحیح)
۴۹۰۷- ام الدرداء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ابو الدردا ء کوسنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : ''لعنت کرنے والے نہ سفا رشی ہو سکتے ہیں اور نہ گواہ'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی امت کے فرد نہیں ہوسکتے، کیونکہ آپ کی امت قیامت کے روز دوسری امتوں پر سفارشی اور گواہ ہوگی۔


4908- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ (ح) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ ابْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ زَيْدٌ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلا لَعَنَ الرِّيحَ، وَقَالَ مُسْلِمٌ: إِنَّ رَجُلا نَازَعَتْهُ الرِّيحُ رِدَائَهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ ﷺ فَلَعَنَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < لا تَلْعَنْهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ، وَإِنَّهُ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ >۔
* تخريج:ت/البر والصلۃ ۴۸ (۱۹۷۸)، (تحفۃ الأشراف: ۵۴۲۶، ۱۸۶۴۱) (صحیح)
۴۹۰۸- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ہوا پر لعنت کی (مسلم کی روایت میں اس طرح ہے) نبی اکرمﷺ کے زمانے میں ہوا نے ایک شخص کی چادر اڑا دی ، تو اس نے اس پر لعنت کی ، تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ''اس پر لعنت نہ کرو، اس لئے کہ وہ تا بع دار ہے ، اور اس لئے کہ جو کوئی ایسی چیز کی لعنت کرے جس کا وہ اہل نہ ہو تووہ لعنت اسی کی طرف لوٹ آتی ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
54- بَاب فِيمَنْ دَعَا عَلَى مَنْ ظَلَمَهُ
۵۴-باب: ظالم کو بد دعا دینا کیسا ہے؟​


4909- حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا قَالَتْ: سُرِقَ لَهَا شَيْئٌ فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا تُسَبِّخِي عَنْهُ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، حم (۶/۴۵، ۱۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۳۷۷) (ضعیف)
نوٹ: یہی حدیث ۱۴۹۷ میں گزری ہے اس پر حسن کا حکم ہے۔
۴۹۰۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کی کوئی چیز چوری ہو گئی ، تو وہ اس پر بد دعا کر نے لگیں ، تو ان سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' اس ( چو ر) سے عذاب کو ہلکا نہ کر''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
55- بَاب فِيمَنْ يَهْجُرُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ
۵۵-باب: مسلمان بھائی سے ترک تعلق کیسا ہے؟​


4910- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < لا تَبَاغَضُوا، وَلا تَحَاسَدُوا، وَلا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلايَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاثِ لَيَالٍ >۔
* تخريج: خ/الأدب ۵۷ (۶۰۶۵)، ۶۲ (۶۰۷۶)، م/البر والصلۃ ۷ (۲۵۵۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۳۰)، وقد أخرجہ: ت/البر والصلۃ ۲۴ (۱۹۳۵)، حم (۳/۱۹۹)، ط/ حسن الخلق ۴ (۱۴) (صحیح)
۴۹۱۰- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’ تم لوگ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اور ایک دوسرے کو پیٹھ نہ دکھاؤ (یعنی ملا قات تر ک نہ کرو) اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو ، اور کسی مسلمان کے لئے یہ درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ملنا جلنا چھوڑے رکھے‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یہ حکم ایسی ناراضگی سے متعلق ہے جومسلمانوں کے درمیان باہمی معاشرتی حقوق میں کوتاہی کی وجہ سے ہوئی ہو ،اور اگر دینی امور میں کوتاہی کی وجہ سے ہوتویہ جائز ہے، بلکہ بدعتیوں اور ہوا پرستوں سے میل جول نہ رکھنا واجب ہے جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلیں، اور حق کی طرف پلٹ نہ آئیں۔


4911- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <لا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ يَلْتَقِيَانِ، فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلامِ >۔
* تخريج: خ/الأدب ۶۲ (۶۰۷۷)، الاستئذان ۹ (۶۲۳۷)، م/البر والصلۃ ۸ (۲۵۶۰)، ت/البر والصلۃ ۲۱ (۱۹۳۲)، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۷۹)، وقد أخرجہ: ط/حسن الخلق ۴ (۱۳)، حم (۴۱۶۵، ۴۲۱، ۴۲۲) (صحیح)
۴۹۱۱- ابو ایو ب انصا ری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کسی مسلمان کے لئے درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھو ڑے رکھے کہ وہ دونوں ملیں تو یہ منہ پھیر لے ، اور وہ منہ پھیر لے ، اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : کیونکہ اس کاپہل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں تواضع اور خاکساری زیادہ ہے۔


4912- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ السَّرْخَسِيُّ، أَنَّ أَبَا عَامِرٍ أَخْبَرَهُم، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِلالٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < لا يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَهْجُرَ مُؤْمِنًا فَوْقَ ثَلاثٍ، فَإِنْ مَرَّتْ بِهِ ثَلاثٌ فَلْيَلْقَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَإِنْ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلامَ فَقَدِ اشْتَرَكَا فِي الأَجْرِ، وَإِنْ لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ فَقَدْ بَاءَ بِالإِثْمِ > زَادَ أَحْمَدُ < وَخَرَجَ الْمُسَلِّمُ مِنَ الْهِجْرَةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۸۰۳)، وقد أخرجہ: م/البر والصلۃ ۸ (۲۵۶۱)، حم (۲/۳۹۲، ۴۵۶) (ضعیف)
۴۹۱۲- ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’کسی مومن کے لئے درست نہیں کہ وہ کسی مومن کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے ، اگر اس پر تین دن گزر جائیں تو وہ اس سے ملے اور اس کو سلام کرے ، اب اگر وہ سلام کا جواب دیتا ہے ، تو وہ دونوں اجر میں شریک ہیں اور اگر وہ جواب نہیں دیتا تو وہ گنہ گار ہوا، اور سلام کرنے والا قطع تعلق کے گناہ سے نکل گیا‘‘۔


4913- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ ابْنِ عَثْمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْمُنِيبِ -يَعْنِي الْمَدَنِيَّ- قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لا يَكُونُ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلاثَةٍ، فَإِذَا لَقِيَهُ سَلَّمَ عَلَيْهِ ثَلاثَ مِرَارٍ كُلُّ ذَلِكَ لا يَرُدُّ عَلَيْهِ فَقَدْ بَاءَ بِإِثْمِهِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۹۷۷)، وقد أخرجہ: خ/الأدب ۶۲ (۶۰۷۷)، حم (۴/۳۲۷) (حسن)
۴۹۱۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ کسی مسلمان کے لئے درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے تو جب وہ(تین دن کے بعد) اس سے ملے اسے تین مر تبہ سلام کرے، اور وہ ایک با ر بھی سلام کا جواب نہ دے تو وہ اپنا گناہ لے کر لوٹے گا‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اگر ’’إثمه‘‘ کی ضمیر سلام کاجواب نہ دینے والے ’’لا يرد عليه‘‘ کی طرف لوٹتی ہو تومفہوم یہ ہوگا کہ سلام کرنے والا قطع تعلق کے گناہ سے بری ہوگیا، اور سلام کاجواب نہ دینے والااپنے قطع تعلق کاگناہ لے کر لوٹا، اور اگر ’’إثمه‘‘ کی ضمیر سلام کرنے والے کی طرف لوٹتی ہوتو مفہوم یہ ہوگا کہ وہ اپنا اور سلام کرنے والے دونوں کاگناہ لے کرلوٹے گا۔


4914- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لايَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاثٍ، فَمَنْ هَجَرَ فَوْقَ ثَلاثٍ فَمَاتَ دَخَلَ النَّار>۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۳۳۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۹۲، ۴۵۶) (صحیح)
۴۹۱۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کسی مسلمان کے لئے درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھو ڑے رکھے ، لہٰذا جوتین سے زیادہ چھوڑے رکھے پھر وہ(بغیرتوبہ کے اسی حال میں) مرجائے تو وہ جہنم میں داخل ہوگا‘‘۔


4915- حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِي خِرَاشٍ السُّلَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَنْ هَجَرَ أَخَاهُ سَنَةً فَهُوَ كَسَفْكِ دَمِهِ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۹۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۲۰) (صحیح)
۴۹۱۵- ابو خراش سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کوفرماتے سنا : ’’جس نے اپنے بھائی سے ایک سال تک قطع تعلق رکھا تو یہ اس کے خون بہانے کی طرح ہے‘‘۔


4916- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ كُلَّ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ، فَيُغْفَرُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمَيْنِ لِكُلِّ عَبْدٍ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلا مَنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا >.
[قَالَ أَبو دَاود: النَّبِيُّ ﷺ هَجَرَ بَعْضَ نِسَائِهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، وَابْنُ عُمَرَ هَجَرَ ابْنًا لَهُ إِلَى أَنْ مَاتَ].
قَالَ أَبو دَاود: إِذَا كَانَتِ الْهِجْرَةُ لِلَّهِ فَلَيْسَ مِنْ هَذَا بِشَيْئٍ، وَإِنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِالْعَزِيزِ غَطَّى وَجْهَهُ عَنْ رَجُلٍ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۷۹۸)، وقد أخرجہ: م/البر والصلۃ ۱۱ (۲۵۶۵)، ت/البر والصلۃ ۷۶ (۲۰۲۴)، حم (۲/۴۶۵) (صحیح)
۴۹۱۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’ہر دوشنبہ اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں پھر ان دنوں میں ہر اس بندے کی مغفرت کی جاتی ہے ، جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتا البتہ اس بندے کی نہیں جس کے درمیان اور اس کے بھائی کے درمیان دشمنی اور رقابت ہو، پھر کہا جاتا ہے : ان دونوں (کی مغفرت) کو ابھی رہنے دو جب تک کہ یہ صلح نہ کرلیں ‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے اپنی بعض ازواج مطہرات کو چالیس دن تک چھوڑے رکھا، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ایک بیٹے سے بات چیت بند رکھی یہاں تک کہ وہ مرگیا۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ قطع کلامی اگر اللہ کے لئے ہو ۱؎تو اس میں کوئی حرج نہیں اور عمر بن عبدالعزیز نے ایک شخص سے اپنا چہرہ ڈھانک لیا۔
وضاحت ۱؎ : یعنی اللہ کے حقوق میں کسی سے کسی حق کی پاسداری کے لئے ہوتو یہ اس وعید میں داخل نہیں ہے۔
 
Top