• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
56- بَاب فِي الظَّنِّ​
۵۶-باب: بدظنی اور بد گما نی کی ممانعت​


4917- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلاتَحَسَّسُوا، وَلا تَجَسَّسُوا >۔
* تخريج:خ/النکاح ۴۵(۵۱۴۳)، الأدب ۵۷ (۶۰۶۶)، الفرائض ۲ (۶۷۷۴)، م/البر والصلۃ ۹ (۲۵۶۳)، ت/البر والصلۃ ۵۶ (۱۹۸۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۸۰۶)، وقد أخرجہ: ط/حسن الخلق ۴ (۱۵)، حم (۲/۲۴۵، ۳۱۲، ۳۴۲، ۴۶۵، ۴۷۰، ۴۸۲) (صحیح)
۴۹۱۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ظن وگمان کے پیچھے پڑنے سے بچو ۱؎ یا بدگمانی سے بچو، اس لئے کہ بد گما نی سب سے بڑا جھوٹ ہے ، نہ ٹوہ میں پڑو اور نہ جاسوسی کرو''۔
وضاحت ۱؎ : اس کا یہ مطلب نہیں کہ ظن پر عمل نہ کرو کیونکہ بیشتر شرعی احکام کا تعلق ظن ہی سے ہے مطلب یہ ہے کہ ظن کی تحقیق کے پیچھے نہ پڑو اوربدظنی نہ کرو ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
57- بَاب فِي النَّصِيحَةِ وَالْحِيَاطَةِ​
۵۷-باب: خلوص و خیر خواہی کا بیان​


4918- حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ -يَعْنِي ابْنَ بِلالٍ- عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ، وَالْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ: يَكُفُّ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ، وَيَحُوطُهُ مِنْ وَرَائِه >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۸۰۷)، وقد أخرجہ: ت/البر والصلۃ ۱۸ (۱۹۲۹) (حسن)
۴۹۱۸- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''مومن مومن کا آئینہ ہے، اور مومن مومن کا بھائی ہے ، وہ اس کی جائیدادکی نگرانی کرتا اور اس کی غیرموجودگی میں اس کی حفا ظت کرتا ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
58- بَاب فِي إِصْلاحِ ذَاتِ الْبَيْنِ​
۵۸-باب: میل جول اور مصالحت کرانے کا بیان​


4919- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَلا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصِّيَامِ وَالصَّلاةِ وَالصَّدَقَةِ؟ > قَالُوا: بَلَى [يَا رَسُولَ اللَّهِ] قَالَ: < إِصْلاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ، وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَيْنِ الْحَالِقَةُ >۔
* تخريج: ت/صفۃ القیامۃ ۵۶ (۲۵۰۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۸۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۴۴) (صحیح)
۴۹۱۹- ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتا ئوں جو درجے میں صیام ، صلاۃ اور زکاۃ سے بڑھ کر ہے ؟'' لوگوں نے کہا: کیوں نہیں ، آپ نے فرمایا: ''آپس میں میل جول کرا دینا، اور آپس کی لڑائی اور پھوٹ تو سر مو نڈنے والی ہے''۔


4920- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ (ح) وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ (ح) وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبُّوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < لَمْ يَكْذِبْ مَنْ نَمَى بَيْنَ اثْنَيْنِ لِيُصْلِحَ > وَقَالَ أَحْمَدُ [بْنُ مُحَمَّدٍ] وَمُسَدَّدٌ: < لَيْسَ بِالْكَاذِبِ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ خَيْرًا أَوْ نَمَى خَيْرًا >۔
* تخريج: خ/الصلح ۲ (۲۶۹۲)، م/البر والصلۃ ۳۷ (۲۶۰۵)، ت/البر والصلۃ ۲۶ (۱۹۳۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۳۵۳، ۲۰۱۹۶)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۰۳) (صحیح)
۴۹۲۰- ام حمید بن عبدالرحمن ( ام کلثوم) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ''اس نے جھوٹ نہیں بولا جس نے دو آدمیوں میں صلح کرانے کے لئے کوئی بات خود سے بنا کر کہی۔
احمد بن محمد اور مسدد کی روایت میں ہے، وہ جھوٹا نہیں ہے :''جس نے لوگوں میں صلح کرائی اور کوئی اچھی بات کہی یا کوئی اچھی بات پہنچائی''۔
وضاحت ۱؎ : مثلاً یوں کہے کہ آپ کو تو فلاں نے سلام کہا ہے یا فلاں آپ سے محبت رکھتا ہے یا فلاں آپ کی تعریف کرتا ہے۔


4921- حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْجِيزِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَسْوَدِ، عَنْ نَافِعٍ، -يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ- عَنِ ابْنِ الْهَادِي، أَنَّ عَبْدَالْوَهَّابِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ قَالَتْ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يُرَخِّصُ فِي شَيْئٍ مِنَ الْكَذِبِ إِلا فِي ثَلاثٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < لا أَعُدُّهُ كَاذِبًا الرَّجُلُ يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ يَقُولُ الْقَوْلَ وَلا يُرِيدُ بِهِ إِلا الإِصْلاحَ، وَالرَّجُلُ يَقُولُ فِي الْحَرْبِ، وَالرَّجُلُ يُحَدِّثُ امْرَأَتَهُ، وَالْمَرْأَةُ تُحَدِّثُ زَوْجَهَا >۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۳۵۳) (صحیح)
۴۹۲۱- ام کلثوم بنت عقبہرضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کسی بات میں جھوٹ بولنے کی اجازت دیتے نہیں سنا ، سوائے تین باتوں کے، رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے : میں اسے جھوٹا شما رنہیں کرتا ، ایک یہ کہ کوئی لوگوں کے درمیان صلح کرائے اور کوئی بات بنا کر کہے ، اور اس کا مقصد اس سے صرف صلح کرانی ہو ، دوسرے یہ کہ ایک شخص جنگ میں کوئی بات بنا کر کہے ، تیسرے یہ کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کوئی بات بنا کر کہے اور بیوی اپنے شوہر سے کوئی بات بنا کر کہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
59- بَاب عَنِ الْغِنَاءِ​
۵۹-باب: گانے کا بیان​


4922- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ قَالَتْ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَدَخَلَ عَلَيَّ صَبِيحَةَ بُنِيَ بِي، فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي، فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٌ يَضْرِبْنَ بِدُفٍّ لَهُنَّ، وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ، إِلَى أَنْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي الْغَدِ، فَقَالَ: < دَعِي هَذِهِ وَقُولِي الَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ >۔
* تخريج: خ/المغازي ۱۲ (۴۰۰۱)، ت/النکاح ۶ (۱۰۹۰)، ق/النکاح ۲۱ (۱۸۹۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۳۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۵۹، ۳۶۰) (صحیح)
۴۹۲۲- ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس اس صبح آئے ، جس رات میرا شب زفاف ہو ا تھا تو آپ میرے بستر پر ایسے بیٹھ گئے جیسے تم ( خالد بن ذکوان) بیٹھے ہو ، پھر(انصار کی) کچھ بچیاں اپنے دف بجانے لگیں اور اپنے غزوئہ بدر کی شہید ہونے والے آباء واجداد کا اوصاف ذکر کرنے لگیں یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے کہا: اور ہمارے بیچ ایک ایسا نبی ہے جو کل ہونے والی باتوں کو بھی جانتا ہے ، تو آپ نے فرمایا:'' اسے چھوڑ دو اور وہی کہو جو تم پہلے کہہ رہی تھیں''۔


4923- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَدِينَةَ لَعِبَتِ الْحَبَشَةُ لَقُدُومِهِ فَرَحًا بِذَلِكَ، لَعِبُوا بِحِرَابِهِمْ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۴۷۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۶۱) (صحیح الإسناد)
۴۹۲۳- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینے آئے تو حبشی آپ کی آمد پر خوش ہو کر خوب کھیلے اور اپنی برچھیاں لے کر کھیلے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
60- بَاب كَرَاهِيَةِ الْغِنَاءِ وَالزَّمْرِ​
۶۰-باب: گانے بجانے کی کراہت کا بیان​


4924- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِاللَّهِ الْغُدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِالْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ مِزْمَارًا، قَالَ: فَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى أُذُنَيْهِ، وَنَأَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَقَالَ لِي: يَا نَافِعُ هَلْ تَسْمَعُ شَيْئًا؟ قَالَ: فَقُلْتُ: لا، قَالَ: فَرَفَعَ إِصْبَعَيْهِ مِنْ أُذُنَيْهِ، وَقَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فَسَمِعَ مِثْلَ هَذَا فَصَنَعَ مِثْلَ هَذَا.
قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْلُؤْلُؤِيُّ: سَمِعْت أَبَا دَاود يَقُولُ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۷۶۷۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۸، ۳۸) (صحیح)
۴۹۲۴- نا فع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک با جے کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں اور راستے سے دور ہو گئے اور مجھ سے کہا: اے نافع! کیا تمہیں کچھ سنائی دے رہا ہے میں نے کہا: نہیں، تو آپ نے اپنی انگلیاں کانوں سے نکالیں، اور فرمایا : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا ، اس جیسی آواز سنی تو آپ نے بھی اسی طرح کیا۔
ابو علی لؤلؤی کہتے ہیں: میں نے ابو داود کو کہتے سنا: یہ حدیث منکر ہے ۔


4925- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُطْعِمُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ ابْنِ عُمَرَ إِذْ مَرَّ بِرَاعٍ يَزْمُرُ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
قَالَ أَبو دَاود: أُدْخِلَ بَيْنَ مُطْعِمٍ وَنَافِعٍ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۴۴۸) (حسن صحیح الإسناد)
۴۹۲۵- نا فع کہتے ہیں کہ میں ابن عمررضی اللہ عنہما کے پیچھے سوار تھا ، کہ ان کا گزر ایک چرواہے کے پاس سے ہوا جو بانسری بجا رہا تھا ، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔


4926- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ مَيْمُونٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَسَمِعَ صَوْتَ زَامِرٍ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
قَالَ أَبو دَاود: وَهَذَا أَنْكَرُهَا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۱۰) (صحیح الإسناد)
۴۹۲۶- نا فع کہتے ہیں کہ میں ابن عمررضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا تو آپ نے ایک بانسری بجا نے والے کی آواز سنی پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ ان احادیث میں سب سے زیادہ منکر ہے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : صاحب ''عون المعبود'' لکھتے ہیں : ''ولا یعلم وجہ النکارۃ بل إسنادہ قوی ولیس بمخالف لروایۃ الثقات'' یعنی ابو داود نے اسے ''أنکر الروایۃ'' کیوں کہا اس کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوسکی بلکہ سنداً یہ قوی روایت ہے اور ثقات کی روایت کے بھی مخالف نہیں ہے۔


4927- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، عَنْ شَيْخٍ شَهِدَ أَبَا وَائِلٍ فِي وَلِيمَةٍ، فَجَعَلُوا يَلْعَبُونَ، يَتَلَعَّبُونَ، يُغَنُّونَ، فَحَلَّ أَبُو وَائِلٍ حَبْوَتَهُ، وَقَالَ: سَمِعْتْ عَبْدَاللَّهِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < الْغِنَاءُ يُنْبِتُ النِّفَاقَ فِي الْقَلْبِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۹۳۱۵) (ضعیف)
۴۹۲۷-سلام بن مسکین ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں جو ابو وائل کے ساتھ ایک ولیمہ میں موجود تھے تو لوگ کھیل کود اور گانے بجانے میں لگے گئے، تو ابو وائل نے اپنا حبوہ ۱؎ کھولا اور بو لے : میں نے عبداللہ بن مسعود کو کہتے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : گانا بجا نا دل میں نفاق پیدا کرتا ہے۔
وضاحت ۱؎ : بیٹھنے کی ایک مخصوص ہیئت کا نام ہے جس میں آدمی سرین کے بل پائوں کھڑا کر کے بیٹھتا اور دونوں ہاتھوں سے اپنے گھٹنے باندھ لیتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
61- بَاب فِي الْحُكْمِ فِي الْمُخَنَّثِينَ​
۶۱-باب: ہجڑوں کے حکم کا بیان​


4928- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، أَنَّ أَبَا أُسَامَةَ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ مُفَضَّلِ ابْنِ يُونُسَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي يَسَارٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أُتِيَ بِمُخَنَّثٍ قَدْ خَضَّبَ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ بِالْحِنَّاءِ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : <مَا بَالُ هَذَا؟ > فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَتَشَبَّهُ بِالنِّسَاءِ، فَأَمَرَ بِهِ فَنُفِيَ إِلَى النَّقِيعِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلا نَقْتُلُهُ؟ فَقَالَ: $ إِنِّي نُهِيتُ عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ >.
قَالَ أَبُو أُسَامَةَ، وَالنَّقِيعُ نَاحِيَةٌ عَنِ الْمَدِينَةِ، وَلَيْسَ بِالْبَقِيعِ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۶۴) (صحیح)
۴۹۲۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک ہجڑا لایاگیا جس نے اپنے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگا رکھی تھی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’ اس کا کیاحال ہے؟ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول!یہ عورتوں جیسا بنتا ہے ، آپ نے حکم دیا تو اسے نقیع کی طرف نکال دیا گیا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اسے قتل نہ کردیں؟، آپ نے فرمایا:’’مجھے صلاۃ پڑھنے والوں کو قتل کر نے سے منع کیا گیا ہے‘‘ نقیع مدینے کے نواح میں ایک جگہ ہے اس سے مراد بقیع( مدینہ کاقبرستان ) نہیں ہے۔


4929- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ -يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ- عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا مُخَنَّثٌ وَهُوَ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ أَخِيهَا: إِنْ يَفْتَحِ اللَّهُ الطَّائِفَ غَدًا دَلَلْتُكَ عَلَى امْرَأَةٍ تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ >.
[قَالَ أَبو دَاود: الْمَرْأَةُ كَانَ لَهَا أَرْبَعُ عُكَنٍ فِي بَطْنِهَا]۔
* تخريج: خ/المغازي ۵۶ (۴۳۲۴)، اللباس ۶۲ (۵۸۷)، النکاح ۱۱۳ (۵۲۳۵)، م/السلام ۱۳ (۲۱۸۰)، ق/النکاح ۲۲ (۱۹۰۲)، الحدود ۳۸ (۲۶۱۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۶۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۹۰، ۳۱۸) (صحیح)
۴۹۲۹- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرمﷺ ان کے ہاں تشریف لائے ان کے پاس ایک ہجڑا بیٹھا ہوا تھا اور وہ ان کے بھائی عبداللہ سے کہہ رہاتھا : اگرکل اللہ طائف کو فتح کرا دے تو میں تمہیں ایک عورت بتائوں گا ، کہ جب وہ سامنے سے آتی ہے تو چارسلوٹیں لے کر آتی ہے ، اور جب پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ سلوٹیں لے کر جاتی ہے، تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا:’’انہیں اپنے گھروں سے نکال دو‘‘ ۱؎ ۔
ابو داود کہتے ہیں:’’تقبل بأربع‘‘ کامطلب ہے عورت کے پیٹ میں چارسلوٹیں ہوتی ہیں یعنی پیٹ میں چربی چھاجانے کی وجہ سے خوب موٹی اور تیار ہے۔
وضاحت ۱؎ : کیوں کہ وہ عورتوں کی خوبی و خرابی کا شعور رکھتے ہیں گو جماع پر قادرنہیں ہیں۔


4930- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَعَنَ الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلاتِ مِنَ النِّسَاءِ، وَقَالَ: <أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ، وَأَخْرِجُوا فُلانًا وَفُلانًا > يَعْنِي الْمُخَنَّثِينَ۔
* تخريج: خ/ اللباس ۶۱ (۵۸۸۶)، الحدود ۳۳ (۶۸۳۴)، ت/ الأدب ۳۴ (۲۷۸۵)، (تحفۃ الأشراف: ۶۲۴۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۶۵) (صحیح)
۴۹۳۰- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے زنا نے مردوں اور مردانی عورتوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا: ’’انہیں اپنے گھروں سے نکال دو اور فلاں فلاں کو نکال دو‘‘ یعنی ہجڑوں کو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
62- بَاب فِي اللَّعِبِ بِالْبَنَاتِ​
۶۲-باب: گڑیوں سے کھیلنے کا بیان​


4931- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ، فَرُبَّمَا دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَعِنْدِي الْجَوَارِي، فَإِذَا دَخَلَ خَرَجْنَ، وَإِذَا خَرَجَ دَخَلْنَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۸۷۳)، وقد أخرجہ: خ/الأدب ۸۱ (۶۱۳۰)، م/فضائل الصحابۃ ۱۳ (۲۴۴۰)، ق/النکاح ۵۰ (۱۹۸۲) (صحیح)
۴۹۳۱- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی ، کبھی کبھی رسول اللہ ﷺ میرے پاس آتے ، میرے پاس لڑکیاں ہوتیں ، تو جب آپ اندر آتے تو وہ باہر نکل جاتیں اور جب آپ باہر نکل جاتے تو وہ اندر آجاتیں۔


4932- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللّه عَنْهَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ، أَوْ خَيْبَرَ، وَفِي سَهْوَتِهَا سِتْرٌ، فَهَبَّتْ رِيحٌ فَكَشَفَتْ نَاحِيَةَ السِّتْرِ عَنْ بَنَاتٍ لِعَائِشَةَ لُعَبٍ، فَقَالَ: < مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟ > قَالَتْ: بَنَاتِي، وَرَأَى بَيْنَهُنَّ فَرَسًا لَهُ جَنَاحَانِ مِنْ رِقَاعٍ، فَقَالَ: < مَا هَذَا الَّذِي أَرَى وَسْطَهُنَّ؟> قَالَتْ: فَرَسٌ، قَالَ: < مَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ ؟> قَالَتْ: جَنَاحَانِ، قَالَ: < فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ؟ > قَالَتْ: أَمَا سَمِعْتَ أَنَّ لِسُلَيْمَانَ خَيْلا لَهَا أَجْنِحَةٌ؟ قَالَتْ: فَضَحِكَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۴۲) (صحیح)
۴۹۳۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک یا خیبر سے آئے ، اور ان کے گھر کے طاق پر پر دہ پڑا تھا ، اچانک ہوا چلی ، تو پردے کا ایک کونا ہٹ گیا، اور عائشہؓ کی گڑیاں نظرآنے لگیں ، آپ نے فرمایا: ''عائشہ ! یہ کیا ہے؟'' میں نے کہا: میری گڑیاں ہیں، آپ نے ان گڑیوں میں ایک گھوڑا دیکھا جس میں کپڑے کے دو پر لگے ہوئے تھے، پوچھا: یہ کیا ہے جسے میں ان کے بیچ میں دیکھ رہا ہوں؟ وہ بولیں: گھوڑا، آپ نے فرمایا: ''اور یہ کیا ہے جو اس پر ہے؟'' وہ بولیں: دو بازو، آپ نے فرمایا: '' گھوڑے کے بھی بازو ہوتے ہیں؟ وہ بولیں: کیا آپ نے نہیں سنا کہ سلیمان کا ایک گھوڑا تھا جس کے بازو تھے، یہ سن کر آپ ہنس پڑے یہاں تک کہ میں نے آپ کی داڑھیں دیکھ لیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
36- بَاب فِي الأُرْجُوحَةِ ​
۶۳-باب: جھو لے کا بیان​


4933- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ (ح) وحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُوأُسَامَةَ، قَالا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ تَزَوَّجَنِي وَأَنَا بِنْتُ سَبْعٍ أَوْ سِتٍّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْنَ نِسْوَةٌ، وَقَالَ بِشْرٌ: فَأَتَتْنِي أُمُّ رُومَانَ، وَأَنَا عَلَى أُرْجُوحَةٍ، فَذَهَبْنَ بِي، وَهَيَّأْنَنِي، وَصَنَعْنَنِي، فَأُتِيَ بِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، فَبَنَى بِي وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعٍ، فَوَقَفَتْ بِي عَلَى الْبَابِ، فَقُلْتُ: هِيهْ هِيهْ.
قَالَ أَبو دَاود: أَيْ تَنَفَّسَتْ، فَأُدْخِلْتُ بَيْتًا فَإِذَا فِيهِ نِسْوَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقُلْنَ: عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَر َكَةِ، دَخَلَ حَدِيثُ أَحَدِهِمَا فِي الآخَرِ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (۲۱۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۸۵۵، ۱۶۸۸۱) (صحیح)
۴۹۳۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شاد ی کی ،میں سات سال کی تھی، پھر جب ہم مدینہ آئے ، تو کچھ عورتیں آئیں ، بشرکی روایت میں ہے:پھر میرے پاس(میری والدہ) ام رومان آئیں، اس وقت میں ایک جھولہ پرتھی، وہ مجھے لے گئیں اور مجھے سنوارا سجایا پھرمجھے رسول اللہ ﷺکے پاس لے گئیں ، تو آپ نے میرے ساتھ رات گزاری، اس وقت میں نو سال کی تھی وہ مجھے لے کر دروازے پر کھڑی ہوئیں ، میں نے کہا :ہیہ، ہیہ ۔
( ابو داود کہتے ہیں: ہیہ ، ہیہ کا مطلب ہے کہ انہوں نے زور زور سے سانس کھینچی) ، عائشہ کہتی ہیں :پھر میں ایک کمرے میں لائی گئی تو کیا دیکھتی ہو ں کہ وہاں انصار کی کچھ عورتیں( پہلے سے بیٹھی ہوئی ) ہیں ، انہوں نے ’’على الخير والبركة‘‘ کہہ کر مجھے دعا دی۔


3934- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، مِثْلَهُ، قَالَ: عَلَى خَيْرِ طَائِرٍ، فَسَلَّمَتْنِي إِلَيْهِنَّ، فَغَسَلْنَ رَأْسِي وَأَصْلَحْنَنِي، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ضُحًى، فَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۲۱۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۸۵۵) (صحیح)
۳۹۳۴- ابو اسامہ سے اسی کے ہم مثل مروی ہے اس میں ہے(ان عورتوں نے کہا)اچھا نصیبہ ہے پھرمیری ماں نے مجھے ان عورتوں کے سپرد کردیا، انہوں نے میرا سر دھویااور مجھے سجایا سنوارا ( میں جان نہیں پا رہی تھی کہ یہ سب کیا اور کیوں ہو رہا ہے)کہ چاشت کے وقت رسول اللہ ﷺ نے ہی آکر مجھے حیرانی میں ڈال دیا تو ان عورتوں نے مجھے آپ کے حوالہ کردیا۔


4935- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا، قَالَتْ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ جَائَنِي نِسْوَةٌ وَأَنَا أَلْعَبُ عَلَى أُرْجُوحَةٍ، وَأَنَا مُجَمَّمَةٌ، فَذَهَبْنَ بِي، فَهَيَّأْنَنِي وَصَنَعْنَنِي، ثُمَّ أَتَيْنَ بِي رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَبَنَى بِي وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (۲۱۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۸۸۱) (صحیح الإسناد)
۴۹۳۵- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ہم مدینہ آئے ، تو میرے پاس کچھ عورتیں آئیں ، اس وقت میں جھولے پر کھیل رہی تھی ، اور میرے بال چھوٹے چھوٹے تھے ، وہ مجھے لے گئیں ، مجھے بنایا سنوارا اور مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئیں ، آپ نے میرے ساتھ رات گزاری کی ، اس وقت میں نو سال کی تھی۔


4936- حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، بِإِسْنَادِهِ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَتْ: وَأَنَا عَلَى الأُرْجُوحَةِ، وَمَعِي صَوَاحِبَاتِي، فَأَدْخَلْنَنِي بَيْتًا، فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقُلْنَ: عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۲۱۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۸۵۵) (صحیح)
۴۹۳۶- ہشام بن عروہ سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے ، اس میں ہے: میں جھو لے پر تھی اور میرے ساتھ میری سہیلیاں بھی تھیں ، وہ مجھے ایک کوٹھری میں لے گئیں توکیا دیکھتی ہوں کہ وہاں انصار کی کچھ عورتیں ہیں انہوں نے مجھے خیر و برکت کی دعائیں دیں۔


4937- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو- عَنْ يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ- قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِي اللَّه عَنْهَا: فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ إِنِّي لَعَلَى أُرْجُوحَةٍ بَيْنَ عِذْقَيْنِ، فَجَائَتْنِي أُمِّي، فَأَنْزَلَتْنِي وَلِي جُمَيْمَةٌ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (۲۱۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۸۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۱۰) (حسن صحیح)
۴۹۳۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم مدینہ آئے اور بنی حارث بن خزرج میں اترے،قسم اللہ کی میں دو شاخوں کے درمیان ڈلے ہوئے جھولے پر جھولا جھول رہی تھی کہ میری ماں آئیں اور مجھے جھولے سے اتارا، میرے سر پر چھوٹے چھوٹے بال تھے اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
64- بَاب فِي النَّهْيِ عَنِ اللَّعِبِ بِالنَّرْدِ​
۶۴-باب: چو سر کھیلنے کی ممانعت کا بیان​


4938- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ >۔
* تخريج: ق/الأدب ۴۳ (۳۷۶۲)، ط/الرؤیا ۲ (۶)، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۹۴، ۳۹۷، ۴۰۰) (حسن)
۴۹۳۸- ابو مو سی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''جس نے چو سر کھیلا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نا فر ما نی کی''۔


4939- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدَشِيرِ فَكَأَنَّمَا غَمَسَ يَدَهُ فِي لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهِ >۔
* تخريج: م/الشعر ۱ (۲۲۶۰)، ق/الأدب ۴۳ (۳۷۶۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۳۵)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۵۲، ۳۵۷، ۳۶۱) (صحیح)
۴۹۳۹- بر یدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ''جس نے نردشیر(چوسر) کھیلا گویا اس نے اپنا ہاتھ سور کے گوشت اور خون میں ڈبو دیا ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
65- بَاب فِي اللَّعِبِ بِالْحَمَامِ​
۶۵-باب: کبوتر بازی کا بیان​


4940- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ رَأَى رَجُلا يَتْبَعُ حَمَامَةً، فَقَالَ: < شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانَةً >۔
* تخريج: ق/الأدب ۴۴ (۳۷۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۰۱۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۴۵) (حسن صحیح)
۴۹۴۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کبوتری کا ( اپنی نظروں سے) پیچھا کر رہا ہے ( یعنی اڑا رہا ہے) تو آپ نے فرمایا: '' ایک شیطان ایک شیطانہ کا پیچھا کررہا ہے '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی دونوں شیطان ہیں، کبوتر اڑانے والا اس لئے شیطان ہے کہ وہ اللہ سے غافل اور بے پرواہ ہے، اور کبوتر اس لئے شیطان ہے کہ وہ اڑانے والے کی غفلت کا سبب بنا ہے۔
 
Top