55- بَاب فِيمَنْ يَهْجُرُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ
۵۵-باب: مسلمان بھائی سے ترک تعلق کیسا ہے؟
4910- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < لا تَبَاغَضُوا، وَلا تَحَاسَدُوا، وَلا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلايَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاثِ لَيَالٍ >۔
* تخريج: خ/الأدب ۵۷ (۶۰۶۵)، ۶۲ (۶۰۷۶)، م/البر والصلۃ ۷ (۲۵۵۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۳۰)، وقد أخرجہ: ت/البر والصلۃ ۲۴ (۱۹۳۵)، حم (۳/۱۹۹)، ط/ حسن الخلق ۴ (۱۴) (صحیح)
۴۹۱۰- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’ تم لوگ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اور ایک دوسرے کو پیٹھ نہ دکھاؤ (یعنی ملا قات تر ک نہ کرو) اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو ، اور کسی مسلمان کے لئے یہ درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ملنا جلنا چھوڑے رکھے‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یہ حکم ایسی ناراضگی سے متعلق ہے جومسلمانوں کے درمیان باہمی معاشرتی حقوق میں کوتاہی کی وجہ سے ہوئی ہو ،اور اگر دینی امور میں کوتاہی کی وجہ سے ہوتویہ جائز ہے، بلکہ بدعتیوں اور ہوا پرستوں سے میل جول نہ رکھنا واجب ہے جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلیں، اور حق کی طرف پلٹ نہ آئیں۔
4911- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <لا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ يَلْتَقِيَانِ، فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلامِ >۔
* تخريج: خ/الأدب ۶۲ (۶۰۷۷)، الاستئذان ۹ (۶۲۳۷)، م/البر والصلۃ ۸ (۲۵۶۰)، ت/البر والصلۃ ۲۱ (۱۹۳۲)، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۷۹)، وقد أخرجہ: ط/حسن الخلق ۴ (۱۳)، حم (۴۱۶۵، ۴۲۱، ۴۲۲) (صحیح)
۴۹۱۱- ابو ایو ب انصا ری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کسی مسلمان کے لئے درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھو ڑے رکھے کہ وہ دونوں ملیں تو یہ منہ پھیر لے ، اور وہ منہ پھیر لے ، اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : کیونکہ اس کاپہل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں تواضع اور خاکساری زیادہ ہے۔
4912- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ السَّرْخَسِيُّ، أَنَّ أَبَا عَامِرٍ أَخْبَرَهُم، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِلالٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < لا يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَهْجُرَ مُؤْمِنًا فَوْقَ ثَلاثٍ، فَإِنْ مَرَّتْ بِهِ ثَلاثٌ فَلْيَلْقَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَإِنْ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلامَ فَقَدِ اشْتَرَكَا فِي الأَجْرِ، وَإِنْ لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ فَقَدْ بَاءَ بِالإِثْمِ > زَادَ أَحْمَدُ < وَخَرَجَ الْمُسَلِّمُ مِنَ الْهِجْرَةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۸۰۳)، وقد أخرجہ: م/البر والصلۃ ۸ (۲۵۶۱)، حم (۲/۳۹۲، ۴۵۶) (ضعیف)
۴۹۱۲- ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’کسی مومن کے لئے درست نہیں کہ وہ کسی مومن کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے ، اگر اس پر تین دن گزر جائیں تو وہ اس سے ملے اور اس کو سلام کرے ، اب اگر وہ سلام کا جواب دیتا ہے ، تو وہ دونوں اجر میں شریک ہیں اور اگر وہ جواب نہیں دیتا تو وہ گنہ گار ہوا، اور سلام کرنے والا قطع تعلق کے گناہ سے نکل گیا‘‘۔
4913- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ ابْنِ عَثْمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْمُنِيبِ -يَعْنِي الْمَدَنِيَّ- قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لا يَكُونُ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلاثَةٍ، فَإِذَا لَقِيَهُ سَلَّمَ عَلَيْهِ ثَلاثَ مِرَارٍ كُلُّ ذَلِكَ لا يَرُدُّ عَلَيْهِ فَقَدْ بَاءَ بِإِثْمِهِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۹۷۷)، وقد أخرجہ: خ/الأدب ۶۲ (۶۰۷۷)، حم (۴/۳۲۷) (حسن)
۴۹۱۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ کسی مسلمان کے لئے درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے تو جب وہ(تین دن کے بعد) اس سے ملے اسے تین مر تبہ سلام کرے، اور وہ ایک با ر بھی سلام کا جواب نہ دے تو وہ اپنا گناہ لے کر لوٹے گا‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اگر ’’إثمه‘‘ کی ضمیر سلام کاجواب نہ دینے والے ’’لا يرد عليه‘‘ کی طرف لوٹتی ہو تومفہوم یہ ہوگا کہ سلام کرنے والا قطع تعلق کے گناہ سے بری ہوگیا، اور سلام کاجواب نہ دینے والااپنے قطع تعلق کاگناہ لے کر لوٹا، اور اگر
’’إثمه‘‘ کی ضمیر سلام کرنے والے کی طرف لوٹتی ہوتو مفہوم یہ ہوگا کہ وہ اپنا اور سلام کرنے والے دونوں کاگناہ لے کرلوٹے گا۔
4914- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لايَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاثٍ، فَمَنْ هَجَرَ فَوْقَ ثَلاثٍ فَمَاتَ دَخَلَ النَّار>۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۳۳۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۹۲، ۴۵۶) (صحیح)
۴۹۱۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کسی مسلمان کے لئے درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھو ڑے رکھے ، لہٰذا جوتین سے زیادہ چھوڑے رکھے پھر وہ(بغیرتوبہ کے اسی حال میں) مرجائے تو وہ جہنم میں داخل ہوگا‘‘۔
4915- حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِي خِرَاشٍ السُّلَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَنْ هَجَرَ أَخَاهُ سَنَةً فَهُوَ كَسَفْكِ دَمِهِ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۹۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۲۰) (صحیح)
۴۹۱۵- ابو خراش سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کوفرماتے سنا : ’’جس نے اپنے بھائی سے ایک سال تک قطع تعلق رکھا تو یہ اس کے خون بہانے کی طرح ہے‘‘۔
4916- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ كُلَّ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ، فَيُغْفَرُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمَيْنِ لِكُلِّ عَبْدٍ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلا مَنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا >.
[قَالَ أَبو دَاود: النَّبِيُّ ﷺ هَجَرَ بَعْضَ نِسَائِهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، وَابْنُ عُمَرَ هَجَرَ ابْنًا لَهُ إِلَى أَنْ مَاتَ].
قَالَ أَبو دَاود: إِذَا كَانَتِ الْهِجْرَةُ لِلَّهِ فَلَيْسَ مِنْ هَذَا بِشَيْئٍ، وَإِنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِالْعَزِيزِ غَطَّى وَجْهَهُ عَنْ رَجُلٍ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۷۹۸)، وقد أخرجہ: م/البر والصلۃ ۱۱ (۲۵۶۵)، ت/البر والصلۃ ۷۶ (۲۰۲۴)، حم (۲/۴۶۵) (صحیح)
۴۹۱۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’ہر دوشنبہ اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں پھر ان دنوں میں ہر اس بندے کی مغفرت کی جاتی ہے ، جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتا البتہ اس بندے کی نہیں جس کے درمیان اور اس کے بھائی کے درمیان دشمنی اور رقابت ہو، پھر کہا جاتا ہے : ان دونوں (کی مغفرت) کو ابھی رہنے دو جب تک کہ یہ صلح نہ کرلیں ‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے اپنی بعض ازواج مطہرات کو چالیس دن تک چھوڑے رکھا، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ایک بیٹے سے بات چیت بند رکھی یہاں تک کہ وہ مرگیا۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ قطع کلامی اگر اللہ کے لئے ہو ۱؎تو اس میں کوئی حرج نہیں اور عمر بن عبدالعزیز نے ایک شخص سے اپنا چہرہ ڈھانک لیا۔
وضاحت ۱؎ : یعنی اللہ کے حقوق میں کسی سے کسی حق کی پاسداری کے لئے ہوتو یہ اس وعید میں داخل نہیں ہے۔