• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
12- بَاب زَكَاةِ الْعَسَلِ
۱۲- باب: شہد کی زکاۃ کا بیان​

1600- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ الْمِصْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: جَائَ هِلالٌ أَحَدُ بَنِي مُتْعَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِعُشُورِ نَحْلٍ لَهُ، وَكَانَ سَأَلَهُ أَنْ يَحْمِيَ [لَهُ] وَادِيًا يُقَالُ لَهُ سَلَبَةُ، فَحَمَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ذَلِكَ الْوَادِي، فَلَمَّا وُلِّيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِي اللَّه عَنْه كَتَبَ سُفْيَانُ بْنُ وَهْبٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَكَتَبَ عُمَرُ رَضِي اللَّه عَنْه: < إِنْ أَدَّى إِلَيْكَ مَا كَانَ يُؤَدِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِنْ عُشُورِ نَحْلِهِ فَاحْمِ لَهُ سَلَبَةَ، وَإِلا فَإِنَّمَا هُوَ ذُبَابُ غَيْثٍ يَأْكُلُهُ مَنْ يَشَاءُ > ۔
* تخريج: ن/الزکاۃ ۲۹ (۲۴۹۸)، ( تحفۃ الأشراف :۷۸۶۷)، وقد أخرجہ: ق/الزکاۃ۲۰ (۱۸۲۳) (حسن)

۱۶۰۰- عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بنی متعان کے ایک فرد متعان اپنے شہد کا عشر (دسواں حصہ) لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے اس کے ایک سلبہ نامی جنگل کا ٹھیکا طلب کیا، رسول اللہ ﷺ نے انہیں جنگل کو ٹھیکے پر دے دیا، جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو سفیان بن وہب نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، وہ ان سے اس کے متعلق پوچھ رہے تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں (جواب میں) لکھا ’’اگر ہلال تم کو اسی قدر دیتے ہیں، جو وہ رسول اللہ ﷺ کو دیتے تھے یعنی اپنے شہد کا دسواں حصہ، تو سلبہ کا ان کا ٹھیکہ قائم رکھو اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو مکھیاں بھی جنگل کی دوسری مکھیوں کی طرح ہیں، جو چاہے ان کا شہد کھا سکتا ہے۔

1601- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، وَنَسَبَهُ إِلَى عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ شَبَابَةَ -بَطْنٌ مِنْ فَهْمٍ- فَذَكَرَ نَحْوَهُ قَالَ: مِنْ كُلِّ عَشْرِ قِرَبٍ قِرْبَةٌ، وَقَالَ سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: وَكَانَ يَحْمِي لَهُمْ وَادِيَيْنِ، زَادَ: فَأَدَّوْا إِلَيْهِ مَا كَانُوا يُؤَدُّونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَحَمَى لَهُمْ وَادِيَيْهِمْ ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۱۶۰۰)، ( تحفۃ الأشراف :۸۷۳۷) (حسن)

۱۶۰۱- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلۂ شبابہ جو قبیلۂ فہم کی ایک شاخ ہے، پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا اور کہا: ہر دس مشک میں سے ایک مشک زکاۃ ہے۔
سفیان بن عبد اللہ ثقفی کہتے ہیں: وہ ان کے لئے دو وادیوں کو ٹھیکہ پر دیئے ہوئے تھے، اور مزید کہتے ہیں: تو وہ لوگ انہیں اسی قدر شہد دیتے تھے جتنا وہ رسول اللہ ﷺ کو دیتے تھے اور آپ نے ان کے لئے دو وادیوں کو ٹھیکہ پر دیا تھا۔

1602- حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ بَطْنًا مِنْ فَهْمٍ، بِمَعْنَى الْمُغِيرَةِ قَالَ: مِنْ عَشْرِ قِرَبٍ قِرْبَةٌ، وَقَالَ: وَادِيَيْنِ لَهُمْ۔
* تخريج: ق/الزکاۃ ۲۰ (۱۸۲۳)، ( تحفۃ الأشراف :۸۶۵۷) (حسن)

۱۶۰۲- اس سند سے بھی عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مغیرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے ہم معنی روایت ہے، اس میں ’’إن شبابة بطن من فهم‘‘ کے بجائے ’’إن بطنا من فهم‘‘ ہے اور ’’من كل عشر قرب قربة‘‘ کے بجائے ’’من عشر قرب قربة‘‘ اور ’’لهم وادييهم‘‘ کے بجائے ’’واديين لهم‘‘ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
13-بَاب فِي خَرْصِ الْعِنَبِ
۱۳- باب: درختوں پر انگور کا تخمینہ (اندازہ) لگانا​

1603- حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ السَّرِيِّ النَّاقِطُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يُخْرَصَ الْعِنَبُ كَمَا يُخْرَصُ النَّخْلُ، وَتُؤْخَذُ زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤْخَذُ زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا.
* تخريج: ت/الزکاۃ ۱۷ (۶۴۴)، ن/الزکاۃ ۱۰۰ (۲۶۱۹)، ق/الزکاۃ ۱۸ (۱۸۱۹)، ( تحفۃ الأشراف :۹۷۴۸) (ضعیف)
(سعید بن مسیب اور عتاب رضی اللہ عنہ کے درمیان سند میں انقطاع ہے)
۱۶۰۳- عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انگور کا تخمینہ لگانے کا حکم دیا جیسے درخت پر کھجور کا تخمینہ لگایا جاتا ہے اور ان کی زکاۃ اس وقت لی جائے جب وہ خشک ہو جائیں جیسے کھجور کی زکاۃ سوکھنے پر لی جاتی ہے۔

1604- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ؛ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ .
[قَالَ أَبودَاود : سَعِيدٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَتَّابٍ شَيْئًا]۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف :۹۷۴۸) (ضعیف)
۱۶۰۴- ابن شہاب سے اس سند سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
ابو داود کہتے ہیں : سعید نے عتاب سے کچھ نہیں سنا ہے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس لئے کہ عتاب رضی اللہ عنہ کی وفات (۱۳ھ) میں اور سعید کی پیدائش (۱۵ھ) میں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
14-بَاب فِي الْخَرْص
۱۴- باب: درخت پر پھل کے تخمینہ لگانے کا بیان​

1605- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: جَائَ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ إِلَى مَجْلِسِنَا، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ [قَالَ:] < إِذَا خَرَصْتُمْ فَجُذُّوا وَدَعُوا الثُّلُثَ، فَإِنْ لَمْ تَدَعُوا أَوْ تَجُذُّوا الثُّلُثَ فَدَعُوا الرُّبْعَ >.
[قَالَ أَبودَاود: الْخَارِصُ يَدَعُ الثُّلُثَ لِلْحِرْفَةِ].
* تخريج: ت/الزکاۃ ۱۷ (۶۴۳)، ن/الزکاۃ ۲۶ (۲۴۹۰)، ( تحفۃ الأشراف :۴۶۴۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳) (ضعیف)
(عبد الرحمن بن مسعود انصاری لین الحدیث ہیں)
۱۶۰۵- عبد الرحمن بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ ہماری مجلس میں تشریف لائے، انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ جب تم پھلوں کا تخمینہ کر لو تب انہیں کاٹو اور ایک تہائی چھوڑ دیا کرو اگر تم ایک تہائی نہ چھوڑ سکو تو ایک چوتھائی ہی چھوڑ دیا کرو۱؎ ۔
ابو داود کہتے ہیں: اندازہ لگانے والا ایک تہائی بیج بونے وغیرہ جیسے کاموں کے لئے چھوڑ دے گا، اس کی زکاۃ نہیں لے گا۔
وضاحت۱؎: یعنی جتنا اندازہ لگایا جائے اس میں سے ایک تہائی حصہ چھوڑ دیا جائے، اس کی زکاۃ نہ لی جائے کیوں کہ تخمینے میں کمی بیشی کا احتمال ہے، اسی طرح پھل تلف بھی ہو جاتے ہیں اور کچھ کو جانور کھا جاتے ہیں، ایک تہائی چھوڑ دینے سے مالک کے ان نقصانات کی تلافی اور بھر پائی ہو جاتی ہے، اس پر اکثر علماء کا عمل ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
15-بَاب مَتَى يُخْرَصُ التَّمْرُ؟
۱۵- باب: کھجور کا تخمینہ کب لگایا جائے گا؟​

1606- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةِ رَضِي اللَّه عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَبْعَثُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ إِلَى يَهُودَ فَيَخْرُصُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۱۶۰۶، ۱۶۵۳۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۶۳) (ضعیف)
(ابن جریج اور زھری کے درمیان سند میں انقطاع ہے)
۱۶۰۶- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا خیبر کے معاملہ کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہودیوں کے پاس بھیجتے تو وہ کھجور کو اس وقت اندازہ لگاتے جب وہ پکنے کے قریب ہو جاتی قبل اس کے کہ وہ کھائی جا سکے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں سے اس طرح معاملہ کیا کہ تم اپنے کھیتوں میں کھیتی کرتے رہو، لیکن اس میں سے آدھا مسلمانوں کو دیا کرو، اس لئے عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ہر فصل میں جا کر کھجوروں کا اندازہ لگا آتے، پھر فصل کٹنے کے بعد اسی حساب سے ان سے وصول لیا جاتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
16- بَاب مَا لا يَجُوزُ مِنَ الثَّمَرَةِ فِي الصَّدَقَةِ
۱۶- باب: جن پھلوں کو زکاۃ میں دینا جائز نہیں ان کا بیان​

1607- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْجُعْرُورِ وَلَوْنِ الْحُبَيْقِ أَنْ يُؤْخَذَا فِي الصَّدَقَةِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: لَوْنَيْنِ مِنْ تَمْرِ الْمَدِينَةِ.
قَالَ أَبودَاود : وَأَسْنَدَهُ أَيْضًا أَبُو الْوَلِيدِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۴۶۵۸)، وقد أخرجہ: ن/الزکاۃ ۲۷ (۲۴۹۴) (صحیح)
(متابعت کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ سفیان بن حسین: ابن شہاب زھری سے روایت میں ضعیف ہیں)
۱۶۰۷- سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ’’جعرور‘‘ اور ’’لون الحبیق‘‘ کو زکاۃ میں لینے سے منع۱؎ فرمایا، زہری کہتے ہیں: یہ دونوں مدینے کی کھجور کی قسمیں ہیں۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے ابو الولید نے بھی سلیمان بن کثیرسے انہوں نے زہری سے روایت کیا ہے۔
وضاحت۱؎: زکاۃ میں اوسط درجہ کا مال دیا جاتا ہے، نہ بہت عمدہ اور نہ بہت خراب، کھجور کی مذکورہ دونوں قسمیں ردی اور خراب ہیں، اس لئے انہیں زکاۃ میں دینے سے منع فرمایا۔

1608- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى -يَعْنِي الْقَطَّانَ- عَنْ عَبْدِالْحَمِيدِ ابْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَسْجِدَ وَبِيَدِهِ عَصَا وَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ قَنَا حَشَفًا، فَطَعَنَ بِالْعَصَا فِي ذَلِكَ الْقِنْوِ، وَقَالَ: < لَوْ شَائَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْهَا >، وَقَالَ: < إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ يَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ >۔
* تخريج: ن/الزکاۃ ۲۷ (۲۴۹۵)، ق/الزکاۃ ۱۹ (۱۸۲۱)، ( تحفۃ الأشراف :۱۰۹۱۴)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۳، ۲۸) (حسن)

۱۶۰۸- عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک بار ہمارے پاس مسجد میں تشریف لائے، آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی، ایک شخص نے خراب قسم کی کھجور کا خوشہ لٹکا رکھا تھا، آپ ﷺ نے اس خوشہ میں چھڑی چبھوئی اور فرمایا: ’’اس کا صدقہ دینے والا شخص اگر چاہتا تو اس سے بہتر دے سکتا تھا‘‘، پھر فرمایا: ’’یہ صدقہ دینے والا قیامت کے روز حشف (خراب قسم کی کھجور) کھائے گا‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
17- بَاب زَكَاةِ الْفِطْرِ
۱۷- باب: صدقہء فطر کا بیان​

1609- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ وَعَبْدُاللَّهِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ السَّمْرَقَنْدِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، قَالَ عَبْدُاللَّهِ: حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْخَوْلانِيُّ، وَكَانَ شَيْخَ صِدْقٍ، وَكَانَ ابْنُ وَهْبٍ يَرْوِي عَنْهُ، حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، قَالَ مَحْمُودٌ: الصَّدَفِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ، مَنْ أَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلاةِ فَهِيَ زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ، وَمَنْ أَدَّاهَا بَعْدَ الصَّلاةِ فَهِيَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ۔
* تخريج: ق/الزکاۃ ۲۱ (۱۸۲۷)، ( تحفۃ الأشراف :۶۱۳۳) (حسن)

۱۶۰۹- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہء فطر صائم کو لغو اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے کے لئے اور مسکینوں کے کھانے کے لئے فرض کیا ہے، لہٰذا جو اسے (عید کی) صلاۃ سے پہلے ادا کرے گا تو یہ مقبول صدقہ ہو گا اور جو اسے صلاۃ کے بعد ادا کرے گا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
18- بَاب مَتَى تُؤَدَّى ؟
۱۸- باب: صدقہء فطر کب دیا جائے؟​

1610- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلاةِ، قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُؤَدِّيهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِالْيَوْمِ وَالْيَوْمَيْنِ۔
* تخريج: خ/الزکاۃ ۷۶ (۱۵۰۹)، م/الزکاۃ ۵ (۹۸۶)، ت/الزکاۃ ۳۶ (۶۷۷)، ن/الزکاۃ ۴۵ (۲۵۲۲)، (تحفۃ الأشراف :۸۴۵۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۵۱، ۱۵۵) (صحیح) دون فعل ابن عمر

۱۶۱۰- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ صدقہء فطر لوگوں کے صلاۃ کے لئے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے، راوی کہتے ہیں: چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما صلاۃ عید کے ایک یا دو دن پہلے صدقہء فطر ادا کرتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
19- بَاب كَمْ يُؤَدَّى فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ؟
۱۹- باب: صدقہء فطر کتنا دیا جائے؟​

1611- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، وَقَرَأَهُ عَلَيَّ مَالِكٌ أَيْضًا، عَنْ نَافِعٍ؛ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ، قَالَ فِيهِ فِيمَا قَرَأَ[هُ] عَلَيَّ مَالِكٌ: زَكَاةُ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ، عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى، مِنَ الْمُسْلِمِينَ ۔
* تخريج: خ/الزکاۃ ۷۳ (۱۵۰۶)، م/الزکاۃ ۴ (۹۸۴)، ت/الزکاۃ ۳۵، ۳۶ (۶۷۶)، ن/الزکاۃ ۳۳ (۲۵۰۵)، ق/الزکاۃ ۲۱ (۱۸۲۶)، ( تحفۃ الأشراف :۸۳۲۱)، وقد أخرجہ: ط/الزکاۃ ۲۸ (۵۲)، حم (۲/۵، ۵۵، ۶۳، ۶۶، ۱۰۲، ۱۱۴، ۱۳۷)، دي/الزکاۃ ۲۷ (۱۷۰۲) (صحیح)

۱۶۱۱- عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہء فطر کھجور سے ایک صاع اور جو سے ایک صاع فرض کیاہے، جو مسلمانوں میں سے ہر آزاد اور غلام پر، مرد اور عورت پر(فرض) ہے۔

1612- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا، فَذَكَرَ بِمَعْنَى مَالِكٍ، زَادَ: وَالصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلاةِ.
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ عَبْدُاللَّهِ الْعُمَرِيُّ عَنْ نَافِعٍ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ: عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَرَوَاهُ سَعِيدٌ الْجُمَحِيُّ عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ عَنْ نَافِعٍ، قَالَ فِيهِ: مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَالْمَشْهُورُ عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ لَيْسَ فِيهِ: < مِنَ الْمُسْلِمِينَ >۔
* تخريج: خ/الزکاۃ ۷۰ (۱۵۰۳)، ن/الزکاۃ ۳۳ (۲۵۰۶)، ( تحفۃ الأشراف :۸۲۴۴) (صحیح)

۱۶۱۲- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہء فطر ایک صاع مقرر کیا، پھر راوی نے مالک کی روایت کے ہم معنی حدیث ذکر کی، اس میں ’’والصغير والكبير وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة‘‘ (ہر چھوٹے اور بڑے پر (صدقہء فطر واجب ہے) اور آپ نے لوگوں کے صلاۃ کے لئے نکلنے سے پہلے اس کے ادا کر دینے کا حکم دیا) کا اضافہ کیا۔
ابو داود کہتے ہیں: عبد اللہ عمری نے اسے نافع سے اسی سند سے روایت کیا ہے اس میں’’على كل مسلم‘‘ کے الفاظ ہیں (یعنی ہر مسلمان پر لازم ہے) ۱؎ اور اسے سعید جمحی نے عبید اللہ (عمری) سے انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے اس میں ’’من المسلمين‘‘ کا لفظ ہے حالانکہ عبید اللہ سے جو مشہور ہے اس میں ’’من المسلمين‘‘ کا لفظ نہیں ہے۔
وضاحت۱؎ : اس سے معلوم ہوا کہ کافر غلام یا کافر لونڈی کی طرف سے صدقۂ فطر نکالنا ضروری نہیں۔

1613- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ وَبِشْرَ بْنَ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَاهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ (ح) وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ، عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ، زَادَ مُوسَى: وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى.
قَالَ أَبودَاود: قَالَ فِيهِ أَيُّوبُ وَعَبْدُاللَّهِ -يَعْنِي الْعُمَرِيَّ- فِي حَدِيثِهِمَا عَنْ نَافِعٍ: <ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى > أَيْضًا۔
* تخريج: خ/الزکاۃ ۷۸ (۱۵۱۲)، ( تحفۃ الأشراف :۷۷۹۵، ۷۸۱۵، ۸۱۷۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۵۵) (صحیح)

۱۶۱۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے صدقہء فطر جو یا کھجور میں سے ہر چھوٹے بڑے اور آزاد اور غلام پرایک صاع فرض کیا ہے۔
موسی کی روایت میں’’والذكر والأنثى‘‘ بھی ہے یعنی مرد اور عورت پر بھی۔
ابو داود کہتے ہیں: اس میں ایوب اور عبد اللہ یعنی عمری نے اپنی اپنی روایتوں میں نافع سے ’’ذكر أو أنثى‘‘ کے الفاظ (نکرہ کے ساتھ) ذکر کئے ہیں۔

1614- حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يُخْرِجُونَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ أَوْ سُلْتٍ أَوْ زَبِيبٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُاللَّهِ: فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ رَضِي اللَّه عَنْه وَكَثُرَتِ الْحِنْطَةُ جَعَلَ عُمَرُ نِصْفَ صَاعٍ حِنْطَةً مَكَانَ صَاعٍ مِنْ تِلْكَ الأَشْيَاءِ۔
* تخريج: ن/ الزکاۃ ۴۱ (۲۵۱۸)، ( تحفۃ الأشراف :۷۷۶۰) (ضعیف)
(عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر وہم ہے صحیح یہ ہے کہ ایسا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کیا، عبد العزیز بن أبی رواد سے یہاں وھم ہو گیا ہے ان سے وہم ہو بھی جایا کرتا تھا)
۱۶۱۴- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگ صدقہء فطرمیں ایک صاع جو یا کھجور یا بغیر چھلکے کا جو، یا انگور نکالتے تھے، جب عمر کا دور آیا اور گیہوں بہت زیادہ آنے لگا تو انہوں نے ان تمام چیزوں کے بدلے گیہوں کا آدھا صاع (صدقہء فطر) مقرر کیا۔

1615- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ؛ عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُاللَّهِ: فَعَدَلَ النَّاسُ بَعْدُ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُاللَّهِ يُعْطِي التَّمْرَ، فَأُعْوِزَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ التَّمْرَ عَامًا فَأَعْطَى الشَّعِيرَ۔
* تخريج: خ/الزکاۃ ۷۸ (۱۵۱۱)، م/الزکاۃ ۴ (۹۸۴)، ت/الزکاۃ ۳۵ (۶۷۶)، ن/الزکاۃ ۳۰ (۲۵۰۲)، (تحفۃ الأشراف :۷۵۱۰)، وقد أخرجہ: ط/الزکاۃ ۲۸ (۵۲)، حم (۲/۵، ۵۵، ۶۳، ۶۶، ۱۰۲، ۱۱۴، ۱۳۷)، دی/الزکاۃ ۲۷ (۱۷۰۲) (صحیح)

۱۶۱۵- نافع کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کے بعد لوگوں نے آدھے صاع گیہوں کو ایک صاع کے برابر کر لیا، عبد اللہ (ایک صاع) کھجور ہی دیا کرتے تھے، ایک سال مدینے میں کھجور کا ملنا دشوار ہو گیا تو انہوں نے جو دیا۔

1616- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ -يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ-، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنَّا نُخْرِجُ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زَكَاةَ الْفِطْرِ عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ: صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ، فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ حَتَّى قَدِمَ مُعَاوِيَةُ حَاجًّا، أَوْ مُعْتَمِرًا، فَكَلَّمَ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ أَنْ قَالَ: إِنِّي أَرَى أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَمَّا أَنَا فَلا أَزَالُ أُخْرِجُهُ أَبَدًا مَا عِشْتُ .
* تخريج: خ/الزکاۃ ۷۲ (۱۵۰۵)، ۷۳ (۱۵۰۶)، ۷۵ (۱۵۰۸)، ۷۶ (۱۵۱۰)، م/الزکاۃ ۴ (۹۸۵)، ت/الزکاۃ ۳۵ (۶۷۳)، ن/الزکاۃ ۳۷ (۲۵۱۳)، ق/الزکاۃ ۲۱ (۱۸۲۹)، ( تحفۃ الأشراف :۴۲۶۹)، وقد أخرجہ: ط/الزکاۃ ۲۸ (۵۳)، حم (۳/۲۳، ۷۳، ۹۸)، دي/الزکاۃ ۲۷ (۱۷۰۴) (صحیح) قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ ابْنُ عُلَيَّةَ وَعَبْدَةُ وَغَيْرِهِمَا عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنْ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، بِمَعْنَاهُ، وَذَكَرَ رَجُلٌ وَاحِدٌ فِيهِ عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ < أَوْ صَاعًا مِنْ حِنْطَةٍ > وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ ۔ (ضعیف)

۱۶۱۶- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان باحیات تھے، ہم لوگ صدقہء فطر ہر چھوٹے اور بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے غلہ یا پنیر یا جو یا کھجور یا کشمش سے ایک صاع نکالتے تھے، پھرہم اسی طرح نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ حج یا عمرہ کرنے آئے تو انہوں نے منبر پر چڑھ کر لوگوں سے کچھ باتیں کیں، ان میں ان کی یہ بات بھی شامل تھی: میری رائے میں اس گیہوں کے جو شام سے آتا ہے دو مد ایک صاع کھجور کے برابر ہیں، پھر لوگوں نے یہی اختیار کر لیا، اور ابو سعید نے کہا: لیکن میں جب تک زندہ رہوں گا برابر ایک ہی صاع نکالتا رہوں گا۔
امام ابو داود کہتے ہیں:اسے ابن علیہ اور عبدہ وغیرہ نے ابن اسحاق سے، ابی اسحاق نے عبد اللہ بن عبد اللہ بن عثمان بن حکیم بن حزام سے، عبد اللہ بن عبد اللہ نے عیاض سے اور عیاض نے ابو سعید سے اسی مفہوم کے ساتھ نقل کیا ہے، ایک شخص نے ابن علیہ سے’’أو صاعًا من حنطة‘‘ بھی نقل کیا ہے لیکن یہ غیر محفوظ ہے۔

1617- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ؛ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْحِنْطَةِ.
قَالَ أَبودَاود : وَقَدْ ذَكَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ الثَّوْرِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عِيَاضٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ < نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ > وَهُوَ وَهْمٌ مِنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ هِشَامٍ أَوْ مِمَّنْ رَوَاهُ عَنْهُ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف :۴۲۶۹) (ضعیف)

۱۶۱۷- اس سند سے اسماعیل (ابن علیہ) سے یہی حدیث (نمبر: ۱۶۱۶ کے اخیر میں مذکور سند سے) مروی ہے، اس میں حنطہ کا ذکر نہیں ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: معاویہ بن ہشام نے اس حدیث میں ثوری سے، ثوری نے زید بن اسلم سے، زیدی اسلم نے عیاض سے، عیاض نے ابو سعید سے ’’نصف صاع من بُرٍّ‘‘ نقل کیا ہے، لیکن یہ زیادتی معاویہ بن ہشام کا یا اس شخص کا وہم ہے جس نے ان سے روایت کی ہے۔

1618- حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ (ح) وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، سَمِعَ عِيَاضًا قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: لا أُخْرِجُ أَبَدًا إِلا صَاعًا، إِنَّا كُنَّا نُخْرِجُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ صَاعَ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ أَوْ أَقِطٍ أَوْ زَبِيبٍ، هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى، زَادَ سُفْيَانُ: أَوْ صَاعًا مِنْ دَقِيقٍ، قَالَ حَامِدٌ: فَأَنْكَرُوا عَلَيْهِ فَتَرَكَهُ سُفْيَانُ.
قَالَ أَبودَاود : فَهَذِهِ الزِّيَادَةُ وَهْمٌ مِنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ۔
* تخريج: تفرد أبو داود بروایۃ سفیان بن عیینۃ، وروایۃ یحییٰ القطان صحیحۃ موافقۃ لرقم : ۱۶۱۶، ( تحفۃ الأشراف: ۴۲۶۹) (حسن)
(یحییٰ القطان کی روایت حسن ہے، اور ابن عیینہ کی روایت میں وہم ہے، اس لئے ضعیف ہے)
۱۶۱۸- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ہمیشہ ایک ہی صاع نکالوں گا، ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زما نے میں کھجور، یا جو، یا پنیر، یا انگور کا ایک ہی صاع نکالتے تھے۔
یہ یحییٰ کی روایت ہے، سفیان کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: یا ایک صاع آٹے کا، حامد کہتے ہیں: لوگوں نے اس زیادتی پر نکیر کی، تو سفیان نے اسے چھوڑ دیا۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ زیادتی ابن عیینہ کا وہم ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
20- بَاب مَنْ رَوَى نِصْفَ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ
۲۰- باب: گیہوں میں آدھا صاع صدقہء فطر دینے کے قائلین کی دلیل کا بیان​

1619- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ النُّعْمَانِ ابْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ مُسَدَّدٌ، عَنْ ثَعْلَبَةَ [بْنِ عَبْدِاللَّهِ] بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ -أَوْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ- بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < صَاعٌ مِنْ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ عَلَى كُلِّ اثْنَيْنِ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى، أَمَّا غَنِيُّكُمْ فَيُزَكِّيهِ اللَّهُ، وَأَمَّا فَقِيرُكُمْ فَيَرُدُّ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَى >، زَادَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ غَنِيٍّ أَوْ فَقِيرٍ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۲۰۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۴۳۲) (ضعیف)
(نعمان بن راشد کے سبب یہ روایت ضعیف ہے)
۱۶۱۹- عبد اللہ بن ابو صعیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’گیہوں کا ایک صاع ہر دو آدمیوں پر لازم ہے (ہر ایک کی طرف سے آدھا صاع) چھوٹے ہوں یا بڑے، آزاد ہوں یا غلام، مرد ہوں یا عورت، رہا تم میں جو غنی ہے، اللہ اسے پاک کر دے گا، اور جو فقیر ہے اللہ اسے اس سے زیادہ لوٹا دے گا، جتنا اس نے دیا ہے‘‘۔
سلیمان نے اپنی روایت میں ’’غنيٍ أو فقيرٍ‘‘ کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے۔

1620- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّرَابِجِرْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ -هُوَ ابْنُ وَائِلٍ- عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، أَوْ قَالَ: عَبْدِاللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ بَكْرٍ الْكُوفِيِّ، قَالَ [مُحَمَّدُ] بْنُ يَحْيَى: هُوَ بَكْرُ بْنُ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ أَنَّ الزُّهْرِيَّ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ؛ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ خَطِيبًا فَأَمَرَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ صَاعِ تَمْرٍ أَوْ صَاعِ شَعِيرٍ، عَنْ كُلِّ رَأْسٍ، زَادَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ: أَوْ صَاعِ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ، ثُمَّ اتَّفَقَا: عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۲۰۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۴۳۲) (صحیح)

۱۶۲۰- ثعلبہ بن صعیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے صدقہء فطر میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جوَ ہر شخص کی جانب سے نکالنے کا حکم دیا۔
علی بن حسین نے اپنی روایت میں ’’أو صاع بر أو قمح بين اثنين‘‘ کا اضافہ کیا ہے (یعنی دو آدمیوں کی طرف سے گیہوں کا ایک صاع نکالنے کا)، پھردونوں کی روایتیں متفق ہیں:’’ چھوٹے بڑے آزاد اور غلام ہرایک کی طرف سے ‘‘۔

1621- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ: قَالَ ابْنُ صَالِحٍ: قَالَ الْعَدَوِيُّ: [قَالَ اَبُوْدَاود: قَالَ اَحْمَدُ بْنُ صَالِح:] وَإِنَّمَا هُوَ الْعُذْرِيُّ، خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ النَّاسَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمَيْنِ، بِمَعْنَى حَدِيثِ الْمُقْرِءِ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف :۲۰۷۳) (صحیح)

۱۶۲۱- عبد الرزاق کہتے ہیں ابن جریج نے ہمیں خبر دی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے اپنی روایت میں عبد اللہ بن ثعلبہ (جزم کے ساتھ بغیر شک کے) کہا۱؎ ۔
احمد بن صالح کہتے ہیں کہ عبد الرزاق نے عبد اللہ بن ثعلبہ کے تعلق سے کہا ہے کہ وہ عدوی ہیں۔
ابو داود کہتے ہیں کہ احمد بن صالح نے عبد اللہ صالح کو عذری کہا ہے۲؎، رسول اللہ ﷺ نے عید کے دو دن پہلے لوگوں کو خطبہ دیا، یہ خطبہ مقری (عبد اللہ بن یزید) کی روایت کے مفہوم پر مشتمل تھا۔
وضاحت۱؎: نعمان بن راشد اور بکر بن وائل کی جو روایت زہری سے اوپر گزری ہے اس میں شک کے ساتھ آیا ہے۔
وضاحت۲؎: عدوی تصحیف ہے۔

1622- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حُمَيْدٌ أَخْبَرَنَا، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: خَطَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي آخِرِ رَمَضَانَ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، فَقَالَ أَخْرِجُوا صَدَقَةَ صَوْمِكُمْ، فَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَعْلَمُوا، فَقَالَ: مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ؟ قُومُوا إِلَى إِخْوَانِكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ فَإِنَّهُمْ لا يَعْلَمُونَ، فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ هَذِهِ الصَّدَقَةَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ شَعِيرٍ، أَوْ نِصْفَ صَاعٍ [مِنْ] قَمْحٍ، عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ رَضِي اللَّه عَنْه رَأَى رُخْصَ السِّعْرِ قَالَ: قَدْ أَوْسَعَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ، فَلَوْ جَعَلْتُمُوهُ صَاعًا مِنْ كُلِّ شَيْئٍ، قَالَ حُمَيْدٌ: وَكَانَ الْحَسَنُ يَرَى صَدَقَةَ رَمَضَانَ عَلَى مَنْ صَامَ۔
* تخريج: ن/الزکاۃ ۳۶ (۲۵۱۰)، ( تحفۃ الأشراف :۵۳۹۴) (ضعیف)
(حسن بصری کا سماع ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نہیں ہے)
۱۶۲۲- حسن کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رمضان کے اخیر میں بصرہ کے منبر پر خطبہ دیا اور کہا: ’’اپنے صیام کا صدقہ نکالو‘‘، لوگ نہیں سمجھ سکے تو انہوں نے کہا: ’’اہل مدینہ میں سے کون کون لوگ یہاں موجود ہیں؟ اٹھو اور اپنے بھائیوں کو سمجھاؤ، -اس لئے کہ وہ نہیں جانتے- رسول اللہ ﷺ نے یہ صدقہ فرض کیا کھجور یا جَو سے ایک صاع، اور گیہوں سے آدھا صاع ہر آزاد اور غلام، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے پر‘‘، پھر جب علی رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے ارزانی دیکھی اور کہنے لگے: ’’اللہ تعالی نے تمہارے لئے کشادگی کر دی ہے، اب اسے ہر شئی میں سے ایک صاع کر لو ۱؎ تو بہتر ہے‘‘۔
حمید کہتے ہیں: حسن کا خیال تھا کہ صدقۂ فطر اس شخص پر ہے جس نے رمضان کے صیام رکھے ہوں۔
وضاحت ۱؎ : یعنی گیہوں بھی ایک صاع دو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
21- بَاب فِي تَعْجِيلِ الزَّكَاةِ
۲۱- باب: وقت سے پہلے زکاۃ نکال دینے کا بیان​

1623- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ وَرْقَائَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ ﷺ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَمَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلا أَنْ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا، فَقَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتُدَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَهِيَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا >، ثُمَّ قَالَ: < أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ الأَبِ أَوْ صِنْوُ أَبِيهِ >۔
* تخريج: م/الزکاۃ ۳ (۹۸۳)، ( تحفۃ الأشراف :۱۳۹۲۲)، وقد أخرجہ: خ/الزکاۃ ۴۹ (۱۴۶۸)، ن/الزکاۃ ۱۵ (۲۴۶۳)، حم (۲/۳۲۲) (صحیح)

۱۶۲۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو زکاۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا تو ابن جمیل، خالد بن ولید اور عباس رضی اللہ عنہم نے (زکاۃ دینے سے) انکار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ابن جمیل اس لئے نہیں دیتا ہے کہ وہ فقیر تھا اللہ نے اس کو غنی کر دیا، رہے خالد بن ولید تو خالد پر تم لوگ ظلم کر رہے ہو، انہوں نے اپنی زرہیں اور سامانِ جنگ اللہ کی راہ میں دے رکھے ہیں۱؎، اور رہے رسول اللہ ﷺ کے چچا عباس تو ان کی زکاۃ میرے ذمّہ ہے اور اسی قدر اور ہے۲؎ ‘‘، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تمہیں نہیں معلوم کہ چچا والد کے برابر ہے‘‘۔
راوی کو شک ہے’’صنو الأب‘‘ کہا، یا ’’صنو أبيه‘‘ کہا۔
وضاحت۱ ؎: یعنی انہوں نے اپنی زرہیں اور اپنے سامان اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے وقف کر رکھا ہے، پھر ان کی زکاۃ کیسی، اسے تو انہوں نے اللہ ہی کی راہ میں دے رکھا ہے، یا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے بن مانگے اپنی خوشی سے یہ چیزیں اللہ کی راہ میں دیدیں ہیں، تو وہ بھلا زکاۃ کیوں نہیں دیں گے، تمہیں لوگوں نے ان کے ساتھ کوئی زیادتی کی ہو گی۔
وضاحت ۲؎ : باب سے مطابقت اسی لفظ سے ہے یعنی: ’’اس سال کی زکاۃ اور اسی کے مثل آئندہ کی زکاۃ بھی‘‘۔

1624- حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ حُجَيَّةَ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ الْعَبَّاسَ سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ، فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ، [قَالَ: مَرَّةً، فَأَذِنَ لَهُ فِي ذَلِكَ].
قَالَ أَبو دَاود: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ الْحَسَنِ ابْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ وَحَدِيثُ هُشَيْمٍ أَصَحُّ۔
* تخريج: ت/الزکاۃ ۳۷ (۶۷۸)، ق/الزکاۃ ۷ (۱۷۹۵)، ( تحفۃ الأشراف :۱۰۰۶۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۰۴)، دي/الزکاۃ ۱۲ (۱۶۷۶) (حسن)

۱۶۲۴- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے زکاۃ جلدی (یعنی سال گزرنے سے پہلے) دینے کے بارے میں پوچھا توآپ نے ان کو اس کی اجازت دی۔
راوی نے ایک بار ’’فرخص له في ذلك‘‘ کے بجائے ’’فأذن له في ذلك‘‘ روایت کی ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث ہشیم نے منصور بن زاذان سے، منصور نے حکم سے حکم نے حسن بن مسلم سے اور حسن بن مسلم نے نبی کریم ﷺ سے (مرسلاً) روایت کی ہے اور ہشیم کی حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے، (یعنی: اس روایت کا مرسل بلکہ معضل ہونا ہی زیادہ صحیح ہے)۔
 
Top