- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
86- بَاب طَوَافِ الْوَدَاعِ
۸۶- باب: طوافِ وداع کا بیان
۸۶- باب: طوافِ وداع کا بیان
2005- حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَفْلَحَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا قَالَتْ: أَحْرَمْتُ مِنَ التَّنْعِيمِ بِعُمْرَةٍ، فَدَخَلْتُ، فَقَضَيْتُ عُمْرَتِي، وَانْتَظَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالأَبْطَحِ حَتَّى فَرَغْتُ، وَأَمَرَ النَّاسَ بِالرَّحِيلِ، قَالَتْ: وَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ ثُمَّ خَرَجَ۔
* تخريج: م/الحج ۱۷ (۱۲۱۱)، ( تحفۃ الأشراف:۱۷۴۴۳،۱۷۴۴۰)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۲۴) (صحیح)
۲۰۰۵- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے تنعیم سے عمرے کا احرام باندھا پھر میں (مکہ) گئی اور اپنا عمرہ پورا کیا، رسول اللہ ﷺ نے مقام ابطح ۱؎ میں میرا انتظار کیا یہاں تک کہ میں فارغ ہو کر (آپ کے پاس واپس آگئی) تو آپ نے لوگوں کو روانگی کا حکم دیا، آپ ﷺ خانۂ کعبہ آئے اور اس کا طواف کیا پھر روانہ ہوئے۔
وضاحت۱ ؎: وہ میدان جو مکہ اور منیٰ کے درمیان ہے اسے وادی محصب بھی کہتے ہیں۔
2006- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ- حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْتُ مَعَهُ -تَعْنِي مَعَ النَّبِيِّ ﷺ- فِي النَّفْرِ الآخِرِ، فَنَزَلَ الْمُحَصَّبَ، قَالَ أَبودَاود: وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ بَشَّارٍ قِصَّةَ بَعْثِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَتْ : ثُمَّ جِئْتُهُ بِسَحَرٍ فَأَذَّنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ فَارْتَحَلَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ قَبْلَ صَلاةِ الصُّبْحِ فَطَافَ بِهِ حِينَ خَرَجَ ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۷۴۳۴، ۱۷۴۴۱) (صحیح)
۲۰۰۶- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آخری دن کی روانگی میں نکلی تو آپ وادی محصب میں اترے، (ابو داود کہتے ہیں: ابن بشار نے اس حدیث میں ان کے تنعیم بھیجے جانے کا واقعہ ذکر نہیں کیا) پھر میں صبح کو آپ ﷺ کے پاس آئی، تو آپ نے لوگوں میں روانگی کی منادی کرا دی، پھر خود روانہ ہوئے تو فجر سے پہلے بیت اللہ سے گزرے اور نکلتے وقت اس کا طواف کیا، پھر مدینہ کا رخ کر کے چل پڑے۔
2007- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُاللَّهِ ابْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ طَارِقٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أُمِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ إِذَا جَازَ مَكَانًا مِنْ دَارِ يَعْلَى نَسِيَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ، اسْتَقْبَلَ الْبَيْتَ فَدَعَا۔
* تخريج: ن/الحج ۱۲۳ (۲۸۹۹)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۸۳۷۴)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۳۶، ۴۳۷) (ضعیف) (اس کے راوی ’’عبدالرحمن‘‘ لین الحدیث ہیں)
۲۰۰۷- عبد الرحمن بن طارق اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب یعلی کے گھر کی جگہ سے آگے بڑھتے (اس جگہ کا نام عبید اللہ بھول گئے) تو بیت اللہ کی جانب رخ کرتے اور دعا مانگتے ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: نہ تو یہ حدیث صحیح ہے اور نہ ہی باب سے اس کا کوئی تعلق ہے۔