• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
86- بَاب طَوَافِ الْوَدَاعِ
۸۶- باب: طوافِ وداع کا بیان​

2005- حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَفْلَحَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا قَالَتْ: أَحْرَمْتُ مِنَ التَّنْعِيمِ بِعُمْرَةٍ، فَدَخَلْتُ، فَقَضَيْتُ عُمْرَتِي، وَانْتَظَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالأَبْطَحِ حَتَّى فَرَغْتُ، وَأَمَرَ النَّاسَ بِالرَّحِيلِ، قَالَتْ: وَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ ثُمَّ خَرَجَ۔
* تخريج: م/الحج ۱۷ (۱۲۱۱)، ( تحفۃ الأشراف:۱۷۴۴۳،۱۷۴۴۰)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۲۴) (صحیح)

۲۰۰۵- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے تنعیم سے عمرے کا احرام باندھا پھر میں (مکہ) گئی اور اپنا عمرہ پورا کیا، رسول اللہ ﷺ نے مقام ابطح ۱؎ میں میرا انتظار کیا یہاں تک کہ میں فارغ ہو کر (آپ کے پاس واپس آگئی) تو آپ نے لوگوں کو روانگی کا حکم دیا، آپ ﷺ خانۂ کعبہ آئے اور اس کا طواف کیا پھر روانہ ہوئے۔
وضاحت۱ ؎: وہ میدان جو مکہ اور منیٰ کے درمیان ہے اسے وادی محصب بھی کہتے ہیں۔

2006- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ- حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْتُ مَعَهُ -تَعْنِي مَعَ النَّبِيِّ ﷺ- فِي النَّفْرِ الآخِرِ، فَنَزَلَ الْمُحَصَّبَ، قَالَ أَبودَاود: وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ بَشَّارٍ قِصَّةَ بَعْثِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَتْ : ثُمَّ جِئْتُهُ بِسَحَرٍ فَأَذَّنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ فَارْتَحَلَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ قَبْلَ صَلاةِ الصُّبْحِ فَطَافَ بِهِ حِينَ خَرَجَ ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۷۴۳۴، ۱۷۴۴۱) (صحیح)

۲۰۰۶- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آخری دن کی روانگی میں نکلی تو آپ وادی محصب میں اترے، (ابو داود کہتے ہیں: ابن بشار نے اس حدیث میں ان کے تنعیم بھیجے جانے کا واقعہ ذکر نہیں کیا) پھر میں صبح کو آپ ﷺ کے پاس آئی، تو آپ نے لوگوں میں روانگی کی منادی کرا دی، پھر خود روانہ ہوئے تو فجر سے پہلے بیت اللہ سے گزرے اور نکلتے وقت اس کا طواف کیا، پھر مدینہ کا رخ کر کے چل پڑے۔

2007- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُاللَّهِ ابْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ طَارِقٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أُمِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ إِذَا جَازَ مَكَانًا مِنْ دَارِ يَعْلَى نَسِيَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ، اسْتَقْبَلَ الْبَيْتَ فَدَعَا۔
* تخريج: ن/الحج ۱۲۳ (۲۸۹۹)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۸۳۷۴)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۳۶، ۴۳۷) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’عبدالرحمن‘‘ لین الحدیث ہیں)
۲۰۰۷- عبد الرحمن بن طارق اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب یعلی کے گھر کی جگہ سے آگے بڑھتے (اس جگہ کا نام عبید اللہ بھول گئے) تو بیت اللہ کی جانب رخ کرتے اور دعا مانگتے ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: نہ تو یہ حدیث صحیح ہے اور نہ ہی باب سے اس کا کوئی تعلق ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
87- بَاب التَّحْصِيبِ
۸۷- باب: محصب میں اترنے کا بیان​

2008- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ (قَالَتْ): إِنَّمَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمُحَصَّبَ لِيَكُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ، وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ، فَمَنْ شَاءَ نَزَلَهُ، وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَنْزِلْهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۶۷۸۵، ۱۷۳۳۰)، وقد أخرجہ: خ/الحج ۱۴۷ (۱۷۶۵)، م/الحج ۵۹ (۱۳۱۱)، ت/الحج ۸۲ (۹۲۳)، ق/المناسک ۸۱ (۳۰۶۷)، حم (۶/۱۹۰) (صحیح)

۲۰۰۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ محصب میں صرف اس لئے اترے تاکہ آپ کے (مکہ سے) نکلنے میں آسانی ہو، یہ کوئی سنت نہیں، لہٰذا جو چاہے وہاں اترے اور جو چاہے نہ اترے ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: محصب، ابطح، بطحاء، خیف کنانہ سب ہم معنی ہیں اور اس سے مراد مکہ اور منی کے درمیان کا علاقہ ہے جو منی سے زیادۃ قریب ہے۔ محصب میں نزول و اقامت مناسک حج میں سے نہیں، رسول اکرم ﷺ زوال کے بعد آرام فرمانے کے لئے یہاں اقامت کی تھی اور یہاں پر عصر، ظہر و عصر اور مغرب وعشاء ادا فرمائیں اور چودہویں رات گزاری، لیکن چونکہ آپ ﷺ نے یہاں نزول فرمایا، تو آپ کی اتباع میں یہاں کی اقامت مستحب ہے، خلفاء نے آپ کے بعد اس پر عمل کیا ہے، امام شافعی، امام مالک اور جمہور اہل علم نے رسول اکر م ﷺ اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی اقتداء میں اسے مستحب قرار دیا ہے، اور اگر کسی نے وہاں نزول نہ کیا تو بالاجماع کوئی حرج کی بات نہیں، نیز ظہر، عصر اور مغرب و عشاء کی صلاۃ پڑھنی، نیز رات کا ایک حصہ یا پوری رات سونا رسول اکر م ﷺ کی اقتدا میں مستحب ہے۔

2009- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، الْمَعْنَى (ح) وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ أَبُورَافِعٍ: لَمْ يَأْمُرْنِي (رَسُولُ اللَّهِ ﷺ) أَنْ أُنْزِلَهُ، وَلَكِنْ ضَرَبْتُ قُبَّتَهُ، فَنَزَلَهُ، قَالَ مُسَدَّدٌ: وَكَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ ﷺ، وَقَالَ عُثْمَانُ يَعْنِي فِي الأَبْطَحِ۔
* تخريج: م/الحج ۵۹ (۱۳۱۳)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۱۶) (صحیح)

۲۰۰۹- سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے آپ (رسول اللہ ﷺ) نے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ میں وہاں (محصّب میں) اتروں، میں نے وہاں آپ ﷺ کا خیمہ نصب کیا تھا، آپ وہاں اترے تھے۔
مسدد کی روایت میں ہے، وہ (ابو رافع) نبی اکرم ﷺ کے اسباب کے محافظ تھے اور عثمان رضی اللہ عنہ کی روایت میں ’’يعني في الأبطح‘‘ کا اضافہ ہے (مطلب یہ ہے کہ وہ ابطح میں محافظ تھے)۔


2010- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ ابْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا؟ < فِي حَجَّتِهِ قَالَ هَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيْلٌ مَنْزِلاً؟ > ثُمَّ قَالَ: < نَحْنُ نَازِلُونَ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ، حَيْثُ قَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ > يَعْنِي الْمُحَصَّبَ، وَذَلِكَ أَنْ بَنِي كِنَانَةَ، حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنْ لا يُنَاكِحُوهُمْ وَلا يُبَايِعُوهُمْ وَلا يُؤْوُوهُمْ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَالْخَيْفُ الْوَادِي۔
* تخريج: خ/الحج ۴۴ (۱۵۸۸)، والجھاد ۱۸۰ (۳۰۵۸)، ومناقب الأنصار ۳۹ (۴۲۸۲)، والمغازي ۴۸ (۴۲۸۲)، والتوحید ۳۱ (۷۴۷۹)، م/الحج ۸۰ (۱۳۵۱)، ق/الفرائض ۶ (۲۷۳۰)، والمناسک ۲۶ (۲۹۴۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴)، وقد أخرجہ: ت/الفرائض ۱۵ (۲۱۰۷)، ط/الفرائض ۱۳ (۱۰)، حم (۲/۲۳۷)، دي/الفرائض ۲۹ (۳۰۳۶) (صحیح)

۲۰۱۰- اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کل حج میں کہاں اتریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا عقیل نے کوئی گھر ہمارے لئے (مکہ میں) چھوڑا ہے؟‘‘، اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہم خیف بنو کنانہ میں اتریں گے جہاں قریش نے کفر پر عہد کیا تھا (یعنی وادی محصب میں)‘‘ ۱؎، اور وہ یہ کہ بنو کنانہ نے قریش سے بنی ہاشم کے خلاف قسم کھائی تھی کہ وہ ان سے نہ شادی بیاہ کریں گے، نہ خرید و فروخت، اور نہ انہیں پناہ دیں گے۔
زہری کہتے ہیں: خیف وادی کا نام ہے۔

وضاحت۱؎: نبی اکرم ﷺ اس وادی میں اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے اترے کہ جہاں پر کفر کا دور دورہ تھا، اب وہاں اسلام کا غلبہ ہو گیا۔

2011- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو -يَعْنِي الأَوْزَاعِيَّ- عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ حِينَ أَرَادَ أَنْ يَنْفِرَ مِنْ مِنًى: < نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا >، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَهُ، وَلا ذَكَرَ: < الْخَيْفَ الْوَادِي >۔
* تخريج: خ/ الحج ۴۵ (۱۵۹۰)، م/الحج ۵۹ (۱۳۱۴)، ن/ الکبری/ الحج (۴۲۰۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۱۹۹)، وقد أخرجہ: حم (۲/ ۲۳۷، ۵۴۰) (صحیح)

۲۰۱۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب منیٰ سے کوچ کرنے کا قصد کیا تو فرمایا: ’’ہم وہاں کل اتریں گے‘‘۔
پھر راوی نے ویسا ہی بیان کیا، اس روایت میں نہ تو حدیث کے شروع کے الفاظ ہیں، اور نہ ہی یہ ذکر ہے کہ خیف وادی کا نام ہے۔


2012- حَدَّثَنَا مُوسَى أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ وَأَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَهْجَعُ هَجْعَةً بِالْبَطْحَاءِ، ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ وَيَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۶۶۵۸، ۷۵۹۰)، وقد أخرجہ: خ/الحج ۱۴۸(۱۷۶۷)، م/الحج ۵۹ (۱۲۷۵)، ت/الحج ۸۱ (۹۲۱)، ق/المناسک ۸۱ (۳۰۶۸)، حم (۲/۲۸، ۱۳۸) (صحیح)

۲۰۱۲- نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما بطحا میں نیند کی ایک جھپکی لے لیتے پھر مکہ میں داخل ہوتے اور بتاتے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔

2013- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْبَطْحَاءِ، ثُمَّ هَجَعَ بِهَا هَجْعَةً، ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۶۶۵۸، ۷۵۹۰) (صحیح)

۲۰۱۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر ،عصر ، مغرب اور عشاء بطحاء میں پڑھی پھر ایک نیند سوئے، پھر مکہ میں داخل ہوئے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
88- بَاب فِيمَنْ قَدَّمَ شَيْئًا قَبْلَ شَيْئٍ فِي حَجِّهِ
۸۸- باب: کسی نے حج میں کوئی کام آگے یا پیچھے کر لیا تو اس کے حکم کا بیان​

2014- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى يَسْأَلُونَهُ، فَجَائَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <اذْبَحْ وَلا حَرَجَ > وَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: <ارْمِ وَلا حَرَجَ >، قَالَ: فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْئٍ قُدِّمَ أَوْ أُخِّرَ إِلا قَالَ: < اصْنَعْ وَلا حَرَجَ >۔
* تخريج: خ/العلم ۲۳ (۸۳)، الحج ۱۳۱ (۱۷۳۶)، الأیمان والنذور ۱۵ (۶۶۶۵)، م/الحج ۵۷ (۱۳۰۶)، ت/الحج ۷۶ (۹۱۶)، ن/ الکبری/ الحج (۴۱۰۶)، ق/المناسک ۷۴ (۳۰۵۱)، ( تحفۃ الأشراف: ۸۹۰۶)، وقد أخرجہ: ط/الحج ۸۱ (۲۴۲)، حم (۲/۱۵۹، ۱۶۰، ۱۹۲، ۲۰۲، ۲۱۰، ۲۱۷)، دي/المناسک ۶۵ (۱۹۴۸) (صحیح)

۲۰۱۴- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع میں منیٰ میں ٹھہرے، لوگ آپ سے سوالات کر رہے تھے، آپ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے معلوم نہ تھا میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈالیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ذبح کر لو کوئی حرج نہیں''، پھر ایک اور شخص آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے معلوم نہ تھا میں نے رمی کرنے سے پہلے نحر کر لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ''رمی کر لو، کوئی حرج نہیں''، اس طرح جتنی چیزوں کے بارے میں آپ ﷺ سے پوچھا گیا جو آگے پیچھے ہو گئیں تھیں آپ نے فرمایا: ''کر ڈالو، کوئی حرج نہیں''۔

2015- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ ابْنِ شَرِيكٍ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ حَاجًّا، فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ، فَمَنْ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ، أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا، أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا، فَكَانَ يَقُولُ: < لا حَرَجَ لا حَرَجَ إِلا عَلَى رَجُلٍ اقْتَرَضَ عِرْضَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ ظَالِمٌ، فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۲۸) (صحیح)

۲۰۱۵- اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حج کے لئے نکلا، لوگ آپ کے پاس آتے تھے جب کوئی کہتا: اللہ کے رسول! میں نے طواف سے پہلے سعی کر لی یا میں نے ایک چیز کو مقدم کر دیا یا مؤخر کر دیا تو آپ ﷺ فرماتے: ''کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں، حرج صرف اس پر ہے جس نے کسی مسلمان کی جان یا عزت و آبرو پامال کی اور وہ ظالم ہو، ایسا ہی شخص ہے جو حرج میں پڑ گیا اور ہلاک ہوا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
89- بَاب فِي مَكَّةَ
۸۹- باب: مکہ میں صلاۃ کا بیان​

2016- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وِدَاعَةَ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ ﷺ يُصَلِّي مِمَّا يَلِي بَابَ بَنِي سَهْمٍ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا سُتْرَةٌ، قَالَ سُفْيَانُ: لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ سُتْرَةٌ، قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا عَنْهُ قَالَ: أَخْبَرَنَا كُثَيْرٌ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: لَيْسَ مِنْ أَبِي سَمِعْتُهُ، وَلَكِنْ مِنْ بَعْضِ أَهْلِي عَنْ جَدِّي۔
* تخريج: ن/القبلۃ ۹ (۷۵۹)، والحج ۱۶۲ (۲۹۶۲)، ق/المناسک ۳۳ (۲۹۵۸)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۸۵)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۹۹) (ضعیف)
(اس کے راوی ''بعض أہلہ'' مبہم مجہول ہیں)
۲۰۱۶- مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو باب بنی سہم کے پاس صلاۃ پڑھتے دیکھا، لوگ آپ ﷺ کے سامنے سے گزر رہے تھے بیچ میں کوئی سترہ نہ تھا ۱؎ ۔
سفیان کے الفاظ یوں ہیں: ان کے اور کعبہ کے درمیان کوئی سترہ نہ تھا۔
سفیان کہتے ہیں: ابن جریج نے ان کے بارے میں ہمیں بتایا کہ کثیر نے اپنے والد سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا میں نے اسے اپنے والد سے نہیں سنا، بلکہ گھر کے کسی فرد سے سنا اور انہوں نے میرے دادا سے روایت کی ہے۔

وضاحت۱؎: یہ حدیث ضعیف ہے، اس لئے اس سے استدلال نہیں کیا جا سکتا، سترہ کے بارے میں وارد تمام احادیث مطلق اور عام ہیں، ان میں کسی جگہ کی کوئی قید نہیں خواہ صحراء ہو، یا مسجد حتی کہ حرمین شریفین کی مساجد بھی اس حکم سے مستثنی نہیں ہیں، اس لئے ہر جگہ سترہ کا اہتمام کرنا چاہئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
90- بَابٌ تَحْرِيْمُ حرم مَكَّةَ
۹۰- باب: حرم مکہ کی حرمت کا بیان​

2017- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ- عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مَكَّةَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِيهِمْ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: <إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ، ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ: لا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلاتَحِلُّ لُقْطَتُهَا إِلا لِمُنْشِدٍ >، فَقَالَ عَبَّاسٌ، أَوْ قَالَ: قَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِلا الإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِلا الإِذْخِرَ >.
قَالَ أَبودَاود : وَزَادَ(نَا) فِيهِ ابْنُ الْمُصَفَّى عَنِ الْوَلِيدِ: فَقَامَ أَبُو شَاهٍ -رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ- فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُبُوا لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ >، قُلْتُ لِلأَوْزَاعِيِّ، مَا قَوْلُهُ: < اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ >؟ قَالَ: هَذِهِ الْخُطْبَةُ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ۔
* تخريج: خ/اللقطۃ ۷ (۲۴۳۴)، م/الحج ۸۲ (۱۳۵۵)، ت/الدیات ۱۳ (۱۴۰۵)، ن/القسامۃ ۲۴ (۴۷۸۹، ۴۷۹۰، ۴۷۹۱)، ق/الدیات ۳ (۲۶۲۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۳۸۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۳۸)، دي/البیوع ۶۰ (۲۶۴۲)، ویأتی ہذا الحدیث فی العلم (۳۶۴۹، ۳۶۵۰) وفی الدیات (۴۵۰۵) (صحیح)

۲۰۱۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالی نے رسول اللہ ﷺ کو مکہ فتح کرا دیا، تو آپ لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: ''اللہ نے ہی مکہ سے ہاتھیوں کو روکا، اور اس پر اپنے رسول اور مومنین کا اقتدار قائم کیا، میرے لئے دن کی صرف ایک گھڑی حلال کی گئی اور پھر اب قیامت تک کے لئے حرام کر دی گئی، نہ وہاں (مکہ) کا درخت کاٹا جائے، نہ اس کا شکار بِدکایا جائے، اور نہ وہاں کا لقطہ (پڑی ہوئی چیز) کسی کے لئے حلال ہے، بجز اس کے جو اس کی تشہیر کرے''، اتنے میں عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! سوائے اذخر کے ۱؎ ( یعنی اس کا کاٹنا درست ہونا چاہئے) اس لئے کہ وہ ہماری قبروں اور گھروں میں استعمال ہوتی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''سوائے اذخر کے''۔
ابو داود کہتے ہیں: ابن مصفّی نے ولید سے اتنا اضافہ کیا ہے: تو اہل یمن کے ایک شخص ابو شاہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے لکھ کر دے دیجئے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ابو شاہ کو لکھ کر دے دو''، (ولید کہتے ہیں) میں نے اوزاعی سے پوچھا: ''اكْتُبُوْا لأبي شَاهٍ'' سے کیا مراد ہے، وہ بولے: یہی خطبہ ہے جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔

وضاحت ۱؎ : یہ ایک خوشبو دار گھاس ہے۔

2018- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: < وَلا يُخْتَلَى خَلاهَا >۔
* تخريج: خ/ جزاء الصید ۹ (۱۸۳۴)، الجہاد ۱(۲۷۸۳) م/الحج ۸۲ (۱۳۵۳)، ت/ السیر ۳۳ (۱۵۹۰)، ن/ الکبری/ الحج (۳۸۵۷)، ( تحفۃ الأشراف: ۵۷۴۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۲۶، ۲۵۹، ۳۱۵، ۳۵۵) ویأتی ہذا الحدیث فی الجہاد (۲۴۸۰) (صحیح)

۲۰۱۸- اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی واقعہ مروی ہے، اس میں اتنا زائد ہے ''لا يُخْتَلَى خَلاهَا'' (اور اس کے پودے نہ کاٹے جائیں)۔

2019- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ، قُلْتُ: يَارَسُولَ اللَّهِ! أَلا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بَيْتًا، أَوْ بِنَاءً، يُظِلُّكَ مِنَ الشَّمْسِ؟ فَقَالَ: < لا، إِنَّمَا هُوَ مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ إِلَيْهِ >۔
* تخريج: ت/الحج ۵۱ (۸۸۱)، ق/المناسک ۵۲ (۳۰۰۶)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۶۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۸۷، ۲۰۶)، دي/المناسک ۸۷ (۱۹۸۰) (ضعیف)
(یوسف کی والدہ مُسَیکہ مجہول ہیں)
۲۰۱۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لئے منیٰ میں ایک گھر یا عمارت نہ بنا دیں جو آپ کو دھوپ سے سایہ دے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''نہیں یہ (منیٰ) اس کی جائے قیام ۱؎ ہے جو یہاں پہلے پہنچ جائے''۔
وضاحت ۱؎ : یعنی منیٰ کا میدان وقف ہے حاجیوں کے لئے وہ کسی کی خاص ملکیت نہیں ہے اگر کوئی وہاں پہلے پہنچے اور کسی جگہ اتر جائے تو دوسرا اس کو اٹھا نہیں سکتا چونکہ مکان بنانے میں ایک جگہ پر اپنا قبضہ اور حق جما لینا ہے اس لئے آپ نے اس سے منع فرمایا۔

2020- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ، أَخْبَرَنِي عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ بَاذَانَ، قَالَ: أَتَيْتُ يَعْلَى بْنَ أُمَيَّةَ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < احْتِكَارُ الطَّعَامِ فِي الْحَرَمِ إِلْحَادٌ فِيهِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۴۸) (ضعیف)
(اس کے رواۃ ''جعفر، عمارۃ اور موسی'' سب ضعیف ہیں)
۲۰۲۰- یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''حرم میں غلہ روک کر رکھنا اس میں الحاد (کج روی) ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
91- بَاب فِي نَبِيذِ السِّقَايَةِ
۹۱- باب: حاجیوں کے لیے نبیذ کی سبیل لگانے کا بیان​

2021- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لابْنِ عَبَّاسٍ: مَا بَالُ أَهْلِ هَذَا الْبَيْتِ يَسْقُونَ النَّبِيذَ وَبَنُو عَمِّهِمْ يَسْقُونَ اللَّبَنَ وَالْعَسَلَ وَالسَّوِيقَ؟ أَبُخْلٌ بِهِمْ أَمْ حَاجَةٌ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا بِنَا مِنْ بُخْلٍ وَلا بِنَا مِنْ حَاجَةٍ، وَلَكِنْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَخَلْفَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِشَرَابٍ، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ، فَشَرِبَ مِنْهُ، وَدَفَعَ فَضْلَهُ إِلَى أُسَامَةَ (بْنِ زَيْدٍ) فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَحْسَنْتُمْ، وَأَجْمَلْتُمْ، كَذَلِكَ فَافْعَلُوا > فَنَحْنُ هَكَذَا لا نُرِيدُ أَنْ نُغَيِّرَ مَا قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ۔
* تخريج: م/الحج ۶۰ (۱۳۱۶)، ( تحفۃ الأشراف: ۵۳۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۴۵، ۲۹۲، ۳۳۶، ۳۶۹، ۳۷۳) (صحیح)

۲۰۲۱- بکر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا: کیا وجہ ہے کہ اس گھر کے لوگ نبیذ (کھجور کا شربت) پلاتے ہیں اور آپ کے چچا کے بیٹے (قریش) دودھ، شہد اور ستو پلاتے ہیں؟ کیا یہ لوگ بخیل یا محتاج ہیں؟ ابن عباس نے کہا: نہ ہم بخیل ہیں اور نہ محتاج، بلکہ رسول اللہ ﷺ ایک روز اپنی سواری پر بیٹھ کر آئے، آپ ﷺ کے پیچھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ تھے، آپ ﷺ نے پینے کو کچھ مانگا تو نبیذ پیش کیا گیا، آپ نے اس میں سے پیا اور باقی ماندہ اسامہ رضی اللہ عنہ کو دے دیا، تو انہوں نے بھی اس میں سے پیا، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم نے اچھا کیا اور خوب کیا ایسے ہی کیا کرو''، تو ہم اسی کو اختیار کئے ہوئے ہیں جسے رسول اللہ ﷺ نے کہا تھا، اسے ہم بدلنا نہیں چاہتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
92- بَاب الإِقَامَةِ بِمَكَّةَ
۹۲- باب: مکہ میں اقامت کی مدت کا بیان​

2022- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ -يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ- عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِالْعَزِيزِ يَسْأَلُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ: هَلْ سَمِعْتَ فِي الإِقَامَةِ بِمَكَّةَ شَيْئًا؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < لِلْمُهَاجِرِينَ إِقَامَةٌ بَعْدَ الصَّدْرِ ثَلاثًا >۔
* تخريج: خ/مناقب الأنصار ۴۷ (۳۹۳۳)، م/الحج ۸۱ (۱۳۵۲)، ت/الحج ۱۰۳ (۹۴۹)، ن/تقصیر الصلاۃ ۳ (۱۴۵۵)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۷۶ (۱۰۷۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۰۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۳۹، ۵/۵۲)، دي/الصلاۃ ۱۸ (۱۲۴۷) (صحیح)

۲۰۲۲- عبد الرحمن بن حمید سے روایت ہے کہ انہوں نے عمر بن عبد العزیز کو سائب بن یزید سے پو چھتے سنا: کیا آپ نے مکہ میں رہائش اختیار کرنے کے سلسلے میں کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے ابن حضرمی نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''مہاجرین کے لئے حج کے احکام سے فراغت کے بعد تین دن تک مکہ میں ٹھہرنے ۱؎ کی اجازت ہے''۔
وضاحت:۱؎ تاکہ وہ اس دوران اپنی ضرورتیں پوری کر لیں اس سے زیادہ انہیں رکنے کی اجازت نہیں کیونکہ وہ اللہ کے لئے اس شہرکو خیرباد کہہ چکے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
93- بَاب الصَّلاةِ فِي الْكَعْبَةِ
۹۳- باب: کعبہ کے اندر صلاۃ کا بیان​

2023- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ وَبِلالٌ، فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ، فَمَكَثَ فِيهَا، قَالَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ: فَسَأَلْتُ بِلالا حِينَ خَرَجَ: مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ؟ فَقَالَ: جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَثَلاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَائَهُ -وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ- ثُمَّ صَلَّى۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۳۰ (۳۹۷)، ۸۱ (۴۸۶)، ۹۶ (۵۰۴)، التھجد ۲۵ (۱۱۶۷)، الحج ۵۱ (۱۵۹۸)، الجھاد ۱۲۷ (۲۹۸۸)، المغازي ۴۹ (۴۲۸۹)، ۷۷ (۴۴۰۰)، م/الحج ۶۸ (۱۳۲۹)، ن/المساجد ۵ (۶۹۳)، القبلۃ ۶ (۷۵۰)، الحج ۱۲۶ (۲۹۰۸)، ۱۲۷ (۲۹۰۹)، ق/المناسک ۷۹ (۳۰۶۳)، ( تحفۃ الأشراف: ۲۰۳۷، ۸۳۳۱)، وقد أخرجہ: ت/الحج ۴۶ (۸۷۴)، ط/الحج ۶۳ (۱۹۳)، حم (۲/۳۳، ۵۵، ۱۱۳، ۱۲۰، ۱۳۸، ۶/۱۲، ۱۳، ۱۴، ۱۵)، دي/المناسک ۴۳ (۱۹۰۸) (صحیح)

۲۰۲۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ، اسامہ بن زید، عثمان بن طلحہ حجبی اور بلال رضی اللہ عنہم کعبہ میں داخل ہوئے، پھر ان لوگوں نے اسے بند کر لیا، اور اس میں رکے رہے، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے جب وہ باہر آئے تو پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا کیا؟ وہ بولے: آپ نے ایک ستون اپنے بائیں طرف اور دو ستون دائیں طرف اور تین ستون اپنے پیچھے کیا (اس وقت بیت اللہ چھ ستونوں پر قائم تھا) پھر آپ نے صلاۃ پڑھی۔

2024- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الأَذْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ، بِهَذَا (الْحَدِيثِ) لَمْ يَذْكُرِ السَّوَارِيَ، قَالَ: ثُمَّ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ثَلاثَةُ أَذْرُعٍ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۲۰۳۷، ۸۳۳۱) (صحیح)

۲۰۲۴- اس سند سے بھی مالک سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ستونوں کا ذکر نہیں، البتہ اتنا اضافہ ہے ''پھر آپ ﷺ نے صلاۃ پڑھی، آپ کے اور قبلے کے درمیان تین ہاتھ کا فاصلہ تھا''۔

2025- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، بِمَعْنَى حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ، قَالَ: وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى۔
* تخريج: انظر حدیث رقم (۲۰۲۳)، ( تحفۃ الأشراف: ۲۰۳۷) (صحیح)

۲۰۲۵- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم ﷺ سے قعنبی کی حدیث کے ہم مثل روایت کی ہے اس میں اس طرح ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں پڑھیں؟۔

2026- حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ؟ قَالَ: صَلَّى رَكْعَتَيْنِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۰۵۹۰)، وقد أخرجہ: (حم ۳/۴۳۰، ۴۳۱) (صحیح)

۲۰۲۶- عبد الرحمن بن صفوان کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ جب کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں۔

2027- حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُاللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْبَيْتَ وَفِيهِ الآلِهَةُ، فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ، قَالَ: فَأُخْرِجَ صُورَةُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ، وَفِي أَيْدِيهِمَا الأَزْلامُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < قَاتَلَهُمُ اللَّهُ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمُوا مَا اسْتَقْسَمَا بِهَا قَطُّ >، قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ، فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِيهِ، وَفِي زَوَايَاهُ، ثُمَّ خَرَجَ وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۳۰ (۳۹۷)، وأحادیث الأنبیاء ۸ (۳۳۵۱)، والحج ۵۴ (۱۶۰۱)، والمغازي ۴۸ (۴۲۸۸)، (تحفۃ الأشراف: ۵۹۹۵)، وقد أخرجہ: م/الحج ۶۸ (۱۳۲۹)، ن/المناسک ۱۳۰ (۲۹۱۶)، حم (۱/۳۳۴، ۳۶۵) (صحیح)

۲۰۲۷- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب مکہ آئے تو آپ نے کعبہ میں داخل ہونے سے انکار کیا کیونکہ اس میں بت رکھے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے حکم دیا تو وہ نکال دیئے گئے، اس میں ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی تصویریں بھی تھیں، وہ اپنے ہاتھوں میں فال نکالنے کے تیر لئے ہوئے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ انہیں ہلا ک کرے، اللہ کی قسم انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ان دونوں (ابراہیم اور اسماعیل) نے کبھی بھی فال نہیں نکالا'' ، وہ کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس کے گوشوں اور کونوں میں تکبیرات بلند کیں، پھر بغیر صلاۃ پڑھے نکل آئے۔
وضاحت:۱؎ فال کے ان تیروں پر ''افعل''،''لا تفعل''،''لا شيء'' لکھا ہوتا تھا، ان کی عادت تھی جب وہ سفر پر نکلتے تو اس کو ایک تھیلی میں ڈال کر اس میں سے ایک کو نکالتے، اگر حسن اتفاق سے اس تیر پر ''افعل'' لکھا ہوتا تو سفر پر نکلتے، اور ''لا تفعل'' لکھا ہوتا تو سفر کو ملتوی کر دیتے اور اگر ''لا شيء'' لکھا رہتا تو پھر دوبارہ سب کو ڈال کر نکالتے، یہاں تک کہ ''افعل'' یا ''لا تفعل'' نکل آئے، رہی یہ بات کہ ''آپ نے کعبہ میں صلاۃ نہیں پڑھی'' تو یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے علم کی بنیاد پر کہا ہے، ترجیح بلال رضی اللہ عنہ کے بیان کو ہے جنہوں نے قریب سے دیکھا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
94- بَاب الصَّلاةِ فِي الْحِجْرِ
۹۴- باب: حطیم میں صلاۃ پڑھنے کا بیان​

2028- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَدْخُلَ الْبَيْتَ فَأُصَلِّيَ فِيهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِيَدِي، فَأَدْخَلَنِي فِي الْحِجْرِ، فَقَالَ: < صَلِّي فِي الْحِجْرِ إِذَا أَرَدْتِ دُخُولَ الْبَيْتِ، فَإِنَّمَا هُوَ قَطْعَةٌ مِنَ الْبَيْتِ، فَإِنَّ قَوْمَكِ اقْتَصَرُوا حِينَ بَنَوُا الْكَعْبَةَ فَأَخْرَجُوهُ مِنَ الْبَيْتِ >۔
* تخريج: ن/الحج ۱۲۹ (۲۹۱۵)، ت/الحج ۴۸ (۸۷۶)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۶۱)، وقد أخرجہ: خ/الحج ۴۲ (۱۵۸۳)، وأحادیث الأنبیاء ۱۰ (۳۳۶۸)، وتفسیر سورۃ البقرۃ ۱۰ (۴۴۸۴)، والتمنی ۹ (۷۲۴۳)، م/الحج ۶۹ (۳۹۸)، ق/المناسک ۳۱ (۲۹۵۵)، ط/الحج ۳۳(۱۰۴)، حم (۶/۶۷، ۹۲، ۹۳)، دي/المناسک ۴۴ (۱۹۱۱) (حسن صحیح)

۲۰۲۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری خواہش تھی کہ میں بیت اللہ میں داخل ہو کر اس میں صلاۃ پڑھوں، تو رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حطیم میں داخل کر دیا، اور فرمایا: ''جب تم بیت اللہ میں داخل ہونا چاہو تو حطیم کے اندر صلاۃ پڑھ لیا کرو کیونکہ یہ بھی بیت اللہ ہی کا ایک ٹکڑا ہے، تمہاری قوم کے لوگوں نے جب کعبہ تعمیر کیا تو اسی پر اکتفا کیا تو لوگوں نے اسے بیت اللہ سے خارج ہی کر دیا'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : حطیم کے حصہ کو عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنے دور خلافت میں کعبے کے اندر شامل کر دیا تھا، لیکن حجاج بن یوسف نے جب ان پر چڑھائی کی اور کعبہ کی عمارت کو نقصان پہنچا تو اس نے پھر نئے سرے سے اس کی تعمیر کروائی اور حطیم کو چھوڑ دیا اور آج تک ویسے ہی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
95- بَابٌ فِيْ دُخُوْلِ الْكَعْبَةِ
۹۵- باب: کعبہ میں داخل ہونے کا بیان​

2029 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِالْمَلِكِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا وَهُوَ مَسْرُورٌ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ وَهُوَ كَئِيبٌ، فَقَالَ: < إِنِّي دَخَلْتُ الْكَعْبَةَ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا دَخَلْتُهَا، إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ قَدْ شَقَقْتُ عَلَى أُمَّتِي >۔
* تخريج: ت/الحج ۴۵ (۸۷۳)، ق/المناسک ۷۹ (۳۰۶۴)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۶۲۳۰)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۳۷) (ضعیف)
(اس کے راوی ''اسماعیل'' کثیرالوہم ہیں)
۲۰۲۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے نکلے اور آپ خوش تھے پھر میرے پاس آئے اور آپ غمگین تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''میں کعبے کے اندر گیا اگر مجھے وہ بات پہلے معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی۱؎ تو میں اس میں داخل نہ ہوتا، مجھے اندیشہ ہے کہ میں نے اپنی امت کو زحمت میں ڈال دیا ہے'' ۲؎۔
وضاحت ۱؎ : کہ لوگوں کو کعبہ کے اندر داخل ہونے میں بڑی پریشانیاں اٹھانا پڑیں گی۔
وضاحت ۲؎ : آپ ﷺ کا یہ اندیشہ صحیح ثابت ہوا عوام نے کعبہ کے اندر جانے کو ضروری سمجھ لیا چنانچہ اس کے لئے انہیں بڑی دھکم پیل کرنی پڑتی تھی، اللہ بھلا کرے سعودی حکومت کا جس نے کعبہ کے اندر عام لوگوں کا داخلہ بند کر دیا۔

2030- حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَمُسَدَّدٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ الْحَجَبِيِّ، حَدَّثَنِي خَالِي، عَنْ أُمِّي (صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ) قَالَتْ: سَمِعْتُ الأسْلَمِيَّةَ تَقُولُ: قُلْتُ لِعُثْمَانَ: مَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حِينَ دَعَاكَ؟ قَالَ: قَالَ: < إِنِّي نَسِيتُ أَنْ آمُرَكَ أَنْ تُخَمِّرَ الْقَرْنَيْنِ فَإِنَّهُ لَيْسَ يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَيْئٌ يَشْغَلُ الْمُصَلِّيَ > قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: خَالِي مُسَافِعُ بْنُ شَيْبَةَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۹۷۶۲)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۸۰) (صحیح)

۲۰۳۰- اسلمیہ کہتی ہیں کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ ۱؎ سے پوچھا: جب رسول اللہ ﷺ نے آپ کو بلایا تو آپ سے کیا کہا؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ''میں تمہیں یہ بتانا بھول گیا کہ مینڈھے ۲؎ کی دونوں سینگوں کو چھپا دو اس لئے کہ کعبہ میں کوئی چیز ایسی رہنی مناسب نہیں ہے جو صلاۃ پڑھنے والے کو غافل کر دے''۔
وضاحت ۱؎ : عثمان سے مراد عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہ ہیں۔
وضاحت ۲؎ : اس دنبہ کی سینگیں جس کو اسماعیل علیہ السلام کی جگہ پر ذبح کرنے کے لئے جبریل علیہ السلام لے آئے تھے۔
 
Top