• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
4- بَاب النَّهْيِ عَنْ تَزْوِيجِ مَنْ لَمْ يَلِدْ مِنَ النِّسَاءِ
۴-باب: بانجھ عورت سے شادی کی ممانعت کا بیان ۱؎​


2049- قَالَ أَبو دَاود: كَتَبَ إِلَيَّ حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيّ،ُ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي لا تَمْنَعُ يَدَ لامِسٍ، قَالَ: <غَرِّبْهَا>، قَالَ: أَخَافُ أَنْ تَتْبَعَهَا نَفْسِي، قَالَ: < فَاسْتَمْتِعْ بِهَا >۔
* تخريج: ن/النکاح ۱۲ (۳۲۳۱)، والطلاق ۳۴ (۳۴۹۴، ۳۴۹۵)، ( تحفۃ الأشراف: ۶۱۶۱) (صحیح)
۲۰۴۹- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر کہنے لگا کہ میری عورت کسی ہاتھ لگانے والے کو نہیں روکتی ۲؎ آپ ﷺ نے فرمایا : ''اسے اپنے سے جدا کردو'' ۳؎ ، اس شخص نے کہا:مجھے ڈر ہے میرا دل اس میں لگا رہے گا ۴؎ ، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تو تم اس سے فا ئدہ اٹھاؤ''۔
وضاحت ۱؎ : ایک نسخہ میں یہ باب اسی طرح اسی جگہ ہے لیکن باقی نسخوں میں یہ باب نہیں ہے، بظاہر یہ باب ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس روایت کے بعد ہونا چاہئے، ممکن ہے نسّاخ کی غلطی سے ایسا ہوا ہو۔
وضاحت ۲؎ : یعنی ہر ایک سے غلط اور بے حیائی کے کام پر راضی ہو جاتی ہے یا یہ کہ وہ گھر کے سامانوں کا خیال نہیں رکھتی جو بھی کوئی چیز مانگتا ہے اسے دے دیتی ہے۔
وضاحت ۳؎ : اس سے مراد ہے اسے طلاق دے دو۔
وضاحت ۴؎ : یعنی میرے دل میں اس کا اشتیاق رہے گا جس کی وجہ سے خطرہ ہے کہ میں حرام کام کا ارتکاب کر بیٹھوں۔


2050- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ ابْنَ أُخْتِ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ- يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ- عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَجَمَالٍ، وَإِنَّهَا لاتَلِدُ، أَفَأَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ: < لا >، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: < تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الأُمَمَ >۔
* تخريج: ن/النکاح ۱۱ (۳۲۲۹)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۷۷) (حسن صحیح)
۲۰۵۰- معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا :مجھے ایک عورت ملی ہے جو اچھے خاندان والی ہے ، خوبصورت ہے لیکن اس سے اولاد نہیں ہوتی تو کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ''نہیں''، پھر وہ آپ کے پاس دوسری بار آیا تو بھی آپ ﷺ نے اس کو منع فرمایا، پھر تیسری بار آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :''خوب محبت کرنے والی اور خوب جننے والی عورت سے شادی کرو، کیونکہ ( بروز قیامت ) میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
5- بَاب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {الزَّانِي لا يَنْكِحُ إِلا زَانِيَةً}
۵-باب: آیت کریمہ :{الزَّانِي لا يَنْكِحُ إِلا زَانِيَةً} کی تفسیر​


2051- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ مَرْثَدَ بْنَ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ كَانَ يَحْمِلُ الأَسَارَى بِمَكَّةَ، وَكَانَ بِمَكَّةَ بَغِيٌّ يُقَالُ لَهَا عَنَاقُ، وَكَانَتْ صَدِيقَتَهُ، قَالَ: جِئْتُ (إِلَى) النَّبِيِّ ﷺ ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْكِحُ عَنَاقَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ عَنِّي، فَنَزَلَتْ: {وَالزَّانِيَةُ لا يَنْكِحُهَا إِلا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ} فَدَعَانِي فَقَرَأَهَا عَلَيَّ وَقَالَ: <لاتَنْكِحْهَا >۔
* تخريج: ت/تفسیر سورۃ النور (۳۱۷۷)، ن/النکاح ۱۲ (۳۲۳۰)، ( تحفۃ الأشراف: ۸۷۵۳) (حسن صحیح)
۲۰۵۱- عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ قیدیوں کو مکہ سے اٹھا لایا کرتے تھے ، مکہ میں عناق نامی ایک بدکار عورت تھی جو ان کی آشنا تھی ،مرثد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں عناق سے شادی کرلوں؟ آپ ﷺ خاموش رہے توآیت کریمہ{وَالزَّانِيَةُ لا يَنْكِحُهَا إِلا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ} نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے مجھے بلایا اور اسے پڑھ کر سنایا اور فرمایا: ''تم اس سے شادی نہ کرنا''۔


2052- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَبُو مَعْمَرٍ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ، عَنْ حَبِيبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : <لايَنْكِحُ الزَّانِي الْمَجْلُودُ إِلا مِثْلَهُ >.
وقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ: (حَدَّثَنِي) حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۳۰۰۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۲۴) (صحیح)
۲۰۵۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' کوڑے کھایا ہوا زنا کار اپنی جیسی عورت ہی سے شادی کرے ''۔
 
Last edited:

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
6- بَاب فِي الرَّجُلِ يُعْتِقُ أَمَتَهُ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا
۶-باب: اپنی لونڈی کو آزاد کر کے اس سے شادی کرنے کے ثواب کا بیان​


2053- حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ،حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَنْ أَعْتَقَ جَارِيَتَهُ وَتَزَوَّجَهَا كَانَ لَهُ أَجْرَانِ >۔
* تخريج: خ/العلم ۳۱ (۹۷)، العتق ۱۴ (۲۵۴۴)، ۱۶ (۲۵۴۷)، الجہاد ۱۵۴ (۳۰۱۱)، أحادیث الأنبیاء ۴۷ (۳۴۴۶)، النکاح ۱۳ (۵۰۸۳)، م/النکاح ۱۴ (۱۵۴)، ن/النکاح ۶۵ (۳۳۴۷)، ( تحفۃ الأشراف: ۹۱۰۸، ۹۱۷۰)، وقد أخرجہ: ت/النکاح ۲۴ (۱۱۱۶)، ق/النکاح ۴۲ (۱۹۵۶)، حم (۴/۳۹۵، ۳۹۸، ۴۱۴، ۴۱۵)، دي/النکاح ۴۶ (۲۲۹۰)، (صحیح)
۲۰۵۳- ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: '' جو شخص اپنی لونڈی کو آزاد کرکے اس سے شادی کرلے تو اس کے لئے دوہرا ثواب ہے''۔


2054- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ وَعَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ (بْنِ مَالِكٍ) أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا۔
* تخريج: م/الحج ۷۶ (۱۳۴۵)، النکاح ۱۴ (۱۳۶۵)، ت/النکاح ۲۳ (۱۱۱۵)، والسیر ۳ (۱۵۵۰)، ن/النکاح ۶۴ (۳۳۴۴، ۴۲۰۰)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۷)، وقد أخرجہ: خ/الصلاۃ ۱۲ (۳۷۱)، صلاۃ الخوف ۶ (۹۴۷)، البیوع ۱۰۸ (۲۲۲۸)، الجہاد ۷۴ (۲۸۹۳)، المغازي ۳۸ (۴۲۰۰)، النکاح ۱۳ (۵۰۸۶)، الأطعمۃ ۸ (۵۳۸۷)، ۲۸ (۵۴۲۵)، الدعوات ۳۶ (۶۳۶۳)، ق/النکاح ۴۲ (۱۹۵۷)، حم (۳/۹۹، ۱۳۸، ۱۶۵، ۱۷۰، ۱۸۱، ۱۸۶، ۲۰۳، ۲۳۹، ۲۴۲)، دي/النکاح ۴۵ (۲۲۸۸) (صحیح)
۲۰۵۴- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ام المومنین صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
7- بَاب يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ
۷-باب: دودھ پلانے سے وہ سارے رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں​


2055- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلادَةِ >۔
* تخريج: ت/الرضاع ۲ (۱۱۴۷)، ن/النکاح ۴۹ (۳۳۰۲)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۶۳۴۴)، وقد أخرجہ: خ/الشہادات ۷ (۲۶۴۶)، فرض الخمس ۴ (۳۱۰۵)، تفسیر سورۃ السجدۃ ۹ (۴۷۹۲)، النکاح ۲۲ (۵۱۰۳)، ۱۱۷ (۵۲۳۹)، الأدب ۹۳ (۶۱۵۶)، م/الرضاع ۲ (۱۴۴۴)، ق/النکاح ۳۴ (۱۹۳۷)، ط/الرضاع ۳ (۱۵)، حم (۶/۴۴، ۵۱، ۶۶، ۷۲، ۱۰۲)، دي/النکاح ۴۸ (۲۲۹۵) (صحیح)
۲۰۵۵- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: '' دودھ پلانے سے وہ سارے رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو پیدائش سے حرام ہوتے ہیں ''۔


2056- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي؟ قَالَ: < فَأَفْعَلُ مَاذَا؟ > قَالَتْ: فَتَنْكِحُهَا، قَالَ: < أُخْتَكِ؟ > قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: < أَوَتُحِبِّينَ ذَلِكَ؟ >، قَالَتْ: لَسْتُ بِمُخْلِيَةٍ بِكَ، وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، قَالَ: < فَإِنَّهَا لا تَحِلُّ لِي>، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ لَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ أَوْ ذُرَّةَ، (شَكَّ زُهَيْرٌ)، بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: < بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ؟ >، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: < أَمَا وَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلا أَخَوَاتِكُنَّ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۶۷)، وقد أخرجہ: خ/النکاح ۲۰ (۵۱۰۱)، ۲۵ (۵۱۰۶)، ۲۶ (۵۱۰۷)، ۳۵ (۵۱۲۳)، النفقات ۱۶ (۵۳۷۲)، م/الرضاع ۴ (۱۴۴۹)، ن/النکاح ۴۴ (۳۳۸۶)، ق/النکاح ۳۴ (۱۹۳۹)، حم (۶/۲۹۱، ۳۰۹، ۴۲۸) (صحیح)
۲۰۵۶- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری بہن (عزّہ) میں رغبت ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: '' تو میں کیا کروں''، انہوں نے کہا :آپ ان سے نکاح کر لیں، آپ ﷺ نے فرمایا: '' تمہاری بہن سے ؟''، انہوں نے کہا، ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا: ''کیا تم یہ(سوکن) پسند کروگی؟''، انہوں نے کہا:میں آپ کی اکیلی بیوی تو ہوں نہیں جتنی عورتیں میرے ساتھ خیر میں شریک ہیں ان سب میں اپنی بہن کا ہونا مجھے زیادہ پسند ہے ،آپ ﷺ نے فرمایا:'' وہ میرے لئے حلال نہیں ہے''، کہا: اللہ کی قسم مجھے تو بتایا گیا ہے کہ آپ درہ یا ذرہ بنت ابی سلمہ(یہ شک زہیر کو ہوا ہے) کو پیغام دے رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''ام سلمہ کی بیٹی کو؟''، کہا: ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ کی قسم ( وہ تو میری ربیبہ ہے) اگر ربیبہ نہ بھی ہوتی تو وہ میرے لئے حلال نہ ہوتی کیونکہ وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھے اور اس کے باپ کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے لہٰذا تم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ پر (نکاح کے لئے) پیش نہ کیا کرو''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
8- بَاب فِي لَبَنِ الْفَحْلِ
۸-باب: مرد سے دودھ کا رشتہ​


2057- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَفْلَحُ بْنُ أَبِي الْقُعَيْسِ فَاسْتَتَرْتُ مِنْهُ، قَالَ: تَسْتَتِرِينَ مِنِّي وَأَنَا عَمُّكِ؟ قَالَتْ: قُلْتُ: مِنْ أَيْنَ؟ قَالَ: أَرْضَعَتْكِ امْرَأَةُ أَخِي، قَالَتْ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ: < إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۶۳۷۳، ۱۶۹۱۷)، وقد أخرجہ: خ/الشہادات ۷ (۲۶۴۴)، م/الرضاع ۲ (۱۴۴۵)، ن/النکاح ۴۹ (۳۳۰۳)، ط/ الرضاع ۱(۳)، حم (۶/۱۹۴، ۲۷۱) (صحیح)
۲۰۵۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس افلح بن ابوقعیس آئے تو میں نے پردہ کر لیا، انہوں نے کہا: مجھ سے پردہ کر رہی ہو، میں تو تمہارا چچا ہوں؟ میں نے کہا: چچا کس طرح سے؟ انہوں نے کہا کہ تمہیں میرے بھائی کی بیوی نے دودھ پلایا ہے ، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے نہ کہ مرد نے ، پھر میرے یہاں جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو میں نے سارا واقعہ آپ سے بیان کر دیا ، آپ ﷺ نے فرمایا: '' وہ تمہارے چچا ہیں، وہ تمہارے پاس آسکتے ہیں''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
9-بَاب فِي رِضَاعَةِ الْكَبِيرِ
۹-باب: بڑی عمر والے کی رضاعت کا حکم​


2058- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ، قَالَ حَفْصٌ: فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ، ثُمَّ اتَّفَقَا: قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ فَقَالَ: < انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنّ،َ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ >۔
* تخريج: خ/الشہادات ۷ (۲۶۴۷)، والنکاح ۲۲ (۵۱۰۲)، م/الرضاع ۸ (۱۴۵۵)، ن/النکاح ۵۱ (۳۳۱۴)، ق/النکاح ۳۷ (۱۹۴۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۵۸)، وقد أخرجہ: حم (۶/ ۹۴، ۱۳۸، ۱۷۴، ۲۴۱)، دي/النکاح ۵۲ (۲۳۰۲) (صحیح)
۲۰۵۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، ان کے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا، (حفص کی روایت میں ہے) آپ ﷺ کو یہ بات ناگوار گزری ، آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا (پھر حفص اور شعبہ دونوں کی روایتیں متفق ہیں) عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول یہ تو میرا رضاعی بھائی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اچھی طرح دیکھ لو کون تمہارے بھائی ہیں؟ کیونکہ رضاعت توغذا ۱؎ سے ثابت ہوتی ہے ''۔
وضاحت ۱؎ : یعنی حرمت اس رضاعت سے ثابت ہوتی ہے جوبچپن کی ہو اور دودھ ہی اس کی غذا ہو۔


2059- حَدَّثَنَا عَبْدُالسَّلامِ بْنُ مُطَهَّرٍ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لا رِضَاعَ إِلا مَا شَدَّ الْعَظْمَ، وَأَنْبَتَ اللَّحْمَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: لا تَسْأَلُونَا وَهَذَا الْحَبْرُ فِيكُمْ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۹۶۳۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۳۲) (ضعیف)
(اس کے رواۃ : ابوموسی ہلالی، ان کے والد مجہول اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بیٹے مبہم ہیں)
۲۰۵۹- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رضاعت وہی ہے جو ہڈی کو مضبوط کرے اور گوشت بڑھائے،تو ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس عالم کی موجودگی میں تم لوگ ہم سے مسئلہ نہ پوچھا کرو۔


2060- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْهِلالِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، بِمَعْنَاهُ، وَقَالَ: أَنْشَزَ الْعَظْمَ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۹۶۳۸) (ضعیف)
(پچھلی روایت دیکھئے )
۲۰۶۰- اس سند سے بھی ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے، لیکن اس میں: ''شَدَّ العَظْمَ'' کے بجائے ''أنْشَرَ الْعَظْمَ'' کا لفظ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
10- بَاب فِيمَنْ حَرَّمَ بِهِ
۱۰-باب: بڑی عمرمیں بھی رضاعت کی حرمت ہوتی ہے​


2061- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ ابْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ وَأُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ كَانَ تَبَنَّى سَالِمًا وَأَنْكَحَهُ ابْنَةَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، وَهُوَ مَوْلًى لامْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زَيْدًا، وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلا فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ إِلَيْهِ وَوُرِّثَ مِيرَاثَهُ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى فِي ذَلِكَ: {ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ} إِلَى قَوْلِهِ: {فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ} فَرُدُّوا إِلَى آبَائِهِمْ، فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ كَانَ مَوْلًى وَأَخًا فِي الدِّينِ، فَجَائَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ ثُمَّ الْعَامِرِيّ، وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا، وَكَانَ يَأْوِي مَعِي وَمَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ فِي بَيْتٍ وَاحِدٍ، وَيَرَانِي فُضْلا، وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ مَا قَدْ عَلِمْتَ، فَكَيْفَ تَرَى فِيهِ؟ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ ﷺ : < أَرْضِعِيهِ >، فَأَرْضَعَتْهُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ، فَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِي اللَّه عَنْهَا تَأْمُرُ بَنَاتِ أَخَوَاتِهَا وَبَنَاتِ إِخْوَتِهَا أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ عَائِشَةُ أَنْ يَرَاهَا وَيَدْخُلَ عَلَيْهَا، وَإِنْ كَانَ كَبِيرًا خَمْسَ رَضَعَاتٍ، ثُمَّ يَدْخُلُ عَلَيْهَا، وَأَبَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ ﷺ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ حَتَّى يَرْضَعَ فِي الْمَهْدِ، وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ: وَاللَّهِ مَا نَدْرِي لَعَلَّهَا كَانَتْ رُخْصَةً مِنَ النَّبِيِّ ﷺ ۔
* تخريج: ن/النکاح ۵۳ (۳۳۲۱)، ق/النکاح ۳۶ (۱۹۴۳)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۶۷۴۰، ۱۸۱۹۷، ۱۸۳۷۷)، وقد أخرجہ: خ/المغازي ۱۲ (۲۹۶۰)، والنکاح ۱۵ (۵۰۸۸)، م/الرضاع ۷ (۱۴۵۳)، ط/الرضاع ۲ (۱۲)، حم (۶/ ۲۵۵، ۲۷۱)، دي/النکاح ۵۲ (۲۳۰۳) (صحیح)
۲۰۶۱- ام المومنین عائشہ و ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس نے سالم کو (جو کہ ایک انصاری عورت کے غلام تھے) منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا ،جس طرح کہ نبی اکرم ﷺ نے زید رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا ،اور اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے ان کا نکاح کرا دیا ، زمانہ جاہلیت میں منہ بو لے بیٹے کو لوگ اپنی طرف منسوب کرتے تھے اور اسے ان کی میراث بھی دی جاتی تھی یہاں تک کہ اللہ تعالی نے اس سلسلہ میں آیت:{ادْعُوْهُمْ لآبَاْئِهِمْ}سے {فَإِخْوَاْنُكُمْ فِيْ الدِّيْنِ وَمَوَالِيْكُمْ} ۱؎ تک نازل فرما ئی تو وہ اپنے اصل باپ کی طرف منسوب ہونے لگے، اور جس کے باپ کا علم نہ ہوتا اسے مولیٰ اور دینی بھائی سمجھتے۔
پھر سہلہ بنت سہیل بن عمرو قر شی ثم عامری جو کہ ابو حذیفہ کی بیوی تھیں آئیں اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول!ہم سالم کواپنا بیٹا سمجھتے تھے، وہ میرے اور ابو حذیفہ کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے تھے، اور مجھے گھر کے کپڑوں میں کھلا دیکھتے تھے اب اللہ نے منہ بولے بیٹوں کے با رے میں جو حکم نازل فرمادیا ہے وہ آپ کو معلوم ہی ہے لہٰذا اب اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا:'' انہیں دودھ پلا دو''، چنانچہ انہوں نے انہیں پانچ گھونٹ دودھ پلادیا ، اور وہ ان کے رضا عی بیٹے ہو گئے ، اسی کے پیش نظر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی بھانجیوں اور بھتیجیوں کو حکم دیتیں کہ وہ اس شخص کو پانچ گھونٹ دودھ پلادیں جسے دیکھنا یا اس کے سا منے آنا چا ہتی ہوں گرچہ وہ بڑی عمر کا آدمی ہی کیوں نہ ہو پھر وہ ان کے پاس آتاجاتا ، لیکن ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر ازواج مطہرات نے اس قسم کی رضاعت کا انکارکیا جب تک کہ دودھ پلانا بچپن میں نہ ہو اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ کی قسم ہمیں یہ معلوم نہیں شاید یہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے صرف سالم کے لئے رخصت رہی ہو نہ کہ دیگر لوگوں کے لئے ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : سورة الأحزاب: ( ۵)
وضاحت ۲؎ : جمہور کی رائے یہی ہے کہ یہ سالم کے ساتھ خاص ہے،کچھ علماء یہ کہتے ہیں کہ خصوصیت کی کوئی دلیل نہ ہونے کی وجہ سے اس حکم کوبرقرار ماناجائے اگر واقعی سالم جیسا معاملہ پیش آجائے اور رضاعی ماں بننے کے لئے دودھ پلایاجائے تورضاعت ثابت ہوجائے گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
11-بَاب هَلْ يُحَرِّمُ مَا دُونَ خَمْسِ رَضَعَاتٍ
۱۱-باب: کیا پانچ گھونٹ سے کم دودھ پلانے سے حرمت ثابت ہو گی؟​


2062- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ فِيمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ يُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ، فَتُوُفِّيَ النَّبِيُّ ﷺ وَهُنَّ مِمَّا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ۔
* تخريج: م/الرضاع ۶ (۱۴۵۲)، ت/الرضاع ۳ (۱۱۵۰)، ن/النکاح ۵۱ (۳۳۰۹)، ق/النکاح ۳۵ (۱۹۴۴، ۱۹۴۲)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۹۷، ۱۷۹۱۱)، وقد أخرجہ: ط/الرضاع ۳ (۱۷)، حم (۶/۲۶۹)، دي/النکاح ۴۹ (۲۲۹۹) (صحیح)
۲۰۶۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں نازل کی ہیں ان میں''عَشْرُ رَضَعَاتٍ يُحَرِّمْنَ'' والی آیت بھی تھی پھر یہ آیت ''خَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ'' والی آیت سے منسوخ ہو گئی، اس کے بعد نبی اکرم ﷺ کی وفات ہو گئی اور یہ آیتیں پڑھی جا رہی تھیں(یعنی بعض لوگ پڑھتے تھے پھر وہ بھی متروک ہوگئیں)۔


2063- حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ، وَ(لا) الْمَصَّتَانِ >۔
* تخريج: م/الرضاع ۵ (۱۴۵۰)، ت/الرضاع ۳ (۱۱۵۰)، ن/النکاح ۵۱ (۳۳۱۲)، ق/النکاح ۳۵ (۱۹۴۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۱۸۹)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۱، ۹۶، ۲۱۶، ۲۴۷)، دي/النکاح ۴۹ (۲۲۹۷) (صحیح)
۲۰۶۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ''ایک یا دو چوس حرمت ثابت نہیں کرتا ''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
12- بَاب فِي الرَّضْخِ عِنْدَ الْفِصَالِ
۱۲-باب: دودھ چھڑانے کے وقت دودھ پلانے والی کو انعام دینے کا بیان​


2064- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعَةِ؟ قَالَ: < الْغُرَّةُ: الْعَبْدُ أَوِ الأَمَةُ >.
قَالَ النُّفَيْلِيُّ: حَجَّاجُ بْنُ حَجَّاجٍ الأَسْلَمِيُّ، وَهَذَا لَفْظُهُ۔
* تخريج: ت/الرضاع ۶ (۱۱۵۳)، ن/النکاح ۵۶ (۳۳۳۱)، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۹۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۵۰)، دي/النکاح ۵۰ (۲۳۰۰) (ضعیف)
(اس کے راوی حجاج بن حجاج بن مالک لین الحدیث ہیں)
۲۰۶۴- حجاج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! دودھ پلانے کا حق مجھ سے کس طرح ادا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: '' لونڈی یا غلام ( دودھ پلانے والی کو خدمت کے لئے دے دینے)سے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
13- بَاب مَا يُكْرَهُ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُنَّ مِنَ النِّسَاءِ
۱۳-باب: ان عورتوں کا بیان جنہیں بیک وقت نکاح میں رکھنا جائز نہیں​


2065- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلا الْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا وَلا الْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا، وَلا الْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا، وَلا تُنْكَحُ الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى، وَلا الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى >۔
* تخريج: خ/النکاح ۲۷ (۵۱۰۹)، ت/النکاح ۳۱ (۱۱۲۶)، ن/النکاح ۴۸ (۳۲۹۸)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۳۵۳۹)، وقد أخرجہ: م/النکاح ۴ (۱۴۰۸)، ق/النکاح ۳۱ (۱۹۳۰)، ۳۰ (۱۱۲۶) ط/النکاح ۸ (۲۰)، حم (۲/۲۲۹، ۲۵۵، ۳۹۴، ۴۰۱، ۴۲۳، ۴۲۶، ۴۳۲، ۴۵۲، ۴۶۲، ۴۶۵، ۴۷۴، ۴۸۹، ۵۰۸، ۵۱۶، ۵۱۸، ۵۲۹، ۵۳۲)، دي/النکاح ۸ (۲۲۲۴) (صحیح)
۲۰۶۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ''پھوپھی کے نکاح میں رہتے ہوئے بھتیجی سے نکاح نہیں کیا جا سکتا، اور نہ بھتیجی کے نکاح میں رہتے ہوئے پھوپھی سے نکاح درست ہے، اسی طرح خالہ کے نکاح میں رہتے ہوئے بھانجی سے نکاح نہیں کیا جا سکتا ہے، اور نہ ہی بھانجی کے نکاح میں رہتے ہوئے خالہ سے نکاح درست ہے، غرض یہ کہ چھوٹی کے رہتے ہوئے بڑی سے اور بڑی کے رہتے ہوئے چھوٹی سے نکاح جائز نہیں ہے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : ہاں اگر ایک مرجائے یا اس کو طلاق دیدے تو دوسری سے شادی کرسکتا ہے۔


2066- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا، وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا۔
* تخريج: خ/ النکاح ۲۷ (۵۱۱۰، ۵۱۱۱)، م/النکاح ۴ (۱۴۰۸)، ن/ النکاح ۴۷ (۳۲۹۱)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۴۲۸۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۰۱، ۴۵۲، ۵۱۸) (صحیح)
۲۰۶۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خالہ اور بھانجی اور اسی طرح پھوپھی اور بھتیجی کو بیک وقت نکاح میں رکھنے سے منع فرمایا ہے۔


2067- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا خَطَّابُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ، وَبَيْنَ الْخَالَتَيْنِ وَالْعَمَّتَيْنِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۶۰۷۰)، وقد أخرجہ: ت/النکاح ۳۰ (۱۱۲۵)، حم (۱/۲۱۷) (ضعیف)
(اس کے راو ی ''خصیف'' حافظہ کے ضعیف ہیں)
۲۰۶۷- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے پھو پھی اور خالہ کو ( نکاح میں ) جمع کرنے، اسی طرح دو خالائوں اور دو پھوپھیوں کو ( نکاح میں) جمع کرنے سے منع فرمایا ہے۔


2068- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ﷺ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ} قَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِي، هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حِجْرِ وَلِيِّهَا، فَتُشَارِكُهُ فِي مَالِهِ، فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا، فَيُرِيدُ (وَلِيُّهَا) أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ، إِلا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ وَيَبْلُغُوا بِهِنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ، وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنّ، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بَعْدَ هَذِهِ الآيَةِ فِيهِنَّ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ، قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ، وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللاتِي لا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ} قَالَتْ: وَالَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْهِمْ فِي الْكِتَابِ الآيَةُ الأُولَى الَّتِي قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ فِيهَا: {وَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ}، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الآيَةِ الآخِرَةِ: {وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ} هِيَ رَغْبَةُ أَحَدِكُمْ عَنْ يَتِيمَتِهِ الَّتِي تَكُونُ فِي حِجْرِهِ حِينَ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ إِلا بِالْقِسْطِ ، مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنّ،َ قَالَ يُونُسُ: وَقَالَ رَبِيعَةُ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى} قَالَ: يَقُولُ: اتْرُكُوهُنَّ إِنْ خِفْتُمْ فَقَدْ أَحْلَلْتُ لَكُمْ أَرْبَعًا۔
* تخريج: خ/الشرکۃ ۷ (۲۴۹۴)، الوصایا ۲۱ (۲۷۶۳)، تفسیرسورۃ النساء ۱ (۴۵۷۶)، النکاح ۱ (۵۰۶۴)، ۱۶ (۵۰۹۲)، ۱۹ (۵۰۹۸)، ۳۶ (۵۱۲۸)، ۳۷ (۵۱۳۱)، ۴۳ (۵۱۴۰)، الحیل ۸ (۶۹۶۵)، م/التفسیر ۱ (۳۰۱۸)، ن/النکاح ۶۶ (۳۳۴۸)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۶۶۹۳) (صحیح)
۲۰۶۸- عروہ بن زبیر نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالی کے فرمان:{وَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ} ۱؎ کے بارے میں دریافت کیا تو ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بھانجے! اس سے وہ یتیم لڑکی مراد ہے ، جو اپنے ایسے ولی کی پرورش میں ہو جس کے مال میں وہ شریک ہو اور اس کی خوبصورتی اور اس کا مال اسے بھلا لگتا ہو اس کی وجہ سے وہ اس سے بغیر مناسب مہرا دا کئے نکاح کرنا چاہتا ہو( یعنی جتنا مہر اس کو اور کوئی دیتا اتنا بھی نہ دے رہا ہو ) چنانچہ انہیں ان سے نکاح کرنے سے روک دیا گیا ، اگر وہ انصاف سے کام لیں اور انہیں اونچے سے اونچا مہر ادا کریں تو نکاح کر سکتے ہیں ورنہ فرمان رسول ہے کہ ان کے علاوہ جو عورتیں انہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلیں۔
عروہ کا بیان ہے کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کے نزول کے بعد یتیم لڑکیوں کے بارے میں حکم دریافت کیا تو یہ آیت نازل ہوئی:{وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ، قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ، وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللاتِي لا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ} ۲؎ ام المومنین عائشہ نے کہا کہ اس آیت میں اللہ تعالی نے جو یہ فرمایا ہے کہ وہ ان پر کتا ب میں پڑھی جاتی ہیں اس سے مرا د پہلی آیت ہے جس میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے: {وَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ} اور اس دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کے قول: {وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ} سے یہی غرض ہے کہ تم میں سے کسی کی پر ورش میں کم مال والی کم حسن والی یتیم لڑکی ہو تو وہ اس کے ساتھ نکاح سے بے رغبتی نہ کرے چنانچہ انہیںمنع کیا گیا کہ مال اور حسن کی بنا پر یتیم لڑکیوں سے نکاح کی رغبت کریں، ہاں انصاف کی شرط کے ساتھ درست ہے۔
یونس نے کہا کہ ربیعہ نے اللہ کے فرمان: {وَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى} کا مطلب یہ بتایا ہے کہ اگر تمہیں یتیم لڑ کیوں کے بارے میں انصا ف نہ کر پا نے کا ڈر ہو تو انہیں چھوڑدو (کسی اور عورت سے نکاح کر لو)میں نے تمہارے لئے چار عورتوں سے نکاح جا ئز کر دیا ہے۔
وضاحت ۱؎ : اگر تمہیں یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کرپانے کاڈر ہو تو تم ان عورتوں سے نکاح کرلوجوتمہیں اچھی لگیں (سورۃ النساء: ۳)
وضاحت ۲؎ : لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں حکم دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ خود اللہ ان کے بارے میں حکم دے رہا ہے ، اور قرآن کی وہ آیتیں جو تم پر ان یتیم لڑ کیوں کے بارے میں پڑھی جاتی ہیں ، جنہیں تم ان کا مقرر حق نہیں دیتے اور انہیں اپنے نکاح میں لانے کی رغبت رکھتے ہو (سورۃ النساء: ۱۲۶)


2069- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْوَلِيدِ ابْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيْلِيُّ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ -مَقْتَلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِي اللَّه عَنْهُمَا- لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَقَالَ لَهُ : هَلْ لَكَ إِلَيَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا؟؟ قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : لا، قَالَ: هَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ؟ وَايْمُ اللَّهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ لا يُخْلَصُ إِلَيْهِ أَبَدًا حَتَّى يُبْلَغَ إِلَى نَفْسِي، إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِي اللَّه عَنْه خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ، فَقَالَ: <إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي وَأَنَا أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا>، قَالَ: ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ (إِيَّاهُ) فَأَحْسَنَ، قَالَ: <حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي، وَوَعَدَنِي فَوَفَّى لِي، وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلالا وَلاأُحِلُّ حَرَامًا، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ مَكَانًا وَاحِدًا أَبَدًا >۔
* تخريج: خ/الجمعۃ ۲۹ (۹۲۶)، فرض الخمس ۵ (۳۱۱۰)، المناقب ۱۲ (۳۷۱۴)، ۱۶ (۳۷۲۹)، النکاح ۱۰۹ (۵۲۳۰)، الطلاق ۱۳ (۵۲۷۸)، م/فضائل الصحابۃ ۱۴ (۲۴۴۹)، ق/النکاح ۵۶ (۱۹۹۹)، ن/ الکبری/ المناقب (۸۳۷۲)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۷۸)، وقد أخرجہ: ت/المناقب ۶۱ (۳۸۶۷)، حم (۴/۳۲۶) (صحیح)
۲۰۶۹- علی بن حسین کا بیان ہے: وہ لوگ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے زمانے میں یزید بن معاویہ کے پاس سے مدینہ آئے توان سے مسور بن مخر مہ رضی اللہ عنہ ملے اورکہا: اگر میرے لا ئق کوئی خد مت ہو تو بتا ئیے تو میں نے ان سے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: کیا آپ مجھے رسول اللہ ﷺ کی تلوار دے سکتے ہیں ؟ کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ آپ سے اسے چھین لیں گے،اللہ کی قسم!اگر آپ اسے مجھے دیدیں گے تو اس تک کوئی ہرگز نہیں پہنچ سکے گا جب تک کہ وہ میرے نفس تک نہ پہنچ جائے ۱؎ ۔
علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہاکے ہوتے ہوئے ابو جہل کی بیٹی ۲؎ کو نکاح کا پیغام دیا تو میں نے اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کو اپنے اسی منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا، اس وقت میں جوان تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ''فاطمہ میرا ٹکڑا ہے، مجھے ڈر ہے کہ وہ دین کے معا ملہ میں کسی آزما ئش سے دو چار نہ ہو جائے''، پھر آپ ﷺ نے بنی عبد شمس میں سے اپنے ایک داماد کا ذکر فرمایا، اور اس رشتہ دامادی کی خوب تعریف کی، اور فرمایا :'' جو بات بھی اس نے مجھ سے کی سچ کر دکھائی، اور جو بھی وعدہ کیا پورا کیا، میں کسی حلال کو حرام اور حرام کو حلال قطعا ًنہیں کر رہا ہوں لیکن اللہ کی قسم، اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ہر گز ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی''۔
وضاحت ۱؎ : جب تک میری جان میں جان رہے گی اسے کوئی مجھ سے نہیں لے سکتا۔
وضاحت ۲؎ : امام ابن قیم کہتے ہیں کہ اس حدیث میں ہر طرح سے رسول اکرم ﷺ کو ایذاء پہنچانے کی حرمت ہے چاہے وہ کسی مباح کام کرنے سے ہو، اگر اس کام سے رسول اکرم ﷺ کو ایذاء پہنچے تو ناجائز ہوگا، ارشاد باری ہے: {وما كان لكم أن تؤذوا رسول الله}۔


2070- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَسَكَتَ عَلِيٌّ عَنْ ذَلِكَ النِّكَاحِ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۷۸) (صحیح)
۲۰۷۰- ابن ابی ملیکہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: تو علی رضی اللہ عنہ نے اس نکاح سے خاموشی اختیار کر لی ۔


2071- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، الْمَعْنَى، قَالَ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُللَّهِ بْنُ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ الْقُرَشِيُّ التَّيْمِيُّ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: < إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ مِنْ عَلِيِّ ابْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَلا آذَنُ، ثُمَّ لا آذَنُ (ثُمَّ لاآذَنُ) إِلا أَنْ يُرِيدَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ، فَإِنَّمَا ابْنَتِي بَضْعَةٌ مِنِّي، يُرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا، وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا >، وَالإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ أَحْمَدَ۔
* تخريج: خ/المناقب ۱۲ (۳۷۱۴)، م/فضائل الصحابۃ ۱۴ (۲۴۴۹)، ت/المناقب ۶۱ (۳۸۶۷)، ن/الکبری/ المناقب (۸۳۷۰، ۸۳۷۱)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۶۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۲۸) (صحیح)
۲۰۷۱- مسور بن مخرمہرضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرما تے ہوئے سنا : '' ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے ۱؎ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب سے کر انے کی اجا زت مجھ سے ما نگی ہے تو میں اجا زت نہیں دیتا ، میں اجازت نہیں دیتا ، میں اجازت نہیں دیتا،ہاں اگر علی ان کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں تو میری بیٹی کو طلاق دے دیں ، کیونکہ فا طمہ میرا ٹکڑا ہے جو اسے برا لگتا ہے وہ مجھے بھی برا لگتا ہے اور جس چیز سے اسے تکلیف ہوتی ہے مجھے بھی ہوتی ہے ''۔
وضاحت ۱؎ : ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں سے مراد ابوالحکم عمرو بن ہشام جسے ابوجہل کہتے ہیں کے بھائی حارث بن ہشام اور سلمہ بن ہشام ہیں جوفتح مکہ کے سال اسلام لے آئے تھے اور اس میں ابوجہل کے بیٹے عکرمہ بھی داخل ہیں جوسچے مسلمان تھے۔
 
Top