- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
15- بَاب فِي الشِّغَارِ
۱۵-باب: نکاحِ شغار کا بیان
2074- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ (ح) وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، كِلاهُمَا عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى عَنِ الشِّغَارِ، زَادَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ: قُلْتُ لِنَافِعٍ: مَا الشِّغَارُ؟ قَالَ: يَنْكِحُ ابْنَةَ الرَّجُلِ وَيُنْكِحُهُ ابْنَتَهُ بِغَيْرِ صَدَاقٍ ، وَيَنْكِحُ أُخْتَ الرَّجُلِ وَيُنْكِحُهُ أُخْتَهُ بِغَيْرِ صَدَاقٍ۔
* تخريج: خ/النکاح ۲۸ (۵۱۰۹)، والحیل ۴ (۶۹۶۰)، م/النکاح ۷ (۱۴۱۵)، ت/النکاح ۳۰ (۱۱۲۴)، ن/النکاح ۶۰ (۳۳۳۶)، ۶۱ (۳۳۳۹)، ق/النکاح ۱۶ (۱۸۸۳)، ( تحفۃ الأشراف: ۸۱۴۱، ۸۳۲۳)، وقد أخرجہ: ط/النکاح ۱۱(۲۴)، حم (۲/۷، ۱۹، ۶۲)، دي/النکاح ۹ (۲۲۲۶) (صحیح)
۲۰۷۴- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نکاحِ شغار سے منع فرمایا۔
مسدد نے اپنی حدیث میں اتنا اضافہ کیا ہے : میں نے نافع سے پوچھا : شغار ۱؎ کیا ہے؟ انہوں نے کہا آدمی کسی کی بیٹی سے نکاح (بغیر مہر کے) کرے، اور اپنی بیٹی کا نکاح اس سے بغیر مہر کے کر دے اسی طرح کسی کی بہن سے (بغیر مہر کے) نکاح کر ے اور اپنی بہن کا نکاح اس سے بغیر مہرکے کردے ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : نکاح شغار ایک قسم کا نکاح تھا،جو جاہلیت میں رائج تھا، جس میں آدمی اپنی بیٹی یا بہن کی اس شرط پر دوسرے سے شادی کردیتا کہ و ہ بھی اپنی بیٹی یا بہن کی اس سے شادی کردے، گویا اس کومہر سمجھتے تھے، اسلام نے اس طرح کے نکاح سے منع کردیا،ہاں اگر شرط نہ ہو، اور الگ الگ مہر ہو تو جائز ہے۔
وضاحت ۲؎ : یعنی ہر ایک اپنی بیٹی یا بہن ہی کو اپنی بیوی کا مہر قرار دے۔
2075- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الأَعْرَجُ أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ أَنْكَحَ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ الْحَكَمِ ابْنَتَهُ، وَأَنْكَحَهُ عَبْدُالرَّحْمَنِ ابْنَتَهُ، وَكَانَا جَعَلا صَدَاقًا، فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى مَرْوَانَ يَأْمُرُهُ بِالتَّفْرِيقِ بَيْنَهُمَا، وَقَالَ فِي كِتَابِهِ: هَذَا الشِّغَارُ الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، حم (۴/۹۴)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۲۹) (حسن)
۲۰۷۵- ابن اسحاق سے روایت ہے کہ عبد الرحمن بن ہرمزاعرج نے مجھ سے بیان کیا کہ عباس بن عبداللہ بن عباس نے اپنی بیٹی کا نکاح عبدالرحمن بن حکم سے کر دیا اور عبدالر حمن نے اپنی بیٹی کا نکاح عباس سے کر دیا اوران دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے سے اپنی بیٹی کے شادی کرنے کو اپنی بیوی کا مہر قرار دیا تو معاویہ نے مروان کو ان کے درمیان جدائی کا حکم لکھ کر بھیجا اور اپنے خط میں یہ بھی لکھا کہ یہی وہ نکاح شغار ہے جس سے اللہ کے رسول ﷺ نے منع فرمایا ہے۔