32- بَاب فِيمَنْ تَزَوَّجَ وَلَمْ يُسَمِّ صَدَاقًا حَتَّى مَاتَ
۳۲-باب: ایک شخص نے نکاح کیا مہر مقرر نہیں کی اور مرگیا اس کے حکم کا بیان
2114- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَ عَنْهَا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا (الصَّدَاقَ) فَقَالَ: لَهَا الصَّدَاقُ كَامِلاً، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَضَى بِهِ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ۔
* تخريج: ت/النکاح ۴۴(۱۱۴۵)، ن/النکاح ۶۸(۳۳۵۸)، والطلاق ۵۷(۳۵۵۴)، ق/النکاح ۱۸ (۱۸۹۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۶۱)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۸۰، ۴/۲۸۰)، دي/النکاح ۴۷ (۲۲۹۲) (صحیح)
۲۱۱۴- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں مروی ہے جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور پھر اس سے ہم بستری کرنے سے پہلے اور اس کا مہر متعین کرنے سے پہلے وہ انتقال کر گیا توانہوں نے کہا: اس عورت کو پورا مہر ملے گا اور اس پر عدت لازم ہوگی اور اسے میراث سے حصہ ملے گا۔
اس پر معقل بن سنا ن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے بروع بنت واشق کے سلسلے میں اسی کا فیصلہ فرمایا۔
2115- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ، وَسَاقَ عُثْمَانُ مِثْلَهُ ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۶۱) (صحیح)
۲۱۱۵- اس سند سے بھی عبد اللہ سے مروی ہے،عثمان نے اسی کے مثل روایت بیان کی۔
2116- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلاسٍ، وَأَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَبْدَاللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أُتِيَ فِي رَجُلٍ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ شَهْرًا -أَوْ قَالَ مَرَّاتٍ- قَالَ : فَإِنِّي أَقُولُ فِيهَا: إِنَّ لَهَا صَدَاقًا كَصَدَاقِ نِسَائِهَا لاوَكْسَ وَلا شَطَطَ، وَإِنَّ لَهَا الْمِيرَاثَ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، فَإِنْ يَكُ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ، وَإِنْ يَكُنْ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنَ الشَّيْطَانِ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ بَرِيئَانِ، فَقَامَ نَاسٌ مِنْ أَشْجَعَ فِيهِمُ الْجَرَّاحُ وَأَبُو سِنَانٍ فَقَالُوا: يَا ابْنَ مَسْعُودٍ! نَحْنُ نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَضَاهَا فِينَا فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ، وَإِنَّ زَوْجَهَا هِلالُ بْنُ مُرَّةَ الأَشْجَعِيُّ كَمَا قَضَيْتَ، قَالَ: فَفَرِحَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَرَحًا شَدِيدًا حِينَ وَافَقَ قَضَاؤُهُ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۳۲۰۵)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۳۰، ۴۳۱، ۴۴۷، ۴۴۸) (صحیح)
۲۱۱۶- عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کا یہی مسئلہ پیش کیا گیا،راوی کا بیان ہے کہ لوگوں کی اس سلسلہ میں مہینہ بھر یا کہا کئی بار آپ کے پاس آمد و رفت رہی، انہوں نے کہا : اس سلسلے میں میرا فیصلہ یہی ہے کہ بلا کم و کاست اسے اپنی قوم کی عورتوں کی طرح مہر ملے گا، وہ میراث کی حق دار ہو گی اور اس پر عدت بھی ہوگی ، اگر میرا فیصلہ درست ہے تو اللہ تعالی کی جانب سے ہے، اگر غلط ہے تو میری جانب سے اور شیطان کی طرف سے ہے ، اللہ اور اللہ کے رسول اس سے بر ی ہیں ، چنانچہ قبیلہ اشجع کے کچھ لوگ جن میں جراح و ابوسنان بھی تھے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : ابن مسعود !ہم گواہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم میں بروع بنت واشق - جن کے شوہر ہلال بن مرّہ اشجعی ہیں- کے سلسلہ میں ایسا ہی فیصلہ کیا تھا جوآپ نے کیا ہے ،عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو جب ان کا فیصلہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کے موافق ہو گیا تو بڑی خوشی ہوئی۔
2117- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ الذُّهْلِيُّ (وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى) وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَصْبَغِ الْجَزَرِيُّ عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لِرَجُلٍ: < أَتَرْضَى أَنْ أُزَوِّجَكَ فُلانَةَ؟ >، قَالَ: نَعَمْ، وَقَالَ لِلْمَرْأَةِ : < أَتَرْضَيْنَ أَنْ أُزَوِّجَكِ فُلانًا؟ > قَالَتْ : نَعَمْ، فَزَوَّجَ أَحَدَهُمَا صَاحِبَهُ، فَدَخَلَ بِهَا الرَّجُلُ وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا، وَلَمْ يُعْطِهَا شَيْئًا، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ، وَكَانَ مَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ لَهُ سَهْمٌ بِخَيْبَرَ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ زَوَّجَنِي فُلانَةَ، وَلَمْ أَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ أُعْطِهَا شَيْئًا، وَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَعْطَيْتُهَا مِنْ صَدَاقِهَا سَهْمِي بِخَيْبَرَ، فَأَخَذَتْ سَهْمًا، فَبَاعَتْهُ بِمِائَةِ أَلْفٍ.
قَالَ أَبو دَاود: وَزَادَ عُمَرُ (بْنُ الْخَطَّابِ وَحَدِيثُهُ أَتَمُّ) فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُهُ >، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ (لِلرَّجُلِ ) ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ.
(قَالَ أَبو دَاود: يُخَافُ أَنْ يَكُونَ هَذَا الْحَدِيثُ مُلْزَقًا، لأَنَّ الأَمْرَ عَلَى غَيْرِ هَذَا)۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۹۹۶۲) (صحیح)
۲۱۱۷- عقبہ بن عامررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا:''کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ میں تمہارا نکاح فلاں عورت سے کردوں؟''، اس نے جواب دیا: ہاں، پھرعورت سے کہا: ''کیا تم اس بات سے راضی ہوکہ فلاں مرد سے تمہارا نکاح کردوں؟''، اس نے بھی جواب دیا: ہاں، چنانچہ آپ ﷺ نے ان دونوں کا نکاح کر دیا ، اور آدمی نے اس سے صحبت کر لی لیکن نہ تو اس نے مہر متعین کیا اور نہ ہی اسے کوئی چیز دی ، یہ شخص غزوہ حدیبیہ میں شریک تھا اور اسی بنا پر اسے خیبر سے حصہ ملتا تھا ، جب اس کی وفات کا وقت ہوا تو کہنے لگا کہ رسول اللہ ﷺ نے فلاں عورت سے میرا نکاح کرایا تھا ، لیکن میں نے نہ تو اس کا مہر مقرر کیا اور نہ اسے کچھ دیا، لہٰذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنا خیبر سے ملنے والا حصہ اس کے مہر میں دے دیا، چنانچہ اس عورت نے وہ حصہ لے کر ایک لا کھ میں فروخت کیا۔
ابو داود کہتے ہیں: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حدیث کے شروع میں ان الفاظ کا اضافہ کیا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بہتر نکاح وہ ہے جو سب سے آسان ہو''، اور ان کی حدیث سب سے زیادہ کامل ہے اور اس میں
''إن رسول الله ﷺ قال للرجل'' کے بجائے
''قال رسول الله ﷺ للرجل''ہے پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
ابو داود کہتے ہیں:اندیشہ ہے کہ یہ حدیث الحاقی ہو کیونکہ معاملہ اس کے برعکس ہے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : کیونکہ درحقیقت مرض الموت میں اس شخص نے مہر سے زائد کی بابت ایسا کہا تھا۔