- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
36- بَاب فِي الرَّجُلِ يَدْخُلُ بِإِمْرَأَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَنْقُدَهَا شَيْئًا
۳۶- باب: کچھ نقد دینے سے پہلے عورت سے خلوت کا بیان
۳۶- باب: کچھ نقد دینے سے پہلے عورت سے خلوت کا بیان
2125- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَعْطِهَا شَيْئًا > قَالَ: مَاعِنْدِي شَيْئٌ، قَالَ: < أَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ؟ >۔
* تخريج: ن/النکاح ۷۶ (۳۳۷۸)، ( تحفۃ الأشراف: ۶۰۰۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۸) (حسن صحیح)
۲۱۲۵- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو رسول اللہ ﷺ نے اُن سے کہا: ''اسے کچھ دے دو''، انہوں نے کہا: میرے پاس تو کچھ بھی نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ''تمہاری حطمی زرہ ۱؎ کہاں ہے؟''۲؎۔
وضاحت۱؎: ''حطمي'': زرہ ہے جو تلوار کو توڑ دے، یا حطمہ کوئی قبیلہ تھا جو زرہ بنایا کرتا تھا۔
وضاحت۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ شب زفاف (سہاگ رات) میں پہلی ملاقات کے وقت بیوی کو کچھ ہدیہ تحفہ دینا مستحب ہے۔
2126- حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ، عَنْ شُعَيْبٍ -يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَمْزَةَ- حَدَّثَنِي غَيْلانُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّ عَلِيًّا لَمَّا تَزَوَّجَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَأَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَمَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حَتَّى يُعْطِيَهَا شَيْئًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ لِي شَيْئٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ : < أَعْطِهَا دِرْعَكَ > فَأَعْطَاهَا دِرْعَهُ، ثُمَّ دَخَلَ بِهَا ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۶۶۸) (ضعیف) (اس کے راوی ''غیلان'' لیِّن الحدیث ہیں)
۲۱۲۶- محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان سے روایت ہے ، وہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی اوران کے پاس جانے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں منع فرما دیا جب تک کہ وہ انہیں کچھ دے نہ دیں تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس کچھ نہیں ہے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اسے اپنی زرہ ہی دے دو''، چنانچہ انہیں زرہ دے دی، پھر وہ ان کے پاس گئے۔
2127- حَدَّثَنَا كَثِيرٌ -يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ- حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ غَيْلانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۶۱۸۴) (ضعیف)
۲۱۲۷- اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے مثل مروی ہے۔
2128- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ أُدْخِلَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَهَا شَيْئًا َ .
(قَالَ أَبو دَاود : (وَخَيْثَمَةُ ) لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ )۔
* تخريج: ق/النکاح ۵۴ (۱۶۰۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۶۹) (ضعیف) (سند میں انقطاع ہے جیسا کہ مؤلف نے بیان کر دیا ہے)
۲۱۲۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک عورت کو اس کے شوہر کے پاس پہنچا دینے کا حکم دیا قبل اس کے کہ وہ اسے کچھ دے۔
ابو داود کہتے ہیں: خیثمہ کا سماع ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں ہے۔
2129- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ عَلَى صَدَاقٍ أَوْ حِبَائٍ أَوْ عِدَّةٍ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهَا، وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لِمَنْ أُعْطِيَهُ، وَأَحَقُّ مَا أُكْرِمَ عَلَيْهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ (أَ) وْ أُخْتُهُ >۔
* تخريج: ن/النکاح ۶۷ (۳۳۵۵)، ق/النکاح ۴۱ (۱۹۵۵)، ( تحفۃ الأشراف: ۸۷۴۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۸۲) (ضعیف) (اس کے راوی ''ابن جریج'' مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفۃ ۱۰۰۷)
۲۱۲۹- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس عورت نے مہر یا عطیہ یا وعدے پر نکاح کیا تو نکاح سے قبل ملنے والی چیز عورت کی ہو گی اور جو کچھ نکاح کے بعد ملے گا وہ اسی کا ہے جس کو دیا گیا (انعام وغیرہ)، مرد جس چیز کے سبب اپنے اکرام کا مستحق ہے وہ اس کی بیٹی یا بہن ہے''۔