• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
36- بَاب فِي الرَّجُلِ يَدْخُلُ بِإِمْرَأَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَنْقُدَهَا شَيْئًا
۳۶- باب: کچھ نقد دینے سے پہلے عورت سے خلوت کا بیان​

2125- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَعْطِهَا شَيْئًا > قَالَ: مَاعِنْدِي شَيْئٌ، قَالَ: < أَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ؟ >۔
* تخريج: ن/النکاح ۷۶ (۳۳۷۸)، ( تحفۃ الأشراف: ۶۰۰۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۸) (حسن صحیح)

۲۱۲۵- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو رسول اللہ ﷺ نے اُن سے کہا: ''اسے کچھ دے دو''، انہوں نے کہا: میرے پاس تو کچھ بھی نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ''تمہاری حطمی زرہ ۱؎ کہاں ہے؟''۲؎۔
وضاحت۱؎: ''حطمي'': زرہ ہے جو تلوار کو توڑ دے، یا حطمہ کوئی قبیلہ تھا جو زرہ بنایا کرتا تھا۔
وضاحت۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ شب زفاف (سہاگ رات) میں پہلی ملاقات کے وقت بیوی کو کچھ ہدیہ تحفہ دینا مستحب ہے۔

2126- حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ، عَنْ شُعَيْبٍ -يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَمْزَةَ- حَدَّثَنِي غَيْلانُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّ عَلِيًّا لَمَّا تَزَوَّجَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَأَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَمَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حَتَّى يُعْطِيَهَا شَيْئًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ لِي شَيْئٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ : < أَعْطِهَا دِرْعَكَ > فَأَعْطَاهَا دِرْعَهُ، ثُمَّ دَخَلَ بِهَا ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۶۶۸) (ضعیف)
(اس کے راوی ''غیلان'' لیِّن الحدیث ہیں)
۲۱۲۶- محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان سے روایت ہے ، وہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی اوران کے پاس جانے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں منع فرما دیا جب تک کہ وہ انہیں کچھ دے نہ دیں تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس کچھ نہیں ہے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اسے اپنی زرہ ہی دے دو''، چنانچہ انہیں زرہ دے دی، پھر وہ ان کے پاس گئے۔

2127- حَدَّثَنَا كَثِيرٌ -يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ- حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ غَيْلانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۶۱۸۴) (ضعیف)

۲۱۲۷- اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے مثل مروی ہے۔

2128- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ أُدْخِلَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَهَا شَيْئًا َ .
(قَالَ أَبو دَاود : (وَخَيْثَمَةُ ) لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ )۔
* تخريج: ق/النکاح ۵۴ (۱۶۰۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۶۹) (ضعیف)
(سند میں انقطاع ہے جیسا کہ مؤلف نے بیان کر دیا ہے)
۲۱۲۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک عورت کو اس کے شوہر کے پاس پہنچا دینے کا حکم دیا قبل اس کے کہ وہ اسے کچھ دے۔
ابو داود کہتے ہیں: خیثمہ کا سماع ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں ہے۔


2129- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ عَلَى صَدَاقٍ أَوْ حِبَائٍ أَوْ عِدَّةٍ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهَا، وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لِمَنْ أُعْطِيَهُ، وَأَحَقُّ مَا أُكْرِمَ عَلَيْهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ (أَ) وْ أُخْتُهُ >۔
* تخريج: ن/النکاح ۶۷ (۳۳۵۵)، ق/النکاح ۴۱ (۱۹۵۵)، ( تحفۃ الأشراف: ۸۷۴۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۸۲) (ضعیف)
(اس کے راوی ''ابن جریج'' مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفۃ ۱۰۰۷)
۲۱۲۹- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس عورت نے مہر یا عطیہ یا وعدے پر نکاح کیا تو نکاح سے قبل ملنے والی چیز عورت کی ہو گی اور جو کچھ نکاح کے بعد ملے گا وہ اسی کا ہے جس کو دیا گیا (انعام وغیرہ)، مرد جس چیز کے سبب اپنے اکرام کا مستحق ہے وہ اس کی بیٹی یا بہن ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
37- بَاب مَا يُقَالُ لِلْمُتَزَوِّجِ
۳۷- باب: دولہا کو کیا دعا دے؟​

2130- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ- عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا رَفَّأَ الإِنْسَانَ إِذَا تَزَوَّجَ قَالَ: < بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ، وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ >۔
* تخريج: ت/النکاح ۷ (۱۰۹۱)، ق/النکاح ۲۳ (۱۹۰۵)، ن/ الیوم واللیلۃ (۲۵۹)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۲۶۹۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۸۱)، دي/النکاح ۶ (۲۲۱۹) (صحیح)

۲۱۳۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب کسی شخص کو شادی کی مبارکباد دیتے تو فرماتے: ''بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ، وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ'' (اللہ تعالی تم کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھے، اور تم دونوں کو خیر پر جمع کر دے)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
38- بَاب فِي الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ فَيَجِدُهَا حُبْلَى
۳۸- باب: آدمی کسی عورت سے شادی کرے اور اسے حاملہ پائے تو کیا کرے؟​

2131- حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْمَعْنَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ -قَالَ ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ: مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ ، وَلَمْ يَقُلْ مِنَ الأَنْصَارِ، ثُمَّ اتَّفَقُوا: يُقَالُ لَهُ بَصْرَةُ- قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً بِكْرًا فِي سِتْرِهَا، فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا، فَإِذَا هِيَ حُبْلَى، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < لَهَا الصَّدَاقُ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَالْوَلَدُ عَبْدٌ لَكَ، فَإِذَا وَلَدَتْ >، قَالَ الْحَسَنُ: < فَاجْلِدْهَا >، وقَالَ ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ: < فَاجْلِدُوهَا >، أَوْ قَالَ: <فَحُدُّوهَا >.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ قَتَادَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، وَرَوَاهُ يَحْيَى ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَعَطَائٍ الْخُرَاسَانِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَرْسَلُوهُ (كُلُّهُمْ)، وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّ بَصْرَةَ بْنَ أَكْثَمَ نَكَحَ امْرَأَةً، وَكُلُّهُمْ قَالَ فِي حَدِيثِهِ: جَعَلَ الْوَلَدَ عَبْدًا لَهُ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۲۰۲۴ و ۱۸۷۵۶) (ضعیف)
(اس کے راوی ''ابن جریج'' مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)
۲۱۳۱- بصرہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک کنواری پردہ نشین عورت سے نکاح کیا، میں اس کے پاس گیا، تو اسے حاملہ پایا تو اس کے متعلق اللہ کے رسول ﷺ نے ارشا د فرمایا: ''اس کی شر م گاہ کو حلال کرنے کے عوض تمہیں مہر ادا کرنا پڑے گا، اور (پیدا ہو نے والا) بچہ تمہارا غلام ہو گا، اور جب وہ بچہ جن دے- (حسن کی روایت میں) ''تو تو اسے کوڑے لگا'' (واحد کے صیغہ کے ساتھ) اور ابن السری کی روایت میں تو تم اسے کوڑے لگاؤ (جمع کے صیغہ کے ساتھ)-''، یا آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس پر حد جاری کرو''۔
ابو داود کہتے ہیں: اس حدیث کو قتادہ نے سعید بن زید سے انہوں نے ابن مسیب سے روایت کیا ہے نیز اسے یحییٰ ابن ابی کثیر نے یزید بن نعیم سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور عطاء خراسانی نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے سبھی لوگوں نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔
اور یحییٰ ابن أبی کثیر کی روایت میں ہے کہ بصرہ بن اکثم نے ایک عورت سے نکاح کیا اور سبھی لوگوں کی روایت میں ہے: ''آپ نے لڑکے کو ان کا غلام بنا دیا''۔


2132- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ -يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ- عَنْ يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَجُلا يُقَالُ لَهُ بَصْرَةُ بْنُ أَكْثَمَ نَكَحَ امْرَأَةً، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، زَادَ: وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ أَتَمُّ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۲۱۲۴، ۱۸۷۵۶) (ضعیف)
(اس کے راوی ''یزید بن نعیم '' لین الحدیث ہیں)
۲۱۳۲- سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ بصرہ بن اکثم نامی ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر راوی نے اسی مفہوم کی روایت نقل کی لیکن اس میں اتنا زیا دہ ہے کہ ''آپ ﷺ نے ان کے درمیان جدائی کرا دی'' اور ابن جریج والی روایت زیادہ کامل ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
39- بَاب فِي الْقَسْمِ بَيْنَ النِّسَاءِ
۳۹- باب: عورتوں کے درمیان باری مقرر کرنے کا بیان​

2133- حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ فَمَالَ إِلَى إِحْدَاهُمَا جَائَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ مَائِلٌ >۔
* تخريج: ت/النکاح ۴۱ (۱۱۴۱)، ن/عشرۃ النساء ۲ (۳۹۹۴)، ق/النکاح ۴۷ (۱۹۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۱۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۹۵، ۳۴۷، ۴۷۱)، دي/النکاح ۲۴ (۲۲۵۲) (صحیح)

۲۱۳۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جس کے پاس دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان ایک کی جانب ہو تو وہ بروز قیامت اس حال میں آئے گا، کہ اس کا ایک دھڑا جھکا ہوا ہو گا''۔

2134- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلابَةَ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقْسِمُ فَيَعْدِلُ وَيَقُولُ: < اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلا أَمْلِكُ >، قَالَ أَبو دَاود: يَعْنِي الْقَلْبَ۔
* تخريج: ت/النکاح ۴۱ (۱۱۴۰)، ن/عشرۃ النساء ۲ (۳۳۹۵)، ق/النکاح ۴۷ (۱۹۷۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۲۹۰)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۴۴)، دي/النکاح ۲۵ (۲۲۵۳) (ضعیف)
(حماد بن زید اور دوسرے زیادہ ثقہ رواۃ نے اس کو عن ابی قلابۃ عن النبی ﷺ مرسلا روایت کیا ہے)
۲۱۳۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (اپنی بیویوں کی) باری مقرر فرماتے تھے اور اس میں انصاف سے کام لیتے تھے، پھر یہ دعا فرماتے تھے: ''(اے اللہ! یہ میری تقسیم ان چیزوں میں ہے جو میرے بس میں ہے رہی وہ بات جو میرے بس سے باہر ہے اور تیرے بس میں ہے (یعنی دل کا میلان) تو تو مجھے اس کی وجہ سے ملامت نہ فرمانا''۔

2135- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ (يَعْنِي) ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ يَا ابْنَ أُخْتِي، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لايُفَضِّلُ بَعْضَنَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْقَسْمِ مِنْ مُكْثِهِ عِنْدَنَا، وَكَانَ قَلَّ يَوْمٌ إِلا وَهُوَ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا، فَيَدْنُو مِنْ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ حَتَّى يَبْلُغَ إِلَى الَّتِي هُوَ يَوْمُهَا فَيَبِيتَ عِنْدَهَا، وَلَقَدْ قَالَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ حِينَ أَسَنَّتْ وَفَرِقَتْ أَنْ يُفَارِقَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : يَا رَسُولَ اللَّهِ! يَوْمِي لِعَائِشَةَ، فَقَبِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْهَا، قَالَتْ: نَقُولُ فِي ذَلِكَ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَفِي أَشْبَاهِهَا، أُرَاهُ قَالَ: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا}۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۰۲۴)، وقد أخرجہ: خ/النکاح ۹۹ (۵۲۱۲)، م/التفسیر ۱ (۳۰۲۲)، حم (۶/۱۰۷) (حسن صحیح)

۲۱۳۵- عروہ کہتے ہیں: ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے بھانجے! رسول اللہ ﷺ ہم ازواج مطہرات کے پاس رہنے کی باری میں بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ آپ ﷺ ہم سب کے پاس نہ آتے ہوں، اور بغیر محبت کے آپ ﷺ سب کے قریب ہوتے، اس طرح آپ اپنی اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے جس کی باری ہوتی اور اس کے ساتھ رات گزارتے، اور سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا عمر رسیدہ ہو گئیں اور انہیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ انہیں الگ کر دیں گے تو کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میری باری عائشہ رضی اللہ عنہا کے لئے رہے گی، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی یہ بات قبول فرما لی، عائشہ کہتی تھیں کہ ہم کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلہ میں یا اور اسی جیسی چیزوں کے سلسلے میں آیت کریمہ: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا} (سورۃ النساء: ۱۲۸) نازل کی: (اگر عورت کو اپنے خاوند کی بد مزاجی کا خوف ہو)۔

2136- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، الْمَعْنَى، قَالا: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَسْتَأْذِنُنَا إِذَا كَانَ فِي يَوْمِ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَمَا نَزَلَتْ: {تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ} قَالَتْ مَعَاذَةُ: فَقُلْتُ لَهَا: مَا كُنْتِ تَقُولِينَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ ؟ قَالَتْ: (كُنْتُ) أَقُولُ: إِنْ كَانَ ذَلِكَ إِلَيَّ لَمْ أُوثِرْ أَحَدًا عَلَى نَفْسِي۔
* تخريج: خ/تفسیر القرآن ۷ (۴۷۸۹)، م/الطلاق ۴ (۱۴۷۶)، ن/ الکبری/ عشرۃ النساء (۸۹۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۶۵)، وقد أخرجہ: حم (۶/۷۶، ۱۵۸، ۲۶۱) (صحیح)

۲۱۳۶- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آیت کریمہ: {تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ} ۱؎ نازل ہوئی تو ہم میں سے جس کسی کی باری ہوتی تھی اس سے اللہ کے رسول ﷺ اجازت لیتے تھے۔
معاذہ کہتی ہیں کہ یہ سن کر میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: آپ ایسے موقع پر کیا کہتی تھیں؟ کہنے لگیں: میں تو یہ ہی کہتی تھی کہ اگر میرا بس چلے تو میں اپنے اوپر کسی کو ترجیح نہ دوں۔

وضاحت۱؎: ''آپ ان میں سے جسے آپ چاہیں دور رکھیں اور جسے آپ چاہیں اپنے پاس رکھیں'' (سورۃ الاحزاب:۵۱)۔

2137- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِالْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بَعَثَ إِلَى النِّسَاءِ -تَعْنِي فِي مَرَضِهِ- فَاجْتَمَعْنَ، فَقَالَ: < إِنِّي لا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدُورَ بَيْنَكُنّ،َ فَإِنْ رَأَيْتُنَّ أَنْ تَأْذَنَّ لِي (فَأَكُونَ) عِنْدَ عَائِشَةَ فَعَلْتُنَّ > فَأَذِنَّ لَهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۸۶)، وقد أخرجہ: ق/الجنائز ۶۴ (۱۶۱۸)، حم (۶/۳۱ ۱۸۷، ۲۹۱) (صحیح)

۲۱۳۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مرض الموت کے موقع پر سب بیویوں کو بلا بھیجا، وہ جمع ہوئیں تو فرمایا: ''اب تم سب کے پاس آنے جانے کی میرے اندر طاقت نہیں، اگر تم اجازت دے دو تو میں عائشہ کے پاس رہوں''، چنانچہ ان سب نے آپ ﷺ کو اس کی اجازت دے دی۔

2138- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ﷺ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ، وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا، غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ۔
* تخريج: خ/الھبۃ ۱۵ (۲۵۹۳)، والنکاح ۱۷ (۵۰۹۲)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۶۷۰۳، ۱۶۶۷۸)، وقد أخرجہ: م/فضائل الصحابۃ ۱۳ (۲۴۴۵)، ق/النکاح ۴۷ (۱۹۷۰)، ن/ الکبری/ عشرۃ النساء (۸۹۲۳)، حم (۶/ ۱۱۷، ۱۵۱، ۱۹۷، ۲۶۹)، دي/الجہاد ۳۱ (۲۴۶۷) (صحیح)

۲۱۳۸- ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تو جس کا نام نکلتا اس کو لے کر سفر کرتے، آپ ﷺ نے ہر بیوی کے لئے ایک دن رات کی باری بنا رکھی تھی، سوائے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے انہوں نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے رکھی تھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
40- بَاب فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِطُ لَهَا دَارَهَا
۴۰- باب: شوہر یہ شرط مان لے کہ عورت اپنے گھر میں ہی رہے گی ۱؎​

2139- حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: < إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوفُوا بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ >۔
* تخريج: خ/الشروط ۶ (۲۷۲۱)، والنکاح ۵۳ (۵۱۵۱)، م/النکاح ۸ (۱۴۱۸)، ت/النکاح ۲۲ (۱۱۲۷)، ن/النکاح ۴۲ (۳۲۸۳)، ق/النکاح ۴۱ (۱۹۵۴)، ( تحفۃ الأشراف: ۹۹۵۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۱۴، ۱۵۰، ۱۵۲)، دي/النکاح ۲۱ (۲۲۴۹) (صحیح)

۲۱۳۹- عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''پورا کئے جانے کی سب سے زیادہ مستحق شرطیں وہ ہیں جن کے ذریعہ تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے''۔
وضاحت۱؎: یعنی نکاح کے وقت یہ طے ہو کہ بیوی اپنے میکے ہی میں رہے گی اور شوہر اس شرط کو قبول کر لے تو ظاہر حدیث کے مطابق اب اُس کو اُس کے میکے سے نکالنے کا حق نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
41- بَاب فِي حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ
۴۱- باب: بیوی پر شوہرکے حقوق کا بیان​

2140- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ، فَقُلْتُ: رَسُولُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُسْجَدَ لَهُ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَقُلْتُ: إِنِّي أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ ، فَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ، قَالَ: < أَرَأَيْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِي أَكُنْتَ تَسْجُدُ لَهُ >، قَالَ: قُلْتُ: لا، قَالَ: < فَلا تَفْعَلُوا، لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لأَحَدٍ لأَمَرْتُ النِّسَاءَ أَنْ يَسْجُدْنَ لأَزْوَاجِهِنَّ ؛ لِمَا جَعَلَ اللَّهُ لَهُمْ عَلَيْهِنَّ مِنَ الْحَقِّ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۹۰)، وقد أخرجہ: دي/الصلاۃ ۱۵۹ (۱۵۰۴) (صحیح)
(قبر پر سجدہ کرنے والا جملہ صحیح نہیں ہے)
۲۱۴۰- قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حیرہ آیا، تو دیکھا کہ لوگ اپنے سردار کو سجدہ کر رہے ہیں تو میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ انہیں سجدہ کیا جائے، میں جب آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ سے کہا کہ میں حیرہ شہر آیا تو میں نے وہاں لوگوں کو اپنے سردار کے لئے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو اللہ کے رسول! آپ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''بتاؤ کیا اگر تم میری قبرکے پاس سے گزرو گے، تو اسے بھی سجدہ کرو گے؟''، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم ایسا نہ کرنا، اگر میں کسی کو کسی کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا توعورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں اس وجہ سے کہ شوہروں کا حق اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے''۔

2141- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيّ،ُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ (فَأَبَتْ) فَلَمْ تَأْتِهِ فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا لَعَنَتْهَا الْمَلائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ >۔
* تخريج: خ/بدء الخلق ۷ (۳۲۳۷)، والنکاح ۸۵ (۵۱۹۴)، م/النکاح ۲۰ (۱۴۳۶)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۳۴۰۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۳۹، ۴۸۰)، دي/النکاح ۳۸ (۲۲۷۴) (صحیح)

۲۱۴۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کرے اور اس کے پاس نہ آئے جس کی وجہ سے شوہر رات بھر ناراض رہے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت کرتے رہتے ہیں''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
42- بَاب فِي حَقِّ الْمَرْأَةِ عَلَى زَوْجِهَا
۴۲- باب: شوہر پر بیوی کے حقوق کا بیان​

2142- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو قَزَعَةَ الْبَاهِلِيُّ، عَنْ حَكِيمِ ابْنِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا حَقُّ زَوْجَةِ أَحَدِنَا عَلَيْهِ قَالَ: < أَنْ تُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمْتَ ، وَتَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ -أَوِ اكْتَسَبْتَ- وَلا تَضْرِبِ الْوَجْهَ، وَلا تُقَبِّحْ، وَلا تَهْجُرْ إِلا فِي الْبَيْتِ >.
(قَالَ أَبو دَاود : < وَلا تُقَبِّحْ > أَنْ تَقُولَ : قَبَّحَكِ اللَّهُ)۔
* تخريج: ق/النکاح ۳(۱۸۵۰)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۹۶)، وقد أخرجہ: ن/ الکبری/ عشرۃ النساء (۹۱۷۱)، حم (۴/۴۴۷، ۵/۳) (حسن صحیح)

۲۱۴۲- معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے اوپر ہماری بیوی کا کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ کہ جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب پہنو یا کماؤ تو اسے بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، بُرا بھلا نہ کہو، اور گھر کے علاوہ اس سے جدائی ۱؎ اختیار نہ کرو‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: ’’ولا تُقَبِّحْ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ تم اسے ’’قَبَّحَكَ الله‘‘ نہ کہو۔

وضاحت ۱؎ : یعنی کسی بات پر ناراض ہو تو اسے گھر سے دوسری جگہ نہ بھگاؤ گھر ہی میں رکھو بطور سرزنش صرف بستر الگ کر دو۔

2143- حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! نِسَاؤُنَا مَا نَأْتِي مِنْهُنَّ وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ: < ائْتِ حَرْثَكَ أَنَّى شِئْتَ، وَأَطْعِمْهَا إِذَا طَعِمْتَ، وَاكْسُهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ، وَلا تُقَبِّحِ الْوَجْهَ، وَلا تَضْرِبْ >.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَى شُعْبَةُ < تُطْعِمُهَا إِذَا طَعِمْتَ ، وَتَكْسُوهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۸۵)، وقد أخرجہ: ن/ الکبری/ عشرۃ النساء (۹۱۶۰)، حم ( ۵/۳، ۵) (حسن صحیح)

۲۱۴۳- معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنی عورتوں کے پاس کدھر سے آئیں، اور کدھر سے نہ آئیں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا:’’ اپنی کھیتی ۱؎ میں جدھر سے بھی چاہو آؤ، جب خود کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، اور جب خود پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے چہرہ کی برائی نہ کرو، اور نہ ہی اس کو مارو‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: شعبہ نے ’’أَطْعِمْهَا إِذَا طَعِمْتَ، وَاكْسُهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ‘‘ کے بجائے ’’تُطْعِمُهَا إِذَا طَعِمْتَ، وَتَكْسُوهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ‘‘ روایت کیا ہے۔

وضاحت۱؎: یعنی قُبل (شرمگاہ) میں جس طرف سے بھی چاہو آؤ، نہ کہ دُبُر (پاخانہ کے راستہ) میں کیونکہ دُبُر (حرث) ’’کھیتی‘‘ نہیں ہے۔

2144- أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْمُهَلَّبِيُّ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ رَزِينٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ دَاوُدَ الْوَرَّاقِ، عَنْ سَعِيدِ،عن بهز بْنِ حَكِيمِ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ مُعَاوِيَةَ (الْقُشَيْرِيِّ) قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: فَقُلْتُ: مَا تَقُولُ فِي نِسَائِنَا؟ قَالَ: < أَطْعِمُوهُنَّ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَاكْسُوهُنَّ مِمَّا تَكْتَسُونَ، وَلا تَضْرِبُوهُنَّ، وَلا تُقَبِّحُوهُنَّ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۹۵)، وقد أخرجہ: ن/الکبری/ عشرۃ النساء (۹۱۵۱) (صحیح)

۲۱۴۴- معاویہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اورعرض کیا: ہماری عورتوں کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو تم خود کھاتے ہو وہی ان کو بھی کھلاؤ، اور جیسا تم پہنتے ہو ویسا ہی ان کو بھی پہناؤ، اورنہ انہیں مارو، اور نہ برا کہو‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
43- بَاب فِي ضَرْبِ النِّسَاءِ
۴۳- باب: عورتوں کو سزا میں مارنے کا بیان​

2145- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عَمِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < فَإِنْ خِفْتُمْ نُشُوزَهُنَّ فَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ>، قَالَ حَمَّادٌ: يَعْنِي النِّكَاحَ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۵۵۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۷۲) (حسن)

۲۱۴۵- ابو حرہ رقاشی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اگر تم ان کی نافرمانی سے ڈرو تو انہیں بستروں میں (تنہا) چھوڑ دو''۔ حماد کہتے ہیں: یعنی ان سے صحبت نہ کرو۔

2146- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي خَلَفٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ إِيَاسِ ابْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ >، فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: ذَئِرْنَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ، فَرَخَّصَ فِي ضَرْبِهِنَّ، فَأَطَافَ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : <لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ نِسَائٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ لَيْسَ أُولَئِكَ بِخِيَارِكُمْ >۔
* تخريج: ق/النکاح ۵۱ (۱۹۸۵)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۷۴۶)، وقد أخرجہ: ن/ الکبری/ عشرۃ النساء (۹۱۶۷)، دي/النکاح ۳۴ (۲۶۶۵) (صحیح)

۲۱۴۶- ایاس بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ کی بندیوں کو نہ مارو''، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: (آپ کے اس فرمان کے بعد) عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہو گئی ہیں، چنانچہ آپ ﷺ نے انہیں مارنے اور تادیب کی رخصت دے دی، پھر عورتیں اپنے شوہروں کی شکایتیں لے کر ازواج مطہرات کے پاس پہنچنے لگیں، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''بہت سی عورتیں اپنے شوہروں کی شکایتیں لے کر محمد کے گھر والوں کے پاس پہنچ رہی ہیں، یہ (مار پیٹ کرنے والے) لوگ تم میں بہترین لوگ نہیں ہیں''۔

2147- حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَوْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < لا يُسْأَلُ الرَّجُلُ فِيمَا ضَرَبَ امْرَأَتَهُ >۔
* تخريج: ق/النکاح ۵۱ (۱۹۸۶)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۰۴۰۷)، وقد أخرجہ: ن/ الکبری/ عشرۃ النساء (۹۱۶۷)، حم (۱/۲۰) (ضعیف)
(اس کے راوی ''عبد الرحمن مسلی'' لین الحدیث ہیں)
۲۱۴۷- عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''آدمی سے اپنی بیوی کو مارنے کے تعلق سے پوچھ تاچھ نہ ہو گی''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
44- بَاب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنْ غَضِّ الْبَصَرِ
۴۴- باب: نظرنیچی رکھنے کا حکم​

2148- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ جَرِيرٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنْ نَظْرَةِ الْفَجْأَةِ فَقَالَ: < اصْرِفْ بَصَرَكَ >۔
* تخريج: م/الآداب ۱۰ (۲۱۵۹)، ت/الأدب ۲۸ (۲۷۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۳۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۵۸، ۳۶۱)، دي/الاستئذان ۱۵ (۲۶۸۵) (صحیح)

۲۱۴۸- جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے (اجنبی عورت پر) اچانک نظر پڑ جانے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم اپنی نظر پھیر لو'' ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اگر قصدا شہوت کی نظر سے اسے دیکھے تو گنہ گار ہو گا کیوں کہ اگلی حدیث میں ہے: ''آنکھ کا زنا غیر محرم عورت کا دیکھنا ہے''۔

2149- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ الإِيَادِيِّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِعَلِيٍّ: < يَا عَلِيُّ، لا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ لَكَ الأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الآخِرَةُ >۔
* تخريج: ت/الأدب ۲۸ (۲۷۷۷)، ( تحفۃ الأشراف: ۲۰۰۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۵۹، ۵/۳۵۱، ۳۵۷) (حسن)

۲۱۴۹- بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: علی! (اجنبی عورت پر) نگاہ پڑنے کے بعد دوبارہ نگاہ نہ ڈالو کیونکہ پہلی نظر تو تمہارے لئے جائز ہے، دوسری جائز نہیں۱؎۔
وضاحت۱؎: کیوں کہ پہلی نظر بغیر قصد و اختیار کے پڑی ہے اس لئے اس پر کوئی گناہ نہیں، اور دوسری نظر چونکہ قصدا ہو گی اس لئے اس پر گناہ ہو گا۔

2150- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ لِتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا >۔
* تخريج: خ/النکاح ۱۱۸ (۵۲۴۱)، ت/الأدب ۳۸ (۲۷۹۲)، ( تحفۃ الأشراف: ۹۲۵۲)، وقد أخرجہ: ن/الکبری/ عشرۃ النساء (۹۲۳۱)، حم (۱/۳۸۷، ۴۴۰، ۴۴۳، ۴۶۲، ۴۶۴) (صحیح)

۲۱۵۰- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''عورت عورت سے بدن نہ چپکائے وہ اپنے شوہر سے اس کے بارے میں اس طرح بیان کرے گویا اس کا شوہر اسے دیکھ رہا ہے''۔

2151- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ رَأَى امْرَأَةً فَدَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ لَهُمْ: < إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ (شَيْئًا) فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ فَإِنَّهُ يُضْمِرُ مَا فِي نَفْسِهِ >۔
* تخريج: م/النکاح ۲ (۱۴۰۳)، ت/الرضاع ۹ (۱۱۵۸)، ( تحفۃ الأشراف: ۲۹۷۵)، وقد أخرجہ: ن/ الکبری/ عشرۃ النساء (۹۱۲۱)، حم (۳/۳۳۰) (صحیح)

۲۱۵۱- جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت کو دیکھا تو (اپنی بیوی) زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے اپنی ضرورت پوری کی، پھر صحابہ کرام کے پاس گئے اور ان سے عرض کیا: ''عورت شیطان کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۱؎، تو جس کے ساتھ اس طرح کا واقعہ پیش آئے وہ اپنی بیوی کے پاس آجائے، کیونکہ یہ اس کے دل میں آنے والے احساسات کو ختم کر دے گا''۔
وضاحت۱؎: عورت کو شیطان کی شکل میں اس وجہ سے فرمایا کہ جیسے شیطان آدمی کو بہکاتا ہے ویسے بے پردہ عورت بھی بہکاتی ہے۔

2152- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ : < إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا، أَدْرَكَ ذَلِكَ لا مَحَالَةَ، فَزِنَا الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ، وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ، وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ وَيُكَذِّبُهُ >۔
* تخريج: خ/الاستئذان ۱۲ (۴۲۴۳)، والقدر ۹ (۲۶۱۲)، م/القدر ۵ (۲۶۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۵۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۷۶) (صحیح)

۲۱۵۲- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے (قرآن میں وارد لفظ) {لمم} (چھوٹے گناہ) کے مشابہ ان اعمال سے زیادہ کسی چیز کو نہیں پایا جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث میں مذکور ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی نے زنا کا جتنا حصہ ہر شخص کے لئے لکھ دیا ہے وہ اسے لازمی طور پر پا کر رہے گا، چنانچہ آنکھوں کا زنا (غیر محرم کو بنظر شہوت) دیکھنا ہے زبان کا زنا (غیر محرم سے شہوت کی) بات کرنی ہے، (انسان کا) نفس آرزو اور خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے''۔

2153- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < لِكُلِّ ابْنِ آدَمَ حَظُّهُ مِنَ الزِّنَا > بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: < وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ فَزِنَاهُمَا الْبَطْشُ، وَالرِّجْلانِ تَزْنِيَانِ فَزِنَاهُمَا الْمَشْيُ، وَالْفَمُ يَزْنِي فَزِنَاهُ الْقُبَلُ > ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۲۶۲۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۴۳، ۵۳۶) (حسن)

۲۱۵۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''ہر انسان کے لئے زنا کا حصہ متعین ہے، ہاتھ زنا کرتے ہیں، ان کا زنا پکڑنا ہے، پیر زنا کرتے ہیں ان کا زنا چلنا ہے، اور منہ زنا کرتا ہے اس کا زنا بوسہ لینا ہے'' ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: چوں کہ یہ امور زنا کے ذرائع ہیں، اس لئے تشدیداً انہیں بھی زنا سے تعبیر کیا گیا ہے، گو ان کا گناہ زنا کے گناہ کے برابر نہیں۔

2154- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ (بْنُ سَعِيدٍ) حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ ابْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: < وَالأُذُنُ زِنَاهَا الاسْتِمَاعُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۲۸۶۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۷۹) (حسن صحیح)

۲۱۵۴- اس سند سے بھی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے یہ قصہ روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ''اور کانو ں کا زنا سننا ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
45- بَاب فِي وَطْئِ السَّبَايَا
۴۵- باب: قیدی لونڈیوں سے جماع کرنے کا بیان​

2155- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بَعَثَ يَوْمَ حُنَيْنٍ بَعْثًا إِلَى أَوْطَاسَ، فَلَقُوا عَدُوَّهُمْ، فَقَاتَلُوهُمْ، فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ وَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا، فَكَأَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي ذَلِكَ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} أَيْ: فَهُنَّ لَهُمْ حَلالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ۔
* تخريج: م/الرضاع ۹ (۱۴۵۶)، ت/ النکاح ۳۶ (۱۱۳۲)، تفسیر سورۃ النساء (۳۰۱۶)، ن/النکاح ۵۹ (۳۳۳۵)، ( تحفۃ الأشراف: ۴۴۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۳/۷۲، ۸۴)، دي/الطلاق ۱۷ (۲۳۴۰) (صحیح)

۲۱۵۵- ابو سعید خد ری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ حنین کے دن مقام اوطاس کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تو وہ لشکر اپنے دشمنوں سے ملے، ان سے جنگ کی، اور جنگ میں ان پر غالب رہے، اور انہیں قیدی عورتیں ہاتھ لگیں، تو ان کے شوہروں کے مشرک ہونے کی وجہ سے بعض صحابہ کرام نے ان سے جماع کرنے میں حرج جانا، تو اللہ تعالی نے اس سلسلہ میں یہ آیت نازل فرمائی: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} ۱؎ تو وہ ان کے لئے حلال ہیں جب ان کی عدت ختم ہو جائے۔
وضاحت۱؎: ''اور (حرام کی گئیں) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آجائیں'' (سورۃ النساء:۲۴)

2156- حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ فِي غَزْوَةٍ فَرَأَى امْرَأَةً مُجِحًّا فَقَالَ: < لَعَلَّ صَاحِبَهَا أَلَمَّ بِهَا >، قَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ: < لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ، كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لا يَحِلُّ لَهُ؟ وَكَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لا يَحِلُّ لَهُ؟ >۔
* تخريج: م/النکاح ۲۳ (۱۴۴۱)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۹۵، ۶/۴۴۶)، دي/السیر ۳۸ (۲۵۲۱) (صحیح)

۲۱۵۶- ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کسی غزوہ میں تھے کہ آپ کی نظر ایک حاملہ عورت پر پڑی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس کے مالک نے شاید اس سے جماع کیا ہے''، لوگوں نے کہا: ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں کہ وہ اس کی قبر میں اس کے ساتھ داخل ہو جائے، بھلا کیونکر وہ اپنے لڑکے کو اپنا وارث بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لئے حلال نہیں، وہ کیسے اس سے خدمت لے گا حالانکہ وہ اس کے لئے حلال نہیں''۔

2157- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَرَفَعَهُ أَنَّهُ قَالَ فِي سَبَايَا أَوْطَاسَ: < لا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ، وَلا غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً >۔
* تخريج:تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۳۹۹۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۸، ۶۲، ۸۷) (صحیح)

۲۱۵۷- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ اوطاس کی قیدی عورتوں کے متعلق فرمایا: ''کسی بھی حاملہ سے وضع حمل سے قبل جماع نہ کیا جائے اسی طرح کسی بھی غیر حاملہ سے جماع نہ کیا جائے، یہاں تک کہ اسے ایک حیض آجائے''۔

2158- حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَامَ فِينَا خَطِيبًا، قَالَ: أَمَا إِنِّي لا أَقُولُ لَكُمْ إِلا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ يَوْمَ حُنَيْنٍ، قَالَ: < لا يَحِلُّ لامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَائَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ -يَعْنِي إِتْيَانَ الْحَبَالَى- وَلا يَحِلُّ لامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَقَعَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ السَّبْيِ حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا، وَلا يَحِلُّ لامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَبِيعَ مَغْنَمًا حَتَّى يُقْسَمَ >۔
* تخريج: ت/النکاح ۳۴ (۱۱۳۱)، ( تحفۃ الأشراف: ۳۶۱۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۰۸، دي/السیر ۳۷ (۲۵۲۰)، ویأتی ہذا الحدیث فی الجہاد (حسن)

۲۱۵۸- حنش صنعانی کہتے ہیں کہ رویفع بن ثابت انصاری ہم میں بحیثیت خطیب کھڑے ہوئے اور کہا: سنو! میں تم سے وہی کہوں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ جنگ حنین کے دن فرما رہے تھے: ''اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے والے کسی بھی شخص کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے سوا کسی اور کی کھیتی کو سیراب کرے''، (آپ ﷺ کا مطلب حاملہ لونڈی سے جماع کرنا تھا) اور اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے والے شخص کے لئے حلال نہیں کہ وہ کسی قیدی لونڈی سے جماع کرے یہاں تک کہ وہ استبراء رحم کر لے، (یعنی یہ جان لے کہ یہ عورت حاملہ نہیں ہے) اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے شخص کے لئے حلال نہیں کہ مال غنیمت کے سامان کو بیچے یہاں تک کہ وہ تقسیم کردیا جائے۔

2159- حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: < حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا بِحَيْضَةٍ > زَادَ (فِيهِ: < بِحَيْضَةٍ > وَهُوَ وَهْمٌ مِنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَهُوَ صَحِيحٌ فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ، زَادَ) < وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلا يَرْكَبْ دَابَّةً مِنْ فَيْئِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِيهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلا يَلْبَسْ ثَوْبًا مِنْ فَيْئِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ فِيهِ>.
قَالَ أَبو دَاود: الْحَيْضَةُ لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ (وَهُوَ وَهْمٌ مِنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ)۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۳۶۱۵) (حسن)

۲۱۵۹- اس سند سے بھی ابن اسحاق سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: ''یہاں تک کہ وہ ایک حیض کے ذریعہ استبراء رحم کر لے''، اس میں ''بحيضة'' کا اضافہ ہے، اور یہ ابو معاویہ کا وہم ہے اور یہ ابو سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں صحیح ہے، اور اِس روایت میں یہ بھی اضافہ ہے: ''اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے مال فئی کے جانور پر سواری نہ کرے کہ اسے دبلا کر کے واپس دے''، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے مال فیٔ کا کپڑا نہ پہنے کہ پرانا کر کے لوٹا دے۔
ابو داود کہتے ہیں کہ حیض کا لفظ محفوظ نہیں ہے یہ ابو معاویہ کا وہم ہے۔
 
Top