- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
44- بَاب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنْ غَضِّ الْبَصَرِ
۴۴-باب: نظرنیچی رکھنے کا حکم
2148- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ جَرِيرٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنْ نَظْرَةِ الْفَجْأَةِ فَقَالَ: < اصْرِفْ بَصَرَكَ >۔
* تخريج: م/الآداب ۱۰ (۲۱۵۹)، ت/الأدب ۲۸ (۲۷۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۳۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۵۸، ۳۶۱)، دي/الاستئذان ۱۵ (۲۶۸۵) (صحیح)
۲۱۴۸- جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے (اجنبی عورت پر) اچانک نظر پڑ جانے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم اپنی نظر پھیر لو'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اگر قصدا شہوت کی نظر سے اسے دیکھے تو گنہ گار ہوگا کیوں کہ اگلی حدیث میں ہے: '' آنکھ کا زنا غیر محرم عورت کا دیکھنا ہے''۔
2149- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ الإِيَادِيِّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِعَلِيٍّ: < يَا عَلِيُّ، لا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ لَكَ الأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الآخِرَةُ >۔
* تخريج: ت/الأدب ۲۸ (۲۷۷۷)، ( تحفۃ الأشراف: ۲۰۰۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۵۹، ۵/۳۵۱، ۳۵۷) (حسن)
۲۱۴۹- بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: علی!( اجنبی عورت پر) نگا ہ پڑنے کے بعد دو بارہ نگاہ نہ ڈالو کیونکہ پہلی نظر تو تمہارے لئے جائز ہے، دوسری جائز نہیں ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : کیوں کہ پہلی نظر بغیر قصد واختیار کے پڑی ہے اس لئے اس پر کوئی گناہ نہیں، اور دوسری نظر چونکہ قصدا ہوگی اس لئے اس پر گناہ ہوگا۔
2150- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ لِتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا >۔
* تخريج: خ/النکاح ۱۱۸ (۵۲۴۱)، ت/الأدب ۳۸ (۲۷۹۲)، ( تحفۃ الأشراف: ۹۲۵۲)، وقد أخرجہ: ن/الکبری/ عشرۃ النساء (۹۲۳۱)، حم (۱/۳۸۷، ۴۴۰، ۴۴۳، ۴۶۲، ۴۶۴) (صحیح)
۲۱۵۰- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''عورت عورت سے بدن نہ چپکائے وہ اپنے شوہر سے اس کے بارے میں اس طرح بیان کرے گویا اس کا شوہر اسے دیکھ رہا ہے''۔
2151- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ رَأَى امْرَأَةً فَدَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ لَهُمْ: < إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ (شَيْئًا) فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ فَإِنَّهُ يُضْمِرُ مَا فِي نَفْسِهِ >۔
* تخريج: م/النکاح ۲ (۱۴۰۳)، ت/الرضاع ۹ (۱۱۵۸)، ( تحفۃ الأشراف: ۲۹۷۵)، وقد أخرجہ: ن/ الکبری/ عشرۃ النساء (۹۱۲۱)، حم (۳/۳۳۰) (صحیح)
۲۱۵۱- جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت کو دیکھا تو ( اپنی بیوی) زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے اپنی ضرورت پو ری کی، پھر صحابہ کرام کے پاس گئے اور ان سے عرض کیا: ''عورت شیطان کی شکل میں نمودار ہوتی ہے ۱؎ ، تو جس کے ساتھ اس طرح کا واقعہ پیش آئے وہ اپنی بیوی کے پاس آجائے ، کیونکہ یہ اس کے دل میں آنے والے احساسات کو ختم کر دے گا''۔
وضاحت ۱؎ : عورت کو شیطان کی شکل میں اس وجہ سے فرمایا کہ جیسے شیطان آدمی کو بہکاتا ہے ویسے بے پردہ عورت بھی بہکاتی ہے۔
2152- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ : < إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا، أَدْرَكَ ذَلِكَ لا مَحَالَةَ، فَزِنَا الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ، وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ، وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ وَيُكَذِّبُهُ >۔
* تخريج: خ/الاستئذان ۱۲ (۴۲۴۳)، والقدر ۹ (۲۶۱۲)، م/القدر ۵ (۲۶۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۵۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۷۶) (صحیح)
۲۱۵۲- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے (قرآن میں وارد لفظ) {لمم} ( چھو ٹے گناہ ) کے مشابہ ان اعمال سے زیادہ کسی چیز کو نہیں پایا جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث میں مذکور ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : ''اللہ تعالی نے زنا کا جتنا حصہ ہر شخص کے لئے لکھ دیا ہے وہ اسے لازمی طور پر پا کر رہے گا، چنانچہ آنکھوں کا زنا (غیر محرم کو بنظر شہوت) دیکھنا ہے زبان کا زنا (غیر محرم سے شہوت کی) بات کرنی ہے، (انسان کا) نفس آرزو اور خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے''۔
2153- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < لِكُلِّ ابْنِ آدَمَ حَظُّهُ مِنَ الزِّنَا > بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: < وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ فَزِنَاهُمَا الْبَطْشُ، وَالرِّجْلانِ تَزْنِيَانِ فَزِنَاهُمَا الْمَشْيُ، وَالْفَمُ يَزْنِي فَزِنَاهُ الْقُبَلُ > ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۲۶۲۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۴۳، ۵۳۶) (حسن)
۲۱۵۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''ہر انسان کے لئے زنا کا حصہ متعین ہے، ہاتھ زنا کرتے ہیں، ان کا زنا پکڑنا ہے، پیر زنا کرتے ہیں ان کا زنا چلنا ہے، اور منہ زنا کرتا ہے اس کا زنا بوسہ لینا ہے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : چوں کہ یہ امور زنا کے ذرائع ہیں، اس لئے تشدیداً انہیں بھی زنا سے تعبیر کیا گیا ہے، گو ان کا گناہ زنا کے گناہ کے برابر نہیں۔
2154- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ (بْنُ سَعِيدٍ) حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ ابْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: < وَالأُذُنُ زِنَاهَا الاسْتِمَاعُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۲۸۶۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۷۹) (حسن صحیح)
۲۱۵۴- اس سند سے بھی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے یہ قصہ روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ''اور کانو ں کا زنا سننا ہے''۔