- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
45- بَاب فِي وَطْئِ السَّبَايَا
۴۵-باب: قیدی لونڈیوں سے جماع کرنے کا بیان
2155- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بَعَثَ يَوْمَ حُنَيْنٍ بَعْثًا إِلَى أَوْطَاسَ، فَلَقُوا عَدُوَّهُمْ، فَقَاتَلُوهُمْ، فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ وَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا، فَكَأَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي ذَلِكَ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} أَيْ: فَهُنَّ لَهُمْ حَلالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ۔
* تخريج: م/الرضاع ۹ (۱۴۵۶)، ت/ النکاح ۳۶ (۱۱۳۲)، تفسیر سورۃ النساء (۳۰۱۶)، ن/النکاح ۵۹ (۳۳۳۵)، ( تحفۃ الأشراف: ۴۴۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۳/۷۲، ۸۴)، دي/الطلاق ۱۷ (۲۳۴۰) (صحیح)
۲۱۵۵- ابو سعید خد ری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ حنین کے دن مقام اوطاس کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تو وہ لشکر اپنے دشمنوں سے ملے، ان سے جنگ کی، اور جنگ میں ان پر غالب رہے، اور انہیں قیدی عورتیں ہاتھ لگیں، تو ان کے شوہروں کے مشرک ہونے کی وجہ سے بعض صحابہ کرام نے ان سے جماع کرنے میں حرج جانا، تو اللہ تعالی نے اس سلسلہ میں یہ آیت نازل فرمائی: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} ۱؎ تو وہ ان کے لئے حلال ہیں جب ان کی عدت ختم ہو جائے۔
وضاحت ۱؎ : ''اور (حرام کی گئیں) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آجائیں'' (سورۃ النساء:۲۴)
2156- حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ فِي غَزْوَةٍ فَرَأَى امْرَأَةً مُجِحًّا فَقَالَ: < لَعَلَّ صَاحِبَهَا أَلَمَّ بِهَا >، قَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ: < لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ، كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لا يَحِلُّ لَهُ؟ وَكَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لا يَحِلُّ لَهُ؟ >۔
* تخريج: م/النکاح ۲۳ (۱۴۴۱)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۹۵، ۶/۴۴۶)، دي/السیر ۳۸ (۲۵۲۱) (صحیح)
۲۱۵۶- ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کسی غزوہ میں تھے کہ آپ کی نظر ایک حاملہ عورت پر پڑی تو آپ ﷺ نے فرمایا: '' اس کے مالک نے شاید اس سے جماع کیا ہے''، لوگوں نے کہا:ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: '' میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں کہ وہ اس کی قبر میں اس کے ساتھ داخل ہو جائے، بھلا کیونکر وہ اپنے لڑکے کو اپنا وارث بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لئے حلا ل نہیں ، وہ کیسے اس سے خدمت لے گا حا لانکہ وہ اس کے لئے حلا ل نہیں''۔
2157- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَرَفَعَهُ أَنَّهُ قَالَ فِي سَبَايَا أَوْطَاسَ: < لا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ، وَلا غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً >۔
* تخريج:تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۳۹۹۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۸، ۶۲، ۸۷) (صحیح)
۲۱۵۷- ابو سعید خد ری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ اوطاس کی قیدی عورتوں کے متعلق فرمایا: ''کسی بھی حاملہ سے وضع حمل سے قبل جماع نہ کیا جائے اسی طرح کسی بھی غیر حاملہ سے جماع نہ کیا جائے، یہاں تک کہ اسے ایک حیض آجائے''۔
2158- حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَامَ فِينَا خَطِيبًا، قَالَ: أَمَا إِنِّي لا أَقُولُ لَكُمْ إِلا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ يَوْمَ حُنَيْنٍ، قَالَ: < لا يَحِلُّ لامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَائَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ -يَعْنِي إِتْيَانَ الْحَبَالَى- وَلا يَحِلُّ لامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَقَعَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ السَّبْيِ حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا، وَلا يَحِلُّ لامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَبِيعَ مَغْنَمًا حَتَّى يُقْسَمَ >۔
* تخريج: ت/النکاح ۳۴ (۱۱۳۱)، ( تحفۃ الأشراف: ۳۶۱۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۰۸، دي/السیر ۳۷ (۲۵۲۰)، ویأتی ہذا الحدیث فی الجہاد (حسن)
۲۱۵۸- حنش صنعانی کہتے ہیں کہ رویفع بن ثابت انصاری ہم میں بحیثیت خطیب کھڑے ہوئے اور کہا: سنو! میں تم سے وہی کہوں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ جنگ حنین کے دن فرما رہے تھے: ''اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے والے کسی بھی شخص کے لئے حلا ل نہیں کہ وہ اپنے سوا کسی اور کی کھیتی کو سیراب کرے''، ( آپ ﷺ کا مطلب حاملہ لونڈی سے جماع کرنا تھا ) اور اللہ اور آخرت کے دن پرا یمان لانے والے شخص کے لئے حلال نہیں کہ وہ کسی قیدی لونڈی سے جماع کرے یہاں تک کہ وہ استبراء رحم کر لے،(یعنی یہ جان لے کہ یہ عورت حاملہ نہیں ہے) اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے شخص کے لئے حلا ل نہیں کہ مال غنیمت کے سامان کو بیچے یہاں تک کہ وہ تقسیم کردیا جائے۔
2159- حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: < حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا بِحَيْضَةٍ > زَادَ (فِيهِ: < بِحَيْضَةٍ > وَهُوَ وَهْمٌ مِنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَهُوَ صَحِيحٌ فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ، زَادَ) < وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلا يَرْكَبْ دَابَّةً مِنْ فَيْئِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِيهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلا يَلْبَسْ ثَوْبًا مِنْ فَيْئِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ فِيهِ>.
قَالَ أَبو دَاود: الْحَيْضَةُ لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ (وَهُوَ وَهْمٌ مِنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ)۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۳۶۱۵) (حسن)
۲۱۵۹- اس سند سے بھی ابن اسحاق سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے:'' یہاں تک کہ وہ ایک حیض کے ذریعہ استبراء رحم کرلے''، اس میں''بحيضة'' کا اضافہ ہے، اور یہ ابو معاویہ کا وہم ہے اور یہ ابوسعید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں صحیح ہے، اور اِس روایت میں یہ بھی اضافہ ہے :''اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے مال فئی کے جانور پر سواری نہ کرے کہ اسے دبلا کر کے واپس دے''، اور جواللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے مال فیٔ کا کپڑا نہ پہنے کہ پرانا کر کے لوٹا دے۔
ابوداود کہتے ہیں کہ حیض کا لفظ محفوظ نہیں ہے یہ ابو معاویہ کا وہم ہے۔