29- [بَاب] فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
۲۹-باب: صیام کی حالت میں سینگی( پچھنا) لگوانے کی اجازت کا بیان
2372- حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ.
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ وُهَيْبُ ابْنُ خَالِدٍ عَنْ أَيُّوبَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، وَجَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ وَهِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ۔
* تخريج: خ/الصوم ۳۲ (۱۹۳۸)، الطب ۱۲ (۵۶۹۴)، ت/الصوم ۶۱ (۷۷۵)، (تحفۃ الأشراف: ۵۹۸۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۵۱) (صحیح)
۲۳۷۲- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگی (پچھنا) لگوایا اور آپ صیام سے تھے۔
ابوداود کہتے ہیں:اسے وہیب بن خالد نے ایوب سے اسی سند سے اسی کے مثل روایت کیا ہے، اور جعفر بن ربیعہ اور ہشام بن حسان نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
2373- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ۔
* تخريج: ت/الصیام ۶۱ (۷۷۷)، ق/الصیام ۱۸ (۱۶۸۲)، (تحفۃ الأشراف: ۶۴۹۵)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۱۵، ۲۲۲، ۲۸۶) (ضعیف)
(اس کے راوی ''یزید'' ضعیف ہیں)
۲۳۷۳- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگی( پچھنا) لگوایا، آپ صیام سے تھے اور احرام باندھے ہوئے تھے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : حالتِ احرام میں آپ ﷺ صیام سے ہوں ، یہ بات بعید از قیاس ہے ، یہی یزید بن ابی زیاد کے ضعیف ہونے کی دلیل ہے ، ہاں کبھی صیام کی حالت میں، اور کبھی احرام کی حالت میں بچھنا لگوانا آپ ﷺ سے ثابت ہے ، صحیح بخاری کے الفاظ ہیں
''احتجم وهو صائم، واحتجم وهو محرم'' (آپ ﷺ نے سینگی( پچھنا) لگوائی جبکہ آپ صیام تھے ، آپ ﷺ نے سینگی لگوائی جبکہ آپ محرم تھے)
2374- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ ابْنِ عَابِسٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى عَنِ الْحِجَامَةِ وَالْمُوَاصَلَةِ، وَلَمْ يُحَرِّمْهُمَا إِبْقَائً عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّكَ تُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ، فَقَالَ: < إِنِّي أُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ، وَرَبِّي يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۶۲۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۱۴، ۳۱۵، ۵/۳۶۳، ۳۶۴) (صحیح)
۲۳۷۴- عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے بیان کیا کہ رسول ﷺ نے( حالت صیام میں) سینگی لگوانے اور مسلسل صیام رکھنے سے منع فرمایا، لیکن اپنے اصحاب کی رعایت کرتے ہوئے اسے حرام قرار نہیں دیا، آپ سے کہا گیا:اللہ کے رسول! آپ تو بغیر کھائے پیئے سحر تک صیام رکھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''میں سحرتک صیام کو جاری رکھتا ہوں اور مجھے میرا رب کھلاتا پلاتا ہے''۔
2375- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ -يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ- عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: مَا كُنَّا نَدَعُ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ إِلا كَرَاهِيَةَ الْجَهْدِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۴۲۶)، وقد أخرجہ: خ/الصوم ۳۲ (۱۹۴۰) (صحیح)
۲۳۷۵- ثابت کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم صائم کو صرف مشقت کے پیش نظر سینگی(پچھنا) نہیں لگانے دیتے تھے۔