- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
43- بَاب اخْتِيَارِ الْفِطْرِ
۴۳-باب: سفر میں صیام نہ رکھنا بہتر ہے اس کے قائلین کی دلیل
2407- حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ- عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ رَأَى رَجُلا يُظَلَّلُ عَلَيْهِ وَالزِّحَامُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: < لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ >۔
* تخريج: خ/الصوم ۳۶ (۱۹۴۶)، م/الصیام ۱۵ (۱۱۱۵)، ن/الصیام ۲۷ (۲۲۶۴)، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۴۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۹۹، ۳۱۷، ۳۱۹، ۳۵۲، ۳۹۹) (صحیح)
۲۴۰۷- جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جس پر سایہ کیا جار رہا تھا اور اس پر بھیڑ لگی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا:'' سفر میں صیام رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں ''۔
2408- حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلالٍ الرَّاسِبِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيُّ، عَنْ أَنَسِ ابْنِ مَالِكٍ -رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِاللَّهِ بْنِ كَعْبٍ إِخْوَةِ بَنِي قُشَيْرٍ- قَالَ: أَغَارَتْ عَلَيْنَا خَيْلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَانْتَهَيْتُ، أَوْ قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ يَأْكُلُ، فَقَالَ: < اجْلِسْ فَأَصِبْ مِنْ طَعَامِنَا هَذَا > فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: <اجْلِسْ أُحَدِّثْكَ عَنِ الصَّلاةِ وَعَنِ الصِّيَامِ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى وَضَعَ شَطْرَ الصَّلاةِ، أَوْ نِصْفَ الصَّلاةِ، وَالصَّوْمَ: عَنِ الْمُسَافِرِ، وَعَنِ الْمُرْضِعِ، أَوِالْحُبْلَى >، وَاللَّهِ لَقَدْ قَالَهُمَا جَمِيعًا أَوْ أَحَدَهُمَا، قَالَ: فَتَلَهَّفَتْ نَفْسِي أَنْ لا أَكُونَ أَكَلْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ۔
* تخريج: ت/الصوم ۲۱ (۷۱۵)، ن/الصیام ۲۸ (۲۲۷۶)، ق/الصیام ۱۲ (۱۶۶۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۳۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۴۷، ۵/۲۹) (حسن صحیح)
۲۴۰۸- انس بن مالک ۱؎ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے( جو بنی قشیر کے برادران بنی عبداللہ بن کعب کے ایک فرد ہیں) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے گھوڑ سوار دستے نے ہم پر حملہ کیا، میں اللہ کے رسول ﷺ کے پاس پہنچا، یا یوں کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف چلا، آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا:'' بیٹھو، اور ہمارے کھانے میں سے کچھ کھاؤ''، میں نے کہا : میں صیام سے ہوں ،آپ ﷺ نے فرمایا:''اچھا بیٹھو، میں تمہیں صوم وصلاۃ کے بارے میں بتاتا ہوں: اللہ نے ( سفر میں) صلاۃ آدھی کردی ہے، اور مسافر، دودھ پلانے والی، اور حاملہ عورت کو صیام رکھنے کی رخصت دی ہے'' ،قسم اللہ کی! آپ ﷺ نے دونوں کا ذکر کیا یا ان دونوں میں سے کسی ایک کا ، مجھے رسول اللہ ﷺ کے کھانے میں سے نہ کھا پانے کا افسوس رہا ۔
وضاحت ۱؎ : یہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے خادم خاص کے علاوہ ہیں۔