• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
170- بَاب رَدِّ السَّلامِ فِي الصَّلاةِ
۱۷۰- باب: صلاۃ میں سلام کا جواب دینا​


923- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَهُوَ فِي الصَّلاةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا، وَقَالَ: < إِنَّ فِي الصَّلاةِ لَشُغْلا >۔
* تخريج: خ/العمل في الصلاۃ ۳ (۱۲۰۱)، ۱۵ (۱۲۱۶)، مناقب الأنصار ۳۷ (۳۸۷۵)، م/المساجد ۷ (۵۳۸)، ن الکبری / السھو ۹۹ (۵۴۰)، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۱۸)، وقد أخرجہ: ق/إقامۃ الصلاۃ ۵۹ (۱۰۱۹)، حم (۱/ ۱۷۶، ۱۷۷، ۴۰۹، ۴۱۵، ۴۳۵، ۴۶۲) (صحیح)

۹۲۳- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے اس حال میں کہ آپ صلاۃ میں ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سلام کا جواب دیتے تھے، لیکن جب ہم نجاشی (بادشاہ حبشہ) کے پاس سے لوٹ کر آئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا اور فرمایا: ’’صلاۃ (خود) ایک شغل ہے‘‘۔

924- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ فِي الصَّلاةِ وَنَأْمُرُ بِحَاجَتِنَا، فَقَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلامَ فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم الصَّلاةَ قَالَ: < إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ، وَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ قَدْ أَحْدَثَ [مِنْ أَمْرِهِ] أَنْ لا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلاةِ > فَرَدَّ عَلَيَّ السَّلامَ۔
* تخريج: ن / الکبری/ السہو ۱۱۳ (۵۵۹)، (تحفۃ الأشراف: ۹۲۷۲)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۷۷)، ۴۳۵، ۴۶۳) (حسن صحیح)

۹۲۴- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (پہلے) ہم صلاۃ میں سلام کیا کرتے تھے اور کام کاج کی باتیں کر لیتے تھے، تو (ایک بار) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلاۃ پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا تو مجھے پرانی اور نئی باتوں کی فکر دامن گیر ہو گئی۱؎، جب آپ صلاۃ پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالی جو چاہتا ہے، نیا حکم نازل کرتا ہے، اب اس نے نیا حکم یہ دیا ہے کہ صلاۃ میں باتیں نہ کرو‘‘، پھر آپ نے میرے سلام کا جواب دیا۔
وضاحت۱؎: یعنی میں سوچنے لگا کہ مجھ سے کوئی ایسی حرکت سرزد تو نہیں ہوئی ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے ہوں۔

925- حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ نَابِلٍ صَاحِبِ الْعَبَاءِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ صُهَيْبٍ أَنَّهُ قَالَ: مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَهُوَ يُصَلِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ إِشَارَةً، قَالَ: وَلا أَعْلَمُهُ إِلا قَالَ: إِشَارَةً بِأُصْبُعِهِ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۵۹ (۳۶۷)، ن/السھو ۶ (۱۱۸۷)، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۶۶)، وقد أخرجہ: ق/إقامۃ الصلاۃ ۵۹ (۱۰۱۹)، حم (۴/۳۳۲)، دي/الصلاۃ ۹۴ (۱۴۰۱) (صحیح)

۹۲۵- صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اس حال میں آپ صلاۃ پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اشارہ سے سلام کا جواب دیا۔
نابل کہتے ہیں: مجھے یہی معلوم ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ’’إِشَارَةً بِأُصْبُعِهِ‘‘ کا لفظ کہا ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کے اشارہ سے سلام کا جواب دیا، یہ قتیبہ کی روایت کے الفاظ ہیں۔

926- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَرْسَلَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِلَى بَنِى الْمُصْطَلَقِ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ، فَكَلَّمْتُهُ فَقَالَ لِي بِيَدِهِ هَكَذَا: ثُمَّ كَلَّمْتُهُ فَقَالَ لِي بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ وَيُومِئُ بِرَأْسِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: < مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ إِلا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي >۔
* تخريج: م/المساجد ۷ (۵۴۷)، (تحفۃ الأشراف: ۲۷۱۸)، وقد أخرجہ: ن/السھو ۶ (۱۱۹۰)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۵۹ (۱۰۱۸)، حم (۳/۳۱۲، ۳۳۴، ۳۳۸، ۳۸۰، ۲۹۶)، ویأتي برقم : (۱۲۲۷)(صحیح)

۹۲۶- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بنی مصطلق کے پاس بھیجا، میں (وہاں سے) لوٹ کر آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر صلاۃ پڑھ رہے تھے، میں نے آپ سے بات کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہاتھ سے اس طرح سے اشارہ کیا، میں نے پھر آپ سے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا یعنی خاموش رہنے کا حکم دیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرأت کرتے سن رہا تھا اور آپ اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ سے فارغ ہوئے تو پوچھا: ’’میں نیتم کو جس کام کے لئے بھیجا تھا اس سلسلے میں تم نے کیا کیا؟، میں نے تم سے بات اس لئے نہیں کی کہ میں صلاۃ پڑھ رہا تھا‘‘۔

927- حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْخُرَاسَانِيُّ الدَّامِغَانِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِلَى قُبَاءَ يُصَلِّي فِيهِ، قَالَ: فَجَائَتْهُ الأَنْصَارُ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي، قَالَ: فَقُلْتُ لِبِلالٍ: كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَرُدُّ عَلَيْهِمْ حِينَ كَانُوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي؟ قَالَ: يَقُولُ هَكَذَا، وَبَسَطَ كَفَّهُ، وَبَسَطَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ كَفَّهُ، وَجَعَلَ بَطْنَهُ أَسْفَلَ وَجَعَلَ ظَهْرَهُ إِلَى فَوْقٍ۔
* تخريج: ت/ الصلاۃ ۱۵۵ (۳۶۸)، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۳۸، ۸۵۱۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۲) (حسن صحیح)

۹۲۷- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ پڑھنے کے لئے قبا گئے، تو آپ کے پاس انصار آئے اور انہوں نے حالت صلاۃ میں آپ کو سلام کیا، وہ کہتے ہیں: تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: جب انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت صلاۃ میں سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح جواب دیتے ہوئے دیکھا؟ بلال رضی اللہ عنہ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کر رہے تھے، اور بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی ہتھیلی کو پھیلائے ہوئے تھے، جعفر بن عون نے اپنی ہتھیلی پھیلا کر اس کو نیچے اور اس کی پشت کو اوپر کر کے بتایا۔

928- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < لا غِرَارَ فِي صَلاةٍ وَلاتَسْلِيمٍ >، قَالَ أَحْمَدُ: يَعْنِي -فِيمَا أَرَى- أَنْ لا تُسَلِّمَ وَلا يُسَلَّمَ، عَلَيْكَ وَيُغَرِّرُ الرَّجُلُ بِصَلاتِهِ فَيَنْصَرِفُ وَهُوَ فِيهَا شَاكٌّ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۴۰۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۶۱)(صحیح)

۹۲۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "صلاۃ میں نقصان اور کمی نہیں ہے اور نہ سلام میں ہے۱؎ ‘‘ ، احمد کہتے ہیں: جہاں تک میں سمجھتا ہوں مطلب یہ ہے کہ (صلاۃ میں) نہ تو تم کسی کو سلام کرو اور نہ تمہیں کوئی سلام کرے اور صلاۃ میں نقصان یہ ہے کہ آدمی صلاۃ سے اس حال میں پلٹے کہ وہ اس میں شک کرنے والا ہو۔
وضاحت۱؎: سلام میں نقص نہیں ہے کا مطلب یہ ہے کہ تم سلام کا مکمل جواب دو اس میں کوئی کمی نہ کرو یعنی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کے جواب میں صرف وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ہی پر اکتفا نہ کرو بلکہ ’’وبرکاتہ‘‘ بھی کہو، ایسے ہی السلام علیکم ورحمۃ اللہ کے جواب میں صرف وعلیکم السلام ہی نہ کہو بلکہ ورحمۃ اللہ بھی کہو، اور صلاۃ میں نقص کا ایک مطلب یہ ہے کہ رکوع اور سجدے پورے طور سے ادا نہ کئے جائیں، دوسرا مطلب یہ ہے کہ صلاۃ میں اگر شک ہو جائے کہ تین رکعت ہوئی یا چار تو تین کو جو یقین ہے چھوڑ کر چار کو اختیار نہ کیا جائے۔

929- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أُرَاهُ رَفَعَهُ، قَالَ: < لا غِرَارَ فِي تَسْلِيمٍ وَلاصَلاةٍ >.
قَالَ أَبودَاود: وَرَوَاهُ ابْنُ فُضَيْلٍ عَلَى لَفْظِ ابْنِ مَهْدِيٍّ وَلَمْ يَرْفَعْهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۴۰۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۶۱)(صحیح)

۹۲۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نہ سلام میں نقص ہے اور نہ صلاۃ میں ‘‘۔
معاویہ بن ہشام کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ سفیان نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے ۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث ابن فضیل نے ابن مہدی کی طرح ’’لا غِرَارَ فِي تَسْلِيمٍ وَلا صَلاةٍ‘‘ کے لفظ کے ساتھ روایت کی ہے اور اس کو مرفوع نہیں کہا ہے (بلکہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول بتایا ہے)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
171-بَاب تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ فِي الصَّلاةِ
۱۷۱- باب: صلاۃ میں چھینک کے جواب میں ’’یرحمک اللہ‘‘ کہنے کا بیان​


930- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى (ح) وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ -الْمَعْنَى- عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ! فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمِّيَاهُ! مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟؟ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ يُصَمِّتُونِي، فَقَالَ عُثْمَانُ: فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُسَكِّتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ، قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم بِأَبِي وَأُمِّي مَا ضَرَبَنِي وَلا كَهَرَنِي وَلاسَبَّنِي، ثُمَّ قَالَ: < إِنَّ هَذِهِ الصَّلاةَ لا يَحِلُّ فِيهَا شَيْئٌ مِنْ كَلامِ النَّاسِ هَذَا، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَائَةُ الْقُرْآنِ > أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا قَوْمٌ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَقَدْ جَائَنَا اللَّهُ بِالإِسْلامِ، وَمِنَّا رِجَالٌ يَأْتُونَ الْكُهَّانَ، قَالَ: < فَلا تَأْتِهِمْ >، قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ: < ذَاكَ شَيْئٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ فَلا يَصُدُّهُمْ > قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ، قَالَ: < كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ > قَالَ: قُلْتُ: جَارِيَةٌ لِي كَانَتْ تَرْعَى غُنَيْمَاتٍ قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ إِذِ اطَّلَعْتُ عَلَيْهَا اطِّلاعَةً فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْهَا، وَأَنَا مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ، لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَعَظُمَ ذَاكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، فَقُلْتُ: أَفَلا أُعْتِقُهَا؟ قَالَ: < ائْتِنِي بِهَا > قَالَ: فَجِئْتُهُ بِهَا، فَقَالَ: < أَيْنَ اللَّهُ؟ > قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ: < مَنْ أَنَا؟ > قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: < أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ >۔
* تخريج: م/المساجد ۷ (۵۳۷)، والسلام ۳۵ (۵۳۷)، ن/السھو ۲۰ (۱۲۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۷۸)، وقد أخرجہ: ط/العتق ۶ (۸) حم (۵/۴۴۷، ۴۴۸، ۴۴۹)، دي/الصلاۃ ۱۷۷ (۱۵۴۳) ویأتی ہذا الحدیث فی الأیمان (۳۲۸۲)، وفی الطب (۳۹۰۹) (صحیح)

۹۳۰- معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلاۃ پڑھی، قوم میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو میں نے (حالت صلاۃ میں) ’’يرحمك الله‘‘ کہا، اس پر لوگ مجھے گھورنے لگے، میں نے (اپنے دل میں) کہا: تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں، تم لوگ مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ اس پر لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے رانوں کو تھپتھپانا شروع کر دیا تو میں سمجھ گیا کہ یہ لوگ مجھے خاموش رہنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔
جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا، میرے ماں باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، جب آپ صلاۃ سے فارغ ہوئے تو نہ تو آپ نے مجھے مارا، نہ ڈانٹا، نہ برا بھلا کہا، صرف اتنا فرمایا: ’’صلاۃ میں اس طرح بات چیت درست نہیں، یہ تو بس تسبیح، تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے‘‘، یا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں (ابھی) نیا نیا مسلمان ہوا ہوں، اللہ تعالی نے ہم کو (جاہلیت اور کفر سے نجات دے کر) دین اسلام سے مشرف فرمایا ہے، ہم میں سے بعض لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم ان کے پاس مت جاؤ‘‘۔
میں نے کہا: ہم میں سے بعض لوگ بد شگونی لیتے ہیں؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ ان کے دلوں کا وہم ہے، یہ انہیں ان کے کاموں سے نہ روکے‘‘۔
پھر میں نے کہا: ہم میں سے کچھ لوگ لکیر (خط) کھینچتے ہیں؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نبیوں میں سے ایک نبی خط (لکیریں) کھینچا کرتے تھے، اب جس کسی کا خط ان کے خط کے موافق ہوا، وہ صحیح ہے‘‘۔
میں نے کہا: میرے پاس ایک لونڈی ہے، جو احد اور جوانیہ کے پاس بکریاں چراتی تھی، ایک بار میں (اچانک) پہنچا تو دیکھا کہ بھیڑیا ایک بکری کو لے کر چلا گیا ہے، میں بھی انسان ہوں، مجھے افسوس ہوا جیسے اور لوگوں کو افسوس ہوتا ہے تو میں نے اسے ایک زور کا طمانچہ رسید کر دیا تو یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گراں گزری، میں نے عرض کیا: کیا میں اس لونڈی کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اسے میرے پاس لے کر آؤ‘‘، میں اسے لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس لونڈی سے) پوچھا: ’’اللہ کہاں ہے؟‘‘، اس نے کہا: آسمان کے اوپر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ’’میں کون ہوں؟‘‘، اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم اسے آزاد کر دو یہ مؤمنہ ہے‘‘۔

931- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ هِلالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: لَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلِمْتُ أُمُورًا مِنْ أُمُورِ الإِسْلامِ، فَكَانَ فِيمَا عَلِمْتُ أَنْ قَالَ لِي: < إِذَا عَطَسْتَ فَاحْمَدِ اللَّهَ، وَإِذَا عَطَسَ الْعَاطِسُ فَحَمِدَ اللَّهَ فَقُلْ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ >، قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا قَائِمٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي الصَّلاةِ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ فَحَمِدَ اللَّهَ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، رَافِعًا بِهَا صَوْتِي، فَرَمَانِي النَّاسُ بِأَبْصَارِهِمْ، حَتَّى احْتَمَلَنِي ذَلِكَ، فَقُلْتُ: مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ بِأَعْيُنٍ شُزْرٍ؟ قَالَ فَسَبَّحُوا فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < مَنِ الْمُتَكَلِّمُ؟ > قِيلَ: هَذَا الأَعْرَابِيُّ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، فَقَالَ لِي: < إِنَّمَا الصَّلاةُ لِقِرَائَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ جَلَّ وَعَزَّ، فَإِذَا كُنْتَ فِيهَا فَلْيَكُنْ ذَلِكَ شَأْنُكَ >، فَمَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَطُّ أَرْفَقَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۷۹) (ضعیف)

(فلیح بن سلیمان میں سوء حفظ ہے، انہوں نے اس حدیث میں آدمی کے چھینکنے کے بعد الحمد للہ کہنے کا تذکرہ کیا ہے، معاویہ سلمی کا قول: ’’فكان فيما علمت... فقل: يرحمك الله‘‘ نیز یحییٰ بن ابی کثیر کی سابقہ حدیث یہ دونوں باتیں مذکور نہیں ہیں، اور اس کا سیاق فلیح کے سیاق سے زیادہ کامل ہے، فی الجملہ فلیح کی روایت اوپر کی روایت کے ہم معنی ہے، لیکن زائد اقوال میں فلیح قابل استناد نہیں ہیں، خود ابو داود نے ان کے بارے میں کہا ہے: ’’صدوق لا يحتج به‘‘ واضح رہے کہ فلیح بخاری و مسلم کے روای ہیں (ھدی الساری: ۴۳۵) ابن معین، ابو حاتم اور نسائی نے ان کی تضعیف کی ہے، اور ابن حجر نے ’’صدوق كثير الخطا‘‘ کہا ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: ۹؍ ۳۵۳- ۳۵۴)
۹۳۱- معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو مجھے اسلام کی کچھ باتیں معلوم ہوئیں چنانچہ جو باتیں مجھے معلوم ہوئیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ جب تمہیں چھینک آئے تو ’’الحمد لله‘‘ کہو اور کوئی دوسرا چھینکے اور ’’الحمدلله‘‘ کہے تو تم ’’يرحمك الله‘‘ کہو۔
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک صلاۃ میں کھڑا تھا کہ اسی دوران ایک شخص کو چھینک آئی اس نے ’’الحمد لله‘‘ کہا تو میں نے’’يرحمك الله‘‘ بلند آواز سے کہا تو لوگوں نے مجھے ترچھی نظروں سے دیکھنا شروع کیا تو میں اس پر غصہ میں آ گیا، میں نے کہا: تم لوگ میری طرف کنکھیوں سے کیوں دیکھتے ہو؟ تو ان لوگوں نے ’’سبحان الله‘‘ کہا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ’’(دورانِ صلاۃ) کس نے بات کی تھی؟‘‘، لوگوں نے کہا: اس اعرابی نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو بلایا اور مجھ سے فرمایا: ’’صلاۃ تو بس قرآن پڑھنے اور اللہ کا ذکر کرنے کے لئے ہے، تو جب تم صلاۃ میں رہو تو تمہارا یہی کام ہونا چاہئے‘‘۔
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر شفیق اور مہربان کبھی کسی معلم کو نہیں دیکھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
172-بَاب التَّأْمِينِ وَرَاءَ الإِمَامِ
۱۷۲- باب: امام کے پیچھے آمین کہنے کا بیان​


932- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ حُجْرٍ أَبِي الْعَنْبَسِ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا قَرَأَ: {وَلا الضَّالِّينَ} قَالَ: <آمِينَ > وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۷۲ (۲۴۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۵۸)، وقد أخرجہ: ن/الافتتاح ۴ (۸۸۰)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۴ (۸۵۵)، حم (۴/۳۱۶)، دي/الصلاۃ ۳۹ (۱۲۸۳) (صحیح)

۹۳۲- وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ’’ولا الضالين‘‘ پڑھتے تو آمین کہتے، اور اس کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے تھے۔

933- حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ ابْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّهُ صَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَجَهَرَ بِآمِينَ، وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ خَدِّهِ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۵۸)(حسن صحیح)

۹۳۳- وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صلاۃ پڑھی تو آپ نے زور سے آمین کہی اور اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گال کی سفیدی دیکھ لی۔

934- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ بِشْرِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِاللَّهِ ابْنِ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا تَلا: {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاالضَّالِّينَ} قَالَ: < آمِينَ > حَتَّى يَسْمَعَ مَنْ يَلِيهِ مِنَ الصَّفِّ الأَوَّلِ۔
* تخريج: ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۴ (۸۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۴۴) (ضعیف)

(اس کے راوی ’’ابن عم ابو ہریرۃ‘‘ لیَّن الحدیث ہیں)
۹۳۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب {غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّاْلِّيْنَ} کی تلاوت فرماتے تو آمین کہتے یہاں تک کہ پہلی صف میں سے جو لوگ آپ سے نزدیک ہوتے اسے سن لیتے۔

935- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < إِذَا قَالَ الإِمَامُ: {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ} فَقُولُوا: آمِينَ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ >۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۱۱ (۷۸۰)، ۱۱۳ (۷۸۲)، وتفسیر الفاتحۃ ۳ (۴۴۷۵)، والدعوات ۶۳ (۶۴۰۲)، ن/الافتتاح ۳۴ (۹۳۰)، ط/الصلاۃ ۱۱(۴۵)، حم (۲/۲۳۸، ۴۵۹)، دي/الصلاۃ ۳۸ (۱۲۸۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۷۶)، وقد أخرجہ: م/الصلاۃ ۱۸ (۴۱۰)، ت/الصلاۃ ۷۳ (۲۵۰)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۴ (۸۵۱) (صحیح)

۹۳۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب امام {غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلاالضَّاْلِّيْنَ} کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ جس کا کہنا فرشتوں کے کہنے کے موافق ہو جائے گا اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے‘‘۔

936- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < إِذَا أَمَّنَ الإِمَامُ فَأَمِّنُوا، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ >.
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: < آمِينَ >۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۲۳۰، ۱۵۴۲) (صحیح)

۹۳۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو گی اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے‘‘۔
ابن شہاب زہری کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آمین کہتے تھے۔

937- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ بِلالٍ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۴۴)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۲) (ضعیف)

(ابو عثمان نہدی کی ملاقات بلال رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے)۔
۹۳۷- بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھ سے پہلے آمین نہ کہا کیجئے۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اتنی مہلت دیا کیجئے کہ میں سورۂ فاتحہ سے فارغ ہو جاؤں تاکہ آپ کی اور میری آمین ساتھ ہوا کرے ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ یہ بات مروان سے کہا کرتے تھے۔

938- حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ الدِّمَشْقِيُّ، وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ صُبَيْحِ بْنِ مُحْرِزٍ الْحِمْصِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو مُصَبِّحٍ الْمَقْرَائِيُّ، قَالَ: كُنَّا نَجْلِسُ إِلَى أَبِي زُهَيْرٍ النُّمَيْرِيِّ، وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ، فَيَتَحَدَّثُ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ، فَإِذَا دَعَا الرَّجُلُ مِنَّا بِدُعَائٍ قَالَ: اخْتِمْهُ بِآمِينَ فَإِنَّ آمِينَ مِثْلُ الطَّابَعِ عَلَى الصَّحِيفَةِ، قَالَ أَبُو زُهَيْرٍ: أُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ؟ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ قَدْ أَلَحَّ فِي الْمَسْأَلَةِ فَوَقَفَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم يَسْتَمِعُ مِنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم: < أَوْجَبَ إِنْ خَتَمَ > فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: بِأَيِّ شَيْئٍ يَخْتِمُ؟ قَالَ: < بِآمِينَ، فَإِنَّهُ إِنْ خَتَمَ بِآمِينَ فَقَدْ أَوْجَبَ >، فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ الَّذِي سَأَلَ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَتَى الرَّجُلَ فَقَالَ: اخْتِمْ يَا فُلانُ بِآمِينَ، وَأَبْشِرْ، وَهَذَا لَفْظٌ مَحْمُودٌ. قَالَ أَبودَاود: الْمَقْرَاءُ قَبِيلٌ مِنْ حِمْيَرَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۴۲) (ضعیف)

(اس کے راوی ’’صبیح بن محرز‘‘ لین الحدیث ہیں )
۹۳۸- ابو مصبح مقرائی کہتے ہیں کہ ہم ابو زہیر نمیری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا کرتے تھے، وہ صحابی رسول تھے، وہ (ہم سے) اچھی اچھی حدیثیں بیان کرتے تھے، جب ہم میں سے کوئی دعا کرتا تو وہ کہتے: اسے آمین پر ختم کرو، کیو نکہ آمین کتاب پر لگی ہوئی مہر کی طرح ہے ۔
ابو زہیر نے کہا: میں تمہیں اس کے بارے میں بتاؤں؟ ایک رات ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہم لوگ ایک شخص کے پاس پہنچے جو نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالی سے دعا کر رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر سننے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر اس نے (اپنی دعا پر) مہر لگا لی تو اس کی دعا قبول ہو گئی‘‘، اس پر ایک شخص نے پوچھا: کس چیز سے وہ مہر لگائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’آمین سے، اگر اس نے آمین سے ختم کیا تو اس کی دعا قبول ہو گئی‘‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن کر وہ شخص (جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا) اس آدمی کے پاس آیا جو دعا کر رہا تھا اور اس سے کہا: اے فلاں! تم اپنی دعا پر آمین کی مہر لگا لو اور خوش ہو جاؤ ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
173- بَاب التَّصْفِيقِ فِي الصَّلاةِ
۱۷۳- باب: صلاۃ میں عورتوں کے تالی بجانے کا بیان​


939- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ۔
* تخريج: خ/العمل في الصلاۃ ۵ (۱۲۰۳)، م/الصلاۃ ۲۳ (۴۲۲)، ن/السھو ۱۵ (۱۲۰۸)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۶۵ (۱۰۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۱۴۱)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۱۶۰ (۳۶۹)، حم (۲/۲۶۱، ۳۱۷، ۳۷۶، ۴۳۲، ۴۴۰، ۴۷۳، ۴۷۹، ۴۹۲، ۵۰۷)، دي/الصلاۃ ۹۵ (۱۴۰۳)(صحیح)

۹۳۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’صلاۃ میں مردوں کو ’’سبحان الله‘‘ کہنا چاہئے اور عورتوں کو تالی بجانی چاہئے‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎: دورانِ صلاۃ امام سے کچھ بھول چوک ہو جائے تو اس کو اس کی غلطی بتانے کے لیے مرد ’’سبحان اللہ‘‘ کہیں اورعورتیں تالی بجائیں۔

940- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، وَحَانَتِ الصَّلاةُ، فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِي اللَّه عَنْه فَقَالَ: أَتُصَلِّي بِالنَّاسِ فَأُقِيمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَالنَّاسُ فِي الصَّلاةِ فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ، فَصَفَّقَ النَّاسُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلاةِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ، فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُوبَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: <يَاأَبَابَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ؟ > قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا كَانَ لابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: < مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمْ مِنَ التَّصْفِيحِ؟ مَنْ نَابَهُ شَيْئٌ فِي صَلاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ، فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ، وَإِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ >.
[قَالَ أَبودَاود: وَهَذَا فِي الْفَرِيضَةِ] ۔
* تخريج: خ/العمل في الصلاۃ ۵ (۱۲۰۴)، م/الصلاۃ ۲۲ (۴۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۴۷۴۳)، وقد أخرجہ: ن/الإمامۃ ۷ (۷۸۵)، ۱۵(۷۹۴)، السہو ۴ (۱۱۸۳)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۶۵ (۱۰۳۴)، ط/قصۃ الصلاۃ ۲۰ (۶۱)، حم (۵/۳۳۶)، دي/الصلاۃ ۹۵ (۱۴۰۴)(صحیح)

۹۴۰- سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں ان کے درمیان صلح کرانے کے لئے تشریف لے گئے، اور صلاۃ کا وقت ہو گیا، مؤذن نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر پوچھا: کیا آپ صلاۃ پڑھائیں گے، میں تکبیر کہوں؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں (تکبیر کہو میں صلاۃ پڑھاتا ہوں)، تو ابو بکر رضی اللہ عنہ صلاۃ پڑھانے لگے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگئے اور لوگ صلاۃ میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو چیرتے ہوئے (پہلی) صف میں آکر کھڑے ہو گئے تو لوگ تالی بجانے لگے۱؎ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کا حال یہ تھا کہ وہ صلاۃ میں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے، لوگوں نے جب زیادہ تالیاں بجائیں تو وہ متوجہ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نگاہ پڑی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اشارہ سے فرمایا: ’’تم اپنی جگہ پر کھڑے رہو‘‘، تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اس بات پر جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا، اللہ کا شکر ادا کیا، پھر پیچھے آکر صف میں کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ’’جب میں نے تمہیں حکم دے دیا تھا تو اپنی جگہ پر قائم رہنے سے تمہیں کس چیز نے روک دیا؟‘‘، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ابو قحافہ۲؎ کے بیٹے کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہو کر صلاۃ پڑھائے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ’’کیا بات تھی؟ تم اتنی زیادہ کیوں تالیاں بجا رہے تھے؟ جب کسی کو صلاۃ میں کوئی معاملہ پیش آجا ئے تو وہ سبحان اللہ کہے، کیونکہ جب وہ ’’سبحان الله‘‘ کہے گا تو اس کی طرف توجہ کی جائے گی اور تالی بجانا صرف عورتوں کے لئے ہے‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ فرض صلاۃ کا واقعہ ہے۔
وضاحت۱؎: تاکہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا علم ہو جائے۔
وضاحت۲؎: ابو قحافہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد کی کنیت ہے۔

941- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَتَاهُمْ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَقَالَ لِبِلالٍ: < إِنْ حَضَرَتْ صَلاةُ الْعَصْرِ وَلَمْ آتِكَ فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ >، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ أَذَّنَ بِلالٌ ثُمَّ أَقَامَ ثُمَّ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ فَتَقَدَّمَ، قَالَ فِي آخِرِهِ: < إِذَا نَابَكُمْ شَيْئٌ فِي الصَّلاةِ فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ وَلْيُصَفِّحِ النِّسَاءُ >.
* تخريج: خ/الأحکام ۳۶ (۷۱۹۰)، ن/الإمامۃ ۱۵ (۷۹۴)، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۶۹)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۳۲، ۳۳۶) ، دی/الصلاۃ ۹۵(۱۴۰۴) (صحیح)

۹۴۱- سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف کی آپس میں لڑائی ہوئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی، تو آپ ظہر کے بعد مصالحت کرانے کی غرض سے ان کے پاس آئے اور بلال رضی اللہ عنہ سے کہہ آئے کہ اگر عصر کا وقت آجائے اور میں واپس نہ آسکوں تو تم ابو بکر سے کہنا کہ وہ لوگوں کو صلاۃ پڑھا دیں، چنانچہ جب عصر کا وقت ہوا تو بلال نے اذان دی پھر تکبیر کہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو صلاۃ پڑھانے کے لئے کہا تو آپ آگے بڑھ گئے، اس کے اخیر میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تمہیں صلاۃ میں کوئی حا دثہ پیش آجائے تو مرد ’’سبحان الله‘‘ کہیں اور عورتیں دستک دیں‘‘۔

942- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ عِيسَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: قَوْلُهُ التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ تَضْرِبُ بِأُصْبُعَيْنِ مِنْ يَمِينِهَا عَلَى كَفِّهَا الْيُسْرَى۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۹۱۸۸)(صحیح)

۹۴۲- عیسیٰ بن ایوب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ’’التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ کی دونوں انگلیاں اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ماریں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
174-بَاب الإِشَارَةِ فِي الصَّلاةِ
۱۷۴- باب: صلاۃ میں اشارہ کرنے کا بیان​


943- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبُّوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يُشِيرُ فِي الصَّلاةِ۔
* تخريج:تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۶)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۳۸) (صحیح)

۹۴۳- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ میں اشارہ کرتے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: اس سے بوقت ضرورت صلاۃ میں اشارے کا جواز ثابت ہوتا ہے جیسے اشارے سے سلام کا جواب دینا وغیرہ۔

944- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم < التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ -يَعْنِي فِي الصَّلاةِ- وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ، مَنْ أَشَارَ فِي صَلاتِهِ إِشَارَةً تُفْهَمُ عَنْهُ فَلْيَعُدْ لَهَا >، يَعْنِي الصَّلاةَ.
قَالَ أَبودَاود: هَذَا الْحَدِيثُ وَهْمٌ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۵۵) (ضعیف)
(محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کی ہے، نیز یونس سے بہت غلطیاں ہوئی ہیں تو ہو سکتا ہے کہ یہاں انہیں سے غلطی ہوئی ہو)
۹۴۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سبحان الله‘‘ کہنا مردوں کے لئے ہے یعنی صلاۃ میں اور تالی بجانا عورتوں کے لئے ہیں، جس نے اپنی صلاۃ میں کوئی ایسا اشارہ کیا کہ جسے سمجھا جا سکے تو وہ اس کی وجہ سے اسے لوٹائے یعنی اپنی صلاۃ کو۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث وہم ہے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: کیونکہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت جس میں عصر کے بعد دو رکعتوں کے پڑھنے کا ذکر ہے اور ام المومنین عائشہ و جابر رضی اللہ عنہما کی روایتیں جن میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیماری میں بیٹھ کر صلاۃ پڑھائی تو لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے انہیں بیٹھ جانے کے لئے کہا دونوں روایتیں اس کے مخالف ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
175-بَاب فِي مَسْحِ الْحَصَى فِي الصَّلاة
۱۷۵- باب: صلاۃ میں کنکری ہٹانے کے حکم کا بیان​


945- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ فَلا يَمْسَحِ الْحَصَى >۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۶۳ (۳۷۹)، ن/السھو ۷ (۱۱۹۲)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۶۳ (۱۰۲۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۵۰، ۱۶۳)، دي/الصلاۃ ۱۱۰ (۱۴۲۸) (ضعیف)

(ابو الأحوص لین الحدیث ہیں)
۹۴۵- ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں کوئی صلاۃ کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت اس کا سامنا کرتی ہے، لہٰذا وہ کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎: کنکریوں پر ہاتھ پھیرنے سے مراد انہیں برابر کرنا ہے تاکہ ان پر سجدہ کیا جا سکے۔

946- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ مُعَيْقِيبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < لا تَمْسَحْ وَأَنْتَ تُصَلِّي، فَإِنْ كُنْتَ لا بُدَّ فَاعِلا فَوَاحِدَةٌ، تَسْوِيَةَ الْحَصَى >۔
* تخريج: خ/العمل في الصلاۃ ۸ (۱۲۰۷)، م/المساجد ۱۲ (۵۴۶)، ت/الصلاۃ ۱۶۷ (۳۸۰)، ن/السھو ۸ (۱۱۹۳)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۶۲ (۱۰۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۸۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۲۶، ۵/۴۲۵، ۴۲۶)، دي/الصلاۃ ۱۱۰ (۱۴۲۷) (صحیح)

۹۴۶- معیقیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم صلاۃ پڑھنے کی حالت میں (کنکریوں پر) ہاتھ نہ پھیرو، یعنی انہیں برابر نہ کرو، اگر کرنا ضروری ہو تو ایک دفعہ برابر کر لو‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
176-بَاب الرَّجُلِ يُصَلِّي مُخْتَصِرًا
۱۷۶- باب: کمر پر ہاتھ رکھ کر صلاۃ پڑھنے کے حکم کا بیان​


947- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنِ الاخْتِصَارِ فِي الصَّلاةِ.
قَالَ أَبودَاود: يَعْنِي يَضَعُ يَدَهُ عَلَى خَاصِرَتِهِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۵۴۶)، وقد أخرجہ: خ/العمل في الصلاۃ ۱۷ (۱۲۲۰)، م/المساجد ۱۱ (۵۴۵)، ت/الصلاۃ ۱۶۹ (۳۸۳)، ن/الافتتاح ۱۲ (۸۸۹)، حم (۲/۲۳۲،۲۹۰، ۲۹۵، ۳۳۱، ۳۹۹)، دي/الصلاۃ ۱۳۸ (۱۴۶۸) (صحیح)

۹۴۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاۃ میں اختصار سے منع فرمایا ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: ’’اختصار‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنا ہاتھ اپنی کمر پر رکھے۱؎۔
وضاحت۱؎ : کیونکہ یہ یہودیوں کا فعل ہے اور بعض روایتوں میں ہے کہ ابلیس کو زمین پر اسی ہیئت میں اتارا گیا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
177-بَاب الرَّجُلِ يَعْتَمِدُ فِي الصَّلاةِ عَلَى عَصًا
۱۷۷- باب: آدمی صلاۃ میں لاٹھی پر ٹیک لگا سکتا ہے​


948- حَدَّثَنَا عَبْدُالسَّلامِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ الْوَابِصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ، قَالَ: قَدِمْتُ الرَّقَّةَ فَقَالَ لِي بَعْضُ أَصْحَابِي: هَلْ لَكَ فِي رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم؟ قَالَ: قُلْتُ: غَنِيمَةٌ، فَدَفَعْنَا إِلَى وَابِصَةَ، قُلْتُ لِصَاحِبِي: نَبْدَأُ فَنَنْظُرُ إِلَى دَلِّهِ، فَإِذَا عَلَيْهِ قَلَنْسُوَةٌ لاطِئَةٌ ذَاتُ أُذُنَيْنِ وَبُرْنُسُ خَزٍّ أَغْبَرُ، وَإِذَا هُوَ مُعْتَمِدٌ عَلَى عَصًا فِي صَلاتِهِ فَقُلْنَا بَعْدَ أَنْ سَلَّمْنَا، فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ بِنْتُ مِحْصَنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم لَمَّا أَسَنَّ وَحَمَلَ اللَّحْمَ اتَّخَذَ عَمُودًا فِي مُصَلاهُ يَعْتَمِدُ عَلَيْهِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۳۴۵)(صحیح)

۹۴۸- ہلال بن یسا ف کہتے ہیں کہ میں رقہ۱؎ آیا تو میرے ایک دوست نے مجھ سے پوچھا: کیا تمہیں کسی صحابی سے ملنے کی خواہش ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ (ملاقات ہو جائے تو) غنیمت ہے، تو ہم وابصہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، میں نے اپنے ساتھی سے کہا: پہلے ہم ان کی وضع دیکھیں، میں نے دیکھا کہ وہ ایک ٹوپی سر سے چپکی ہوئی دو کانوں والی پہنے ہوئے تھے اور خز ریشم کا خاکی رنگ کا برنس۲؎ اوڑھے ہوئے تھے، اور کیا دیکھتے ہیں کہ وہ صلاۃ میں ایک لکڑی پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر ہم نے سلام کرنے کے بعد ان سے (صلاۃ میں لکڑی پر ٹیک لگانے کی وجہ) پوچھی تو انہوں نے کہا: مجھ سے ام قیس بنت محصن نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر جب زیادہ ہو گئی اور بدن پر گو شت چڑھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صلاۃ پڑھنے کی جگہ میں ایک ستون بنا لیا جس پر آپ ٹیک لگاتے تھے۔
وضاحت۱؎: ایک شہر کا نام ہے جو شام میں دریائے فرات پر واقع ہے۔
وضاحت۲؎: ایک قسم کا لباس جس میں ٹوپی اسی سے بنی ہوتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
178-بَاب النَّهْيِ عَنِ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ
۱۷۸- باب: صلاۃ میں بات چیت منع ہے​


949- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْحَارِثِ ابْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كَانَ أَحَدُنَا يُكَلِّمُ الرَّجُلَ إِلَى جَنْبِهِ فِي الصَّلاةِ، فَنَزَلَتْ: {وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ وَنُهِينَا عَنِ الْكَلامِ۔
* تخريج: خ/العمل في الصلاۃ ۲ (۱۲۰۰)، وتفسیر البقرۃ ۴۲ (۴۵۳۴)، م/المساجد ۷ (۵۳۹)، ت/الصلاۃ ۱۸۵ (۴۰۵)، وتفسیر البقرۃ (۲۹۸۶)، ن/السھو ۲۰ (۱۲۲۰)، (تحفۃ الأشراف: ۳۶۶۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۶۸) (صحیح)

۹۴۹- زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے جو چاہتا صلاۃ میں اپنے بغل والے سے باتیں کرتا تھا تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی {وَقُوْمُوْا لله قَاْنِتِيْنَ} ۱؎ تو ہمیں صلاۃ میں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور بات کرنے سے روک دیا گیا۔
وضاحت۱؎: ’’اللہ کے لئے چپ چاپ کھڑے رہو‘‘ (سورۃ البقرۃ: ۲۳۸)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
179-بَاب فِي صَلاةِ الْقَاعِدِ
۱۷۹- باب: بیٹھ کر صلاۃ پڑھنے کا بیان​


950- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلالٍ -يَعْنِي ابْنَ يَسَافٍ- عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < صَلاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلاةِ >، فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي جَالِسًا، فَوَضَعْتُ يَدَيَّ عَلَى رَأْسِي، فَقَالَ: مَا لَكَ يَا عَبْدَاللَّهِ بْنَ عَمْرٍو؟ قُلْتُ: حُدِّثْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَّكَ قُلْتَ: < صَلاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلاةِ >، وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا؟ قَالَ: <أَجَلْ، وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ >۔
* تخريج: م/المسافرین ۱۶ (۷۳۵)، ن/قیام اللیل ۱۸ (۱۶۶۰)، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۳۷)، وقد أخرجہ: ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۴۱ (۱۲۲۹)، ط/ صلاۃ الجماعۃ ۶ (۱۹)، حم (۲/۱۶۲، ۱۹۲، ۲۰۱، ۲۰۳)، دي/الصلاۃ ۱۰۸ (۱۴۲۴) (صحیح)

۹۵۰- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’بیٹھ کر پڑھنے والے شخص کی صلاۃ آدھی صلاۃ ہے‘‘، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ کو بیٹھ کر صلاۃ پڑھتے دیکھا تو میں نے (تعجب سے) اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ’’عبد اللہ بن عمرو! کیا بات ہے؟‘‘، میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے: ’’بیٹھ کر صلاۃ پڑھنے والے کو نصف ثواب ملتا ہے‘‘ اور آپ بیٹھ کر صلاۃ پڑھ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں سچ ہے، لیکن میں تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی میرا معاملہ تمہارے جیسا نہیں ہے مجھے بیٹھ کر پڑھنے میں بھی پورا ثواب ملتا ہے۔

951- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ ابْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ صَلاةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا فَقَالَ: < صَلاتُهُ قَائِمًا أَفْضَلُ مِنْ صَلاتِهِ قَاعِدًا، وَصَلاتُهُ قَاعِدًا عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلاتِهِ قَائِمًا، وَصَلاتُهُ نَائِمًا عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلاتِهِ قَاعِدًا >۔
* تخريج: خ/تقصیر الصلاۃ ۱۷ (۱۱۱۵)، ۱۸ (۱۱۱۶)، ۱۹ (۱۱۱۷)، ت/الصلاۃ ۱۶۲ (۳۷۱)، ن/قیام اللیل ۱۹ (۱۶۶۱)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۴۱ (۱۲۳۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۳۱)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۳۳، ۴۳۵، ۴۴۲، ۴۴۳)(صحیح)

۹۵۱- عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر صلاۃ پڑھنے والے شخص کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: ’’آدمی کا کھڑے ہو کر صلاۃ پڑھنا بیٹھ کر صلاۃ پڑھنے سے افضل ہے اور بیٹھ کر صلاۃ پڑھنے میں کھڑے ہو کر پڑھنے کے مقابلہ میں نصف ثواب ہے۱؎ اور لیٹ کر پڑھنے میں بیٹھ کر پڑھنے کے مقابلہ میں نصف ثواب ملتا ہے‘‘۔
وضاحت۱؎: اس سے تندرست آدمی نہیں بلکہ مریض مراد ہے کیونکہ انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس آئے جو بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر صلاۃ پڑھ رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بیٹھ کر صلاۃ پڑھنے والے کا ثواب کھڑے ہو کر صلاۃ پڑھنے والے کے آدھا ہے‘‘۔

952- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: كَانَ بِي النَّاصُورُ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: < صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ >۔
* تخريج: ت/ الصلاۃ ۱۵۷ (۳۷۲)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۳۹ (۱۲۲۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۳۲) (صحیح)

۹۵۲- عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے ناسور تھا۱؎، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: ’’تم کھڑے ہو کر صلاۃ پڑھو، اگر کھڑے ہو کر پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر بیٹھ کر پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو (لیٹ کر) پہلو کے بل پڑھو‘‘۔
وضاحت۱؎: باء اور نون دونوں کے ساتھ اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے باسور مقعد کے اندرونی حصہ میں ورم کی بیماری کا نام ہے اور ناسور ایک ایسا خراب زخم ہے کہ جب تک اس میں فاسد مادّہ موجود رہے تب تک وہ اچھا نہیں ہوتا۔

953- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقْرَأُ فِي شَيْئٍ مِنْ صَلاةِ اللَّيْلِ جَالِسًا قَطُّ، حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ، فَكَانَ يَجْلِسُ [فِيهَا] فَيَقْرَأُ، حَتَّى إِذَا بَقِيَ أَرْبَعُونَ أَوْ ثَلاثُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ سَجَدَ۔
* تخريج: خ/تقصیرالصلاۃ ۲۰ (۱۱۱۸)، م/المسافرین ۱۶ (۷۳۱)، ت/الصلاۃ ۱۶۳ (۳۷۲)، ن/قیام اللیل ۱۶ (۱۶۵۰)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۴۰ (۱۲۲۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۹۰۳، ۱۶۸۶۷)، وقد أخرجہ: ط/ صلاۃ الجماعۃ ۷ (۲۳)، حم (۶/۴۶، ۸۳، ۱۲۷، ۲۳۱) (صحیح)

۹۵۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی صلاۃ کبھی بیٹھ کر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ عمررسیدہ ہو گئے تو اس میں بیٹھ کر قرأت کرتے تھے پھرجب تیس یا چالیس آیتیں رہ جاتیں تو انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے پھر سجدہ کرتے۔

954- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا، فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ، وَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَائَتِهِ قَدْرُ مَا يَكُونُ ثَلاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ .
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ عَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم نَحْوَهُ۔
* تخريج: خ/ تقصیر الصلاۃ ۲۰ (۱۱۱۹)، م/المسافرین ۱۶ (۷۳۱)، ت/الصلاۃ ۱۵۸ (۳۷۴)، ن/قیام اللیل ۱۶ (۱۶۴۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۰۹، ۱۷۷۳۲)، وقد أخرجہ: ط/صلاۃ الجماعۃ ۷ (۲۳)، حم (۶/۱۷۸) (صحیح)

۹۵۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر صلاۃ پڑھتے توبیٹھ کرقرأت کرتے تھے، پھرجب تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر قرأت رہ جاتی تو کھڑے ہو جاتے، پھر انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے، پھر رکوع کرتے اور سجدہ کرتے، پھر دوسری رکعت میں (بھی) اسی طرح کرتے۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث علقمہ بن وقاص نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔

955- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ: سَمِعْتُ بُدَيْلَ بْنَ مَيْسَرَةَ وَأَيُّوبَ يُحَدِّثَانِ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يُصَلِّي لَيْلا طَوِيلا قَائِمًا، وَلَيْلا طَوِيلا قَاعِدًا، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا۔
* تخريج: م/المسافرین ۱۶ (۷۳۱)، ن/قیام اللیل ۱۶ (۱۶۴۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۲۰۱،۱۶۲۰۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۰۰، ۲۲۷، ۲۶۱، ۲۶۵) (صحیح)

۹۵۵- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کبھی دیر تک کھڑے ہو کر صلاۃ پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر، جب کھڑے ہو کر پڑھتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے۔

956- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقْرَأُ السُّورَةَ فِي رَكْعَةٍ؟ قَالَتِ: الْمُفَصَّلَ، قَالَ: قُلْتُ: فَكَانَ يُصَلِّي قَاعِدًا؟ قَالَتْ: حِينَ حَطَمَهُ النَّاسُ ۔
* تخريج: م/المسافرین ۱۶ (۷۳۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۲۲۰)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۷۱، ۲۰۴) (صحیح) الشطر الثاني منہ

۹۵۶- عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری سورت ایک رکعت میں پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: (ہاں) مفصل کی، پھر میں نے پوچھا: کیا آپ بیٹھ کر صلاۃ پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: جس وقت لوگوں (کے کثرتِ معاملات) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکستہ (یعنی بوڑھا) کر دیا۔
 
Top