182- بَاب التَّشَهُّدِ
۱۸۲- باب: تشہد (التحیات) کا بیان
968- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ، حَدَّثَنِي شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي الصَّلاةِ قُلْنَا: السَّلامُ عَلَى اللَّهِ قَبْلَ عِبَادِهِ، السَّلامُ عَلَى فُلانٍ وَفُلانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: <لاتَقُولُوا السَّلامُ عَلَى اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلامُ، وَلَكِنْ إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ: <التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ، وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ >، فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمْ ذَلِكَ أَصَابَ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ > أَوْ: < بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ > < أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَيَدْعُوَ بِهِ > ۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۴۸ (۸۳۱)، ۱۵۰ (۸۳۵)، والعمل فی الصلاۃ ۴ (۱۲۰۲)، والاستئذان ۳ (۶۲۳۰)، ۲۸ (۶۲۶۵)، والدعوات ۱۷ (۶۳۲۸) والتوحید ۵ (۷۳۸۱)، م/الصلاۃ ۱۶ (۴۰۲)، ن/التطبیق ۱۰۰ (۱۱۶۳، ۱۱۶۱)، والسھو ۴۱ (۱۲۷۸)، ۴۳ (۱۲۸۰)، ۵۶ (۱۲۹۹)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۲۴ (۸۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۹۲۴۵)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۱۰۳ (۲۸۹)، والنکاح ۱۷ (۱۱۰۵)، حم (۱/۳۷۶، ۳۸۲، ۴۰۸، ۴۱۳، ۴۱۴، ۴۲۲، ۴۲۳، ۴۲۸، ۴۳۱، ۴۳۷، ۴۳۹، ۴۴۰، ۴۵۰، ۴۵۹، ۴۶۴)، دي/الصلاۃ ۸۴ (۱۳۷۹) (صحیح)
۹۶۸- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلاۃ میں بیٹھتے تو یہ کہتے تھے
’’السَّلامُ عَلَى اللَّهِ قَبْلَ عِبَادِهِ، السَّلامُ عَلَى فُلانٍ وَفُلانٍ‘‘ (یعنی اللہ پر سلام ہو اس کے بندوں پر سلام سے پہلے یا اس کے بندوں کی طرف سے اور فلاں فلاں شخص پر سلام ہو) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم ایسا مت کہا کرو کہ اللہ پر سلام ہو، اس لئے کہ اللہ تعالی خود سلام ہے، بلکہ جب تم میں سے کوئی صلاۃ میں بیٹھے تو یہ کہے
’’التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ، وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِي ُّ۱؎ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ‘‘ (آدابِ بندگیاں، صلاتیں اور پاکیزہ خیرات اللہ ہی کے لئے ہیں اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر) کیونکہ جب تم یہ کہو گے تو ہر نیک بندے کو خواہ آسمان میں ہو یا زمین میں ہو یا دونوں کے بیچ میں ہو اس (دعا کے پڑھنے) کا ثواب پہنچے گا (پھر یہ کہو):
’’أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ‘‘ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں) پھرتم میں سے جس کو جو دعا زیادہ پسند ہو، وہ اس کے ذریعہ دعا کرے‘‘۔
وضاحت۱؎:
’’السلام عليك أيها النبي‘‘ بصیغۂ خطاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں کہا جاتا تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرام بصیغۂ غائب کہتے تھے جیسا کہ صحیح سند سے مروی ہے:
’’أن الصحابة كانوا يقولون والنبي صلی اللہ علیہ وسلم حي: ’’السلام عليك أيها النبي‘‘ فلما مات قالوا: ’’السلام على النبي‘‘، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب باحیات تھے تو صحابہ کرام
’’السلام علیک ایہا النبی‘‘ کہتے تھے اورجب آپ کی وفات ہو گئی تو
’’السلام علی النبی‘‘ کہنے لگے، اسی معنی کی ایک اور حدیث عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے نیز ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں کو السلام علی النبی کہنے کی تعلیم دیتی تھیں (مسندالسراج: ۹/۱-۲، والفوائد: ۱۱/۵۴ بسندین صحیحین عنہا)، (ملاحظہ ہو: صفۃ صلاۃ النبی للألبانی ۱۶۱-۱۶۲)
969- حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ -يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ- عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا لا نَدْرِي مَا نَقُولُ إِذَا جَلَسْنَا فِي الصَّلاةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَدْ عُلِّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۹۲۳۹، ۹۵۰۵)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۹۴، ۴۱۸) (صحیح) (پچھلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ شریک اور ابو اسحاق کے سبب یہ سند ضعیف ہے)
قَالَ شَرِيكٌ: وَحَدَّثَنَا جَامِعٌ -يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ- عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِهِ.
قَالَ: وَكَانَ يُعَلِّمُنَا كَلِمَاتٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُعَلِّمُنَاهُنَّ كَمَا يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ: اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَبَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا، وَأَبْصَارِنَا، وَقُلُوبِنَا، وَأَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِكَ مُثْنِينَ بِهَا قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود (ضعیف) (شریک کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے)
۹۶۹- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ جب ہم صلاۃ میں بیٹھیں تو کیا کہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا، پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔
شریک کہتے ہیں: ہم سے جامع یعنی ابن شداد نے بیان کیا کہ انہوں نے ابو وائل سے اورابو وائل نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل روایت کی ہے اس میں (اتنا اضافہ) ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں چند کلمات سکھاتے تھے اور انہیں اس طرح نہیں سکھاتے تھے جیسے تشہد سکھاتے تھے اور وہ یہ ہیں :
’’اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَبَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا، وَأَبْصَارِنَا، وَقُلُوبِنَا، وَأَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِكَ مُثْنِينَ بِهَا قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا ‘‘ (اے اللہ! تو ہمارے دلوں میں الفت و محبت پیدا کر دے، اور ہماری حالتوں کو درست فرما دے، اور راہ سلامتی کی جانب ہماری رہنمائی کر دے اور ہمیں تاریکیوں سے نجات دے کر روشنی عطا کر دے، آنکھوں، دلوں اور ہماری بیوی بچوں میں برکت عطا کر دے، اور ہماری توبہ قبول فرما لے تو توبہ قبول فرمانے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے، اور ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر گزار و نثا خواں اور اسے قبول کرنے والا بنا دے، اور اے اللہ! ان نعمتوں کو ہمارے اوپر کامل کر دے)۔
970- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، عَنِ الْقَاسِمِ ابْنِ مُخَيْمِرَةَ، قَالَ: أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي، فَحَدَّثَنِي أَنَّ عَبْدَاللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَخَذَ بِيَدِهِ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَخَذَ بِيَدِ عَبْدِاللَّهِ، فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلاةِ، فَذَكَرَ مِثْلَ دُعَاءِ حَدِيثِ الأَعْمَشِ: < إِذَا قُلْتَ هَذَا أَوْ قَضَيْتَ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلاتَكَ، إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۷۴)، وانظر رقم (۹۶۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۲۲) (شاذ) (’’إذا قلت...الخ‘‘ کا اضافہ شاذ ہے صحیح بات یہ ہے کہ یہ ٹکڑا ابن مسعود کا اپنا قول ہے)
۹۷۰- قاسم بن مخیمرہ کہتے ہیں کہ علقمہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑا (اور انہیں صلاۃ میں تشہد کے کلمات سکھائے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ان کو صلاۃ میں تشہد کے کلمات سکھائے، پھر راوی نے اعمش کی حدیث کی دعا کے مثل ذکر کیا، اس میں (اتنا اضافہ) ہے کہ جب تم نے یہ دعا پڑھ لی یا پوری کر لی تو تمہاری صلاۃ پوری ہو گئی، اگر کھڑے ہونا چاہو تو کھڑے ہو جاؤ اور اگر بیٹھے رہنا چاہو تو بیٹھے رہو۔
971- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي التَّشَهُّدِ: < التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ - قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: زِدْتَ فِيهَا وَبَرَكَاتُهُ-السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ -قَالَ ابْنُ عُمَرَ: زِدْتُ فِيهَا وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ- وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، وراجع : ط/الصلاۃ ۱۳(۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۹۶) (صحیح)
۹۷۱- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تشہد کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ تشہد یہ ہے:
’’التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ‘‘ (آداب بندگیاں، اور پاکیزہ صلاتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں)۔
راوی کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس تشہد میں
’’وبَرَكَاتُهُ ‘‘ اور
’’وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ‘‘ کا اضافہ میں نے کیا ہے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: تشہد میں یہ دونوں اضافے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں ایسا ہرگز نہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی طرف سے ان کا اضافہ خود کر دیا ہو بلکہ آپ نے اپنے اس تشہد میں ان کا اضافہ ان صحابہ کرام سے لے کر کیا ہے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہیں روایت کیا ہے۔
972- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، قَالَ: صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ، فَلَمَّا جَلَسَ فِي آخِرِ صَلاتِهِ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أُقِرَّتِ الصَّلاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ، فَلَمَّا انْفَتَلَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟ [قَالَ:] فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، قَالَ: فَلَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ [أَنْتَ] قُلْتَهَا، قَالَ: مَا قُلْتُهَا، وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا قُلْتُهَا، وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلا الْخَيْرَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَمَا تَعْلَمُونَ كَيْفَ تَقُولُونَ فِي صَلاتِكُمْ ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا وَعَلَّمَنَا صَلاتَنَا فَقَالَ: < إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ: {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ} فَقُولُوا: آمِينَ، يُحِبُّكُمُ اللَّهُ، وَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا، فَإِنَّ الإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ -قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : فَتِلْكَ بِتِلْكَ- وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، يَسْمَعُ اللَّهُ لَكُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا، فَإِنَّ الإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ -قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: فَتِلْكَ بِتِلْكَ- فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ >، لَمْ يَقُلْ أَحْمَدُ: < وَبَرَكَاتُهُ >، وَلا قَالَ: < وَأَشْهَدُ >، قَالَ: < وَأَنَّ مُحَمَّدًا > ۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۱۶ (۴۰۴)، ن/الإمامۃ ۳۸ (۸۳۱)، والتطبیق ۲۳ (۱۰۶۵)، ۱۰۱ (۱۱۷۳)، والسھو ۴۴ (۱۲۸۱)، ق/اقامۃ الصلاۃ ۲۴ (۹۰۱)، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۸۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۰۱، ۴۰۵، ۴۰۹)، دي/الصلاۃ ۷۱ (۱۳۵۱)(صحیح)
۹۷۲- حطان بن عبد اللہ رقاشی کہتے ہیں کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں صلاۃ پڑھائی تو جب وہ اخیر صلاۃ میں بیٹھنے لگے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: صلاۃ نیکی اور پاکی کے سا تھ مقرر کی گئی ہے تو جب ابو موسی اشعری صلاۃ سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور پوچھا (ابھی) تم میں سے کس نے اس اس طرح کی بات کی ہے؟ ۔
راوی کہتے ہیں: تو لوگ خاموش رہے، پھر انہوں نے پو چھا: تم میں سے کس نے اس اس طرح کی بات کی ہے؟ ۔
راوی کہتے ہیں: لوگ پھر خاموش رہے تو ابو موسی اشعری نے کہا: حطا ن! شاید تم نے یہ با ت کہی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے نہیں کہی ہے اور میں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں آپ مجھے ہی سزا نہ دے ڈالیں۔
راوی کہتے ہیں: پھر ایک دوسرے شخص نے کہا: میں نے کہی ہے اور میری نیت خیر ہی کی تھی، اس پر ابو موسی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ تم اپنی صلاۃ میں کیا کہو؟ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور ہم کو سکھایا اور ہمیں ہمارا طریقہ بتایا اور ہمیں ہماری صلاۃ سکھائی اور فرمایا: ’’جب تم صلاۃ پڑھنے کا قصد کرو، تو اپنی صفوں کو درست کرو، پھر تم میں سے کوئی شخص تمہاری امامت کرے تو جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ
{غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّاْلِّيْنَ} کہے تو تم آمین کہو، اللہ تم سے محبت فرمائے گا۱؎ اور جب وہ’’الله أكبر‘‘ کہے اور رکوع کرے تو تم بھی’’الله أكبر‘‘ کہو اور رکوع کرو کیونکہ امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا‘‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تو یہ اس کے برابر ہو گیا۲؎ اور جب وہ
’’سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ‘‘ کہے تو تم
’’اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ‘‘ کہو، اللہ تمہاری سنے گا، کیو نکہ اللہ تعالی نے اپنے نبی کی زبانی ارشاد فرمایا ہے
’’سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ‘‘ یعنی اللہ تعالی نے اس شخص کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اور جب تکبیر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدہ کرو کیو نکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور تم سے پہلے سر اٹھا ئے گا‘‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تو یہ اس کے برابر ہو جائے گا، پھر جب تم میں سے کوئی قعدہ میں بیٹھے تو اس کی سب سے پہلی بات یہ کہے:
’’التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ‘‘ ( آداب بندگیاں، پاکیزہ خیرات، اور صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں)۔
احمد نے اپنی روایت میں:
"وَبَرَكَاتُهُ" کا لفظ نہیں کہا ہے اور نہ ہی
’’وَأَشْهَدُ‘‘ کہا بلکہ
’’وَأَنَّ مُحَمَّدًا‘‘ کہا ہے۔
وضاحت۱؎: مسلم کی روایت میں
’’يجبكم‘‘ ہے یعنی: اللہ تمہاری دعاء قبول کر لے گا۔
وضاحت۲؎: یعنی امام تم سے جتنا پہلے رکوع میں گیا اتنا ہی پہلے وہ رکوع سے اٹھ گیا اس طرح تمہاری اور امام کی صلاۃ برابر ہو گئی۔
973- حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي غَلابٍ يُحَدِّثُهُ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ الرَّقَاشِيِّ بِهَذَا الْحَدِيثِ، زَادَ: فَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، وَقَالَ فِي التَّشَهُّدِ بَعْدَ < أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ > زَادَ: < وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ>.
قَالَ أَبودَاود: وَقَوْلُهُ < فَأَنْصِتُوا > لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ، لَمْ يَجِئْ بِهِ إِلا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۸۷) (صحیح)
۹۷۳- اس سند سے بھی ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں (سلیمان تیمی) نے یہ اضافہ کیا ہے کہ جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو، اور انہوں نے تشہد میں
’’أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ‘‘ کے بعد
’’وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ‘‘ کا اضافہ کیا ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: آپ کا قول:
’’فَأَنْصِتُوا‘‘ محفوظ نہیں ہے، اس حدیث کے اندر یہ لفظ صرف سلیمان تیمی نے نقل کیا ہے۔
974- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَطَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ، وَكَانَ يَقُولُ: < التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا، وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ >۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۱۶ (۴۰۳)، ت/الصلاۃ ۱۰۴ (۲۹۰)، ن/التطبیق ۱۰۳ (۱۱۷۵)، والسھو ۴۲ (۱۲۷۹)، ق/الإقامۃ ۲۴ (۹۰۰)، (تحفۃ الأشراف: ۵۷۵۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۹۲) (صحیح)
۹۷۴- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جس طرح قرآن سکھاتے تھے، آپ کہا کرتے تھے:
’’التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا، وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ‘‘ (آداب بندگیاں، پاکیزہ صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں)۔
975- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَبُودَاوُدَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ [بْنِ سَمُرَةَ]، عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَمَّا بَعْدُ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا كَانَ فِي وَسَطِ الصَّلاةِ أَوْ حِينَ انْقِضَائِهَا فَابْدَئُوا قَبْلَ التَّسْلِيمِ فَقُولُوا: < التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ وَالصَّلَوَاتُ وَالْمُلْكُ لِلَّهِ > ثُمَّ سَلِّمُوا عَلَى الْيَمِينِ، ثُمَّ سَلِّمُوا عَلَى قَارِئِكُمْ، وَعَلَى أَنْفُسِكُمْ .
قَالَ أَبودَاود: سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى كُوفِيُّ الأَصْلِ كَانَ بِدِمَشْقَ.
قَالَ أَبودَاود: دَلَّتْ هَذِهِ الصَّحِيفَةُ [عَلَى] أَنَّ الْحَسَنَ سَمِعَ مِنْ سَمُرَةَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۱۷)(ضعیف) (اس کے راوی ’’سلیمان بن موسی‘‘ ضعیف ہیں)
۹۷۵- سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ’’اما بعد‘‘ کے بعد کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ جب تم صلاۃ کے بیچ میں یا اخیر میں بیٹھو تو سلام پھیرنے سے قبل یہ دعا پڑھو:
’’التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ وَالصَّلَوَاتُ وَالْمُلْكُ لِلَّهِ‘‘ پھر دائیں جانب سلام پھیرو، پھر اپنے قاری پر اور خود اپنے اوپر سلام کرو۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ صحیفہ (جسے سمرہ نے اپنے بیٹے کے پاس لکھ کر بھیجا تھا) یہ بتا رہا ہے کہ حسن بصری نے سمرہ سے سنا ہے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس جملے کا باب سے تعلق یہ ہے کہ یہ الفاظ جنہیں سلیمان بن سمرہ نے اپنے والد سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس صحیفہ کے الفاظ ہیں جنہیں سمرہ نے املا کرایا تھا اور جنہیں ان سے ان کے بیٹے سلیمان نے روایت کیا ہے، ابو داود کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح سلیمان بن سمرہ کا سماع اپنے والد سمرہ سے ثابت ہے اسی طرح حسن بصری کا سماع بھی ثابت ہے کیونکہ یہ دونوں طبقہ ثالثہ کے راوی ہیں تو جب سلیمان اپنے والد سمرہ سے سن سکتے ہیں تو حسن بصری کے سماع کے لئے بھی کوئی چیز مانع نہیں، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ حسن بصری نے سمرہ سے صرف عقیقہ والی حدیث سنی ہے اور باقی حدیثیں جو سمرہ سے وہ روایت کرتے ہیں وہ اسی صحیفہ میں لکھی ہوئی حدیثیں ہیں سمرہ سے ان کی سنی ہوئی نہیں ہیں ابو داود نے اسی خیال کی تردید کی ہے ۔