293- بَاب الاضْطِجَاعِ بَعْدَهَا
۲۹۳- باب: فجر کی سنت کے بعد لیٹنے کا بیان
1261- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَبُو كَامِلٍ وَعُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ،حَدَّثَن َا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى يَمِينِهِ >، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ: أَمَا يُجْزِءُ أَحَدَنَا مَمْشَاهُ إِلَى الْمَسْجِدِ حَتَّى يَضْطَجِعَ عَلَى يَمِينِهِ؟ قَالَ عُبَيْدُاللَّهِ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: لا، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى نَفْسِهِ، قَالَ: فَقِيلَ لابْنِ عُمَرَ: هَلْ تُنْكِرُ شَيْئًا مِمَّا يَقُولُ؟ قَالَ: لا، وَلَكِنَّهُ اجْتَرَأَ وَجَبُنَّا، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَمَا ذَنْبِي إِنْ كُنْتُ حَفِظْتُ وَنَسَوْا.
* تخريج:ت/الصلاۃ ۱۹۵ (۴۲۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۴۳۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۱۵) (صحیح)
۱۲۶۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے جب کوئی فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لے تو اپنے دائیں کروٹ لیٹ جائے‘‘، اس پر ان سے مروان بن حکم نے کہا: کیا کسی کے لیے مسجد تک چل کر جانا کا فی نہیں کہ وہ دائیں کر وٹ لیٹے؟ عبیدا للہ کی روایت میں ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا :نہیں ،توپھر یہ خبر ابن عمررضی اللہ عنہما کو پہنچی تو انہوں نے کہا: ابوہریرہ نے (کثرت سے روایت کر کے ) خود پر زیادتی کی ہے( اگر ان سے اس میں سہو یا غلطی ہو تو اس کا باران پر ہوگا)، وہ کہتے ہیں: ابن عمرسے پو چھا گیا: جو ابوہریرہ کہتے ہیں، اس میں سے کسی بات سے آپ کو انکا ر ہے؟ تو ابن عمر نے جواب دیا: نہیں، البتہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (روایت کثر ت سے بیان کرنے میں) دلیر ہیں اور ہم کم ہمت ہیں، جب یہ بات ابوہریرہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا: اگر مجھے یا د ہے اور وہ لوگ بھول گئے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے ؟ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : ترمذی، ابن حبان (۲۴۵۹) اور عبدالحق اشبیلی وغیرہ نے اسے صحیح کہا ہے، بعض روایات سے نبی اکرم ﷺ کا فعل ثابت ہے، دونوں روایتوں میں تطبیق یوں ممکن ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم ﷺ کا قول وفعل دونوں نقل کیا ہے، جبکہ ابو صالح سمان راوی نے آپ سے قول نقل کیا ، اور اعمش نے ابو صالح سے امر (قول) یاد رکھا، اور ابن اسحاق نے فعل، اور ہر راوی نے جو بات یاد تھی روایت کی، اس طرح سے سبھوں نے صحیح نقل کیا ہے، اس طرح سے ابو ہریرہ سے امر والی روایت کے محفوظ رکھنے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے فعل نبوی کے محفوظ ہونے کی بات میں تطبیق ہو جائے گی، ابو ہریرہ کے بیان میں حدیث قولی کا مرفوع ہونا ثابت ہے، بعض اہل علم نے فعل رسول کو راجح قرار دیا ہے (ملاحظہ ہو: اعلام اہل العصر بأحکام رکعتی الفجر، للمحدث شمس الحق العظیم آبادی، وشیخ الاسلام ابن تیمیۃ وجہودہ فی الحدیث وعلومہ، للفریوائی، وصحیح ابی داود للألبانی ۴؍ ۴۲۹)
1262- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا قَضَى صَلاتَهُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ نَظَرَ، فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي، وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً أَيْقَظَنِي، وَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيُؤْذِنَهُ بِصَلاةِ الصُّبْحِ، فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلاةِ.
* تخريج: خ/التھجد ۲۴ (۱۱۶۱)، ۲۵ (۱۱۶۲)، ۲۶ (۱۱۶۸)، م/المسافرین ۱۷ (۷۴۳)، ت/الصلاۃ ۱۹۷ (۴۱۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۱۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۵)، وانظر ما یأتي برقم (۱۳۳۵) (صحیح)(فجر کی سنتوں سے پہلے لیٹنے یا بات کرنے والی روایت شاذ ہے، صحیح روایت یہ ہے کہ فجر کی سنتوں کے بعد بات کرتے یا لیٹ جاتے، جیسا کہ صحیحین کی روایتوں میں ہے)
۱۲۶۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب آخری رات میں اپنی صلاۃ پوری کر چکتے تو اگر میں جاگ رہی ہوتی تو آپ مجھ سے گفتگو کرتے اور اگر سو رہی ہوتی تو مجھے جگا دیتے، اور دو رکعتیں پڑھتے پھر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ آپ کے پاس مؤذن آتا اور آپ کوصلاۃِ فجر کی خبر دیتا تو آپ دو ہلکی سی رکعتیں پڑھتے، پھرصلاۃ کے لئے نکل جاتے۔
1263- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ ابْنُ أَبِي عَتَّابٍ أَوْ غَيْرُهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً اضْطَجَعَ، وَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي۔
* تخريج: م/المسافرین ۱۷ (۷۴۳)، وفیہ ’’زیادہ بن سعد عن ابن أبي عتاب‘‘ بلا شک (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۰۷، ۱۷۷۳۲) (صحیح لغیرہ)( حدیث نمبر۱۳۳۶ سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ایک راوی مجہول اور ایک مہبم ہے)
۱۲۶۳- ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب فجر کی دو رکعتیں پڑھ چکتے اور میں سو رہی ہوتی تو لیٹ جاتے اور اگر میں جاگ رہی ہوتی تو مجھ سے گفتگو کرتے۔
1264- حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ وَزِيَادُ بْنُ يَحْيَى قَالا: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَبِي مَكِينٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْفُضَلِ -رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ- عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ لِصَلاةِ الصُّبْحِ فَكَانَ لا يَمُرُّ بِرَجُلٍ إِلا نَادَاهُ بِالصَّلاةِ أَوْ حَرَّكَهُ بِرِجْلِهِ.
قَالَ زِيَادٌ: قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْفُضَيْلِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۰۳) (ضعیف)(اس کے راوی ’’ابو الفضل انصاری‘‘ مجہول ہیں)
۱۲۶۴- ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ فجر کے لئے نکلا، تو آپ جس آدمی کے پاس سے بھی گزرتے اُسے صلاۃ کے لئے آواز دیتے یا پیر سے جگاتے جاتے تھے۔
زیاد کی روایت میں ’’حدثنا أبو الفضل‘‘ کے بجائے ’’حدثنا أبو الفضيل‘‘ ہے۔