• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
331- بَاب السُّجُودِ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَ اقْرَأْ
۳۳۱- باب: سورہ ’’انشقاق‘‘ اور سورہ ’’علق‘‘ میں سجدے کا بیان​


1407- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَجَدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي {إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ} وَ {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ}.
قَالَ أَبودَاود: أَسْلَمَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَنَةَ سِتٍّ عَامَ خَيْبَرَ، وَهَذَا السُّجُودُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ آخِرُ فِعْلِهِ۔
* تخريج: م/المساجد ۲۰ (۵۷۸)، ت/الصلاۃ ۲۸۵ (الجمعۃ ۵۰) (۵۷۳ و ۵۷۴)، ن/الافتتاح ۵۲ (۹۶۸)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۷۱ (۱۰۵۸و ۱۰۵۹)، (تحفۃ الأشراف:۱۴۲۰۶)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۱۰۰(۷۶۶)، ط/القرآن ۵ (۱۲)، حم (۲/۲۴۹، ۴۶۱)، دي/الصلاۃ ۱۶۳ (۱۵۱۲) (صحیح)

۱۴۰۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سورہ {إِذَاْ السَّمَاْءُ انْشَقَّتْ} اور {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ} میں سجدہ کیا۔
ابو داود کہتے ہیں: ابو ہریرہ ۶ھ میں غزوۂ خیبر کے سال اسلام لائے اور رسول اللہ ﷺ کے یہ سجدے آپ کے آخری فعل ہیں۔

1408- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ، فَقَرَأَ: {إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ} فَسَجَدَ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ السَّجْدَةُ؟ قَالَ: سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ ﷺ ، فَلا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ ۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۰۰(۷۶۶)، م/المساجد ۲۰ (۵۷۸)، ن/الافتتاح ۵۳ (۹۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۶۴۹)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۲۹، ۲۵۶، ۲۶۶) (صحیح)

۱۴۰۸- ابو رافع نفیع الصائغ بصری کہتے ہیں کہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء پڑھی، آپ نے {إِذَاْ السَّمَاْءُ انْشَقَّتْ} کی تلاوت کی اور سجدہ کیا، میں نے کہا: یہ سجدہ کیسا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے یہ سجدہ ابو القاسم ﷺ کے پیچھے (صلاۃ پڑھتے ہوئے) کیا ہے اور میں برابر اسے کرتا رہوں گا یہاں تک کہ آپ سے جا ملوں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
32- بَاب السُّجُودِ فِي «ص»
۳۳۲- باب: سورہ ’’ص‘‘ میں سجدے کا بیان​


1409- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَيْسَ (ص) مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَسْجُدُ فِيهَا۔
* تخريج: خ/سجود القرآن ۳ (۱۰۶۹)، ت/الصلاۃ ۲۸۸ (الجمعۃ ۵۳) (۵۷۷)، ن/الافتتاح ۴۸ (۹۵۸)، (تحفۃ الأشراف:۵۹۸۸)، وقد أخرجہ: دي/الصلاۃ ۱۶۱ (۱۵۰۸) (صحیح)

۱۴۰۹- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سورہ ’’ص‘‘ کا سجدہ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔

1410- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ- عَنِ ابْنِ أَبِي هِلالٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ (ص) فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ آخَرُ قَرَأَهَا فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَشَزَّنَ النَّاسُ لِلسُّجُودِ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزَّنْتُمْ لِلسُّجُودِ >، فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدُوا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داو د، (تحفۃ الأشراف:۴۲۷۶)، وقد أخرجہ: دي/الصلاۃ ۱۶۱ (۱۵۰۷) (صحیح)

۱۴۱۰- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سورہ ’’ص‘‘ پڑھی، آپ منبر پر تھے جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا، پھر ایک دن کی بات ہے کہ آپ نے اس سورہ کی تلاوت کی، جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لئے تیار ہو گئے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’یہ سجدہ دراصل ایک نبی ۱؎ کی توبہ تھی، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ سجدے کے لئے تیار ہو رہے ہو‘‘، چنانچہ آپ اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔
وضاحت۱؎: اس سے مراد داود علیہ السلام ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
333- بَاب فِي الرَّجُلِ يَسْمَعُ السَّجْدَةَ وَهُوَ رَاكِبٌ [أَوْفِي غَيْرِ الصَّلاةِ]
۳۳۳- باب: سوار یا وہ شخص جو صلاۃ میں نہ ہو سجدے کی آیت سنے تو کیا کرے؟​


1411- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ أَبُو الْجَمَاهِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ- عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَرَأَ عَامَ الْفَتْحِ سَجْدَةً، فَسَجَدَ النَّاسُ كُلُّهُمْ: مِنْهُمُ الرَّاكِبُ وَالسَّاجِدُ فِي الأَرْضِ، حَتَّى إِنَّ الرَّاكِبَ لَيَسْجُدُ عَلَى يَدِهِ۔
* تخريج: تفرد به أبوداود، (تحفۃ الأشراف:۸۴۴۴) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’مصعب‘‘ لین الحدیث ہیں مگر صحیحین میں یہی روایت قدرے مختصر سیاق میں موجود ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے)
۱۴۱۱- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال سجدے والی آیت پڑھی تو تمام لوگوں نے سجدہ کیا، کچھ ان میں سوار تھے اور کچھ زمین پر سجدہ کرنے والے تھے حتّی کہ سوار اپنے ہاتھ پر سجدہ کر رہے تھے۔

1412- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ (ح) وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، الْمَعْنَى، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ؛ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقْرَأُ عَلَيْنَا السُّورَةَ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: فِي غَيْرِ الصَّلاةِ، ثُمَّ اتَّفَقَا: فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ، حَتَّى لايَجِدَ أَحَدُنَا مَكَانًا لِمَوْضِعِ جَبْهَتِهِ۔
* تخريج: خ/سجود القرآن ۸ (۱۰۷۵)، م/المساجد ۲۰ (۵۷۵)، (تحفۃ الأشراف:۸۰۰۸، ۸۰۱۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۵۷)، دي/الصلاۃ ۱۶۱ (۱۵۰۷) (صحیح)

۱۴۱۲- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں سورہ پڑھ کر سناتے (ابن نمیر کی روایت میں ہے) ’’صلاۃ کے علاوہ میں‘‘ (آگے یحییٰ بن سعید اور ابن نمیر سیاق حدیث میں متفق ہیں)، پھر آپ ﷺ (سجدہ کی آیت آنے پر) سجدہ کرتے، ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم میں سے بعض کو اپنی پیشانی رکھنے کی جگہ نہ مل پاتی ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: ایسی صورت میں وہ اپنے ہاتھ، یا ران، یا دوسرے کی پشت پر سجدہ کر لیتے تھے۔

1413- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقْرَأُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ، فَإِذَا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ كَبَّرَ وَسَجَدَ وَسَجَدْنَا مَعَهُ .
قَالَ عَبْدُالرَّزَّاقِ: وَكَانَ الثَّوْرِيُّ يُعْجِبُهُ هَذَا الْحَدِيثُ.
قَالَ أَبودَاود: يُعْجِبُهُ لأَنَّهُ كَبَّرَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف:۷۷۲۶) (منکر)
(سجدہ کے لئے تکبیر کا تذکرہ منکر ہے، نافع سے روایت کرنے والے عبد اللہ العمری ضعیف ہیں، بغیر تکبیر کے تذکرے کے یہ حدیث ثابت ہے جیسا کہ پچھلی حدیث میں ہے، البتہ دوسروے دلائل سے تکبیر ثابت ہے)
۱۴۱۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم کو قرآن سناتے، جب کسی سجدے کی آیت سے گزرتے تو ’’الله أكبر‘‘ کہتے اور سجدہ کرتے اور آپ کے ساتھ ہم بھی سجدہ کرتے۔
عبد الرزاق کہتے ہیں: یہ حدیث ثوری کو اچھی لگتی تھی۔
ابو داود کہتے ہیں: انہیں یہ اس لئے پسند تھی کہ اس میں ’’الله أكبر‘‘ کا ذکر ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
334-بَاب مَا يَقُولُ إِذَا سَجَدَ
۳۳۴- باب: سجدۂ تلاوت میں کیا پڑھے؟​

1414- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ؛ عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ، يَقُولُ فِي السَّجْدَةِ مِرَارًا: < سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ >۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۲۹۰ (الجمعۃ ۵۵) (۵۸۰)، والدعوات ۳۳ (۳۴۲۵)، ن/التطبیق ۷۰ (۱۱۳۰)، (تحفۃ الأشراف:۱۶۰۸۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۰، ۲۱۷) (صحیح)
(ترمذی اورنسائی کے یہاں سند میں ’’عن رجل‘‘(مجہول راوی) نہیں ہے، اور خالد الخداء کی روایت ابو العالیہ سے ثابت ہے اس لئے اس حدیث کی صحت میں کوئی کلام نہیں)
۱۴۱۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات میں قرآن کے سجدوں میں کئی بار ’’سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ‘‘ (یعنی میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اپنی قوت و طاقت سے اسے پیدا کیا اور اس کے کان اور آنکھ بنائے) کہتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
335- بَاب فِيمَنْ يَقْرَأُ السَّجْدَةَ بَعْدَ الصُّبْحِ
۳۳۵- باب: جوشخص فجر کے بعد سجدہ والی آیت پڑھے تو وہ کب سجدہ کرے؟​


1415- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيُّ قَالَ: لَمَّا بَعَثْنَا الرَّكْبَ - قَالَ أَبودَاود: يَعْنِي إِلَى الْمَدِينَةِ - قَالَ: كُنْتُ أَقُصُّ بَعْدَ صَلاةِ الصُّبْحِ فَأَسْجُدُ، فَنَهَانِي ابْنُ عُمَرَ فَلَمْ أَنْتَهِ، ثَلاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ عَادَ فَقَالَ: إِنِّي صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِي اللَّه عَنْهمْ فَلَمْ يَسْجُدُوا حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۷۱۱۰)، وقد أخرجہ: (حم (۲/۲۴، ۱۰۶) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’ابو بحر عبد الرحمن بن عثمان‘‘ ضعیف ہیں)
۱۴۱۵- ابو تمیمہ طریف بن مجالد ہجیمی کہتے ہیں کہ جب ہم قافلہ کے ساتھ مدینہ آئے تو میں فجر کے بعد وعظ کہا کرتا تھا، اور (سجدہ کی آیت پڑھنے کے بعد) سجدہ کرتا تھا تو مجھے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے تین مرتبہ منع کیا، لیکن میں باز نہیں آیا، آپ نے پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ، ابو بکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے صلاۃ پڑھی لیکن کسی نے سجدہ نہیں کیا یہاں تک کہ سورج نکل آیا۔

* * * * *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وتر کے احکام و مسائل

{ بَاب تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الْوِتْرِ }

336- بَاب اسْتِحْبَابِ الْوِتْرِ
۳۳۶- باب: وتر کے مستحب ہونے کا بیان​

1416- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللَّه عَنْه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ أَوْتِرُوا، فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ >۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۲۱۶، (۴۵۳)، ن/قیام اللیل ۲۵ (۱۶۷۴)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۱۴ (۱۱۶۹)،(تحفۃ الأشراف:۱۰۱۳۵)، وقد أخرجہ: حم (۱/۸۶، ۹۸، ۱۰۰، ۱۰۷، ۱۱۰، ۱۱۵، ۱۲۰، ۱۴۳، ۱۴۴، ۱۴۸)، دي/الصلاۃ ۲۰۹ (۱۶۲۱) (صحیح)
(ابو اسحاق مختلط اور مدلس ہیں، اور عاصم میں قدرے کلام ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
۱۴۱۶- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اے قرآن والو! ۱؎ وتر پڑھا کرو اس لئے کہ اللہ وتر (طاق) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے‘‘۔
وضاحت۱؎: یہاں اہل قرآن سے مراد قرّاء و حفاظ کی جماعت ہے نہ کہ عام مسلمان، اس سے علماء نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ وتر واجب نہیں، اگر وتر واجب ہوتی تو یہ حکم عام ہوتا، اہل قرآن (یعنی قراء و حفاظ و علماء) کے ساتھ خاص نہ ہوتا، نیز آپ ﷺ نے اعرابی سے ’’ليس لك ولا لأصحابك‘‘ جو فرمایا وہ بھی اسی پر دلالت کرتا ہے، امام طیبی کے نزدیک وتر سے مراد تہجد ہے اسی لئے قراء سے خطاب فرمایا ہے۔

1417- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الأَبَّارُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، بِمَعْنَاهُ، زَادَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا تَقُولُ؟ فَقَالَ: < لَيْسَ لَكَ وَلا لأَصْحَابِكَ >۔
* تخريج: ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۱۴ (۱۱۷۰)، (تحفۃ الأشراف:۹۶۲۷) (صحیح)
(متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث بھی صحیح ہے ورنہ ابو عبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے)
۱۴۱۷- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں اتنا مزید ہے: ایک اعرابی نے کہا: آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ تو عبد اللہ بن مسعود نے کہا: یہ حکم تمہارے اور تمہا رے ساتھیوں کے لئے نہیں ہے۔

1418- حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ -الْمَعْنَى-، قَالا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ رَاشِدٍ الزَّوْفِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي مُرَّةَ الزَّوْفِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: قال: الْعَدَوِيُّ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: < إِنَّ اللَّهَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ أَمَدَّكُمْ بِصَلاةٍ وَهِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، وَهِيَ الْوِتْرُ، فَجَعَلَهَا لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ >۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۲۱۵، الوتر ۱ (۴۵۲)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۱۴ (۱۱۶۸)، (تحفۃ الأشراف:۳۴۵۰)، وقد أخرجہ: دي/الصلاۃ ۲۰۸ (۱۶۱۷) (صحیح)
(لیکن ’’هي خير لكم من حمر النعم‘‘ کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، کیوں کہ اس ٹکڑے کے متابعات اور شواہد موجود نہیں ہیں، یعنی یہ حدیث خود ضعیف ہے، اس کے راوی ’’عبد اللہ بن راشد‘‘ مجہول ہیں لیکن متابعات اور شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
۱۴۱۸- خارجہ بن حذافہ عدوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ’’اللہ نے ایک ایسی صلاۃ کے ذریعے تمہاری مدد کی ہے جو سرخ اونٹوں سے بھی تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اور وہ وتر ہے، اس کا وقت اس نے تمہارے لئے عشاء سے طلوع فجر تک مقرر کیا ہے‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
337-بَاب فِيمَنْ لَمْ يُوتِرْ
۳۳۷- باب: جو شخص وتر نہ پڑھے وہ کیسا ہے؟​


1419- حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ الْعَتَكِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < الْوِتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا، الْوِتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا، الْوِتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا >۔
* تخريج: تفردبہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۱۹۸۶)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۵۷) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’عبید اللہ العتکی‘‘ ضعیف ہیں)
۱۴۱۹- بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ’’وتر حق ہے۱؎ جو اسے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے، جو اسے نہ پڑھے ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے، جو اسے نہ پڑھے ہم سے نہیں‘‘۔
وضاحت۱؎: یہ حدیث ضعیف ہے، اگر صحیح ہوتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ وتر کا پڑھنا ثابت ہے، اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس کی تخریج ابن المنذر نے ان الفاظ میں کی ہے ’’الوتر حق وليس بواجب‘‘ یعنی وتر ایک ثابت شدہ امر ہے لیکن واجب نہیں۔

1420- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ؛ عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ أَنَّ رَجُلا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمَخْدَجِيَّ سَمِعَ رَجُلا بِالشَّامِ يُدْعَى أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ: إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، قَالَ الْمَخْدَجِيُّ: فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ عُبَادَةُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: <خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ، فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ: إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ >۔
* تخريج: ن/الصلاۃ ۶ (۴۶۲)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۹۴ (۱۴۰۱)، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۲۲)، وقد أخرجہ: ط/ صلاۃ اللیل ۳ (۱۴)، حم (۵/۳۱۵، ۳۱۹، ۳۲۲)، دي/الصلاۃ ۲۰۸ (۱۶۱۸) (صحیح)

۱۴۲۰- ابن محیریز کہتے ہیں کہ بنو کنانہ کے ایک شخص نے جسے مخدجی کہا جاتا تھا، شام کے ایک شخص سے سنا جسے ابو محمد کہا جاتا تھا وہ کہہ رہا تھا: وتر واجب ہے، مخدجی نے کہا: میں یہ سن کر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے بیان کیا تو عبادہ نے کہا: ابو محمد نے غلط کہا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرما تے سنا ہے: ’’پانچ صلاتیں ہیں جو اللہ نے بندوں پر فرض کی ہیں، پس جس شخص نے ان کو اس طرح ادا کیا ہو گا کہ ان کو ہلکا سمجھ کر ان میں کچھ بھی کمی نہ کی ہو گی تو اس کے لئے اللہ کے پاس جنت میں داخل کرنے کا عہد ہو گا، اور جو شخص ان کو ادا نہ کرے گا تو اس کے لئے اللہ کے پاس کوئی عہد نہیں، اللہ چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اسے جنت میں داخل کرے‘‘۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے وتر کا ذکر نہیں کیا ہے، اگر یہ واجب ہوتی تو آپ ﷺ اسے بھی ضرور بیان فرماتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
338- بَاب كَمِ الْوِتْرُ
۳۳۸- باب: وتر میں کتنی رکعت ہے؟​

1421- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ عُمرَ أَنَّ رَجُلا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ عَنْ صَلاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ بِأُصْبُعَيْهِ هَكَذَا، مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ۔
* تخريج: م/المسافرین ۲۰ (۷۴۹)، ن/ قیام اللیل ۳۲ (۱۶۹۲)، (تحفۃ الأشراف:۷۲۶۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۰، ۵۸، ۷۱، ۷۶، ۷۹، ۸۱، ۱۰۰) (صحیح)

۱۴۲۱- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ دیہات کے ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے تہجد کی صلاۃ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’اس طرح دو دو رکعتیں ہیں اور آخر رات میں وتر ایک رکعت ہے‘‘۔
وضاحت: وتر کی رکعتوں کی تعداد کے سلسلہ میں متعدد روایتیں آئی ہیں جن میں ایک رکعت سے لے کر تیرہ رکعت تک کا ذکر ہے ان روایات کو صحیح مان کر انہیں اختلاف احوال پر محمول کرنا مناسب ہو گا، اور یہ واضح رہے کہ وتر کا مطلب دن بھر کی سنن و نوافل اور تہجد (اگر پڑھتا ہے تو) کو طاق بنا دینا ہے، اب چاہے اخیر میں ایک رکعت پڑھ کر طاق بنا دے یا تین یا پانچ، اور اسی طرح طاق رکعتیں ایک ساتھ پڑھ کر، اور یہ سب صورتیں اللہ کے رسول ﷺ سے ثابت ہیں، نیز یہ بھی واضح رہے کہ وتر کا لفظ تہجد کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے، پانچ، سات، نو، یا تیرہ رکعت وتر کا یہی مطلب ہے، نہ کہ تہجد کے علاوہ مزید پانچ تا تیرہ وتر الگ ہے۔

1422- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي قُرَيْشُ بْنُ حَيَّانَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الْوِتْرُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلاثٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ >۔
* تخريج: ن/قیام اللیل ۳۴ (۱۷۱)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۲۳ (۱۱۹۰)، (تحفۃ الأشراف:۳۴۸۰)، وقد أخرجہ: حم ۵/۴۱۸، دي/الصلاۃ ۲۱۰(۱۶۲۶) (صحیح)

۱۴۲۲- ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’وتر ہر مسلمان پرحق ہے جو پانچ پڑھنا چاہے پانچ پڑھے، جو تین پڑھنا چاہے تین پڑھے اور جو ایک پڑھنا چاہے ایک پڑھے‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
339- بَاب مَا يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ
۳۳۹- باب: وتر میں کون سی سورہ پڑھے؟​

1423- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُوحَفْصٍ الأَبَّارُ (ح) وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَنَسٍ، وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ وَزُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُوتِرُ بِـ{سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى} وَ{قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا} وَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ}۔
* تخريج: ن/قیام اللیل ۳۴ (۱۷۰۰، ۱۷۰۱، ۱۷۰۲)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۱۵ (۱۱۷۲)، (تحفۃ الأشراف:۵۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۲۳) (صحیح)

۱۴۲۳- ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى} اور ’’قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا‘‘ (یعنی {قل يا أيها الكافرون}) اور ’’اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ‘‘ یعنی { قل هو الله أحد پڑھا کرتے تھے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یہ مستحب ہے اگر کوئی شخص ان رکعتوں میں مذکورہ سورتوں کے علاوہ دوسری سورتیں پڑھے توکوئی حرج کی بات نہیں۔

1424- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، عَنْ عَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ: بِأَيِّ شَيْئٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ؟ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ: وَفِي الثَّالِثَةِ بِـ { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ } وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۲۲۳ (الوتر ۹) (۴۶۳)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۱۵ (۱۱۷۳)، (تحفۃ الأشراف:۱۶۳۰۶)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۲۷) (صحیح)
(متابعات کی بنا پر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ عبد العزیز ابن جریج کی ملاقات عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت نہیں)
۱۴۲۴- عبد العزیز بن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ وتر میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے؟ پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی، اور کہا تیسری رکعت میں آپ {قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدْ} اور معوذتین ۱؎ پڑھتے تھے۔
وضاحت۱؎: یعنی {قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} اور {قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاْسِ}۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
340- بَاب الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ
۳۴۰- باب: صلاۃِ وتر میں قنوت پڑھنے کا بیان​

1425- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُوالأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِي اللَّه عَنْهُمَا: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي الْوِتْرِ، قَالَ ابْنُ جَوَّاسٍ: فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ: < اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَاقَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلايُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ [وَلا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ] تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ > ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۲۲۴ (الوتر ۹) (۴۶۴)، ن/قیام اللیل ۴۲ (۱۷۴۶)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۱۷ (۱۱۷۸)، (تحفۃ الأشراف:۳۴۰۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۹۹، ۲۰۰)، دي/الصلاۃ ۲۱۴ (۱۶۳۲) (صحیح)

۱۴۲۵- حسن بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے چند کلمات سکھائے جنہیں میں وتر میں کہا کرتا ہوں (ابن جو اس کی روایت میں ہے ’’جنہیں میں وتر کے قنوت میں کہا کروں‘‘) وہ کلمات یہ ہیں: ’’اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ [وَلا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ] تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ‘‘۱؎ ۔
(اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں (داخل کرکے) جن کو تونے ہدایت دی ہے اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں (داخل کرکے) جن کو تو نے عافیت دی ہے اور میری کارسازی فرما ان لوگوں میں (داخل کرکے) جن کی تو نے کارسازی کی ہے اور مجھے میرے لئے اس چیز میں برکت دے جو تو نے عطا کی ہے اور مجھے اس چیز کی برائی سے بچا جو تو نے مقدر کی ہے، تو فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ جسے تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہو سکتا اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ عزت نہیں پا سکتا، اے ہمارے رب تو بابرکت اور بلند و بالا ہے)۔
وضاحت۱؎: حافظ ابن حجر نے بلوغ المرام میں نسائی کے حوالہ سے ’’وصلى الله على النبي محمد‘‘ کا اضافہ کیا ہے مگر اس کی سند ضعیف ہے، علامہ عزالدین بن عبد السلام نے فتاویٰ (۱/۶۶) میں لکھا ہے کہ قنوت وتر میں نبی اکرم ﷺ پر درود (صلاۃ) بھیجنا ثابت نہیں ہے اور آپ ﷺ کی صلاۃ میں اپنی طرف سے کسی چیزکا اضافہ کرنا مناسب نہیں، علامہ البانی لکھتے ہیں کہ صحیح ابن خزیمہ (۱۰۹۷) میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی ماہ رمضان میں امامت والی حدیث میں ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں قنوت وتر کے آخر میں نبی اکرم ﷺ پر درود (صلاۃ) بھیجتے تھے نیز اسی طرح إسماعیل قاضی کی فضل صلاۃ النبی ﷺ (۱۰۷) وغیرہ میں ابو سلمہ معاذ بن حارث انصاری سے عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں تراویح کی امامت میں قنوت وتر میں رسول اللہ ﷺ پر درود (صلاۃ) بھیجنا ثابت ہے۔

1426- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ فِي آخِرِهِ قَالَ: هَذَا يَقُولُ فِي الْوِتْرِ فِي الْقُنُوتِ، وَلَمْ يَذْكُرْ: <أَقُولُهُنَّ فِي الْوِتْرِ> أَبُو الْحَوْرَاءِ رَبِيعَةُ ابْنُ شَيْبَانَ.
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف:۳۴۰۴) (صحیح)

۱۴۲۶- اس طریق سے بھی ابو اسحاق سے اسی سند کے ساتھ اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، لیکن اس کے آخر میں ہے کہ اسے وہ وترکی قنوت میں کہتے تھے اور ’’أقولهن في الوتر‘‘ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: ابو الحوراء کا نام ربیعہ بن شیبان ہے۔

1427- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمْرٍو الْفَزَارِيِّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ،عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِي اللَّه عَنْه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ: < اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سُخْطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لا أُحْصِي ثَنَائً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ >.
* تخريج: ت/الدعوات ۱۱۳ (۳۵۶۶)، ن/قیام اللیل ۴۲ (۱۷۴۸)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۱۷ (۱۱۷۹)، (تحفۃ الأشراف:۱۰۲۰۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۹۶، ۱۱۸، ۱۵۰) (صحیح)
قَالَ أَبودَاود : هِشَامٌ أَقْدَمُ شَيْخٍ لِحَمَّادٍ، وَبَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ أَنَّهُ قَالَ: لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ.
قَالَ أَبودَاود: رَوَى عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَنَتَ -يَعْنِي فِي الْوِتْرِ- قَبْلَ الرُّكُوعِ.
قَالَ أَبودَاود: رَوَى عِيسَى بْنُ يُونُسَ هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، مِثْلَهُ، وَرُوِيَ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَنَتَ فِي الْوِتْرِ قَبْلَ الرُّكُوعِ.
* تخريج: انظر حدیث رقم : ۱۴۲۳، (تحفۃ الأشراف:۵۴) (صحیح)
قَالَ أَبودَاود : وَحَدِيثُ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ لَمْ يَذْكُرِ الْقُنُوتَ، وَلا ذَكَرَ أُبَيًّا.
* تخريج: ن/قیام اللیل ۴۱ (۱۷۳۹)، (تحفۃ الأشراف:۹۶۸۳) (صحیح)
وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُالأَعْلَى وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، وَسَمَاعُهُ بِالْكُوفَةِ مَعَ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا الْقُنُوتَ، وَقَدْ رَوَاهُ أَيْضًا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ وَشُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ [وَ]لَمْ يَذْكُرَا الْقُنُوتَ.
وَحَدِيثُ زُبَيْدٍ رَوَاهُ سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ وَشُعْبَةُ وَعَبْدُالْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ كُلُّهُمْ عَنْ زُبَيْدٍ لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمُ الْقُنُوتَ، إِلا مَا رُوِيَ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ زُبَيْدٍ، فَإِنَّهُ قَالَ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّهُ قَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ.
قَالَ أَبودَاود: وَلَيْسَ هُوَ بِالْمَشْهُورِ مِنْ حَدِيثِ حَفْصٍ، نَخَافُ أَنْ يَكُونَ عَنْ حَفْصٍ عَنْ غَيْرِ مِسْعَرٍ.
قَالَ أَبودَاود : وَيُرْوَى أَنَّ أُبَيًّا كَانَ يَقْنُتُ فِي النِّصْفِ مِنْ [شَهْرِ] رَمَضَانَ ۔

۱۴۲۷- علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے: ’’اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سُخْطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لا أُحْصِي ثَنَائً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ‘‘ (اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی، تیری سزا سے تیری معافی کی اور تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں، میں تیری تعریف شمار نہیں کر سکتا، تو اسی طرح ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے)۔
ابو داود کہتے ہیں: ہشام حماد کے سب سے پہلے استاذ ہیں اور مجھے یحییٰ بن معین کے واسطہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں کہا ہے کہ ہشام سے سوائے حماد بن سلمہ کے کسی اور نے روایت نہیں کی۔
ابو داود کہتے ہیں: عیسی بن یونس نے سعید بن ابی عروبہ سے، سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے سعید بن عبد الرحمن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبد الرحمن بن ابزی سے اور ابن ابزی نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وتر میں قنوت رکوع سے پہلے پڑھی۔
ابو داود کہتے ہیں: عیسیٰ بن یونس نے اس حدیث کو فطر بن خلیفہ سے بھی روایت کیا ہے اور فطر نے زبید سے، زبید نے سعید بن عبد الرحمن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبد الرحمن بن ابزی سے، ابن ابزی نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اور ابی نے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کی ہے ۔
نیز حفص بن غیاث سے مروی ہے، انہوں نے مسعر سے، مسعر نے زبید سے، زبید نے سعید بن عبد الرحمن بن ابزیٰ سے، سعید نے اپنے والد عبد الرحمن سے اور عبد الرحمن نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ’’رسول اللہ ﷺ نے وتر میں رکوع سے قبل قنوت پڑھی‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: سعید کی حدیث قتادہ سے مروی ہے، اسے یزید بن زریع نے سعید سے، سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے عزرہ سے، عزرہ نے سعید بن عبد الرحمن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبد الرحمن بن ابزی سے اور ابن ابزی نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، اس میں قنوت کا ذکر نہیں ہے اور نہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا۔
اور اسی طرح اسے عبد الاعلی اور محمد بن بشر العبدی نے روایت کیا ہے، اور ان کا سماع کوفہ میں عیسیٰ بن یونس کے ساتھ ہے، انہوں نے بھی قنوت کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔
نیز اسے ہشام دستوائی اور شعبہ نے قتادہ سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا ہے۔
زبید کی روایت کو سلیمان اعمش، شعبہ، عبد الملک بن ابی سلیمان اور جریر بن حازم سبھی نے روایت کیا ہے، ان میں سے کسی ایک نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا ہے، سوائے حفص بن غیاث کی روایت کے جسے انہوں نے مسعر کے واسطے سے زبید سے نقل کیا ہے، اس میں رکوع سے پہلے قنوت کا ذکر ہے۔
ابو داود کہتے ہیں : حفص کی یہ حدیث مشہور نہیں ہے، ہم کو اندیشہ ہے کہ حفص نے مسعر کے علاوہ کسی اور سے روایت کی ہو۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ بھی مروی ہے کہ ابی بن کعب قنوت رمضان کے نصف میں پڑھا کرتے تھے۔

1428- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ أَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ أَمَّهُمْ -يَعْنِي فِي رَمَضَانَ- وَكَانَ يَقْنُتُ فِي النِّصْفِ الآخِرِ مِنْ رَمَضَانَ.
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۷۹) (ضعیف)
(ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے ’’بعض اصحاب‘‘ مجہول ہیں)
۱۴۲۸- محمد بن سیرین اپنے بعض اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے رمضان میں ان کی امامت کی اور وہ رمضان کے نصف آخر میں قنوت پڑھتے تھے۔

1429- حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ ابْنَ الْخَطَّابِ جَمَعَ النَّاسَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَكَانَ يُصَلِّي لَهُمْ عِشْرِينَ لَيْلَةً، وَلا يَقْنُتُ بِهِمْ إِلا فِي النِّصْفِ الْبَاقِي، فَإِذَا كَانَتِ الْعَشْرُ الأَوَاخِرُ تَخَلَّفَ فَصَلَّى فِي بَيْتِهِ، فَكَانُوا يَقُولُونَ أَبَقَ أُبَيٌّ .
قَالَ أَبودَاود: وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الَّذِي ذُكِرَ فِي الْقُنُوتِ لَيْسَ بِشَيْئٍ وَهَذَانِ الْحَدِيثَانِ يَدُلانِ عَلَى ضَعْفِ حَدِيثِ أُبَيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَنَتَ فِي الْوِتْرِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۱۰) (ضعیف)
(حسن بصری اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے درمیان سند میں انقطاع ہے)
۱۴۲۹- حسن بصری سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت پر جمع کر دیا، وہ لوگوں کو بیس راتوں تک صلاۃ (تراویح) پڑھایا کرتے تھے اور انہیں قنوت نصف اخیرہی میں پڑھاتے تھے اور جب آخری عشرہ ہوتا تو مسجد نہیں آتے اپنے گھر ہی میں صلاۃ پڑھا کرتے، لوگ کہتے کہ ابی بھاگ گئے۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ دلیل ہے اس بات کی کہ قنوت کے بارے میں جو کچھ ذکر کیا گیا وہ غیر معتبر ہے اور یہ دونوں حدیثیں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے ضعف پر دلا لت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وتر میں قنوت پڑھی۱؎ ۔
وضاحت۱؎: جب یہ دونوں حدیثیں ضعیف ہیں تو ان سے استدلال درست نہیں ہے، جب کہ وتر میں قنوت والی حدیث سندا صحیح ہے۔
 
Top