342- بَاب فِي الْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ
۳۴۲- باب: سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا بیان
1432- حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مِنْ أَزْدِ شَنُوئَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي ﷺ بِثَلاثٍ لا أَدَعُهُنَّ فِي سَفَرٍ وَلاحَضَرٍ: رَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَصَوْمِ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، وَ[أَنْ] لا أَنَامَ إِلا عَلَى وِتْرٍ۔
* تخريج: تفرد بہ ابوداود ، (تحفۃ الأشراف:۱۴۹۴۰)، وقد أخرجہ: خ/التہجد ۳۳ (۱۱۷۸)، والصیام۶۰ (۱۹۸۱)، م/المسافرین ۱۳ (۷۲۱)، ن/قیام اللیل ۲۶ (۱۶۷۸)، والصیام ۷۰ (۲۳۷۱)، ۸۱ (۲۴۰۷)، حم (۲/۲۲۹، ۲۳۳، ۲۵۴، ۲۵۸، ۲۶۰، ۲۶۵، ۲۷۱، ۲۷۷، ۳۲۹)، دي/الصلاۃ ۱۵۱ (۱۴۹۵)، والصوم ۳۸ (۱۷۸۶) (صحیح) دون قولہ : ’’في سفر ولاحضر‘‘
۱۴۳۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (یار صادق محمد) ﷺ نے تین باتوں کی وصیت کی ہے، جن کو میں سفر اور حضر کہیں بھی نہیں چھوڑتا: چاشت کی دو رکعتیں، ہر ماہ تین دن کے صیام اور وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی۔
وضاحت ۱؎: نبی اکرم ﷺ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ نصیحت اس وجہ سے فرمائی کہ وہ بڑی رات تک حدیثوں کے سننے میں مشغول رہتے تھے اس لئے آپ ﷺ کو اندیشہ ہوا کہ سو جانے کے بعد ان کی وتر قضا نہ ہو جایا کرے، اس وجہ سے آپ ﷺ نے انہیں سو جانے سے پہلے وتر پڑھ لینے کی نصیحت کی۔
1433- حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ السَّكُونِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي ﷺ بِثَلاثٍ لاأَدَعُهُنَّ لِشَيْئٍ: أَوْصَانِي بِصِيَامِ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَلا أَنَامُ إِلا عَلَى وِتْرٍ، وَبِسُبْحَةِ الضُّحَى فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابوداود ، (تحفۃ الأشراف:۱۰۹۲۵)، وقد أخرجہ: م/المسافرین ۱۳(۷۲۲)، حم (۶/۴۴۰، ۴۵۱) (صحیح) (مگر ’’حضر و سفر‘‘ کا لفظ صحیح نہیں ہے، اور یہ مسلم میں موجود نہیں ہے)
۱۴۳۳- ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (محمد) ﷺ نے تین باتوں کی وصیت کی ہے، میں انہیں کسی صورت میں نہیں چھوڑتا، ایک تو مجھے ہر ماہ تین دن صیام رکھنے کی وصیت کی دوسرے وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی اور تیسرے حضر ہو کہ سفر، چاشت کی صلاۃ پڑھنے کی۔
1434- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا [يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ] السَّيْلَحِينِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لأَبِي بَكْرٍ: < مَتَى تُوتِرُ؟ > قَالَ: أُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَقَالَ لِعُمَرَ: < مَتَى تُوتِرُ؟ > قَالَ: آخِرَ اللَّيْلِ، فَقَالَ لأَبِي بَكْرٍ: < أَخَذَ هَذَا بِالْحَزْمِ >، وَقَالَ لِعُمَرَ: < أَخَذَ هَذَا بِالْقُوَّةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۱۲۰۹۲) (صحیح)
۱۴۳۴- ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ’’تم وتر کب پڑھتے ہو؟‘‘، انہوں نے عرض کیا: میں اول شب میں وتر پڑھتا ہوں، پھر آپ ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ’’تم کب پڑھتے ہو؟‘‘، انہوں نے عرض کیا: آخر شب میں، آپ ﷺ نے ابو بکر سے فرمایا کہ انہوں نے احتیاط پر عمل کیا، اور عمر سے فرمایا کہ انہوں نے مشکل کام اختیار کیا جو طاقت و قوت کا متقاضی ہے ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: جس کو اپنے اوپر اعتماد ہو کہ اخیر رات میں جاگ جائے گا اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ اخیر رات میں وتر پڑھے، لیکن جسے اخیر رات میں جاگنے پر بھروسہ نہ ہو اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ سونے سے پہلے وتر پڑھ لے۔