• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
341- بَاب فِي الدُّعَاءِ بَعْدَ الْوِتْرِ
۳۴۱- باب: وتر کے بعد کی دعا کا بیان​

1430- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ الأَيَامِيِّ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا سَلَّمَ فِي الْوِتْرِ قَالَ: < سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ >۔
* تخريج: ن/قیام اللیل ۴۸ (۱۷۳۳)، (تحفۃ الأشراف:۵۵) (صحیح)

۱۴۳۰- ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب وتر میں سلام پھیرتے تو ’’سبحان الملك القدوس‘‘ کہتے۔

1431- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِهِ أَوْ نَسِيَهُ فَلْيُصَلِّهِ إِذَا ذَكَرَهُ >۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۲۲۵ (الوتر ۹) (۴۶۵)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۲۲ (۱۱۸۸)، (تحفۃ الأشراف:۴۱۶۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۱، ۴۴) (صحیح)

۱۴۳۱- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص وتر پڑھے بغیر سو جائے یا اسے پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آجائے اسے پڑھ لے‘‘
۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یہ حکم مستحب ہے واجب نہیں، جیسا کہ بعض روایتوں میں رات کے وظیفہ کے بارے میں آیا ہے کہ اگر رات کو نہ پڑھ سکے تو دن میں قضا کرے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
342- بَاب فِي الْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ
۳۴۲- باب: سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا بیان​


1432- حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مِنْ أَزْدِ شَنُوئَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي ﷺ بِثَلاثٍ لا أَدَعُهُنَّ فِي سَفَرٍ وَلاحَضَرٍ: رَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَصَوْمِ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، وَ[أَنْ] لا أَنَامَ إِلا عَلَى وِتْرٍ۔
* تخريج: تفرد بہ ابوداود ، (تحفۃ الأشراف:۱۴۹۴۰)، وقد أخرجہ: خ/التہجد ۳۳ (۱۱۷۸)، والصیام۶۰ (۱۹۸۱)، م/المسافرین ۱۳ (۷۲۱)، ن/قیام اللیل ۲۶ (۱۶۷۸)، والصیام ۷۰ (۲۳۷۱)، ۸۱ (۲۴۰۷)، حم (۲/۲۲۹، ۲۳۳، ۲۵۴، ۲۵۸، ۲۶۰، ۲۶۵، ۲۷۱، ۲۷۷، ۳۲۹)، دي/الصلاۃ ۱۵۱ (۱۴۹۵)، والصوم ۳۸ (۱۷۸۶) (صحیح) دون قولہ : ’’في سفر ولاحضر‘‘

۱۴۳۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (یار صادق محمد) ﷺ نے تین باتوں کی وصیت کی ہے، جن کو میں سفر اور حضر کہیں بھی نہیں چھوڑتا: چاشت کی دو رکعتیں، ہر ماہ تین دن کے صیام اور وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی۔
وضاحت ۱؎: نبی اکرم ﷺ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ نصیحت اس وجہ سے فرمائی کہ وہ بڑی رات تک حدیثوں کے سننے میں مشغول رہتے تھے اس لئے آپ ﷺ کو اندیشہ ہوا کہ سو جانے کے بعد ان کی وتر قضا نہ ہو جایا کرے، اس وجہ سے آپ ﷺ نے انہیں سو جانے سے پہلے وتر پڑھ لینے کی نصیحت کی۔

1433- حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ السَّكُونِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي ﷺ بِثَلاثٍ لاأَدَعُهُنَّ لِشَيْئٍ: أَوْصَانِي بِصِيَامِ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَلا أَنَامُ إِلا عَلَى وِتْرٍ، وَبِسُبْحَةِ الضُّحَى فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابوداود ، (تحفۃ الأشراف:۱۰۹۲۵)، وقد أخرجہ: م/المسافرین ۱۳(۷۲۲)، حم (۶/۴۴۰، ۴۵۱) (صحیح)
(مگر ’’حضر و سفر ‘‘ کا لفظ صحیح نہیں ہے، اور یہ مسلم میں موجود نہیں ہے)
۱۴۳۳- ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (محمد) ﷺ نے تین باتوں کی وصیت کی ہے، میں انہیں کسی صورت میں نہیں چھوڑتا، ایک تو مجھے ہر ماہ تین دن صیام رکھنے کی وصیت کی دوسرے وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی اور تیسرے حضر ہو کہ سفر، چاشت کی صلاۃ پڑھنے کی۔

1434- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا [يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ] السَّيْلَحِينِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لأَبِي بَكْرٍ: < مَتَى تُوتِرُ؟ > قَالَ: أُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَقَالَ لِعُمَرَ: < مَتَى تُوتِرُ؟ > قَالَ: آخِرَ اللَّيْلِ، فَقَالَ لأَبِي بَكْرٍ: < أَخَذَ هَذَا بِالْحَزْمِ >، وَقَالَ لِعُمَرَ: < أَخَذَ هَذَا بِالْقُوَّةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۱۲۰۹۲) (صحیح)

۱۴۳۴- ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ’’تم وتر کب پڑھتے ہو؟‘‘، انہوں نے عرض کیا: میں اول شب میں وتر پڑھتا ہوں، پھر آپ ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ’’تم کب پڑھتے ہو؟‘‘، انہوں نے عرض کیا: آخر شب میں، آپ ﷺ نے ابو بکر سے فرمایا کہ انہوں نے احتیاط پر عمل کیا، اور عمر سے فرمایا کہ انہوں نے مشکل کام اختیار کیا جو طاقت و قوت کا متقاضی ہے ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: جس کو اپنے اوپر اعتماد ہو کہ اخیر رات میں جاگ جائے گا اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ اخیر رات میں وتر پڑھے، لیکن جسے اخیر رات میں جاگنے پر بھروسہ نہ ہو اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ سونے سے پہلے وتر پڑھ لے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
343-بَاب فِي وَقْتِ الْوِتْرِ
۳۴۳- باب: وترکے وقت کا بیان​


1435- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: مَتَى كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ؟ قَالَتْ: كُلَّ ذَلِكَ قَدْ فَعَلَ، أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَوَسَطَهُ، وَآخِرَهُ، وَلَكِنِ انْتَهَى وِتْرُهُ حِينَ مَاتَ إِلَى السَّحَرِ۔
* تخريج: خ/الوتر۲(۹۹۶)، م/المسافرین۱۷ (۷۴۵)، (تحفۃ الأشراف:۱۷۶۳۹)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۲۱۸ (الوتر ۴) (۴۵۷)، ن/قیام اللیل۳۰ (۱۶۸۲)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۲۱(۱۱۸۶)، حم (۶/ ۴۶، ۱۰۰، ۱۰۷، ۱۲۹، ۲۰۵، ۲۰۶)، دي/الصلاۃ ۲۱۱ (۱۶۲۸) (صحیح)

۱۴۳۵- مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ وتر کب پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: سبھی وقتوں میں آپ نے پڑھا ہے، شروع رات میں بھی پڑھا ہے، درمیان رات میں بھی اور آخری رات میں بھی لیکن جس وقت آپ کی وفات ہوئی آپ کی وتر صبح ہو چکنے کے قریب پہنچ گئی تھی۔

1436- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ >۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۲۲۶ (۴۶۷)، (تحفۃ الأشراف:۸۱۳۲)، وقد أخرجہ: م/المسافرین ۲۰ (۷۵۰)، حم ۱(۲/۳۷، ۳۸) (صحیح)

۱۴۳۶- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو‘‘۔

1437- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ أَبِي قَيْسٍ، [قَالَ:] سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، قَالَتْ: رُبَّمَا أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَرُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ آخِرِهِ، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَتْ قِرَائَتُهُ؟ أَكَانَ يُسِرُّ بِالْقِرَائَةِ أَمْ يَجْهَرُ؟ قَالَتْ: كُلَّ ذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ، رُبَّمَا أَسَرَّ وَرُبَّمَا جَهَرَ، وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ، وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ. قَالَ أَبودَاود: وقَالَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ: تَعْنِي فِي الْجَنَابَةِ۔
* تخريج: م/الحیض ۶ (۳۰۷)، ت/الصلاۃ ۲۱۲ (۴۴۹)، فضائل القران ۲۳ (۲۹۲۴)، (تحفۃ الأشراف:۱۶۲۷۹)، وقد أخرجہ: ن/قیام اللیل ۲۱ (۱۶۶۳)، حم (۶/۷۳، ۱۴۹، ۱۶۷) (صحیح)

۱۴۳۷- عبد اللہ بن ابو قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں پوچھا: انہوں نے کہا: کبھی شروع رات میں وتر پڑھتے اور کبھی آخری رات میں، میں نے پوچھا: آپ کی قرأت کیسی ہوتی تھی؟ کیا سری قرأت کرتے تھے یا جہری ؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ دونوں طرح سے پڑھتے تھے، کبھی قراءت سری کرتے اور کبھی جہری، کبھی غسل کر کے سوتے اور کبھی وضو کر کے سو جاتے۔
ابو داود کہتے ہیں: قتیبہ کے علاوہ دوسروں نے کہا ہے کہ غسل سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد غسل جنابت ہے۔

1438- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، قَالَ: < اجْعَلُوا آخِرَ صَلاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا >۔
* تخريج: خ/الوتر ۵ (۹۹۸)، م/المسافرین ۲۰ (۷۵۱)، (تحفۃ الأشراف:۸۱۴۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۰، ۱۰۲، ۱۴۳) (صحیح)

۱۴۳۸- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:’’اپنی رات کی آخری صلاۃ وتر کو بنایا کرو‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
344- بَاب فِي نَقْضِ الْوِتْرِ
۳۴۴- باب: وتر دوبارہ نہ پڑھنے کا بیان​


1439- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، قَالَ: زَارَنَا طَلْقُ بْنُ عَلِيٍّ فِي يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ وَأَمْسَى عِنْدَنَا وَأَفْطَرَ، ثُمَّ قَامَ بِنَا اللَّيْلَةَ، وَأَوْتَرَ بِنَا، ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدِهِ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ، حَتَّى إِذَا بَقِيَ الْوِتْرُ قَدَّمَ رَجُلا فَقَالَ: أَوْتِرْ بِأَصْحَابِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: < لا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ >۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۲۲۷ (الوتر۱۳) (۴۷۰)، ن/قیام اللیل ۲۷ (۱۶۸۰)، (تحفۃ الأشراف:۵۰۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۳) (صحیح)

۱۴۳۹- قیس بن طلق کہتے ہیں کہ طلق بن علی رضی اللہ عنہ رمضان میں ایک دن ہمارے پاس آئے، شام تک رہے صیام افطار کیا، پھراس رات انہوں نے ہمارے ساتھ قیام اللیل کیا، ہمیں وتر پڑھائی پھر اپنی مسجد میں گئے اور اپنے ساتھیوں کو صلاۃ پڑھائی یہاں تک کہ جب صرف وتر باقی رہ گئی تو ایک شخص کو آگے بڑھایا اور کہا: اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھاؤ، اس لئے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے سنا ہے کہ ’’ایک رات میں دو وتر نہیں‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
345- بَاب الْقُنُوتِ فِي الصَّلَوَاتِ
۳۴۵- باب: فرض صلاۃ میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان​

1440- حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ -يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ- حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ [قَالَ:] حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: وَاللَّهِ لأُقَرِّبَنَّ لَكُمْ صَلاةَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، قَالَ: فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ مِنْ صَلاةِ الظُّهْرِ، وَصَلاةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ، وَصَلاةِ الصُّبْحِ، فَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْكَافِرِينَ۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۲۶ (۷۹۷)، م/المساجد ۵۴ (۲۷۶)، ن/التطبیق ۲۸ (۱۰۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۲۱)، وقد أخرجہ: ط/الصلاۃ ۴(۱۹)، حم (۲/۲۵۵، ۳۳۷، ۴۷۰) (صحیح)

۱۴۴۰- ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ ہم سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کرتے ہوئے کہا: اللہ کی قسم! میں تم لوگوں کے لئے رسول اللہ ﷺ کی صلاۃ سے قریب ترین صلاۃ پڑھوں گا، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ظہر کی آخری رکعت میں اور عشاء اور فجرمیں دعائے قنوت پڑھتے تھے اور مومنوں کے لئے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے تھے۔

1441- حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالُوا كُلُّهُمْ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَقْنُتُ فِي صَلاةِ الصُّبْحِ، زَادَ ابْنُ مُعَاذٍ: وَصَلاةِ الْمَغْرِبِ۔
* تخريج: م/المساجد ۵۴ (۶۷۸)، ت/الصلاۃ ۱۷۸ (۴۰۱)، ن/التطبیق ۲۹ (۱۰۷۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۸۰، ۲۸۵، ۲۹۹، ۳۰۰)، دي/الصلاۃ ۲۱۶ (۱۶۳۸) (صحیح)

۱۴۴۱- براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فجر میں قنوت پڑھتے تھے۔
ابن معاذ نے ـ’’صلاۃِ مغرب‘‘ کا بھی اضافہ کیا ہے۔

1442- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَانِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ [بْنُ عَبْدِالرَّحْمَانِ]، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي صَلاةِ الْعَتَمَةِ شَهْرًا يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ: < اللَّهُمَّ نَجِّ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ >.
قَالَ أَبُوهُرَيْرَةَ: وَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَدْعُ لَهُمْ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: < وَمَا تُرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا؟ >.
* تخريج: م/المسافرین (۶۷۵)، (تحفۃ الأشراف:۱۵۳۸۷)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۱۲۸ (۸۰۴)، والاستسقاء ۲ (۱۰۰۶)، والجہاد ۹۸ (۲۹۳۲)، والأنبیاء ۱۹ (۳۳۸۶)، وتفسیر آل عمران ۹ (۴۵۶۰)، وتفسیر النساء ۲۱ (۴۵۹۸)، والدعوات ۵۸ (۶۳۹۳)، والإکراہ ۱ (۶۹۴۰)، والأدب ۱۱۰ (۶۲۰۰)، ن/التطبیق ۲۷ (۱۰۷۴)، ق/الاقامۃ ۱۴۵ (۱۲۴۴)، حم (۲/۲۳۹، ۲۵۵، ۲۷۱، ۴۱۸، ۴۷۰ ، ۵۰۷، ۵۲۱) (صحیح) دون قولہ : ’’فذکرت۔۔۔‘‘

۱۴۴۲- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ماہ تک عشاء میں دعائے قنوت پڑھی، آپ اس میں دعا فرماتے: ’’اللَّهُمَّ نَجِّ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ‘‘(اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! کمزور مومنوں کو نجات دے اے اللہ! مضر پر اپنا عذاب سخت کر اور ان پر ایسا قحط ڈال دے جیسا یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں پڑا تھا)۔
ابو ہریرہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ ﷺ نے فجر میں ان لوگوں کے لئے دعا نہیں کی، تو میں نے اس کا ذکر آپ سے کیا توآپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم نے نہیں دیکھا کہ یہ لوگ (اب کافروں کی قید سے نکل کر مدینہ) آچکے ہیں؟‘‘۔

1443- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ هِلالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَصَلاةِ الصُّبْحِ، فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ، يَدْعُو عَلَى أَحْيَائٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ: عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ، وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف:۶۲۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۰۱) (حسن)

۱۴۴۳- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر میں ہرصلاۃ کے بعد ایک ماہ تک مسلسل قنوت پڑھی، جب آخری رکعت میں ’’سمع الله لمن حمده‘‘ کہتے تو آپ ﷺ بنی سلیم کے قبائل: رعل، ذکوان اور عصیہ کے حق میں بددعا کرتے اور جو لوگ آپ کے پیچھے ہوتے آمین کہتے۔

1444- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُسَدَّدٌ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ سُئِلَ: هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي صَلاةِ الصُّبْحِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقِيلَ لَهُ: قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ؟ قَالَ: بَعْدَ الرُّكُوعِ، قَالَ مُسَدَّدٌ: بِيَسِيرٍ۔
* تخريج: خ/الوتر ۷ (۱۰۰۱)، م/المساجد ۵۴ (۶۷۷)، ن/التطبیق ۲۷ (۱۰۷۲)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۲۰ (۱۱۸۲ و۱۱۸۴)، (تحفۃ الأشراف:۱۴۵۳)، وقد أخرجہ: دي/الصلاۃ ۲۱۶ (۱۶۳۷)، حم (۳/۱۱۳) (صحیح)

۱۴۴۴- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ ﷺ نے فجر میں دعائے قنوت پڑھی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، پھر ان سے پوچھا گیا: رکوع سے پہلے یا بعد میں؟ تو انہوں نے کہا: رکوع کے بعد میں۱؎ ۔
مسدد کی روایت میں ہے کہ ’’تھوڑی مدت تک‘‘ ۲؎ ۔
وضاحت۱؎: قنوت کی دو قسمیں ہیں: قنوت نازلہ اور قنوت وتر یہاں حدیث میں قنوت نازلہ مراد ہے اور یہ رکوع کے بعد فرض صلاۃ میں دشمنان اسلام کے لئے بددعا کے طور پر پڑھی جاتی ہے۔
وضاحت۲؎: یہ مدت ایک مہینہ پر مشتمل تھی۔

1445- حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَنَتَ شَهْرًا ثُمَّ تَرَكَهُ۔
* تخريج: م/المساجد ۵۴ (۶۷۸)، (تحفۃ الأشراف:۲۳۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۸۴، ۲۴۹) (صحیح)

۱۴۴۵- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک ماہ تک قنوت پڑھی پھر اسے ترک کر دیا۔

1446- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُفَضَّلٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، [قَالَ:] حَدَّثَنِي مَنْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ ﷺ صَلاةَ الْغَدَاةِ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ قَامَ هُنَيَّةً۔
* تخريج: ن/التطبیق ۲۷ (۱۰۷۳)، (تحفۃ الأشراف:۱۵۶۶۷) (صحیح)

۱۴۴۶- محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا ہے جس نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ فجر پڑھی کہ جب آپ دوسری رکعت سے سر اٹھاتے تو تھوڑی دیر کھڑے رہتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
346-بَاب فِي فَضْلِ التَّطَوُّعِ فِي الْبَيْتِ
۳۴۶- باب: نفلی صلاۃ گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان​

1447- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ- عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ: احْتَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي الْمَسْجِدِ حُجْرَةً، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَخْرُجُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُصَلِّي فِيهَا، قَالَ: فَصَلَّوْا مَعَهُ لِصَلاتِهِ -يَعْنِي رِجَالا- وَكَانُوا يَأْتُونَهُ كُلَّ لَيْلَةٍ، حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةٌ مِنَ اللَّيَالِي لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، فَتَنَحْنَحُوا وَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ، وَحَصَبُوا بَابَهُ، قَالَ: فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مُغْضَبًا، فَقَالَ: <[يَا] أَيُّهَا النَّاسُ، مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنْ سَتُكْتَبَ عَلَيْكُمْ، فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلاةِ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ خَيْرَ صَلاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلا الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ >۔
* تخريج: انظرحدیث رقم (۱۰۴۴)، (تحفۃ الأشراف:۳۶۹۸) (صحیح)

۱۴۴۷- زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کے ایک حصہ کو چٹائی سے گھیر کرایک حجرہ بنا لیا، آپ رات کو نکلتے اور اس میں صلاۃ پڑھتے تھے، کچھ لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ صلاۃ پڑھنی شروع کر دی وہ ہر رات آپ کے پاس آنے لگے یہاں تک کہ ایک رات آپ ﷺ ان کی طرف نہیں نکلے، لوگ کھنکھارنے اور آوازیں بلند کرنے لگے، اور آپ کے دروازے پر کنکر مارنے لگے، تو رسول اللہ ﷺ غصے میں ان کی طرف نکلے اور فرمایا: ’’لوگو! تم مسلسل ایسا کئے جا رہے تھے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ کہیں تم پر یہ فرض نہ کر دی جائے، لہٰذا اب تم کو چاہئے کہ گھروں میں صلاۃ پڑھا کرو اس لئے کہ آدمی کی سب سے بہتر صلاۃ وہ ہے جسے وہ اپنے گھر میں پڑھے۱؎ سوائے فرض صلاۃ کے‘‘۔
وضاحت۱؎: یہ حکم تمام نفلی صلاۃ کو شامل ہے البتہ اس حکم سے وہ صلاۃ مستثنیٰ ہے جس کا شمار شعائر اسلام میں سے ہے مثلاً عیدین، استسقا اور کسوف و خسوف (چاند اور سورج گرہن) کی صلاۃ۔

1448- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < اجْعَلُوا فِي بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلاتِكُمْ، وَلا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم (۱۰۴۳)، (تحفۃ الأشراف:۸۱۴۲) (صحیح)

۱۴۴۸- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اپنی صلاۃ میں سے کچھ گھروں میں پڑھا کرو، اور انہیں قبرستان نہ بناؤ‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
347- بَاب طُولِ الْقِيَامِ
۳۴۷- باب: صلاۃ میں دیرتک قیام کا بیان​

1449- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الأَزْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ سُئِلَ: أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: < طُولُ الْقِيَامِ >، قِيلَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: < جَهْدُ الْمُقِلِّ >، قِيلَ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: < مَنْ هَجَرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ >، قِيلَ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: < مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ >، قِيلَ: فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ؟ قَالَ: < مَنْ أُهَرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ >۔
* تخريج: انظرحدیث رقم : (۱۳۲۵)، (تحفۃ الأشراف:۵۲۴۱) (صحیح ) بلفظ : ’’ أي الصلاۃ ‘‘

۱۴۴۹- عبد اللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’صلاۃ میں دیر تک کھڑے رہنا‘‘، پھر پوچھا گیا : کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کم مال والا محنت کی کمائی میں سے جو صدقہ دے‘‘، پھر پوچھا گیا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اس شخص کی ہجرت جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جنہیں اللہ نے اس پر حرام کیا ہے‘‘، پھر پوچھا گیا: کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اس شخص کا جہاد جس نے اپنی جان و مال کے ساتھ مشرکین سے جہاد کیا ہو‘‘، پھر پوچھا گیا: کون سا قتل افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کی راہ میں جس کا خون بہایا گیا ہو اور جس کے گھوڑے کے ہاتھ پاؤں کا ٹ لئے گئے ہوں‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
348- بَاب الْحَثِّ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ
۳۴۸- باب: صلاۃِ تہجد پڑھنے کی ترغیب دینے کا بیان​

1450- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، حَدَّثَنَا الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < رَحِمَ اللَّهُ رَجُلا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّتْ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا، فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ >۔
* تخريج: ن/قیام اللیل ۵ (۱۶۱۱)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۷۵ (۱۳۳۶)، (تحفۃ الأشراف:۱۲۸۶۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۵۰، ۴۳۶) (حسن صحیح)

۱۴۵۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے، پھر صلاۃ پڑھے اپنی بیوی کو بھی جگائے تو وہ بھی صلاۃ پڑھے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ رحم فرمائے اس عورت پر جو رات کو اٹھ کر صلاۃ پڑھے، اپنے شوہر کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے‘‘۔

1451- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ، عَنِ الأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ [الْخُدْرِيِّ] وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنَ اللَّيْلِ وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّيَا رَكْعَتَيْنِ جَمِيعًا كُتِبَا مِنَ الذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ >۔
* تخريج: ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۷۵ (۱۳۳۵)، (تحفۃ الأشراف:۳۹۶۵)، وقد أخرجہ: ن الکبری/ التفسیر (۱۱۴۰۶) (صحیح)

۱۴۵۱- ابو سعید خدری اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو رات کو بیدا ر ہو اور اپنی بیوی کو جگائے پھر دونوں دو دو رکعتیں پڑھیں تو وہ کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مردوں اور ذکر کرنے والی عورتوں میں لکھے جائیں گے‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
349- بَاب فِي ثَوَابِ قِرَائَةِ الْقُرْآنِ
۳۴۹- باب: قرآن پڑھنے کے ثواب کا بیان​

1452- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ >۔
* تخريج: خ/فضائل القرآن ۲۱ (۲۹۰۷)، ت/فضائل القرآن ۱۵ (۲۹۰۷، ۲۹۰۸)، ق/المقدمۃ ۱۶ (۲۱۲)، (تحفۃ الأشراف:۹۸۱۳)، وقد أخرجہ: ن الکبری/فضائل القرآن (۸۰۳۷)، حم (۱/۵۷، ۵۸، ۶۹)، دي/فضائل القرآن ۲ (۳۳۴۱) (صحیح)

۱۴۵۲- عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے‘‘۔

1453- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ زَبَّانِ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ أُلْبِسَ وَالِدَاهُ تَاجًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ضَوْئُهُ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتِ الدُّنْيَا لَوْكَانَتْ فِيكُمْ، فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهَذَا >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۱۱۲۹۴)، وقد أخرجہ: (حم (۳/۴۴۰) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’زبُّان‘‘ اور ’’سہل‘‘ ضعیف ہیں)
۱۴۵۳- معاذ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے قرآن پڑھا اور اس کی تعلیمات پرعمل کیا تو اس کے والدین کو قیامت کے روز ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک سورج کی اس روشنی سے بھی زیادہ ہو گی جو تمہارے گھروں میں ہوتی ہے اگر وہ تمہارے درمیان ہوتا، ( پھر جب اس کے ماں باپ کا یہ درجہ ہے) تو خیال کرو خود اس شخص کا جس نے قرآن پر عمل کیا، کیا درجہ ہو گا‘‘۔

1454- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَهَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ فَلَهُ أَجْرَانِ >۔
* تخريج: خ/تفسیر القرآن ۷۹ (۴۹۳۷)، م/المسافرین ۳۸ (۷۹۸)، ت/فضائل القرآن ۱۳ (۲۹۰۴)، ن الکبری / فضائل القرآن (۸۰۴۵، ۸۰۴۶)، ق/الأدب ۵۲ (۳۷۷۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۱۰۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۸، ۹۴، ۹۸، ۱۱۰، ۱۷۰، ۱۹۲، ۲۳۹، ۲۶۶)، دي/فضائل القرآن ۱۱ (۳۴۱۱) (صحیح)

۱۴۵۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جو شخص قرآن پڑھتا ہو اور اس میں ماہر ہو تو وہ بڑی عزت والے فرشتوں اور پیغمبروں کے ساتھ ہو گا اور جو شخص اٹک اٹک کر پریشانی کے ساتھ پڑھے تو اسے دہرا ثواب ملے گا‘‘۔

1455- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ؛ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ تَعَالَى يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلائِكَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ >۔
* تخريج: م/الذکر والدعاء ۱۱ (۲۶۹۹)، ق/المقدمۃ ۱۷ (۲۲۵)، (تحفۃ الأشراف:۱۲۵۳۷)، وقد أخرجہ: ت/الحدود ۳ (۱۴۲۵)، والبر والصلۃ ۱۹ (۱۹۳۰)، والعلم ۲ (۲۶۴۶)، والقرائات ۱۲ (۲۹۴۶)، حم (۲/۲۵۲)، دي/المقدمۃ ۳۲ (۳۶۸) (صحیح)

۱۴۵۵- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’ جو بھی قوم (جماعت) اللہ کے گھروں یعنی مساجد میں سے کسی گھر یعنی مسجد میں جمع ہو کر کتا ب اللہ کی تلاوت کرتی اور باہم اسے پڑھتی پڑھاتی ہے اس پر سکینت نازل ہوتی ہے، اسے اللہ کی رحمت ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے اسے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور اللہ تعالی اس کا ذکر ان لوگوں میں کرتا ہے، جو اس کے پاس رہتے ہیں یعنی مقربین ملائکہ میں‘‘۔

1456- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ فَقَالَ: < أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ إِلَى بُطْحَانَ أَوِ الْعَقِيقِ، فَيَأْخُذَ نَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ زَهْرَاوَيْنِ بِغَيْرِ إِثْمٍ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلا قَطْعِ رَحِمٍ؟ > قَالُوا: كُلُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: < فَلأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَتَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ، وَإِنْ ثَلاثٌ فَثَلاثٌ مِثْلُ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الإِبِلِ >۔
* تخريج: م/المسافرین ۴۱ (۸۰۳)، (تحفۃ الأشراف:۹۹۴۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۵۴) (صحیح)

۱۴۵۶- عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے ہم صفہ (چبوترے) پر تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ صبح کو بطحان یا عقیق جائے، پھر بڑی کوہان والے موٹے تازے دو اونٹ بغیر کوئی گناہ یا قطع رحمی کئے لے کر آئے؟‘‘، صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے سبھوں کی یہ خواہش ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تو تم میں سے کوئی اگر روزانہ صبح کو مسجد جائے اور قرآن مجید کی دو آیتیں سیکھے تو یہ اس کے لئے ان دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور اسی طرح سے تین آیات سیکھے تو تین اونٹنیوں سے بہتر ہے‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
350- بَاب فَاتِحَةِ الْكِتَابِ
۳۵۰- باب: سورہ فاتحہ کی فضیلت کا بیان​

1457- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <{الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} أُمُّ الْقُرْآنِ وَأُمُّ الْكِتَابِ، وَالسَّبْعُ الْمَثَانِي >۔
* تخريج: خ/تفسیر القرآن ۳ (۴۷۰۴)، ت/فضائل القرآن ۱ (۲۸۲۵)، وتفسیر القرآن ۱۶ (۳۱۲۴)، (تحفۃ الأشراف:۱۳۰۱۴)، وقد أخرجہ: ن/الافتتاح ۲۶ (۹۱۵)، حم (۲/۴۴۸)، دي/فضائل القرآن ۱۲ (۳۴۱۷) (صحیح)

۱۴۵۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: { الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} ام القرآن اور ام الکتاب ہے اور سبع مثانی ۱؎ ہے۔
وضاحت۱؎: سبع اس لئے کہ اس میں سات آیتیں ہیں اور مثانی اس لئے کہ وہ ہر صلاۃ میں دہرائی جاتی ہیں۔

1458- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ يُحَدِّثُ؛ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَدَعَاهُ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ، قَالَ: فَقَالَ: < مَا مَنَعَكَ أَنْ تُجِيبَنِي؟ > قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي، قَالَ: < أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ}؟ لأُعَلِّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ -أَوْ فِي الْقُرْآنِ شَكَّ خَالِدٌ- قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ > قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَوْلُكَ، قَالَ: <{الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [وَ] هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي الَّتِي أُوتِيتُ وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ >۔
* تخريج: خ/تفسیر الفاتحۃ ۱ (۴۴۷۴)، وتفسیر الأنفال ۳ (۴۶۴۸)، وتفسیر الحجر ۳ (۴۷۰۳)، وفضائل القرآن ۹ (۵۰۰۶)، ن/الافتتاح ۲۶ (۹۱۴)، ق/الأدب ۵۲ (۳۷۸۵)، (تحفۃ الأشراف:۱۲۰۴۷)، وقد أخرجہ: ط/الصلاۃ ۷ (۳۷)، حم (۳/۴۵۰، ۴/۲۱۱)، دي/الصلاۃٔ ۱۷۲ (۱۵۳۳)، وفضائل القرآن ۱۲ (۳۴۱۴) (صحیح)

۱۴۵۸- ابو سعید بن معلی رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا گزر ان کے پاس سے ہوا وہ صلاۃ پڑھ رہے تھے، تو آپ نے انہیں بلایا، میں (صلاۃ پڑھ کر) آپ کے پاس آیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ’’تم نے مجھے جواب کیوں نہیں دیا؟‘‘، عرض کیا: میں صلاۃ پڑھ رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا: ’’اے مومنو! جواب دو اللہ اور اس کے رسول کو، جب رسول اللہ تمہیں ایسے کام کے لئے بلائیں، جس میں تمہاری زندگی ہے‘‘ میں تمہیں قرآن کی سب سے بڑی سورہ سکھاؤں گا اس سے پہلے کہ میں مسجد سے نکلوں‘‘، (جب آپ ﷺ مسجد سے نکلنے لگے) تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابھی آپ نے کیا فرمایا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’وہ سورہ {الحمد لله رب العالمين} ہے اور یہی سبع مثانی ہے جو مجھے دی گئی ہے اور قرآن عظیم ہے‘‘۔
 
Top