345- بَاب الْقُنُوتِ فِي الصَّلَوَاتِ
۳۴۵- باب: فرض صلاۃ میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان
1440- حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ -يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ- حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ [قَالَ:] حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: وَاللَّهِ لأُقَرِّبَنَّ لَكُمْ صَلاةَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، قَالَ: فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ مِنْ صَلاةِ الظُّهْرِ، وَصَلاةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ، وَصَلاةِ الصُّبْحِ، فَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْكَافِرِينَ۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۲۶ (۷۹۷)، م/المساجد ۵۴ (۲۷۶)، ن/التطبیق ۲۸ (۱۰۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۲۱)، وقد أخرجہ: ط/الصلاۃ ۴(۱۹)، حم (۲/۲۵۵، ۳۳۷، ۴۷۰) (صحیح)
۱۴۴۰- ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ ہم سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کرتے ہوئے کہا: اللہ کی قسم! میں تم لوگوں کے لئے رسول اللہ ﷺ کی صلاۃ سے قریب ترین صلاۃ پڑھوں گا، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ظہر کی آخری رکعت میں اور عشاء اور فجرمیں دعائے قنوت پڑھتے تھے اور مومنوں کے لئے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے تھے۔
1441- حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالُوا كُلُّهُمْ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَقْنُتُ فِي صَلاةِ الصُّبْحِ، زَادَ ابْنُ مُعَاذٍ: وَصَلاةِ الْمَغْرِبِ۔
* تخريج: م/المساجد ۵۴ (۶۷۸)، ت/الصلاۃ ۱۷۸ (۴۰۱)، ن/التطبیق ۲۹ (۱۰۷۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۸۰، ۲۸۵، ۲۹۹، ۳۰۰)، دي/الصلاۃ ۲۱۶ (۱۶۳۸) (صحیح)
۱۴۴۱- براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فجر میں قنوت پڑھتے تھے۔
ابن معاذ نے ـ’’صلاۃِ مغرب‘‘ کا بھی اضافہ کیا ہے۔
1442- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَانِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ [بْنُ عَبْدِالرَّحْمَانِ]، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي صَلاةِ الْعَتَمَةِ شَهْرًا يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ: < اللَّهُمَّ نَجِّ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ >.
قَالَ أَبُوهُرَيْرَةَ: وَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَدْعُ لَهُمْ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: < وَمَا تُرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا؟ >.
* تخريج: م/المسافرین (۶۷۵)، (تحفۃ الأشراف:۱۵۳۸۷)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۱۲۸ (۸۰۴)، والاستسقاء ۲ (۱۰۰۶)، والجہاد ۹۸ (۲۹۳۲)، والأنبیاء ۱۹ (۳۳۸۶)، وتفسیر آل عمران ۹ (۴۵۶۰)، وتفسیر النساء ۲۱ (۴۵۹۸)، والدعوات ۵۸ (۶۳۹۳)، والإکراہ ۱ (۶۹۴۰)، والأدب ۱۱۰ (۶۲۰۰)، ن/التطبیق ۲۷ (۱۰۷۴)، ق/الاقامۃ ۱۴۵ (۱۲۴۴)، حم (۲/۲۳۹، ۲۵۵، ۲۷۱، ۴۱۸، ۴۷۰ ، ۵۰۷، ۵۲۱) (صحیح) دون قولہ : ’’فذکرت۔۔۔‘‘
۱۴۴۲- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ماہ تک عشاء میں دعائے قنوت پڑھی، آپ اس میں دعا فرماتے:
’’اللَّهُمَّ نَجِّ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ‘‘(اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! کمزور مومنوں کو نجات دے اے اللہ! مضر پر اپنا عذاب سخت کر اور ان پر ایسا قحط ڈال دے جیسا یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں پڑا تھا)۔
ابو ہریرہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ ﷺ نے فجر میں ان لوگوں کے لئے دعا نہیں کی، تو میں نے اس کا ذکر آپ سے کیا توآپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم نے نہیں دیکھا کہ یہ لوگ (اب کافروں کی قید سے نکل کر مدینہ) آچکے ہیں؟‘‘۔
1443- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ هِلالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَصَلاةِ الصُّبْحِ، فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ، يَدْعُو عَلَى أَحْيَائٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ: عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ، وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف:۶۲۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۰۱) (حسن)
۱۴۴۳- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر میں ہرصلاۃ کے بعد ایک ماہ تک مسلسل قنوت پڑھی، جب آخری رکعت میں
’’سمع الله لمن حمده‘‘ کہتے تو آپ ﷺ بنی سلیم کے قبائل: رعل، ذکوان اور عصیہ کے حق میں بددعا کرتے اور جو لوگ آپ کے پیچھے ہوتے آمین کہتے۔
1444- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُسَدَّدٌ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ سُئِلَ: هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي صَلاةِ الصُّبْحِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقِيلَ لَهُ: قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ؟ قَالَ: بَعْدَ الرُّكُوعِ، قَالَ مُسَدَّدٌ: بِيَسِيرٍ۔
* تخريج: خ/الوتر ۷ (۱۰۰۱)، م/المساجد ۵۴ (۶۷۷)، ن/التطبیق ۲۷ (۱۰۷۲)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۲۰ (۱۱۸۲ و۱۱۸۴)، (تحفۃ الأشراف:۱۴۵۳)، وقد أخرجہ: دي/الصلاۃ ۲۱۶ (۱۶۳۷)، حم (۳/۱۱۳) (صحیح)
۱۴۴۴- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ ﷺ نے فجر میں دعائے قنوت پڑھی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، پھر ان سے پوچھا گیا: رکوع سے پہلے یا بعد میں؟ تو انہوں نے کہا: رکوع کے بعد میں۱؎ ۔
مسدد کی روایت میں ہے کہ ’’تھوڑی مدت تک‘‘ ۲؎ ۔
وضاحت۱؎: قنوت کی دو قسمیں ہیں: قنوت نازلہ اور قنوت وتر یہاں حدیث میں قنوت نازلہ مراد ہے اور یہ رکوع کے بعد فرض صلاۃ میں دشمنان اسلام کے لئے بددعا کے طور پر پڑھی جاتی ہے۔
وضاحت۲؎: یہ مدت ایک مہینہ پر مشتمل تھی۔
1445- حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَنَتَ شَهْرًا ثُمَّ تَرَكَهُ۔
* تخريج: م/المساجد ۵۴ (۶۷۸)، (تحفۃ الأشراف:۲۳۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۸۴، ۲۴۹) (صحیح)
۱۴۴۵- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک ماہ تک قنوت پڑھی پھر اسے ترک کر دیا۔
1446- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُفَضَّلٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، [قَالَ:] حَدَّثَنِي مَنْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ ﷺ صَلاةَ الْغَدَاةِ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ قَامَ هُنَيَّةً۔
* تخريج: ن/التطبیق ۲۷ (۱۰۷۳)، (تحفۃ الأشراف:۱۵۶۶۷) (صحیح)
۱۴۴۶- محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا ہے جس نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ فجر پڑھی کہ جب آپ دوسری رکعت سے سر اٹھاتے تو تھوڑی دیر کھڑے رہتے۔