- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
11- بَاب فِي شَرَابِ الْعَسَلِ
۱۱-باب: شہد کا شربت پینے کا بیان
3714- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَائٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ ﷺ تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلا، فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَيَّتُنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ ﷺ فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ، فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُنَّ، فَقَالَتْ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: < بَلْ شَرِبْتُ عَسَلا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ >، فَنَزَلَتْ: {لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي} إِلَى: {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ} لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ رَضِي اللَّه عَنْهمَا، {وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا} لِقَوْلِهِ ﷺ : < بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً > ۔
* تخريج: خ/تفسیر سورۃ التحریم (۴۹۱۲) الطلاق ۸ (۵۲۶۷)، الأیمان ۲۵ (۶۶۹۱)، م/الطلاق ۳ (۱۴۷۴)، ن/عشرۃ النساء ۴ (۳۴۱۰)، الطلاق ۱۷ (۳۴۵۰)، الأیمان ۴۰ (۳۸۶۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۳۲۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۲۱) (صحیح)
۳۷۱۴- عبید بن عمیر کہتے ہیں: میں نے ام المو منین عا ئشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ خبر دے رہی تھیں کہ نبی اکرم ﷺ زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور شہد پیتے تھے تو ایک روز میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہما نے مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس آپ ﷺ تشریف لا ئیں وہ کہے : مجھے آپ سے مغافیر ۱؎کی بو محسوس ہو رہی ہے، چنا نچہ آپ ﷺ ان میں سے ایک کے پاس تشریف لائے، تواس نے آپ سے ویسے ہی کہا، آپ ﷺ نے فرمایا:’’نہیں، بلکہ میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب دو بارہ ہرگز نہیں پیوں گا‘‘، تو قرآن کریم کی آیت: {لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي} ۲؎سے لے کر{إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ} ۳؎تک عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کے متعلق نازل ہوئی۔
{إِنْ تَتُوبَا} میں خطاب عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو ہے اور {وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا} میں {حَدِيثًا} سے مراد آپ کا: ’’بل شربت عسلاً‘‘ (بلکہ میں نے شہد پیا ہے) کہناہے۔
وضاحت ۱؎ : مغافیر ایک قسم کا گوند ہے جس میں بدبو ہوتی ہے اور نبی اکرم ﷺ کو اس بات سے سخت نفرت تھی کہ آپ کے جسم اطہر سے کسی کو کوئی بو محسوس ہو۔
وضاحت ۲؎ : سورة التحريم: (۱)
وضاحت۳؎ : سورة التحريم: (۴)
3715- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ، فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْخَبَرِ، وَكَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ تُوجَدَ مِنْهُ الرِّيحُ، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَتْ سَوْدَةُ: [بَلْ] أَكَلْتَ مَغَافِيرَ، قَالَ: < بَلْ شَرِبْتُ عَسَلا سَقَتْنِي حَفْصَةُ > فَقُلْتُ: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، نَبْتٌ مِنْ نَبْتِ النَّحْلِ.
[قَالَ أَبو دَاود: الْمَغَافِيرُ مُقْلَةٌ، وَهِيَ صَمْغَةٌ، وَ < جَرَسَتْ >: رَعَتْ، وَ < الْعُرْفُطُ >: نَبْتٌ مِنْ نَبْتِ النَّحْلِ]۔
* تخريج: خ/الأطعمۃ ۳۲ (۵۴۳۱)، الأشربۃ ۱۰ (۵۵۹۹)، ۱۵ (۵۶۱۴)، الطب ۴ (۵۶۸۲) (الحیل ۱۲ (۶۹۷۲)، م/الطلاق ۳ (۱۴۷۴)، ت/الأطعمۃ ۲۹ (۱۸۳۱)، ق/الأطعمۃ ۳۶ (۳۳۲۳) (تحفۃ الأشراف: ۱۶۷۹۶)، وقد أخرجہ: حم (۶/۵۹)، دی/ الأطعمۃ ۳۴ (۲۱۱۹) (صحیح)
۳۷۱۵- ام المومنین عا ئشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺمیٹھی چیزیں اور شہد پسند کر تے تھے، اور پھرانہوں نے اسی حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ بہت ناگوارلگتا کہ آپ سے کسی قسم کی بو محسوس کی جائے اور اس حدیث میں یہ ہے کہ سو دہ ۱؎نے کہا: بلکہ آپ نے مغافیر کھائی ہے آپ ﷺ نے فرمایا:’’ نہیں، بلکہ میں نے شہد پیا ہے، جسے حفصہ نے مجھے پلا یا ہے‘‘، تومیں نے کہا: شاید اس کی مکھی نے عرفط ۲؎چاٹا ہو۔
ابو داود کہتے ہیں: مغافیر :مقلہ ہے اور وہ گوندہے، اور جرست: کے معنی چاٹنے کے ہیں، اور عرفط شہد کی مکھی کے پوددوں میں سے ایک پودا ہے۔
وضاحت ۱؎ : پچھلی حدیث میں مغافیر کی بات کہنے والی عائشہرضی اللہ عنہا یا حفصہرضی اللہ عنہا ہیں، اور اس حدیث میں سودہرضی اللہ عنہا ،یہ دونوں دو الگ الگ واقعات ہیں،اس حدیث میں مذکورواقعہ پہلے کا ہے، اور پچھلی حدیث میں مذکور واقعہ بعد کا ہے جس کے بعد سورۃ التحریم والی آیت نازل ہوئی۔
وضاحت ۲؎ : عرفط : ایک قسم کی کانٹے دار گھاس ہے جس میں بدبو ہوتی ہے۔