بَابٌ: اَلْحَثُّ عَلَى الرَّمْيِ
تیر اندازی (نشانہ بازی) کی ترغیب کے بیان میں
(1103) عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ أَرْضُونَ وَيَكْفِيكُمُ اللَّهُ فَلاَ يَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِأَسْهُمِهِ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ’’(چند روز میں) عنقریب کئی ملک تمہارے ہاتھ پر فتح ہوں گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے لیے کافی ہو جائے گا۔ پھر کوئی (بھی) تم میں سے اپنے تیروں کا کھیل چھوڑ نہ دے۔‘‘ (یعنی تیر اندازی، پستول، کلاشنکوف، راکٹ اور میزائل وغیرہ کی نشانہ بازی جاری و ساری رکھے، بھول نہ جائے)۔
(1104) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَةَ أَنَّ فُقَيْمًا اللَّخْمِيَّ قَالَ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَخْتَلِفُ بَيْنَ هَذَيْنِ الْغَرَضَيْنِ وَ أَنْتَ كَبِيرٌ يَشُقُّ عَلَيْكَ؟ قَالَ عُقْبَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَوْ لاَ كَلاَمٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم لَمْ أُعَانِيهِ قَالَ الْحَارِثُ فَقُلْتُ لِابْنِ شَمَاسَةَ وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ إِنَّهُ قَالَ مَنْ عَلِمَ الرَّمْيَ ثُمَّ تَرَكَهُ فَلَيْسَ مِنَّا أَوْ قَدْ عَصَى
سیدنا عبد الرحمن بن شماسہ سے روایت ہے کہ فقیم لخمی نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم اس بڑھاپے میں ان دونوں نشانوں میں آتے جاتے ہو، تم پر مشکل ہوتا ہو گا۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات نہ سنی ہوتی تو میں یہ مشقت نہ اٹھاتا۔ حارث نے کہا کہ میں نے ابن شماسہ سے پوچھا کہ وہ کیا بات تھی؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو کوئی نشانہ بازی سیکھے پھر چھوڑ دے، وہ ہم میں سے نہیں ہے یا گنہگار ہے۔‘‘