• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح مسلم

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
(90) عَنْ يَزِيْدَ الْفَقِيرِ قَالَ كُنْتُ قَدْ شَغَفَنِي رَأْيٌ مِنْ رَأْيِ الْخَوَارِجِ فَخَرَجْنَا فِي عِصَابَةٍ ذَوِي عَدَدٍ نُرِيدُ أَنْ نَحُجَّ ثُمَّ نَخْرُجَ عَلَى النَّاسِ قَالَ فَمَرَرْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ فَإِذَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ الْقَوْمَ جَالِسٌ إِلَى سَارِيَةٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ فَإِذَا هُوَ قَدْ ذَكَرَ الْجَهَنَّمِيِّينَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا هَذَا الَّذِي تُحَدِّثُونَ ؟ وَاللَّهُ يَقُولُ { إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ } وَ { كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا } فَمَا هَذَا الَّذِي تَقُولُونَ ؟ قَالَ فَقَالَ أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَهَلْ سَمِعْتَ بِمَقَامِ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم يَعْنِي الَّذِي يَبْعَثُهُ اللَّهُ فِيهِ ؟ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهُ مَقَامُ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم الْمَحْمُودُ الَّذِي يُخْرِجُ اللَّهُ بِهِ مَنْ يُخْرِجُ قَالَ ثُمَّ نَعَتَ وَضْعَ الصِّرَاطِ وَ مَرَّ النَّاسِ عَلَيْهِ قَالَ وَ أَخَافُ أَنْ لاَ أَكُونَ أَحْفَظُ ذَاكَ قَالَ غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ زَعَمَ أَنَّ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ بَعْدَ أَنْ يَكُونُوا فِيهَا قَالَ يَعْنِي فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمْ عِيدَانُ السَّمَاسِمِ قَالَ فَيَدْخُلُونَ نَهَرًا مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَيَغْتَسِلُونَ فِيهِ فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمُ الْقَرَاطِيسُ فَرَجَعْنَا قُلْنَا وَيْحَكُمْ أَتَرَوْنَ الشَّيْخَ يَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَرَجَعْنَا فَلاَ وَاللَّهِ مَا خَرَجَ مِنَّا غَيْرُ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَوْ كَمَا قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ

یزید بن صہیب الفقیرسے روایت ہے کہ میرے دل میں خارجیوں کی ایک بات بیٹھ گئی تھی (اور وہ یہ کہ کبیرہ گناہ کرنے والا ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور جو جہنم میں جائے گا وہ پھر وہاں سے نہ نکلے گا)، تو ہم ایک بڑی جماعت کے ساتھ اس ارادے سے نکلے کہ حج کریں۔ پھر خارجیوں کا مذہب پھیلائیں گے۔ جب ہم مدینے میں پہنچے تو دیکھا کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما ایک ستون کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سنا رہے ہیں۔ یکایک انھوں نے دوزخیوں کا ذکر کیا تو میں نے کہا کہ اے صحابی ٔ رسول اللہ! تم کیا حدیث بیان کرتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ ’’اے ہمارے پالنے والے! تو جسے جہنم میں ڈالے، یقینا تو نے اسے رسوا کیا۔‘‘ ( آل عمران: ۱۹۲) نیز ’’جب کبھی اس سے باہر نکلنا چاہیں گے تو اسی میں لوٹا دئیے جائیں گے۔‘‘ (السجدہ : ۲۰) اور اب یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟انھوں نے کہا کہ تو نے قرآن پڑھا ہے؟ میں نے کہا ہاں۔ انھوں نے پھر کہا کہ کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام سنا ہے (یعنی وہ مقام جو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز عنایت فرمائے گا)؟ میں نے کہا جی ہاں! میں نے سنا ہے۔ انھوں نے کہا یہ ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جنہیں چاہے گا، جہنم سے نکالے گا۔ پھر انھوں نے پل صراط کا حال اور اس پل پر سے لوگوں کے گزرنے کا حال بیان کیا اور اور مجھے ڈر ہے کہ شاید مجھے یاد نہ رہا ہو مگر انھوں نے یہ کہا کہ کچھ لوگ دوزخ میں جانے کے بعد اس میں سے نکالے جائیں گے اور وہ اس طرح نکلیں گے جیسے آبنوس کی لکڑیاں (سیاہ جل بھن کر)۔ پھر جنت کی ایک نہر میں جائیں گے اور وہاں غسل کریں گے اور کاغذ کی طرح سفید ہو کر نکلیں گے۔ یہ سن کر ہم لوٹے اور ہم نے کہا کہ تمہاری خرابی ہو! کیا یہ بوڑھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھتا ہے؟ (یعنی وہ ہرگز جھوٹ نہیں بولتا، پھر تمہارا مذہب غلط نکلا)۔ اور ہم سب اپنے مذہب سے پھر گئے مگرایک شخص نہ پھرا۔ یا جیسا ابو نعیم فضل بن دکین (امام مسلم کے استاذ کے استاذ) نے بیان کیا۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
(91) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ أَرْبَعَةٌ فَيُعْرَضُونَ عَلَى اللَّهِ فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ إِذْ أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا فَلاَ تُعِدْنِي فِيهَا فَيُنْجِيهِ اللَّهُ مِنْهَا

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دوزخ سے چار آدمی نکالے جائیں گے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے سامنے کیے جائیں گے۔ ان میں سے ایک جہنم کی طرف دیکھ کر کہے گا کہ اے میرے مالک! جب تو نے مجھے اس (جہنم) سے نجات دی ہے، تو اب پھر اس میں مت لے جانا۔ اللہ تعالیٰ اس کو جہنم سے نجات دے دے گا۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابُ الشَّفَاعَةِ

شفاعت کا بیان


(92) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَوْمًا بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَ كَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً فَقَالَ أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ هَلْ تَدْرُونَ بِمَ ذَاكَ ؟ يَجْمَعُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي وَ يَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ وَ تَدْنُو الشَّمْسُ فَيَبْلُغُ النَّاسَ مِنَ الْغَمِّ وَالْكَرْبِ مَا لاَ يُطِيقُونَ وَ مَا لاَ يَحْتَمِلُونَ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ أَلاَ تَرَوْنَ مَا أَنْتُمْ فِيهِ ؟ أَلاَ تَرَوْنَ مَا قَدْ بَلَغَكُمْ ؟ أَلاَ تَنْظُرُونَ مَنْ يَشْفَعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ ؟ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ ائْتُوا آدَمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَ نَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ وَ أَمَرَ الْمَلاَئِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ ؟ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ؟ فَيَقُولُ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ إِنَّ رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَ لَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَ إِنَّهُ نَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى نُوحٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَيَأْتُونَ نُوحًا عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَيَقُولُونَ يَا نُوحُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى الأَرْضِ وَ سَمَّاكَ اللَّهُ عَبْدًا شَكُورًا اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ ؟ أَلاَ تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ؟ فَيَقُولُ لَهُمْ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَ لَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَ إِنَّهُ قَدْ كَانَتْ لِي دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا عَلَى قَوْمِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَيَقُولُونَ أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَ خَلِيلُهُ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ ؟ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ؟ فَيَقُولُ لَهُمْ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَ لاَ يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَ ذَكَرَ كَذَبَاتِهِ نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَيَأْتُونَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَيَقُولُونَ يَا مُوسَى!أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَضَّلَكَ اللَّهُ بِرِسَالاَتِهِ وَ بِتَكْلِيمِهِ عَلَى النَّاسِ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ ؟ أَلاَ تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ؟ فَيَقُولُ لَهُمْ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَ لَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَ إِنِّي قَتَلْتُ نَفْسًا لَمْ أُومَرْ بِقَتْلِهَا نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَيَأْتُونَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَيَقُولُونَ يَا عِيسَى ! أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَ كَلَّمْتَ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَ كَلِمَةٌ مِنْهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَ رُوحٌ مِنْهُ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ ؟ أَلاَ تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ؟ فَيَقُولُ لَهُمْ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَ لَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَ لَمْ يَذْكُرْ لَهُ ذَنْبًا نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم فَيَأْتُونِّي فَيَقُولُونَ يَامُحَمَّدُ ! أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَ خَاتَمُ الأَنْبِيَائِ وَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَ مَا تَأَخَّرَ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ ؟ أَلاَ تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ؟ فَأَنْطَلِقُ فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ وَ يُلْهِمُنِي مِنْ مَحَامِدِهِ وَ حُسْنِ الثَّنَائِ عَلَيْهِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ لِأَحَدٍ قَبْلِي ثُمَّ يُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ! ارْفَعْ رَأْسَكَ سَلْ تُعْطَهِ اشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ! أَدْخِلِ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِكَ مَنْ لاَ حِسَابَ عَلَيْهِ مِنَ الْبَابِ الأَيْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ وَ هُمْ شُرَكَائُ النَّاسِ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الأَبْوَابِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ لَكَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَ هَجَرٍ أَوْ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَ بُصْرَى

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا تو دستی کا گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت پسند تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دانتوں سے نوچا اور فرمانے لگے: ’’میں قیامت کے دن سب آدمیوں کا سردار ہوں گا اور کیا تم جانتے ہو کہ کس وجہ سے؟ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک ہی میدان میں اکٹھا کرے گا، یہاں تک کہ پکارنے والے کی آواز ان سب کو سنائی دے گی اور دیکھنے والے کی نگاہ ان سب پر پہنچے گی اور سورج قریب ہو جائے گا اور لوگوں پر ایسی مصیبت اور سختی ہو گی کہ اس کو وہ سہہ نہ سکیں گے۔ آخر آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے کہ دیکھو کیسی تکلیف ہو رہی ہے؟ کیا کوئی سفارشی ، شفیع نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس تمہاری کچھ سفارش کرے؟ بعض کہیں گے کہ آدم علیہ السلام کے پاس چلو، تو سب کے سب آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ آپ تمام آدمیوں کے باپ ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اپنی طرف سے روح آپ میں پھونکی اور فرشتوں کو حکم کیا تو انھوں نے آپ کو سجدہ کیا۔ آپ پروردگار سے ہماری شفاعت کیجیے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں؟ اور کس قدر تکلیف میں ہیں۔ آدم علیہ السلام کہیں گے کہ آج میرا رب اتنا غصہ میں ہے کہ نہ تو اس سے پہلے کبھی ایسا غضبناک ہوا تھا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا اور اس نے مجھے اس درخت (کے پھل) سے منع کیا تھا، لیکن میں نے (کھا لیا اور) اب مجھے خود اپنی فکر ہے ، تم کسی اور کے پاس جاؤ، نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ پھر لوگ نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ اے نوح ! تم سب پیغمبروں سے پہلے زمین پر آئے، اللہ نے تمہارا نام عبداً شکوراً (شکر گزار بندہ) رکھا ہے، تم اپنے رب کے پاس ہماری سفارش کرو، کیا تم نہیں دیکھتے ہم جس حال میں ہیں؟ اور جو مصیبت ہم پر آئی ہے؟ وہ کہیں گے کہ آج اللہ تعالیٰ اتنا غصے میں ہے کہ نہ تو ایسا پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد ہو گا اور میرے واسطے ایک دعا کا حکم تھا (کہ وہ مقبول ہو گی)، وہ میں اپنی امت کے خلاف مانگ چکا ( وہ مقبول دعا اپنی قوم پر بددعا کی شکل میں کر چکا ہوں جس سے وہ ہلاک ہو گئی تھی)، اس لیے مجھے تو اپنی فکر ہے، تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ پھر سب ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ آپ اللہ کے نبی اور ساری زمین والوں میں اس کے دوست ہیں، آپ اپنے پروردگار کے ہاں ہماری سفارش کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھتے جس حال میں ہم ہیں؟ اور جو مصیبت ہم پر پڑی ہے؟ وہ کہیں گے کہ میرا پروردگار آج بہت غصے میں ہے اتنا غصے میں کہ نہ تو اس سے پہلے کبھی ایسا ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا اور وہ اپنی جھوٹ باتوں کو بیان کریں گے (جو انھوں نے تین بار جھوٹ بولا تھا جو کہ دراصل توریہ تھا) اس لیے مجھے خود اپنی فکر ہے، تم میرے علاوہ کسی دوسرے کے پاس جاؤ، موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ وہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ اے موسیٰ ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پیام (رسالت) اور کلام سے تمام لوگوں پر فضیلت و بزرگی دی ہے، آپ اپنے پروردگار سے ہماری سفارش کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھتے ہم جس حال میں ہیں؟ اور جو مصیبت ہم پر پڑی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام ان سے کہیں گے کہ آج میرا رب ایسے غصے میں ہے کہ اتنا غصے میں نہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا اور میں نے دنیا میں ایک شخص کو قتل کیا تھا، جس کا مجھے حکم نہ تھا، اس لیے مجھے تو اپنی فکر پڑی ہے، تم عیسیٰ (علیہ السلام ) کے پاس جاؤ۔ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے عیسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ نے (ماں کی) گود میں لوگوں سے باتیں کیں، اور اس کا وہ کلمہ ہیں جس کو اس نے مریم کی طرف ڈالا تھا اور اس کی طرف سے روح ہیں، آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کیجیے کیا آپ نہیں دیکھتے ہم جس حال میں ہیں اور جو مصیبت ہم پر پڑی ہے؟ عیسیٰ علیہ السلام ان سے کہیں گے کہ آج میرا رب بہت غصے میں ہے، اتنا غصے میں کہ نہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا (اور ان کا کوئی گناہ بیان نہیں کیا) مجھے تو خود اپنی فکر ہے تم اور کسی کے پاس جاؤ ، محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤ۔ تو وہ لوگ میرے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے کہ اے محمد! آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ بخش دیے ہیں، آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کیجیے، کیا آپ ہمارا حال نہیں دیکھتے ؟کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس مصیبت میں ہیں؟ پس میں یہ سنتے ہی (میدان حشر سے) چلوں گا اور عرش کے نیچے آکر اپنے پروردگار کو سجدہ کروں گا، پھر اللہ تعالیٰ میرا دل کھول دے گا اور اپنی وہ وہ تعریفیں اور خوبیاں بتلائے گا، جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں بتلائیں، (میں اس کی خوب تعریف اور حمد کروں گا) پھر(اللہ تعالیٰ) کہے گا کہ اے محمد! سر اٹھا اور مانگ، جو مانگے گا۔ دیا جائے گا۔ سفارش کر، قبول کی جائے گی۔ میں سر اٹھاؤں گا اور عرض کروں گا اے میرے رب !میری امت پر رحم فرما، اے میرے رب !میری امت پر رحم فرما۔ حکم ہو گا کہ اے محمد ! اپنی امت میں سے جن لوگوں سے کوئی حساب کتاب نہیں ہو گا ان کو جنت کے داہنے دروازے سے داخل کرو اور وہ جنت کے باقی دوسرے دروازوں میں بھی دوسرے لوگوں کے شریک ہیں۔ (یعنی ان دروازوں میں سے بھی جا سکتے ہیں لیکن یہ دروازہ ان کے لیے مخصوص ہے) (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)’’ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے کہ جنت کے ایک دروازے کی چوڑائی ایسی ہے، جیسے مکہ اور حجر(بحرین کے ایک شہر کا نام ہے) کے درمیان کا فاصلہ یا مکہ اور بصریٰ (ملک شام کا شہر) کے درمیان کا فاصلہ۔ (راوی کو شک ہے)۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : قَوْلُ النَّبِىِّ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ يَشْفَعُ فِي الْجَنَّةِ وَ أَنَا
أَكْثَرُ الْأَنْبِيَائِ تَبَعاً
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میں سب سے پہلے جنت کے متعلق سفارش کروں گا اور دیگر
انبیاء سے میرے متبعین زیادہ ہوں گے


(93) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَا أَوَّلُ شَفِيعٍ فِي الْجَنَّةِ لَمْ يُصَدَّقْ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَائِ مَا صُدِّقْتُ وَ إِنَّ مِنَ الأَنْبِيَائِ نَبِيًّا مَا يُصَدِّقُهُ مِنْ أُمَّتِهِ إِلاَّ رَجُلٌ وَاحِدٌ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں سب سے پہلے جنت (کے بارے) میں سفارش کروں گا اور کسی پیغمبر کو اتنے لوگوں نے نہیں مانا (پیروی نہیں کی) جتنے لوگوں نے مجھے مانا (میری پیروی کی) اور کوئی پیغمبر تو ایسا ہے کہ اس کا ماننے والا (ایمان لانے والا) ایک ہی شخص تھا۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : إسْتِفْتَاحُ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم بَابَ الْجَنَّةِ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جنت کا دروازہ کھلوانا


(94) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم آتِي بَابَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأسْتَفْتِحُ فَيَقُولُ الْخَازِنُ مَنْ أَنْتَ ؟ فَأَقُولُ مُحَمَّدٌ فَيَقُولُ بِكَ أُمِرْتُ لاَ أَفْتَحُ لِأَحَدٍ قَبْلَكَ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ میں قیامت کے دن جنت کے دروازے پر آؤں گا اور دروازہ کھلواؤں گا۔ چوکیدار پوچھے گا کہ تم کون ہو؟ میں کہوں گا کہ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوں۔ وہ کہے گا کہ مجھے آپ ہی کے واسطے حکم ہوا تھا کہ آپ سے پہلے کسی کے لیے دروازہ نہ کھولوں۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : قَولُ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجابَةٌ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ہر نبی کی ایک دعا قبول کی گئی ہے


(95) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ وَ إِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَائَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ ہر نبی کی ایک دعا ہے جو ضرور قبول ہوتی ہے اور ہر نبی نے جلدی کر کے وہ دعا (دنیا ہی میں) مانگ لی اور میں اپنی دعا کو قیامت کے دن کے لیے، اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھپا کر رکھتا ہوں .اور اللہ کے حکم سے (میری) شفاعت ہر اس امتی کے لیے ہو گی جو اس حال میں فوت ہوا کہ اس نے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کیا ۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : دُعائُ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم لِأمَّتِهِ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کے لیے دعا فرمانا


(96) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم تَلاَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ فِي إِبْرَاهِيمَ {رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِىْ … الآيَةَ } ( ابراهيم :36 ) وَ قَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ { إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَ إِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ } ( المائده : 118) فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَ قَالَ اللَّهُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِي وَ بَكَى فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم وَ رَبُّكَ أَعْلَمُ فَسَلْهُ مَا يُبْكِيكَ ؟ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ النَّبِىُّ صلی اللہ علیہ وسلم بِمَا قَالَ وَ هُوَ أَعْلَمُ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ فَقُلْ إِنَّا سَنُرْضِيكَ فِي أُمَّتِكَ وَ لاَ نَسُوئُكَ

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے اس قول کی تلاوت فرمائی کہ ’’اے میرے پالنے والے (معبود!) انھوں نے بہت سے لوگوں کو راہ سے بھٹکا دیا ہے، پس میری تابعداری کرنے والا میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے، تو تو بہت ہی معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘ (ابراہیم: ۳۶) اور عیسیٰ علیہ السلام کا قول (جو کہ قرآن پاک میں منقول ہے) کہ ’’اگر تو ان کو سزا دے، تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو معاف فرما دے، تو تو زبردست ہے حکمت والا ہے۔‘‘ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور کہا کہ اے میرے رب! میری امت ، میری امت۔ اور رونے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’ اے جبرائیل! تم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤ اور تیرا رب خوب جانتا ہے لیکن تم جا کر ان سے پوچھو کہ وہ کیوں روتے ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا کہ آپ کیوں روتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب حال بیان کیا۔ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے جا کرعرض کی، حالانکہ وہ تو خود خوب جانتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’ اے جبرائیل! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جا اور کہہ کہ ہم تمہیں تمہاری امت کے بارے میں خوش کر دیں گے اور ناراض نہیں کریں گے۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
(97) عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الطُّفَيْلَ بْنَ عَمْرٍو الدَّوْسِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَى النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! هَلْ لَكَ فِي حِصْنٍ حَصِينٍ وَ مَنْعَةٍ ؟ قَالَ حِصْنٌ كَانَ لِدَوْسٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَبَى ذَلِكَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم لِلَّذِي ذَخَرَ اللَّهُ لِلأَنْصَارِ فَلَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم إِلَى الْمَدِينَةِ هَاجَرَ إِلَيْهِ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَ هَاجَرَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَمَرِضَ فَجَزِعَ فَأَخَذَ مَشَاقِصَ لَهُ فَقَطَعَ بِهَا بَرَاجِمَهُ فَشَخَبَتْ يَدَاهُ حَتَّى مَاتَ فَرَآهُ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍورَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي مَنَامِهِ فَرَآهُ وَ هَيْئَتُهُ حَسَنَةٌ وَرَآهُ مُغَطِّيًا يَدَيْهِ فَقَالَ لَهُ مَا صَنَعَ بِكَ رَبُّكَ ؟ فَقَالَ غَفَرَ لِي بِهِجْرَتِي إِلَى نَبِيِّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ مَا لِي أَرَاكَ مُغَطِّيًا يَدَيْكَ ؟ قَالَ قِيلَ لِي لَنْ نُصْلِحَ مِنْكَ مَا أَفْسَدْتَ فَقَصَّهَا الطُّفَيْلُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم اللَّهُمَّ وَ لِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے (مکہ میں ہجرت سے پہلے) اور عرض کی کہ یارسول اللہ ! آپ ایک مضبوط قلعہ اور لشکر چاہتے ہیں؟ (اس قلعہ کے لیے کہا جو کہ جاہلیت کے زمانہ میں دوس کا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وجہ سے قبول نہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انصار کے حصے میں یہ بات لکھ دی تھی ( کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ان کی حمایت اور حفاظت میں رہیں گے) پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی، تو سیدنا طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بھی ہجرت کی اور ان کے ساتھ ان کی قوم کے ایک شخص نے بھی ہجرت کی۔ پھر مدینہ کی ہوا ان کو ناموافق ہوئی (اور ان کے پیٹ میں عارضہ پیدا ہوا) تو وہ شخص جو سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا تھا، بیمار ہو گیا اور تکلیف کے مارے اس نے اپنی انگلیوں کے جوڑ کاٹ ڈالے تو اس کے دونوں ہاتھوں سے خون بہنا شروع ہوگیا، یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ پھر سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے اسے خواب میں دیکھا اور ا س کی حالت اچھی تھی مگر اپنے دونوں ہاتھوں کو چھپائے ہوئے تھا۔ سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تیرے رب نے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا؟ اس نے کہا :’’مجھے اس لیے بخش دیا کہ میں نے اس کے پیغمبرکی طرف ہجرت کی تھی۔‘‘ سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ تو اپنے دونوں ہاتھ چھپائے ہوئے ہے؟ وہ بولا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ ہم اس کو نہیں سنواریں گے جس کو تو نے خود بخود بگاڑا ہے۔ پھر یہ خواب سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے اللہ! اس کے دونوں ہاتھوں کو بھی بخش دے جیسے تو نے اس کے سارے بدن پر کرم کیا ہے۔ (یعنی اس کے دونوں ہاتھوں کو بھی درست کر دے)۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : فِي قَولِ اللهِ عَزَّ وَ جَلَّ : وَ أَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے متعلق کہ ’’(اے محمد!) اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایے۔‘‘


(98) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَ أَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ }(الشعرا :214) دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قُرَيْشًا فَاجْتَمَعُوا فَعَمَّ وَ خَصَّ فَقَالَ يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي هَاشِمٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِالْمُطَّلِبِ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا فَاطِمَةُ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا) أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ فَإِنِّي لاَ أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلاَلِهَا

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ ’’اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایے‘‘ (الشعراء:۲۱۴) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے لوگوں کو بلایا، وہ سب اکٹھے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پہلے) سب کو بالعموم ڈرایا اور پھر خاص کیا (یعنی نام لے کر ان لوگوں کو) اور فرمایا:’’ اے کعب بن لؤی کے بیٹو! اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ۔ اے مرہ بن کعب کے بیٹو! اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ۔ اے عبد شمس کے بیٹو! اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ۔ اے ہاشم کے بیٹو! اپنے آپ کو جہنم سے چھڑاؤ۔ اے عبدالمطلب کے بیٹو! اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ۔ اے فاطمہ! اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ، اس لیے کہ میں اللہ کے سامنے کچھ اختیار نہیں رکھتا (یعنی اگر وہ عذاب کرنا چاہے تو میں بچا نہیں سکتا) البتہ تم جو ناطہ مجھ سے رکھتے ہو، اس کو میں جوڑتا رہوں گا (یعنی دنیا میں تمہارے ساتھ احسان کرتا رہوں گا)۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : مَا نَفَعَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم أَبَا طَالِبٍ

کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابو طالب کو کوئی فائدہ پہنچا سکے؟


(99) عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْئٍ فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَ يَغْضَبُ لَكَ ؟ قَالَ نَعَمْ هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ وَ لَوْلاَ أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرْكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ

سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا یارسول اللہ ! کیا آپ نے ابوطالب کو بھی کچھ فائدہ پہنچایا؟ وہ آپ کی حفاظت کرتے تھے اور آپ کے لیے غصہ ہوتے تھے (یعنی جو کوئی آپ کو ستاتا تو اس پر غصہ ہوتے تھے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ہاں! وہ جہنم کے اوپر کے درجہ میں ہیں اور اگر میں نہ ہوتا (یعنی میں ان کے لیے دعا نہ کرتا)، تو وہ جہنم کے نیچے کے درجے میں ہوتے (جہاں عذاب بہت سخت ہے)۔‘‘
 
Top