ساجد تاج
فعال رکن
- شمولیت
- مارچ 09، 2011
- پیغامات
- 7,174
- ری ایکشن اسکور
- 4,518
- پوائنٹ
- 604
(90) عَنْ يَزِيْدَ الْفَقِيرِ قَالَ كُنْتُ قَدْ شَغَفَنِي رَأْيٌ مِنْ رَأْيِ الْخَوَارِجِ فَخَرَجْنَا فِي عِصَابَةٍ ذَوِي عَدَدٍ نُرِيدُ أَنْ نَحُجَّ ثُمَّ نَخْرُجَ عَلَى النَّاسِ قَالَ فَمَرَرْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ فَإِذَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ الْقَوْمَ جَالِسٌ إِلَى سَارِيَةٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ فَإِذَا هُوَ قَدْ ذَكَرَ الْجَهَنَّمِيِّينَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا هَذَا الَّذِي تُحَدِّثُونَ ؟ وَاللَّهُ يَقُولُ { إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ } وَ { كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا } فَمَا هَذَا الَّذِي تَقُولُونَ ؟ قَالَ فَقَالَ أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَهَلْ سَمِعْتَ بِمَقَامِ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم يَعْنِي الَّذِي يَبْعَثُهُ اللَّهُ فِيهِ ؟ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهُ مَقَامُ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم الْمَحْمُودُ الَّذِي يُخْرِجُ اللَّهُ بِهِ مَنْ يُخْرِجُ قَالَ ثُمَّ نَعَتَ وَضْعَ الصِّرَاطِ وَ مَرَّ النَّاسِ عَلَيْهِ قَالَ وَ أَخَافُ أَنْ لاَ أَكُونَ أَحْفَظُ ذَاكَ قَالَ غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ زَعَمَ أَنَّ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ بَعْدَ أَنْ يَكُونُوا فِيهَا قَالَ يَعْنِي فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمْ عِيدَانُ السَّمَاسِمِ قَالَ فَيَدْخُلُونَ نَهَرًا مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَيَغْتَسِلُونَ فِيهِ فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمُ الْقَرَاطِيسُ فَرَجَعْنَا قُلْنَا وَيْحَكُمْ أَتَرَوْنَ الشَّيْخَ يَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَرَجَعْنَا فَلاَ وَاللَّهِ مَا خَرَجَ مِنَّا غَيْرُ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَوْ كَمَا قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ
یزید بن صہیب الفقیرسے روایت ہے کہ میرے دل میں خارجیوں کی ایک بات بیٹھ گئی تھی (اور وہ یہ کہ کبیرہ گناہ کرنے والا ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور جو جہنم میں جائے گا وہ پھر وہاں سے نہ نکلے گا)، تو ہم ایک بڑی جماعت کے ساتھ اس ارادے سے نکلے کہ حج کریں۔ پھر خارجیوں کا مذہب پھیلائیں گے۔ جب ہم مدینے میں پہنچے تو دیکھا کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما ایک ستون کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سنا رہے ہیں۔ یکایک انھوں نے دوزخیوں کا ذکر کیا تو میں نے کہا کہ اے صحابی ٔ رسول اللہ! تم کیا حدیث بیان کرتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ ’’اے ہمارے پالنے والے! تو جسے جہنم میں ڈالے، یقینا تو نے اسے رسوا کیا۔‘‘ ( آل عمران: ۱۹۲) نیز ’’جب کبھی اس سے باہر نکلنا چاہیں گے تو اسی میں لوٹا دئیے جائیں گے۔‘‘ (السجدہ : ۲۰) اور اب یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟انھوں نے کہا کہ تو نے قرآن پڑھا ہے؟ میں نے کہا ہاں۔ انھوں نے پھر کہا کہ کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام سنا ہے (یعنی وہ مقام جو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز عنایت فرمائے گا)؟ میں نے کہا جی ہاں! میں نے سنا ہے۔ انھوں نے کہا یہ ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جنہیں چاہے گا، جہنم سے نکالے گا۔ پھر انھوں نے پل صراط کا حال اور اس پل پر سے لوگوں کے گزرنے کا حال بیان کیا اور اور مجھے ڈر ہے کہ شاید مجھے یاد نہ رہا ہو مگر انھوں نے یہ کہا کہ کچھ لوگ دوزخ میں جانے کے بعد اس میں سے نکالے جائیں گے اور وہ اس طرح نکلیں گے جیسے آبنوس کی لکڑیاں (سیاہ جل بھن کر)۔ پھر جنت کی ایک نہر میں جائیں گے اور وہاں غسل کریں گے اور کاغذ کی طرح سفید ہو کر نکلیں گے۔ یہ سن کر ہم لوٹے اور ہم نے کہا کہ تمہاری خرابی ہو! کیا یہ بوڑھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھتا ہے؟ (یعنی وہ ہرگز جھوٹ نہیں بولتا، پھر تمہارا مذہب غلط نکلا)۔ اور ہم سب اپنے مذہب سے پھر گئے مگرایک شخص نہ پھرا۔ یا جیسا ابو نعیم فضل بن دکین (امام مسلم کے استاذ کے استاذ) نے بیان کیا۔
یزید بن صہیب الفقیرسے روایت ہے کہ میرے دل میں خارجیوں کی ایک بات بیٹھ گئی تھی (اور وہ یہ کہ کبیرہ گناہ کرنے والا ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور جو جہنم میں جائے گا وہ پھر وہاں سے نہ نکلے گا)، تو ہم ایک بڑی جماعت کے ساتھ اس ارادے سے نکلے کہ حج کریں۔ پھر خارجیوں کا مذہب پھیلائیں گے۔ جب ہم مدینے میں پہنچے تو دیکھا کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما ایک ستون کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سنا رہے ہیں۔ یکایک انھوں نے دوزخیوں کا ذکر کیا تو میں نے کہا کہ اے صحابی ٔ رسول اللہ! تم کیا حدیث بیان کرتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ ’’اے ہمارے پالنے والے! تو جسے جہنم میں ڈالے، یقینا تو نے اسے رسوا کیا۔‘‘ ( آل عمران: ۱۹۲) نیز ’’جب کبھی اس سے باہر نکلنا چاہیں گے تو اسی میں لوٹا دئیے جائیں گے۔‘‘ (السجدہ : ۲۰) اور اب یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟انھوں نے کہا کہ تو نے قرآن پڑھا ہے؟ میں نے کہا ہاں۔ انھوں نے پھر کہا کہ کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام سنا ہے (یعنی وہ مقام جو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز عنایت فرمائے گا)؟ میں نے کہا جی ہاں! میں نے سنا ہے۔ انھوں نے کہا یہ ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جنہیں چاہے گا، جہنم سے نکالے گا۔ پھر انھوں نے پل صراط کا حال اور اس پل پر سے لوگوں کے گزرنے کا حال بیان کیا اور اور مجھے ڈر ہے کہ شاید مجھے یاد نہ رہا ہو مگر انھوں نے یہ کہا کہ کچھ لوگ دوزخ میں جانے کے بعد اس میں سے نکالے جائیں گے اور وہ اس طرح نکلیں گے جیسے آبنوس کی لکڑیاں (سیاہ جل بھن کر)۔ پھر جنت کی ایک نہر میں جائیں گے اور وہاں غسل کریں گے اور کاغذ کی طرح سفید ہو کر نکلیں گے۔ یہ سن کر ہم لوٹے اور ہم نے کہا کہ تمہاری خرابی ہو! کیا یہ بوڑھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھتا ہے؟ (یعنی وہ ہرگز جھوٹ نہیں بولتا، پھر تمہارا مذہب غلط نکلا)۔ اور ہم سب اپنے مذہب سے پھر گئے مگرایک شخص نہ پھرا۔ یا جیسا ابو نعیم فضل بن دکین (امام مسلم کے استاذ کے استاذ) نے بیان کیا۔