• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح مسلم

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : الرُّخْصَةُ فِي ذَلِكَ بِالْأَبنِيَةِ

بنے ہوئے بیت الخلاء میں اس بات کی رخصت


(110) عَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ وَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْقِبْلَةِ فَلَمَّا قَضَيْتُ صَلاَتِي انْصَرَفْتُ إِلَيْهِ مِنْ شِقِّي فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ نَاسٌ إِذَا قَعَدْتَ لِلْحَاجَةِ تَكُونُ لَكَ فَلاَ تَقْعُدْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَ لاَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَ لَقَدْ رَقِيتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلاً بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِحَا جَتِهِ

واسع بن حبان کہتے ہیں کہ میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما اپنی پیٹھ قبلہ کی طرف لگائے ہوئے بیٹھے تھے۔ جب میں نماز پڑھ چکا تو ایک طرف سے ان کے پاس مڑا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ جب حاجت کو بیٹھو تو قبلہ اوربیت المقدس کی طرف منہ نہ کرو۔ (ایک دفعہ جب) میں چھت پر چڑھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو اینٹوں پر قضاء حاجت کے لیے بیت المقدس کی طرف منہ کیے ہوئے بیٹھے دیکھا (یعنی جب بیت المقدس کی طرف منہ ہو گا تو قبلہ کی طرف پیٹھ ہو گی)۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : النَّهْيُ اَنْ يُبَالَ فِي الْمَائِ ثُمَّ يُغْتَسَلَ مِنْهُ

پانی میں پیشاب کرنے کی ممانعت کہ پھر اس سے غسل بھی کیا جائے


(111) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَائِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ
وَ فِيْ رِوَايَةٍ لاَ تَبُلْ فِي الْمَائِ الدَّائِمِ الَّذِي لاَ يَجْرِي ثُمَّ تَغْتَسِلُ مِنْهُ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے( اور یہ بھی نہ کرے کہ پیشاب کر کے) پھر اسی پانی سے غسل کرے۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے: ’’تو ایسا مت کر کہ تھمے ہوئے پانی میں پیشاب کرے جوبہتا نہیں ہے اور پھر اسی پانی سے غسل کرے۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : فِي الْإِسْتِبْرَائِ وَالْإِسْتِتَارِ مِنَ الْبَوْلِ

پیشاب سے بچنے اور پردہ کرنے کا بیان


(112) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَى قَبْرَيْنِ فَقَالَ أَمَا إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَ مَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ وَ أَمَّا الآخَرُ فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ قَالَ فَدَعَا بِعَسِيبٍ رَطْبٍ فَشَقَّهُ بِاثْنَيْنِ ثُمَّ غَرَسَ عَلَى هَذَا وَاحِدًا وَ عَلَى هَذَا وَاحِدًا ثُمَّ قَالَ لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں پر سے گزرے تو فرمایا: ’’ ان دونوں قبر والوں پر عذاب ہو رہا ہے اور کچھ بڑے گناہ پر نہیں۔ ایک تو ان میں سے چغل خوری کرتا تھا (یعنی ایک کی بات دوسرے سے کرنا لڑائی کے لیے) اور دوسرا اپنے پیشاب سے بچنے میں احتیاط نہ کرتا تھا۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ہری ٹہنی منگوائی اور چیر کر اس کو دو کیا اور ہر ایک قبر پر ایک ایک گاڑ دی اور فرمایا:’’ شاید جب تک یہ ٹہنیاں نہ سوکھیں اس وقت تک ان کا عذاب ہلکا ہو جائے۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : النَّهْيُ عَنِ الْإِسْتِنْجَائِ بِالْيَمِيْنِ

دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے کی ممانعت


(113) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم لاَ يُمْسِكَنَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَ هُوَ يَبُولُ وَ لاَ يَتَمَسَّحْ مِنَ الْخَلاَئِ بِيَمِينِهِ وَ لاَ يَتَنَفَّسْ فِي الإِنَائِ

عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد (ابو قتادہ) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کوئی تم میں سے اپنا ذکر پیشاب کرنے میں داہنے ہاتھ سے نہ تھامے اور نہ پاخانہ کے بعد داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے اور نہ برتن میں پھونک مارے۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : الْإِسْتِنْجَائُ بِالْمَائِ مِنَ التَّبَرُّزِ

پیشاب یا پاخانے سے فارغ ہو کر پانی سے استنجاء کرنا


(114) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم دَخَلَ حَائِطًا وَ تَبِعَهُ غُلاَمٌ مَعَهُ مِيضَأَةٌ هُوَ أَصْغَرُنَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ سِدْرَةٍ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِصلی اللہ علیہ وسلم حَا جَتَهُ فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَ قَدِ اسْتَنْجَى بِالْمَائِ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ کے اندر گئے اور آپ کے پیچھے ایک لڑکا گیا، اس کے پاس ایک لوٹا تھا، وہ لڑکا ہم میں سب سے چھوٹا تھا۔ اس نے لوٹا ایک بیری کے پاس رکھ دیا اورپھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت سے فارغ ہوئے اور پانی سے استنجا کر کے باہر نکلے۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : اَلْإِسْتِجْمَارُ وِتْرٌ

طاق ڈھیلے استعمال کرنے کا بیان


(115) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَجْمِرْ وِتْرًا وَ إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلِيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ مَائً ثُمَّ لْيَنْـثُرْ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جب تم میں سے کوئی پاخانہ کی جگہ کو ڈھیلوں سے صاف کرے تو طاق ڈھیلوں سے صاف کرے اور جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو ناک میں پانی ڈالے پھر ناک جھاڑے۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : اَلْإِسْتِجْمَارُ بِالأَحْجَارِ وَالمَنْعُ مِنَ الرَّوْثِ وَالْعَظْمِ

پتھر سے استنجاء کرنے کا بیان اور گوبر یا ہڈی سے استنجاء کرنے کی ممانعت


(116) عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قِيلَ لَهُ قَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ صلی اللہ علیہ وسلم كُلَّ شَيْئٍ حَتَّى الْخِرَائَةَ قَالَ فَقَالَ أَجَلْ لَقَدْ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ

سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان سے پوچھا گیا کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو ہر ایک بات سکھائی، یہاں تک کہ پاخانہ اور پیشاب کی بھی تعلیم دی۔ انہوں نے کہا ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قبلہ کی طرف منہ کرکے پیشاب اور پاخانہ کرنے سے منع کیا اور اس بات سے بھی منع کیا کہ داہنے ہاتھ سے یا تین سے کم پتھروں سے یا گوبر اور ہڈی سے استنجاء کریں۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : اَلْإِنْتِفاعُ بِاُهُبِ الْمَيْتَةِ

مردہ جانور کی کھال سے فائدہ حاصل کرنا


(117) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ تُصُدِّقَ عَلَى مَوْلاَةٍ لِمَيْمُونَةَ بِشَأْةٍ فَمَاتَتْ فَمَرَّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ هَلاَّ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا فَدَبَغْتُمُوهُ فَانْتَفَعْتُمْ بِهِ ؟ فَقَالُوا إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا کی کسی لونڈی کو ایک بکری صدقہ میں دی گئی تھی، وہ مر گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پڑا ہوا دیکھا تو فرمایا:’’ تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی؟ رنگ کر کام میں لاتے۔‘‘ تو لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ مردار تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ مردار کا کھانا حرام ہے۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : إِذَا دُبِغَ الْإِهاَبُ فَقَد طَهُرَ

جب چمڑا رنگ لیا جائے تو وہ پاک ہوجاتا ہے


(118) عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ قَالَ رَأَيْتُ عَلَى ابْنِ وَعْلَةَ السَّبَإِيِّ فَرْوًا فَمَسِسْتُهُ فَقَالَ مَا لَكَ تَمَسُّهُ ؟ قَدْ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قُلْتُ إِنَّا نَكُونُ بِالْمَغْرِبِ وَ مَعَنَا الْبَرْبَرُ وَالْمَجُوسُ نُؤْتَى بِالْكَبْشِ قَدْ ذَبَحُوهُ وَ نَحْنُ لاَ نَأْكُلُ ذَبَائِحَهُمْ وَ يَأْتُونَا بِالسِّقَائِ يَجْعَلُونَ فِيهِ الْوَدَكَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَدْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ دِبَاغُهُ طَهُورُهُ

یزید بن ابی حبیب سے روایت ہے کہ ابوالخیر نے ان سے بیان کیا کہ میں نے ابن وعلہ السبئی کو ایک پوستین پہنے دیکھا۔ میں نے اس کو چھوا تو انہوں نے کہا کہ کیوں چھوتے ہو (کیا اس کو نجس جانتے ہو)؟ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے کہا کہ ہم مغرب کے ملک میں رہتے ہیں وہاں بربر کے کافر اور آتش پرست بہت ہیں، وہ مینڈھا ذبح کرکے لاتے ہیں۔ ہم تو ان کا ذبح کیا ہوا جانور نہیں کھاتے اورمشکیں ،مشکیزے لاتے ہیں، ان میں چربی ڈال کر۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنھما نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کھال رنگنے سے پاک ہو جاتی ہے۔ (یعنی کھال رنگنے سے پاک ہوجاتی ہے اگرچہ کافر نے رنگی ہو)۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : إذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِيْ إِنَائِ أَحدِكُم فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعًا

جب کتا تمہارے برتن میں منہ ڈال دے تو اس برتن کو سات مرتبہ دھونا چاہیے


(119) عَنِْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم بِقَتْلِ الْكِلاَبِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُهُمْ وَ بَالُ الْكِلاَبِ ؟ ثُمَّ رَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَ كَلْبِ الْغَنَمِ وَ قَالَ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الإِنَائِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَ عَفِّرُوهُ الثَّامِنَةَ فِي التُّرَابِ وَ فِيْ رِوَايَةِ يَحْيَ بْنَ سَعِيْدٍ وَ رَخَّصَ فِي كَلْبِ الْغَنَمِ وَالصَّيْدِ وَالزَّرْعِ

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم کیا۔ پھر فرمایا:’’ ان لوگوں اور کتوں کا کیا حال ہے؟‘‘ پھر شکار کے لیے اور مویشیوں کی حفاظت کے لیے کتا پالنے کی اجازت دی (یعنی بکریوں کی حفاظت کے لیے ) اور فرمایا: ’’ جب کتا برتن میں منہ ڈال کر پیے تو اس کو سات بار پانی سے دھوؤ اور آٹھویں بار مٹی سے ۔‘‘ اور یحییٰ بن سعید کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شکار، بکریوں اور کھیتی کی حفاظت کے لیے کتے کی اجازت دی۔
 
Top