• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قرآن عظیم الشان کے عربی پر اعتراضات

الیاسی

رکن
شمولیت
فروری 28، 2012
پیغامات
425
ری ایکشن اسکور
736
پوائنٹ
86
اچھا عبدالعلام صاحب ایک سوال کا جواب دیں کہ قرآن مجید میں لکھا ھوا ہے ومن کل شیء خلقنا زوجین
ھم نے ہر چیز جوڑے میں میں پیدا کیا ہے اب کرسچن اس پر یہ اعتراض کررہے ہیں کہ ساینس کی مطابق کچھ چیزیں ایسی بھی ہے جو جوڑے میں نھیں ہے تو آپ بتادے اس کا آپ کیا جواب دینگے ؟؟؟
جناب عبدالعلام صاحب جواب کا انتظار ہے؟؟
 

الیاسی

رکن
شمولیت
فروری 28، 2012
پیغامات
425
ری ایکشن اسکور
736
پوائنٹ
86
جناب محترم برادرم کفایت اللہ صاحب بہت ہی احترام کی ساتھ خوش آمدید کی بعد اپنے گرامر اور صرف ونحو کو استعمال کرتے ہوے ویوم نحشر المتقین الی الرحمن وفدا
اس آیت مبارکہ میں بقول آپ کے آپ کیسے بولینگے کہ نحشر سے اللہ مراد ہے ؟؟؟؟؟
جناب کفایت اللہ صاحب جواب کا انتظارہے ؟؟؟
 

الیاسی

رکن
شمولیت
فروری 28، 2012
پیغامات
425
ری ایکشن اسکور
736
پوائنٹ
86
الیاسی صاحب ان کرسچن کی بات اپ نہ ہی کریں تو بہتر ہے- ہمارے لیے تو بھیا جو ہیں آپ ہیں- آپ نے اپنے استاد محترم کی جو تحقیق پیش فرماءی ہے اس کا خلاصہ میں یہ سمجھا ہوں کہ آپ حضرات کے نزدیک قران میں جہاں جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے ان میں بہت سے مقامات پر وہ اللہ کا کلام ہے ہی نہیں بلکہ کارکنان ٖقدرت کا کلام ہے- گویا قران کو صرف کلام الہی سمجھنا غلطی ہے(نعوذباللہ)- دوسرے جو چیزیں جوڑا جوڑا بنائ گیی ہیں وہ کارکنان قدرت کی تخلیق ہے اور اللہ نے صرف وہ چیزیں بنای جو جوڑا نہیں ہیں -اگر میں صحیح سمجھا ہوں تو بتادیں تاکہ ناچیز کچھ عرض کرسکے-

اور اللہ نے صرف وہ چیزیں بنای جو جوڑا نہیں ہیں -اگر میں صحیح سمجھا ہوں تو بتادیں تاکہ ناچیز کچھ عرض کرسکے-
جناب آپ نے باالکل غلط سمجھا ہے ۔اللہ نے ہرچیز بنایا ہے۔عیسی علیہ السلام نے پرندے کاجو تخلیق کیا تھا وہ بھی باذن اللہ تھا اور جو کچھ بھی کارکنان قدرت بناتی ہے وہ بھی اللہ کی مرضی سے ہوتی ہے۔لیکن کارکنان قدرت نے ہرچیزکو جوڑ میں پیداکیا ہے اور جو چیز جوڑ میں نہیں ہے وہ کارکنان کی تخلیق نہیں ہے ۔حقیقی خالق صرف اللہ ہے لیکن آیت کہتی ہے واللہ خیر الخالقین جس کا مطلب ہے کہ عیسی علیہ السلام بھی خالق ہے اور کارکنان قدرت بھی خالقین ہیں لیکن اللہ سب سے بہتر خالق ہے ۔اسی طریقے سے بہت سے رازق ہے لیکن اللہ تعالی سب سے بہتر رازق ہے ۔ واللہ خیرالرازقین
 
شمولیت
مارچ 15، 2012
پیغامات
153
ری ایکشن اسکور
493
پوائنٹ
95
الیاسی صاحب تخلیق اگر صناعت کہ معنی میں ہو(کچھ چیزوں کو جوڑ کر ایک ڈھانچہ بنانا) تو اس لفظ کا استعمال غیر اللہ کے لئے بھی ہوتا ہے- جیسے عیسی علیہ السلام نے کہا تھا انی اخلق لکم ظاہر ہے کہ عیسی علیہ السلام کا کام سرف یہ تھا کہ وہ مٹی سے ایک پتلہ بنا کر اس میں پہونک مارا کرتے تھے- جان دالنا ان کے اختیار میں نہ تھا- اس معنی میں یہ لفظ مجاز ہے -تخلیق کے حقیقی معنی کسی چیز کو عدم سے وجود میں لانا کرییٹ کرنا یہ صرف اللہ کے لئے لائق وزیبا ہے- بہرحال یہ تو ضمنی بات ہے آپ اسل سوال گول کر گئے کیا آپ مانتے ہین کہ قران صرف اللہ کا کلام نہیں بلکہ اکثر جگہ جمع کا صیغہ کارکنان ٖقدرت کا کلام ہے- وضاحت فرمائیں؟
 
شمولیت
مارچ 15، 2012
پیغامات
153
ری ایکشن اسکور
493
پوائنٹ
95
جناب عبدالعلام صاحب جواب کا انتظار ہے؟؟
الیاسی صاحب یہ کرسچن کون ہیں اور ان کا اعتراض انکے اسل الفاظ میں یہاں نقل کرٰیں- ھر کسی کی ہر بات کا جواب دینا عقلمندوں کا کام نہیں-امام احمد سے ان کے لڑکے نے ایک سوال کیا -امام صاحب ہنس دیے -بیٹے نے کہا میں کچھ پوچھ رہا ہوں آپ جواب دیجئے- فرمایا یا بنی قد اجبتک بیٹے میں جواب دیچکا ہوں- اگر اوریجنل اعتراض اس لائق ہے تو ضرور جواب دیا جایئگا- ورنہ ہم بھی ہنس دینگے- آپ کی لولی لنگڑی سائینس کا رعب کسی اور پر ڈالیئے گا جو کبھی زمین کو سورج کے گرد گھماتی ہے کبھی سورج کو زمین کے گرد- انسان کو بندر کی اولاد بتاتی ہے- وغیرہ وغیرہ ایسی باتوں سے مرعوب ہونا عقلمندوں کی نشانی نہیں-
 
شمولیت
مارچ 15، 2012
پیغامات
153
ری ایکشن اسکور
493
پوائنٹ
95
الیاسی !! ھر چیز ایٹم سے بنی ہے اور ایٹم کے جوڑے ہوتے ہیں لہذا ہر چیز جو بنی ہے جوڑوں پر مبنی ہے ۔
الیاسی !! علماء اھل سنت سے علم حاصل کرو ۔
الیاسی صاحب جواب کا انتظار رہے گا-
 
شمولیت
مارچ 15، 2012
پیغامات
153
ری ایکشن اسکور
493
پوائنٹ
95
الیاسی صاحب آپ اپنی بات انس ساحب سے جاری رکھین میں صرف اتنا جاننا چاھتا ہوں کہ سورہ بقرہ کی ایت واذ قلنا للملاءکۃ اسجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس ابی واستکبر وکان من الکافرین میں جمع کے صیغے سے کیا مراد ہے- شکریہ
الیاسی صاحب جواب کا انتظار ہے
 

الیاسی

رکن
شمولیت
فروری 28، 2012
پیغامات
425
ری ایکشن اسکور
736
پوائنٹ
86
الیاسی صاحب تخلیق اگر صناعت کہ معنی میں ہو(کچھ چیزوں کو جوڑ کر ایک ڈھانچہ بنانا) تو اس لفظ کا استعمال غیر اللہ کے لئے بھی ہوتا ہے- جیسے عیسی علیہ السلام نے کہا تھا انی اخلق لکم ظاہر ہے کہ عیسی علیہ السلام کا کام سرف یہ تھا کہ وہ مٹی سے ایک پتلہ بنا کر اس میں پہونک مارا کرتے تھے- جان دالنا ان کے اختیار میں نہ تھا- اس معنی میں یہ لفظ مجاز ہے -تخلیق کے حقیقی معنی کسی چیز کو عدم سے وجود میں لانا کرییٹ کرنا یہ صرف اللہ کے لئے لائق وزیبا ہے- بہرحال یہ تو ضمنی بات ہے آپ اسل سوال گول کر گئے کیا آپ مانتے ہین کہ قران صرف اللہ کا کلام نہیں بلکہ اکثر جگہ جمع کا صیغہ کارکنان ٖقدرت کا کلام ہے- وضاحت فرمائیں؟

برادرم عبدالعلام صاحب سوچیں ذرا حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا انی اخلق اور آپ اخلق کامعنی اصنع سے کرتے ہو؟ کیوں ؟جب کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے ان کو کہا تھا واذتخلق جب تم پیدا کررہے تھے اور آپ ایک بعید تاویل کرتےہو کتنی افسوس کی بات ہے ؟؟؟دوسری بات اگریہ صرف عام کام تھا تو باذن اللہ انھوں نے کیوں کہا ؟؟؟
اسی طرح فتبارک اللہ احسن الخالقین میں اللہ نے اپنے آپ کو سب خالقوں سے بھترین خالق کہا کیوں ؟؟؟اس کامقصد یہ ہوا کہ خالق اور بھی ہے صرف بنانے والے مراد نھیں کیا میں اپنے آپ کو اس آیت کی سمجھنے میں عقل سے پیدل کردو؟؟؟
 

الیاسی

رکن
شمولیت
فروری 28، 2012
پیغامات
425
ری ایکشن اسکور
736
پوائنٹ
86
الیاسی صاحب یہ کرسچن کون ہیں اور ان کا اعتراض انکے اسل الفاظ میں یہاں نقل کرٰیں- ھر کسی کی ہر بات کا جواب دینا عقلمندوں کا کام نہیں-امام احمد سے ان کے لڑکے نے ایک سوال کیا -امام صاحب ہنس دیے -بیٹے نے کہا میں کچھ پوچھ رہا ہوں آپ جواب دیجئے- فرمایا یا بنی قد اجبتک بیٹے میں جواب دیچکا ہوں- اگر اوریجنل اعتراض اس لائق ہے تو ضرور جواب دیا جایئگا- ورنہ ہم بھی ہنس دینگے- آپ کی لولی لنگڑی سائینس کا رعب کسی اور پر ڈالیئے گا جو کبھی زمین کو سورج کے گرد گھماتی ہے کبھی سورج کو زمین کے گرد- انسان کو بندر کی اولاد بتاتی ہے- وغیرہ وغیرہ ایسی باتوں سے مرعوب ہونا عقلمندوں کی نشانی نہیں-

اوریجنل اعتراض ان کی الفاظ میں مندرجہ ذیل ہے










 
Top