Aamir
خاص رکن
- شمولیت
- مارچ 16، 2011
- پیغامات
- 13,382
- ری ایکشن اسکور
- 17,099
- پوائنٹ
- 1,033
باب۔ اجازت لینے کا حکم اسی لیے دیا گیا ہے کہ نظر نہ پڑے۔
(۲۰۶۰)۔ سیدنا سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اپنے گھر میں سلائی سے سر کھجا رہے تھے ، ایک شخص نے کسی سوراخ میں سے (جو گھر کی دیوار میں تھا) جھانکا آپﷺ نے فرمایا :'' اگر مجھے معلوم ہو جاتا ہے کہ تو جھانک رہا ہے تو میں یہی سلائی تیر ی آنکھ میں مارتا ، ارے بھلے ! آدمی پھر اجازت لینے کا حکم کیوں ہوا ہے ، اسی لیے تا کہ نظر نہ پڑے۔ ''
(۲۰۶۰)۔ سیدنا سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اپنے گھر میں سلائی سے سر کھجا رہے تھے ، ایک شخص نے کسی سوراخ میں سے (جو گھر کی دیوار میں تھا) جھانکا آپﷺ نے فرمایا :'' اگر مجھے معلوم ہو جاتا ہے کہ تو جھانک رہا ہے تو میں یہی سلائی تیر ی آنکھ میں مارتا ، ارے بھلے ! آدمی پھر اجازت لینے کا حکم کیوں ہوا ہے ، اسی لیے تا کہ نظر نہ پڑے۔ ''