• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسئلہ تحکیم / کیا تشریع عام کفر اکبر ہے؟؟؟

باربروسا

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 15، 2011
پیغامات
311
ری ایکشن اسکور
1,078
پوائنٹ
106
جزاک اللہ خیرا

گویا کفر حقیقی عملی کے لیے استحلال اور دوسری شرائط اصولی طور ہم دونوں کے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتیں ، جیسے اہانت قران، جادو اور نبی علیہ السلام کی گستاخی وغیرہ.

یہاں محل نزاع ہے
؛؛؛ بندوں کا شریعت سازی کرنا اورچلانا............... جبکہ شریعت الہی کی کوئی راہنمائی نہ لینا............ یعنی تشریع لغیر اللہ ؛؛؛
یہ تحکیم سے بڑی چیز ہے ،پہلے تشریع ہوتی ہے اور پھر تحکیم اس کے تحت ہوتی ہے ..............یا اگر اپ سے تحکیم میں ہی شامل سمجھتے ہیں تو بھی،

کیا اس شریعت سازی میں بھی کوئی اختلاف ہے کہ عملی کفر اکبر ہے یا کفر مجازی عملی؟؟

والسلام
 
شمولیت
نومبر 23، 2011
پیغامات
493
ری ایکشن اسکور
2,479
پوائنٹ
26
سوال سادہ ہے÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷

کیا تحکیم بغیر ما انزل اللہ کے کفر ہونے میں اعتقاد کی شرط ہے یا نہیں؟؟؟؟

اگر ہاں ! تو ٹھیک۔
اور
اگر نہیں تو تمام سرکاری اور مذہبی ہستیاں جو تحکیم بغیر ما انزل اللہ کی مرتکب ہوئیں مشرک و مرتد ہیں اور طواغیت ہیں۔۔۔

اب یہاں نوڈلز بنانے کی بجائے سیدھا سیدھا جواب دینا ، مجھے نوڈلز پسند نہیں۔۔۔ :)
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,582
پوائنٹ
211
سوال سادہ ہے÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷

کیا تحکیم بغیر ما انزل اللہ کے کفر ہونے میں اعتقاد کی شرط ہے یا نہیں؟؟؟؟

اگر ہاں ! تو ٹھیک۔
اور
اگر نہیں تو تمام سرکاری اور مذہبی ہستیاں جو تحکیم بغیر ما انزل اللہ کی مرتکب ہوئیں مشرک و مرتد ہیں اور طواغیت ہیں۔۔۔
یہ واقعی نہایت اہم سوال ہے۔ اگر اس اصول پر خاطر خواہ مفصل بات کر لی جائے تو شاید اسی سے اختلاف کی خلیج کچھ کم ہو سکے۔

اب یہاں نوڈلز بنانے کی بجائے سیدھا سیدھا جواب دینا ، مجھے نوڈلز پسند نہیں۔۔۔ :)
عبدل بھائی ، نہایت معذرت کے ساتھ ایک گزارش کرنا چاہتا ہوں۔ اگر ممکن ہو تو اتنی سنجیدہ بحث میں اس قسم کے جملے نہ لکھا کریں۔ آپ کی شخصیت سے میل نہیں کھاتا۔ امید ہے برا نہیں منائیں گے۔
 

باربروسا

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 15، 2011
پیغامات
311
ری ایکشن اسکور
1,078
پوائنٹ
106
راجا بھائی ! بات علوی صاحب سے ہو رہی ہے ، وہ توجہ فرمائیں گے تو ہی ہے ۔۔۔ عبدل سے اچھی سیر حاصل بات ہو چکی ہے ، اللہ اسے خوش رکھے ،اور جو سوال انہوں نے کیا ہے اس کا جواب بالکل تھریڈ کے شروع میں میں بڑی وضاحت سے دے چکا ہوں .

اب ہاں یا نہیں کے سوال جواب تب ہوں جب پہلے نکتہ زیر بحث واضح نہ کیا جا چکا ہو. مراسلہ نمبر ٥ دیکھ لیجئے گا.

والسلام
 
شمولیت
نومبر 23، 2011
پیغامات
493
ری ایکشن اسکور
2,479
پوائنٹ
26
راجا بھائی ! بات علوی صاحب سے ہو رہی ہے ، وہ توجہ فرمائیں گے تو ہی ہے ۔۔۔ عبدل سے اچھی سیر حاصل بات ہو چکی ہے ، اللہ اسے خوش رکھے ،اور جو سوال انہوں نے کیا ہے اس کا جواب بالکل تھریڈ کے شروع میں میں بڑی وضاحت سے دے چکا ہوں .

اب ہاں یا نہیں کے سوال جواب تب ہوں جب پہلے نکتہ زیر بحث واضح نہ کیا جا چکا ہو. مراسلہ نمبر ٥ دیکھ لیجئے گا.

والسلام
راجا بھائی جہاں انکی تلبیسات کا پول کھل جائے ، وہاں سے فرار۔۔۔
میں نہ مانوں ۔۔۔۔۔یہ پرانی بیماری ہے، جس کو لگ جائے ، بس وہ دعاوں کا ہی محتاج رہ جاتا ہے
میرے سے جو بروسا جی بات ہوئی اس میں آپ کی بوکھلاہٹ اور افراط و تفریط قابل دید تھی۔۔۔
اللہ آپ کو بھی خوش رکھے
 
شمولیت
نومبر 23، 2011
پیغامات
493
ری ایکشن اسکور
2,479
پوائنٹ
26
اب یہاں نوڈلز بنانے کی بجائے سیدھا سیدھا جواب دینا ، مجھے نوڈلز پسند نہیں۔۔۔
عبدل بھائی ، نہایت معذرت کے ساتھ ایک گزارش کرنا چاہتا ہوں۔ اگر ممکن ہو تو اتنی سنجیدہ بحث میں اس قسم کے جملے نہ لکھا کریں۔ آپ کی شخصیت سے میل نہیں کھاتا۔ امید ہے برا نہیں منائیں گے۔
جی انشاء اللہ ، میں اس مسئلے پر اصلاح کر چکا ہوں۔آئندہ مخالف جو مرضی ملفوظات پیش کرے میں صرف دلیل و برہان سے ہی بات کروں گا۔
جزاک اللہ خیرا راجا بھائی۔۔
 
شمولیت
جولائی 06، 2011
پیغامات
126
ری ایکشن اسکور
462
پوائنٹ
81
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
سب سے پہلے تو میں اپنی کم علمی کا عذر پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں آپ لوگ مسئلہ کو سمجھنے میں میرے ساتھ تعاون کریں گے۔ دوسری بات یہ کہ آپ لوگوں کی بحث سے میرے ذہن میں کچھ سوالات پیدا ہوئیں ہیں لیکن میں فالحال کسی کتاب کا مطالعہ نہیں کرنا چاہتا لحاظہ گزارش ہے کہ ادھر ہی آسان الفاظ میں مجھے ان کا جواب دیجئے گا۔

بھائی عبداللہ عبدل سے سوال ہے کہ اگر وہ ایمان کو لسان، قول اور عمل کا مجموعہ مانتے ہیں اور تحکیم بغیر ما انزل اللہ کے مسئلے میں اعتقاد و استحلال کی شرط کے بھی قائل ہیں تو یہ بتائیے کہ کیا عمل سے استحلال ثابت نہیں ہوسکتا؟ اگر نہیں تو پھر آپ عمل کو ایمان کا حصہ کیوں مانتے ہیں؟ اور اگر آپ عمل کو ایمان کا حصہ مانتے ہیں تو تحکیم بغیر ما انزل اللہ میں اعتقاد کی شرط کیوں لگاتے ہیں اور جادو والے معاملے میں اعتقاد کی شرط کیوں نہیں لگاتے؟ جبکہ تحکیم تو جادو سے بڑا معاملہ ہے اور توحید کا جزء ہے پھر یہ تعارض کیوں؟

خلاصہ کلام یہ کہ آخر یہ کب اور کیسے معلوم ہوگا کہ جو لوگ عملا کفر کررہیں ہیں وہ اس کا اعتقاد بھی رکھتے ہیں اور دل سے اس پر راضی بھی ہیں؟ کوئی بھی کلمہ پڑھنے والا شخص جب کفر کررہا ہو کبھی اپنے منہ سے یہ نہیں کہتا کہ میں کفر کررہا ہوں یا میں کافر ہوں اور کفر کو پسند کرتا ہوں بلکہ لوگ تو الٹا اپنے کفر اور شرک کی تاویلیں کرتے ہیں۔

مہربانی فرما کر مسئلہ واضح کردیں۔
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,582
پوائنٹ
211
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
سب سے پہلے تو میں اپنی کم علمی کا عذر پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں آپ لوگ مسئلہ کو سمجھنے میں میرے ساتھ تعاون کریں گے۔ دوسری بات یہ کہ آپ لوگوں کی بحث سے میرے ذہن میں کچھ سوالات پیدا ہوئیں ہیں لیکن میں فالحال کسی کتاب کا مطالعہ نہیں کرنا چاہتا لحاظہ گزارش ہے کہ ادھر ہی آسان الفاظ میں مجھے ان کا جواب دیجئے گا۔

بھائی عبداللہ عبدل سے سوال ہے کہ اگر وہ ایمان کو لسان، قول اور عمل کا مجموعہ مانتے ہیں اور تحکیم بغیر ما انزل اللہ کے مسئلے میں اعتقاد و استحلال کی شرط کے بھی قائل ہیں تو یہ بتائیے کہ کیا عمل سے استحلال ثابت نہیں ہوسکتا؟ اگر نہیں تو پھر آپ عمل کو ایمان کا حصہ کیوں مانتے ہیں؟ اور اگر آپ عمل کو ایمان کا حصہ مانتے ہیں تو تحکیم بغیر ما انزل اللہ میں اعتقاد کی شرط کیوں لگاتے ہیں اور جادو والے معاملے میں اعتقاد کی شرط کیوں نہیں لگاتے؟ جبکہ تحکیم تو جادو سے بڑا معاملہ ہے اور توحید کا جزء ہے پھر یہ تعارض کیوں؟

خلاصہ کلام یہ کہ آخر یہ کب اور کیسے معلوم ہوگا کہ جو لوگ عملا کفر کررہیں ہیں وہ اس کا اعتقاد بھی رکھتے ہیں اور دل سے اس پر راضی بھی ہیں؟ کوئی بھی کلمہ پڑھنے والا شخص جب کفر کررہا ہو کبھی اپنے منہ سے یہ نہیں کہتا کہ میں کفر کررہا ہوں یا میں کافر ہوں اور کفر کو پسند کرتا ہوں بلکہ لوگ تو الٹا اپنے کفر اور شرک کی تاویلیں کرتے ہیں۔
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ
دخل در معقولات کے لئے معذرت۔ آپ کا روئے سخن عبداللہ عبدل صاحب کی جانب تھا۔ لیکن اس سوال کا چونکہ بہترین جواب ابوالحسن علوی بھائی یہاں دے چکے ہیں۔ لہٰذا فقط اس جانب نشاندہی کرنا مقصود ہے:

یہ واضح رہے کہ جو لوگ تحکیم بغیر ما انزل اللہ میں استحلال کی شرط لگاتے ہیں، وہ لسان و قلب کی طرح اعمال کے کفر میں بھی کفر مجازی اور کفر حقیقی دونوں کے قائل ہیں۔
اختلاف یہ نہیں ہے کہ ہم اس کے قائل ہیں کہ عمل کا کفر ہر حال میں کفر مجازی ہی ہوتا ہے۔ عمل کا کفر بعض صورتوں میں کفر مجازی ہوتا ہے جیسا کے تارک صلاۃ کا کفر اور بعض صورتوں میں کفر حقیقی ہوتا ہے جیسا شاتم رسول کا کفر۔ محل نزاع یہ ہے کہ تحکیم بغیر ما انزل اللہ علمی کفر ہے، اب علمی کفر ہونے کے بعد یہ کفر عملی مجازی ہے یا کفر عملی حقیقی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ کفر عملی مجازی ہے۔ اہل سنت کا اصول یہ ہے کہ جب کفر عملی کا اجتماع ایمان لسانی و قلبی کے ساتھ ناممکن ہو تو وہ کفر عملی حقیقی کفر ہوتا ہے اور اگر کفر عملی کا اجتماع ایمان لسانی و قلبی کے ساتھ ممکن ہو تو وہ کفر عملی مجازی ہوتا ہے۔ اس بارے تفصیل امام ابن قیم رحمہ اللہ کی کتاب تارک الصلاۃ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
اوپر ہائی لائٹ کردہ الفاظ قابل غور ہیں! اگر ان سے آپ کو اختلاف ہے تو پیش کیجئے!
 
شمولیت
جولائی 06، 2011
پیغامات
126
ری ایکشن اسکور
462
پوائنٹ
81
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ
دخل در معقولات کے لئے معذرت۔ آپ کا روئے سخن عبداللہ عبدل صاحب کی جانب تھا۔ لیکن اس سوال کا چونکہ بہترین جواب ابوالحسن علوی بھائی یہاں دے چکے ہیں۔ لہٰذا فقط اس جانب نشاندہی کرنا مقصود ہے:



اوپر ہائی لائٹ کردہ الفاظ قابل غور ہیں! اگر ان سے آپ کو اختلاف ہے تو پیش کیجئے!
جناب راجا صاحب آپ کی آمد کا شکریہ! میں نے محترم شیخ ابو الحسن علوی صاحب کی پوسٹ پڑھلی تھی لیکن میرا سوال کچھ اور تھا۔ دوسری بات یہ کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ میرا علم ناقص ہے اور پھر تکفیر کا موضوع نہایت نازک ہے میں اس پر کلام نہیں کرسکتا اختلاف یا اتفاق کرنا تو درکنار۔ میں تو صرف ایک طالب علم کی حیثیت سے سوال کر رہا ہوں اور مسئلے کو سمجھنے کی کوشیش کر رہا ہوں۔ چلئے میں علوی صاحب ہی کی تحریر سے متعلق کچھ سوال کرلیتا ہوں:

۱۔ محترم شیخ ابو الحسن علوی صاحب نے اہل سنت کے جس اصول کا ذکر کیا ہے کیا وہ نصوص سے ثابت ہے یا محض فقہاء کا کلام ہے؟ کیا اس پر کوئی اجماع وغیرہ ہوا ہے؟
۲۔ اگر واقعی یہ اہل سنت کا اصول ہے تو پھر یہ کون طے کرے گا کہ فلانہ کفر عملی کا اجتماع لسانی اور قلبی کے ساتھ ممکن ہے اور فلانے کا نہیں؟
۳- اگر کوئی مجتہد علوی صاحب سے اختلاف کرتے ہوئے اس اصول کے تحت تحکیم والے کفر کو کفر عملی حقیقی قرار دے دے تو کی رائے معتبر ہوگی؟ اور اسی طرح اگر عوام میں سے ایک گروہ اس مجتہد پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی رائے یا فتوی کو قبول کرتا ہو اور اختیار کرتا ہے تو کیا وہ سارے تکفیری ہو جائیں گے؟
۴- میرا اصل سوال یہی ہے کہ اگر تحکیم کے مسئلے میں اعتقاد کو شرط قرار دیں تو یہ کیسے طے کریں گے فلاں حاکم نے اعتقاد کے ساتھ کفر کیا ہے یا فلاں نے اعتقاد کے ساتھ نہیں محض عمل کے ساتھ کفر کیا ہے؟ اس کا مقیاس یا معیار کیا ہے؟
۵- کیا کفر مجازی سے مراد کفر دون کفر ہے؟
 
Top