• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسئلہ تحکیم / کیا تشریع عام کفر اکبر ہے؟؟؟

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,560
پوائنٹ
641
۱۔ محترم شیخ ابو الحسن علوی صاحب نے اہل سنت کے جس اصول کا ذکر کیا ہے کیا وہ نصوص سے ثابت ہے یا محض فقہاء کا کلام ہے؟ کیا اس پر کوئی اجماع وغیرہ ہوا ہے؟
نصوص سے ثابت ہے۔ اس بارے امام ابن قیم رحمہ اللہ کی کتاب تارک الصلاۃ کا مطالعہ فرمائیں۔
۲۔ اگر واقعی یہ اہل سنت کا اصول ہے تو پھر یہ کون طے کرے گا کہ فلانہ کفر عملی کا اجتماع لسانی اور قلبی کے ساتھ ممکن ہے اور فلانے کا نہیں؟
امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اس پر بھی بحث کی ہے۔ ساری بحث کو یہاں نقل کرنا شاید اس لیے مشکل ہوتا ہے کہ اس کام کے لیے کافی وقت درکار ہوتا ہے۔ مختصر الفاظ میں کچھ بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ بت کو سجدہ کرنا یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا گالی دینا ایک ایسا عمل ہے جو ایمان قلبی کی ضد ہے۔ یعنی کوئی شخص یہ کہے کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا نبی اور رسول مانتا ہو لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی بھی دے تو اس کا یہ عمل اس کے قلب میں موجود ایمان بالرسالت کی ضد ہے اور دونوں کا اجتماع ممکن نہیں ہے۔ یہ کامن سینس کی بات ہے کہ ایک شخص کا عمل اس کے دعوی ایمان کی نفی کر رہا ہے۔ ایک شخص کہے کہ میں توحید پر ایمان رکھتا ہوں لیکن ساتھ ہی بت کو سجدہ بھی کرے تو یہ عمل اس کے قلب میں موجود ایمان باللہ کی ضد ہے اور دونوں کا اجتماع ممکن نہیں ہے۔ یہ ہر کسی کو سمجھ میں آ سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کہے کہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کے دل میں توحید ہو لیکن وہ بت کو سجدہ بھی کرتا ہو یا ایک شخص اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان قلبی بھی رکھتا ہو لیکن ساتھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں بھی دیتا ہو، یہ اجتماع ممکن ہے تو ایسا شخص جھوٹا ہے اور ہر شخص اس کے جواب میں یہی کہے گا کہ یہ اجتماع ممکن نہیں ہے کیونکہ اس کا یہ فعل اور اس کا دعوی ایمان ضدین ہیں جو جمع نہیں ہو سکتی ہیں اور ضدین کے جمع نہ ہونے کا علم ہر شخص کو حاصل ہوتا ہے۔ اور اسے معلوم کرنے کے لیے کسی اجتہاد یا مجتہد ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آگ اور پانی کا اجتماع ممکن نہیں ہے، اس کے ثبوت یا اثبات کے لیے صرف عقل کا ہونا کافی ہے۔

تحکیم بغیر ما انزل اللہ کو قرآن نے کفر، ظلم اور فسق کہا ہے۔ تین الفاظ استعمال کرنے کا مطلب ہی یہی ہے کہ یہ بعض صورتوں میں کفر اور بعض میں ظلم اور بعض میں فسق و فجور ہے۔ تحکیم بغیر ما انزل اللہ کا اجتماع اس کے ایمان کے ساتھ ممکن ہے۔ اس کی مثال میں قاضی مجتہد مخطی کی مثال لے لیں۔ جو شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے میں خطا کرتا ہے۔ اب اس قاضی نے اجتہاد کیا اور اس کا اجتہاد خطا ہوا اور اس کا فیصلہ شریعت کے مطابق نہ ہوا لیکن اس پر بھی اس کے لیے اجر و ثواب ہے۔ گویا کہ یہ ایسا عمل ہے کہ اس کا اجتماع اس کے ایمان کے ساتھ ممکن ہے۔ اسی طرح ایک قاضی نے کسی مسئلہ میں رشوت لے کرغلط فیصلہ دے دیا اور یہ ہمارے ہاں شروع ہی سے چلا آ رہا ہے کہ قضاۃ بادشاہوں کے حق میں فیصلے دیتے چلے آئے ہیں۔ اب اس کا یہ عمل اس کے ایمان کے منافی تو ہے لیکن اس کی ضد نہیں ہے۔ منافی اور ضد ہونے میں فرق ہے۔ اگر کوئی قاضی رشوت لے کر قضیہ معینہ میں کوئی غلط فیصلہ کر دے تو امت میں سے کسی نے بھی اس پر کفر کا فتوی نہیں لگایا تو معلوم ہوا کہ اس عمل کا اجتماع اس کے ایمان کے ساتھ ممکن ہے۔ اب گناہ پر اصرار اس کی شناعت کو تو بڑھاتا لیکن اس کا درجہ نہیں بڑھاتا یعنی اگر ایک گناہ اپنی اصل میں فسق و فجور ہے یا بدعت ہے تو اس پر اصرار سے اس گناہ کی شناعت اور برائی یا مذمت و وعید تو بڑھ جائے گی لیکن وہ گناہ فسق و فجور یا بدعت کے درجہ سے نکل کر کفر میں نہیں پہنچ جائے گا۔ گناہ پر اصرار یا استقامت یا مداومت سے اس کی اصل تبدیل نہیں ہوتی ہے۔ اگر قضیہ معینہ میں ایک گناہ فسق و فجور ہے تو تشریع عام میں بھی و فسق و فجور ہی رہے گا البتہ اس کی شناعت اور وعید بڑھ جائے گی۔
 
شمولیت
جولائی 06، 2011
پیغامات
126
ری ایکشن اسکور
462
پوائنٹ
81
محترم علوی صاحب آپ نے ماشاءاللہ میری کسی حد تک رہنمائی فرمائی ہے لیکن میرا مرکزی سوال وہیں کھڑا ہے اور وہ یہ کہ تحکیم بغیر ما انزل اللہ کس صورت میں کفر ہوگا یعنی اس کا ادراک ہمیں کیسے ہوگا؟ پھر یہ کہ کیا یہ کفر خارج عن الملۃ والا کفر ہوگا یا کفر دون کفر؟

مجتہد مخطی والی مثال کفایت نہیں کرتی آپ کلمہ گو ایمان کا دعوی کرنے والے حاکم کی مثال دیں۔ اس لئے کہ مجتہد چاہے خطا کرے کم از کم وہ رجوع تو کتاب و سنت کی طرف ہی کرتا ہے لیکن حاکم وقت جب کلمہ بھی پڑھے اور قانون غیر اللہ کا ہو اور اسی کی طرف لوگوں کے فیصلے لوٹائے جائیں تو پھر وہ کیا عذر پیش کرے گا؟

گویا مجتہد مخطی کے فیصلے کا مصدر و مرجع شریعت ہوتا ہے لیکن ایسے حاکم کا کیا حکم ہے جس کے فیصلوں کا مصدر و مرجع ہی انسانوں کا بنایا ہوا قانون ہے؟

برائے مہربانی تشفی بخش جواب عنایت فرمائیں۔۔۔۔۔
 

باربروسا

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 15، 2011
پیغامات
311
ری ایکشن اسکور
1,078
پوائنٹ
106
السلام علیکم ! علوی صاحب کی لب کشائی کے بعد میں اہل سنت کا موقف پیش کرنے کی جسارت کرتا ہوں.

ایک بار پہلے بھی کہیں میں نے اس بابت اشارہ کیا تھا کہ شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ نے نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ ان کی اپنی سوچ کا غماز نہیں ہے بلکہ انہوں نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے استشہاد کیا ہے اور ان کا قول نقل کیا ہے .

اور شیخ الاسلام سے لیکر مولون عبد الرحمٰن کیلانی رحمہ اللہ تک، جو عالم بی قانون سازی کی اس روح کو اچھی طرح دیکھ پرکھتا رہا ہے اس نے یہی موقف اختیار کیا ہے کہ :

اول::اتباع اہوائ کے نتیجے میں قضیہ معینہ میں تحکیم بما انزل اللہ سے عدولی کفر اصغر ہے .

دوم::اس کو قانون کی صورت دینا ، کفر اکبر ہے .

شیخ الاسلام واضح طور پر ان دونوں صورتوں میں فرق کرتے ہیں ،ان کی عبارت یہ ہے ::

(فإن الحاكم إذا كان ديناً لكنه حكم بغير علم كان من أهل النار، وإن كان عالماً لكنه حكم بخلاف الحق الذي يعلمه كان من أهل النار، وإذا حكم بلا عدل ولا علم كان أولى أن يكون من أهل النار، وهذا إذا حكم في قضية معينة لشخص، وأما إذا حكم حكماً عاماً في دين المسلمين، فجعل الحق باطلاً، والباطل حقاً، والسنة بدعة، والبدعة سنة، والمعروف منكراً، والمنكر معروفاً، ونهى عما أمر الله به ورسوله، وأمر بما نهى الله عنه ورسوله فهذا لون آخر يحكم فيه رب العالمين وإله المرسلين مالك يوم الدين) {الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا}، والحمد لله رب العالمين، وصلى الله على محمد وآله وصحبه وسلم).

مجموع الفتاوی
[35/388] اهـ.

ہائی لائٹ کردہ جملوں کا ترجمہ :
"" .......یہ تو قضیہ معینہ کی بات تھی ، ہاں اگر وہ اسے مسلمانوں کے لیے عام قانون بنا دے اور حق کو باطل اور باطل کو حق ،سنت کو بدعت اور بدعت کو سنت اور معروف کو منکر اور منکر کو معروف ٹھہرا دے اور اللہ رسول کے روکے کا حکم دے اور حکم دیے ست روک دے تو یہ دوسری صورت ہے جس کے بارے میں اللہ رب العالمین الہ المرسلین فیصلہ فرماتا ہے جو مالک یوم الدین ہے ......""


اب جو بات علوی صاحب کر رہے ہیں وہ ایک ادنی درجے کی چیز ہے ، یعنی ایک شخص اہواء کے غلبے کے باعث ایک سے زیادہ مرتبہ تحکیم بغیر ما انزل اللہ کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کو کسی نے بھی کفر اکبر نہیں کہا ہے ، کفر اکبر تو اس صورت کو کہا گیا ہے کہ شخص مزکور اپنا مرجع ہی غیر الٰہی قانون کو قرار دے لے اور یہ طے کر لے کہ میں نے شریعت الٰہی سے فیصلہ دینا ہی نہیں ہے !!! آج کل درپیش بھی یہی صورت ہے کہ قانون الٰہی سے روگردانی اسی بنیاد پر ہو رہی ہے نہ کہ اہواء کے غلبے کی بنیادپر !!! فافہم وتدبر.


ان دو باتوں کو مکس اپ کیا جاتا ہے اور یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں .

علوی صاحب ! میرے پہلے کیے گئے سوال کی طرف بھی توجہ کیجے گا. تشریع لغیر اللہ کی بابت آُ نجناب کے موقف کے انتظار میں ہوں .

والسلام
 
شمولیت
جولائی 06، 2011
پیغامات
126
ری ایکشن اسکور
462
پوائنٹ
81
اب جو بات علوی صاحب کر رہے ہیں وہ ایک ادنی درجے کی چیز ہے ، یعنی ایک شخص اہواء کے غلبے کے باعث ایک سے زیادہ مرتبہ تحکیم بغیر ما انزل اللہ کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کو کسی نے بھی کفر اکبر نہیں کہا ہے ، کفر اکبر تو اس صورت کو کہا گیا ہے کہ شخص مزکور اپنا مرجع ہی غیر الٰہی قانون کو قرار دے لے اور یہ طے کر لے کہ میں نے شریعت الٰہی سے فیصلہ دینا ہی نہیں ہے !!! آج کل درپیش بھی یہی صورت ہے کہ قانون الٰہی سے روگردانی اسی بنیاد پر ہو رہی ہے نہ کہ اہواء کے غلبے کی بنیادپر !!! فافہم وتدبر.


ان دو باتوں کو مکس اپ کیا جاتا ہے اور یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں .
وعلیکم السلام جناب! یہی سوال تو میں اہل علم سے کر رہا ہوں کہ جس شخص کا مرجع و مصدر ہی غیر اللہ کا قانون ہو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ اور دیگر نامور علماء کرام نے تو اس کو کفر اکبر نہیں قرار دیا؟
 
شمولیت
نومبر 23، 2011
پیغامات
493
ری ایکشن اسکور
2,479
پوائنٹ
26
عبد الرحمن لاہوری نے لکھا::
وعلیکم السلام جناب! یہی سوال تو میں اہل علم سے کر رہا ہوں کہ جس شخص کا مرجع و مصدر ہی غیر اللہ کا قانون ہو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ اور دیگر نامور علماء کرام نے تو اس کو کفر اکبر نہیں قرار دیا؟
السلام علیکم۔
محترم عبدالرحمن لاہوری صاحب نے ایسا شبہ ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ جس کا مفصل رد اور حقیقت پہلے بھی اس فورم پر موجود ہے۔
میری جناب سے عرض ہے کہ وہ فورم پر موجود مواد سے استفادہ اٹھائیں۔ آپکو کو آپکے سوال کا تفصیلی جواب قرآن و سنت اور فہم سلف صالحین کی صورت میں مل جائے گا۔۔
اگر ان سے بھی تسلی نہ ہو تو پھر ہم اللہ کے فضل سے حاضر ہیں ۔۔۔

لنک::::::مسئلہ تحکیم اور تکفیریوں کی تلبیسات کا علمی محاکمہ

جزاک اللہ خیرا
 
شمولیت
جولائی 06، 2011
پیغامات
126
ری ایکشن اسکور
462
پوائنٹ
81
عبد الرحمن لاہوری نے لکھا::

السلام علیکم۔
محترم عبدالرحمن لاہوری صاحب نے ایسا شبہ ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ جس کا مفصل رد اور حقیقت پہلے بھی اس فورم پر موجود ہے۔
میری جناب سے عرض ہے کہ وہ فورم پر موجود مواد سے استفادہ اٹھائیں۔ آپکو کو آپکے سوال کا تفصیلی جواب قرآن و سنت اور فہم سلف صالحین کی صورت میں مل جائے گا۔۔
اگر ان سے بھی تسلی نہ ہو تو پھر ہم اللہ کے فضل سے حاضر ہیں ۔۔۔

لنک::::::مسئلہ تحکیم اور تکفیریوں کی تلبیسات کا علمی محاکمہ

جزاک اللہ خیرا
جناب میں نے کوئی شبہ ڈالا ہی نہیں تو رد کیسے ہوگیا ہے کیا آپ لوگوں کے دلوں حال معلوم کرلیتے ہیں۔ میں نے تو ایک طالب علم کی حیثیت سے سوال کیا تھا ذہن میں کچھ اشکال تھا بہر حال لنک دینے کا شکریہ۔
 
شمولیت
نومبر 23، 2011
پیغامات
493
ری ایکشن اسکور
2,479
پوائنٹ
26
جزاک اللہ خیرا۔
جناب یہ دلوں کا حال معلوم کرنے کا آلہ میرے پاس نہیں تکفیری حضرات کے پاس ہے ، جس سے وہ کسی کو حرام کام (حکم بغیر ما انزل اللہ) کرتے دیکھتے ہیں تو آلہ کے استعمال سے اس کا اعتقاد معلوم کر کے اس پر حکم چسپاں کر دیتے ہیں۔
بہر بھائی جان لنک خلوص نیت سے دیا، اور امید ہے اس لنک کے بعد کوئی ابہام نہیں بچا ہو گا اس مسئلہ پر۔
اور اگر اب بھی کوئی باقی ہے تو اللہ سے دعا گو ہوں اللہ آپ کی مدد فرمائے اور اسے جلد رفع فرمائے۔ آمین
 
شمولیت
جولائی 06، 2011
پیغامات
126
ری ایکشن اسکور
462
پوائنٹ
81
جناب عبداللہ عبدل صاحب! میں پچھلے چند دنوں سے تحکیم بغیر ما انزل اللہ کے مسئلے پر مطالعہ کر رہا ہوں۔ اس دوران میں کچھ ایسی عبارات پڑھیں جن کو سمجھنے کیلئے آپ کی مدد چاہتا ہوں:

۱۔ امام شوکانی رحمہ اللہ اپنی کتاب ‏الدر النضيد في إخلاص كلمة التوحيد‏ میں فرماتے ہیں:



۲۔ شیخ محمد بن ابراہیم التویجری اپنی کتاب موسوعۃ الفقہ الاسلامی میں فرماتے ہیں:



۳۔ شیخ عبدالعزیز بن محمد حفظہ اللہ اپنی کتاب نواقض الايمان القولية والفعلية میں فرماتے ہیں:


آپ مزید فرماتے ہیں:



مجھے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عبارات خاص طور پر آخری عبارت وضاحت کرتی ہے کہ غیر اللہ کا قانون نافظ کرنے والا، اس کو چلانے والا اور اس کے تحت حکومت کرنے والا شخص کافر خارج عن الملۃ ہو جاتا ہے۔ کیا ان عبارات کا یہی مفہوم ہے؟ وضاحت فرما دیجئے۔
 
شمولیت
نومبر 23، 2011
پیغامات
493
ری ایکشن اسکور
2,479
پوائنٹ
26
وعلیکم سلام ورحمۃ اللہ

محترم جزاک اللہ خیرا، آپ نے ہمیں اس قابل سمجھا کہ ہم اس مسئلے میں رہنمائی کر سکتے ہیں۔ الحمد اللہ علی ذلک۔
اللہ آپ سے راضی ہو۔

آپ میرے چھوٹے سے سوال کا جواب دے دیں تو ابھی مسئلہ حل ہو جائے گا۔

کیا آپ کے نزدیک تحکیم کے مسئلے میں یا تحکیم بغیر ما انزل اللہ کی تشریح عام کے معاملے میں اعتقاد کی قید ہے؟


بس اس ایک ننھے منے سوال کا سادہ لفظوں میں جواب ارسال فرما دیں۔

جزاک اللہ خیرا
 
شمولیت
جولائی 06، 2011
پیغامات
126
ری ایکشن اسکور
462
پوائنٹ
81
وعلیکم سلام ورحمۃ اللہ

محترم جزاک اللہ خیرا، آپ نے ہمیں اس قابل سمجھا کہ ہم اس مسئلے میں رہنمائی کر سکتے ہیں۔ الحمد اللہ علی ذلک۔
اللہ آپ سے راضی ہو۔

آپ میرے چھوٹے سے سوال کا جواب دے دیں تو ابھی مسئلہ حل ہو جائے گا۔

کیا آپ کے نزدیک تحکیم کے مسئلے میں یا تحکیم بغیر ما انزل اللہ کی تشریح عام کے معاملے میں اعتقاد کی قید ہے؟


بس اس ایک ننھے منے سوال کا سادہ لفظوں میں جواب ارسال فرما دیں۔

جزاک اللہ خیرا
میرے لئے ہاں یا نہ میں جواب دینا ممکن نہیں ہے کیونکہ میں خود ابھی تک فیصلہ نہیں کر پایا کہ تحکیم بغیر ما انزل اللہ کے کفر اکبر (خارج عن الملة) ہونے کیلئے اعتقاد شرط ہے یا نہیں۔ اسی سلسلے میں تو آپ سے رہنمائی مانگی ہے اور چونکہ میں آپ کے موقف سے بخوبی واقف ہوں اسی لئے سوال ایسا کیا جو بظاہر آپ کے موقف کو چیلنج کرتا معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں تحقیق کرکے حق تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ پس اگر حق آپ کے موقف میں مل گیا تو قبول کرونگا اور اگر حق آپ کے مخالف ہوا تو آپ کو موقف کو چھوڑ دونگا۔ فی الحال میں آپ کے موقف سے پوری طرح مطمئین نہیں ہوں اسی لئے سوال کر رہا ہوں۔

محترم بھائی عبداللہ! میں یہ بھی واضح کردوں کہ جو لوگ آپ کو مرجئہ کہتے ہیں مجھے ان کے اس قول میں کوئی دلچسپی نہیں ہے میرا دل اور ذہن حق کو قبول کرنے کیلئے کھلا ہے اور آپ کو بات کرنے کا پورا حق ہے لیکن دوسری طرف آپ جن لوگوں کو تکفیری یا خوارج کہتے ہیں میں ان کی بات بھی کو سننا چاہونگا اور ان کے منہج کا جائزہ لینا چاہونگا پھر اگر وہ واقعی وہ تکفیر میں غلو کرتے ہیں تو بے شک وہ تکفیری ہیں اور ہم ان کا رد کرتے ہیں لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو بلا وجہ ہم کسی پر بہتان نہیں لگاتے۔

بات لمبی کرنے کی معذرت!!!
 
Top