• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مکمل صحیح بخاری اردو ترجمہ و تشریح جلد ٢ - حدیث نمبر٨١٤ تا ١٦٥٤

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب التہجد
باب : فجر کی سنتوں کے بعد باتیں کرنا

حدیث نمبر : 1168
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال أبو النضر عن أبي سلمة، عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي ركعتين فإن كنت مستيقظة حدثني وإلا اضطجع‏.‏ قلت لسفيان فإن بعضهم يرويه ركعتى الفجر‏.‏ قال سفيان هو ذاك‏.‏
ہم سے علی بن عبد اللہ مدینی نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابو النضر سالم نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ ابو امیہ نے بیان کیا، ان سے ابو سلمہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعت ( فجر کی سنت ) پڑھ چکتے تو اس وقت اگر میں جاگتی ہوتی تو آپ مجھ سے باتیں کر تے ورنہ لیٹ جاتے۔ میں نے سفیان سے کہا کہ بعض راوی فجر کی دو رکعتیں اسے بتاتے ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں یہ وہی ہیں۔

اصیلی کے نسخہ میں یوں ہے۔ قال ابو النضر حدثنی عن ابی سلمۃ یعنی سفیان نے کہا کہ مجھ کو یہ حدیث ابو النضر نے ابو سلمہ سے بیان کی۔ اس نسخہ میں گویا ابو النضر کے باپ کا ذکر نہیں ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب التہجد
باب : فجر کی سنت کی دو رکعتیں ہمیشہ لازم کر لینا اور ان کے سنت ہونے کی دلیل

حدیث نمبر : 1169
حدثنا بيان بن عمرو، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا ابن جريج، عن عطاء، عن عبيد بن عمير، عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ قالت لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم على شىء من النوافل أشد منه تعاهدا على ركعتى الفجر‏.‏
ہم سے بیان بن عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحیٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ا بن جریج نے بیان کیا، ان سے عطاءنے بیان کیا، ان سے عبید بن عمیر نے، ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی نفل نماز کی فجر کی دو رکعتوں سے زیادہ پا بن دی نہیں کرتے تھے۔

اس حدیث میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فجر کی سنتوں کو بھی لفظ نفل ہی سے ذکر فرمایا۔ پس باب اور حدیث میں مطابقت ہوگئی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سنتوں پر مداومت فرمائی ہے۔ لہٰذا سفر وحضر کہیں بھی ان کا ترک کرنا اچھا نہیں ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب التہجد
باب : فجر کی سنتوں میں قرات کیسی کرے؟

حدیث نمبر : 1170
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال أخبرنا مالك، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بالليل ثلاث عشرة ركعة، ثم يصلي إذا سمع النداء بالصبح ركعتين خفيفتين‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالکؒ نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے باپ ( عروہ بن زبیر ) نے اور انہیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ پھر جب صبح کی اذان سنتے تو دو ہلکی رکعتیں ( سنت فجر ) پڑھ لیتے۔

اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ فجر کی سنتوں میں چھوٹی چھوٹی سورتوں کو پڑھنا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہلکا کرنے کا یہی مطلب ہے۔

حدیث نمبر : 1171
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن محمد بن عبد الرحمن، عن عمته، عمرة عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم ح وحدثنا أحمد بن يونس حدثنا زهير حدثنا يحيى ـ هو ابن سعيد ـ عن محمد بن عبد الرحمن عن عمرة عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يخفف الركعتين اللتين قبل صلاة الصبح حتى إني لأقول هل قرأ بأم الكتاب
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبد الرحمن نے، ان سے ان کی پھوپھی عمرہ بن ت عبد الرحمن نے اور ان سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( دوسری سند ) اور ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحی بن سعید انصاری نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبد الرحمن نے، ان سے عمرہ بن ت عبدا لرحمن نے اور ان سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی ( فرض ) نمازسے پہلے کی دو ( سنت ) رکعتوں کو بہت مختصر رکھتے تھے۔ آپ نے ان میں سورہ فاتحہ بھی پڑھی یا نہیں میں یہ بھی نہیں کہہ سکتی۔

یہ مبالغہ ہے یعنی بہت ہلکی پھلکی پڑھتے تھے۔ ابن ماجہ میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سورۃ کافرون اور سورۃ اخلاص پڑھا کرتے تھے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب التہجد
باب : فرضوں کے بعد سنت کا بیان

حدیث نمبر : 1172
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبيد الله، قال أخبرنا نافع، عن ابن عمر ـ رضى الله عنهما ـ قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم سجدتين قبل الظهر، وسجدتين بعد الظهر، وسجدتين بعد المغرب، وسجدتين بعد العشاء، وسجدتين بعد الجمعة، فأما المغرب والعشاء ففي بيته‏.‏ قال ابن أبي الزناد عن موسى بن عقبة عن نافع بعد العشاء في أهله‏.‏ تابعه كثير بن فرقد وأيوب عن نافع‏.‏
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحیٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عبید اللہ عمری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے نافع نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعت سنت، ظہر کے بعد دو رکعت سنت، مغرب کے بعد دو رکعت سنت، عشاءکے بعد دو رکعت سنت اور جمعہ کے بعد دورکعت سنت پڑھی ہیں اور مغرب اور عشاءکی سنتیں آپ گھر میں پڑھتے تھے۔ ابو الزناد نے موسی بن عقبہ کے واسطہ سے بیان کیا اور ان سے نافع نے کہ عشاءکے بعد اپنے گھر میں ( سنت پڑھتے تھے ) ان کی روایت کی متابعت کثیر بن فرقد اور ایوب نے نافع کے واسطہ سے کی ہے۔

حدیث نمبر : 1173
وحدثتني أختي، حفصة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي سجدتين خفيفتين بعد ما يطلع الفجر، وكانت ساعة لا أدخل على النبي صلى الله عليه وسلم فيها‏.‏ تابعه كثير بن فرقد وأيوب عن نافع‏.‏ وقال ابن أبي الزناد عن موسى بن عقبة عن نافع بعد العشاء في أهله‏.‏
ان سے ( ا بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیاکہ ) میری بہن حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر ہونے کے بعد دو ہلکی رکعتیں ( سنت فجر ) پڑھتے اور یہ ایسا وقت ہوتا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں جاتی تھی۔ عبید اللہ کے ساتھ اس حدیث کو کثیر بن فرقد اور ایوب نے بھی نافع سے روایت کیا اور ا بن ابی الزناد نے اس حدیث کو موسی بن عقبہ سے، انہوں نے نافع سے روایت کیا۔ اس میںفی بیتہ کے بدل فی اھلہ ہے۔

یہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس لیے کہا کہ فجر سے پہلے اور عشاءکی نماز کے بعد اور ٹھیک دوپہر کو گھر کے کام کاجی لوگوں کو بھی اجازت لے کر جانا چاہیے، اس وقت غیر لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیسے مل سکتے۔ اس لیے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سنتوں کا حال اپنی بہن ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے سن کر معلوم کیا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب التہجد

باب : اس کے بارے میں جس نے فرض کے بعد سنت نماز نہیں پڑھی

حدیث نمبر : 1174
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا سفيان، عن عمرو، قال سمعت أبا الشعثاء، جابرا قال سمعت ابن عباس ـ رضى الله عنه ـ قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ثمانيا جميعا وسبعا جميعا‏.‏ قلت يا أبا الشعثاء أظنه أخر الظهر وعجل العصر وعجل العشاء وأخر المغرب‏.‏ قال وأنا أظنه‏.‏
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابو الشعثاءجابر بن عبداللہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ا بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعت ایک ساتھ ( ظہر اور عصر ) اور سات رکعت ایک ساتھ ( مغرب اور عشاءملا کر ) پڑھیں۔ ( بیچ میں سنت وغیرہ کچھ نہیں ) ابو الشعثاءسے میں نے کہا میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر آخر وقت میں اور عصر اول وقت میں پڑھی ہوگی۔ اسی طرح مغرب آخر وقت میں پڑھی ہوگی اور عشاءاول وقت میں۔ ابو الشعثاءنے کہا کہ میرا بھی یہی خیال ہے۔

یہ عمرو بن دینار کا خیال ہے ورنہ یہ حدیث صاف ہے کہ دو نمازوں کا جمع کرنا جائز ہے۔دوسری روایت میں ہے کہ یہ واقعہ مدینہ منورہ کا ہے نہ وہاں کوئی خوف تھا نہ بندش تھی۔ اوپر گزر چکا ہے کہ اہلحدیث کے نزدیک یہ جائز ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے یہ نکالا کہ سنتوں کا ترک کرناجائز ہے اور سنت بھی یہی ہے کہ جمع کرے تو سنتیں نہ پڑھے۔ ( مولانا وحید الزماں مرحوم
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب التہجد
باب : سفر میں چاشت کی نماز پڑھنا

حدیث نمبر : 1175
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، عن شعبة، عن توبة، عن مورق، قال قلت لابن عمر ـ رضى الله عنهما ـ أتصلي الضحى قال لا‏.‏ قلت فعمر‏.‏ قال لا‏.‏ قلت فأبو بكر‏.‏ قال لا‏.‏ قلت فالنبي صلى الله عليه وسلم قال لا إخاله‏.‏
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحی بن سعیدی قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے توبہ بن کیسان نے، ان سے مورق بن مشمرج نے، انہوںنے بیان کیا کہ میں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا اور عمر پڑھتے تھے؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ؟ فرمایا نہیں۔ میں نے پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم؟ فرمایا نہیں۔ میرا خیال یہی ہے۔

تشریح : بعض شراح کرام کا کہنا ہے کہ بظاہر اس حدیث اور باب میں مطابقت نہیں ہے۔ علامہ قسطلانی فرماتے ہیں فحملہ الخطابی علی غلط الناسخ وابن المنیر علی انہ لما تعارضت عندہ احادیثھا نفیا کحدیث ابن عمر ھذا واثباتا کحدیث ابی ھریرۃ فی الوصیۃ بھا نزل حدیث النفی علی السفر وحدیث الاثبات علی الحضر ویوید ذلک انہ ترجم لحدیث ابی ھریرۃ بصلوۃ الضحی فی الحضر مع ما یعضدہ من قول ابن عمر لو کنت مسبحا لا تممت فی السفر قالہ ابن حجر یعنی خطابی نے اس باب کو ناقل کی غلطی پر محمول کیا ہے اور ابن منیر کا کہنا یہ ہے کہ حضرت اما م بخاری رحمہ اللہ کے نزدیک نفی اور اثبات کی احادیث میں تعارض تھا، اس کو انہوں نے اس طرح رفع کیا کہ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جس میں نفی ہے سفر پر محمول کیا اور حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جس میں وصیت کا ذکر ہے اور جس سے اثبات ثابت ہو رہاہے، اس کو حضر پر محمول کیا۔ اس امر کی اس سے بھی تائید ہو رہی ہے کہ حدیث ابوہریرہ پر حضرت امام رحمہ اللہ نے صلوۃ الضحی فی الحضر کا باب منعقد فرمایا اور نفی کے بارے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس قول سے بھی تائید ہوتی ہے جو انہوں نے فرمایا کہ اگر میں سفر میں نفل پڑھتا تو نمازوں کو ہی پورا کیوں نہ کرلیتا، پس معلوم ہوا کہ نفی سے ان کی سفر میں نفی مراد ہے اور حضرات شیخین کا فعل بھی سفر ہی سے متعلق ہے کہ وہ حضرات سفر میں نماز ضحی نہیں پڑھا کرتے تھے۔

حدیث نمبر : 1176
حدثنا آدم، حدثنا شعبة، حدثنا عمرو بن مرة، قال سمعت عبد الرحمن بن أبي ليلى، يقول ما حدثنا أحد، أنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم يصلي الضحى غير أم هانئ فإنها قالت إن النبي صلى الله عليه وسلم دخل بيتها يوم فتح مكة فاغتسل وصلى ثماني ركعات فلم أر صلاة قط أخف منها، غير أنه يتم الركوع والسجود‏.‏
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبد الرحمن بن ابی لیلی سے سنا، وہ کہتے تھے کہ مجھ سے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے سواکسی ( صحابی ) نے یہ نہیں بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ صرف ام ہانی رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا اور پھر آٹھ رکعت ( چاشت کی ) نماز پڑھی۔ تو میں نے ایسی ہلکی پھلکی نماز کبھی نہیں دیکھی۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ پوری طرح ادا کرتے تھے۔

تشریح : حدیث ام ہانی رضی اللہ عنہا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جس نماز کا ذکر ہے۔ شارحین نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے، بعض نے اسے شکرانہ کی نماز قرار دیا ہے۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ یہ ضحی کی نماز تھی، ابو داؤد میں وضاحت موجود ہے کہ صلی سبحۃالضحی یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضحی کے نفل نمازادا فرمائے اور مسلم نے کتاب الطہارت میں نقل فرمایا ثم صلی ثمان رکعات سبحۃ الضحی یعنی پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ضحی کی آٹھ رکعت نفل ادا فرمائی اور تمہید ابن عبد البر میں ہے کہ قالت قدم علیہ السلام مکۃ فصلی ثمان رکعات فقلت ما ھذہ الصلوۃ قال ھذہ صلوۃ الضحی حضرت ام ہانی کہتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف تشریف لائے اور آپ نے آٹھ رکعات ادا کیں۔ میں پوچھا کہ یہ کیسی نماز ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ضحی کی نمازہے۔ امام نووی نے اس حدیث سے دلیل پکڑی ہے کہ صلاۃ الضحی کا مسنون طریقہ آٹھ رکعات ادا کرنا ہے۔ یوں روایات میں کم وبیش بھی آئی ہیں۔ بعض روایات میں کم سے کم تعداد دو رکعت بھی مذکور ہے۔ بہر حال بہتر یہ ہے کہ صلوۃ الضحی پر مداومت کی جائے کیونکہ طبرانی اوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث میں مذکور ہے کہ جنت میں ایک دروازے کا نام ہی باب الضحی ہے جو لوگ نماز ضحی پر مداومت کرتے ہیں، ان کو اس دروازے سے جنت میں داخل کیا جائے گا۔ عقبہ بن عامر سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہ میں حکم دیا کہ ضحی کی نماز میں سورۃ والشمس وضُحٰھا اور والضحی پڑھا کریں۔ اس نماز کا وقت سورج کے بلند ہونے سے زوال تک ہے۔ ( قسطلانی
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب التہجد
باب : چاشت کی نماز پڑھنا اور اس کو ضروری نہ جاننا

حدیث نمبر : 1177
حدثنا آدم، قال حدثنا ابن أبي ذئب، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ قالت ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم سبح سبحة الضحى، وإني لأسبحها‏.‏
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ا بن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے، ان سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے کہ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا مگر میں خود پڑھتی ہوں۔

تشریح : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے صرف اپنی رؤیت کی نفی کی ہے ورنہ بہت سی روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ نماز پڑھنا مذکور ہے۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کے خود پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نماز کے فضائل سنے ہوں گے۔ پس معلوم ہوا کہ اس نماز کی ادائیگی باعث اجروثواب ہے۔

اس لفظ سے کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے نہیں دیکھا۔ باب کا مطلب نکلتا ہے کیونکی اس کاپڑھنا ضروری ہوتا تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر روز پڑھتے دیکھتیں۔قسطلانی نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نہ دیکھنے سے چاشت کی نماز کی نفی نہیں ہوتی۔ ایک جماعت صحابہ نے اس کو روایت کیا ہے۔جیسے انس، ابوہریرہ، ابو ذر، ابو اسامہ، عقبہ بن عبد، ابن ابی اوفیٰ، ابو سعید، زیدبن ارقم، ابن عباس، جبیر بن مطعم، حذیفہ، ابن عمر، ابو موسی، عتبان، عقبہ بن عامر، علی، معاذ بن انس، ابو بکرہ اور ابو مرہ وغیرہم رضی اللہ عنہم نے۔ عتبان بن مالک کی حدیث اوپر کئی بار اس کتاب میں گزر چکی ہے اور امام احمد نے اس کو اس لفظ سے نکالا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں چاشت کے نفل پڑھے۔ سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ( وحیدی
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب التہجد
باب : چاشت کی نماز اپنے شہر میں پڑھے

قاله عتبان بن مالك عن النبي صلى الله عليه وسلم‏.‏
یہ عتبان بن مالک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے۔

حدیث نمبر : 1178
حدثنا مسلم بن إبراهيم، أخبرنا شعبة، حدثنا عباس الجريري ـ هو ابن فروخ ـ عن أبي عثمان النهدي، عن أبي هريرة، رضى الله عنه قال أوصاني خليلي بثلاث لا أدعهن حتى أموت صوم ثلاثة أيام من كل شهر، وصلاة الضحى، ونوم على وتر‏.‏
ہم سے مسلم بن ابرہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں شعبہ نے خبر دی، انہوںنے کہا ہم سے عبا س جریری نے جو فروخ کے بیٹے تھے بیان کیا، ان سے ابو عثمان نہدی نے اور ان سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے میرے جانی دوست ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے کہ موت سے پہلے ان کو نہ چھوڑوں۔ ہر مہینہ میں تین دن روزے۔ چاشت کی نماز اور وتر پڑھ کر سونا۔

تشریح : امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ جن روایات میں صلوۃ ضحی کی نفی وارد ہوئی ہے وہ نفی سفر کی حالت سے متعلق ہے پھر بھی اس میں بھی وسعت ہے اور جن روایات میں اس نماز کے لیے اثبات آیا ہے وہاں حالت حضرمراد ہے۔ ہر ماہ میں تین دن کے روزوں سے ایام بیض یعنی13,14,15 تاریخوں کے روزے مراد ہیں۔

حدیث نمبر : 1179
حدثنا علي بن الجعد، أخبرنا شعبة، عن أنس بن سيرين، قال سمعت أنس بن مالك الأنصاري، قال قال رجل من الأنصار ـ وكان ضخما ـ للنبي صلى الله عليه وسلم إني لا أستطيع الصلاة معك‏.‏ فصنع للنبي صلى الله عليه وسلم طعاما، فدعاه إلى بيته، ونضح له طرف حصير بماء فصلى عليه ركعتين‏.‏ وقال فلان بن فلان بن جارود لأنس ـ رضى الله عنه ـ أكان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي الضحى فقال ما رأيته صلى غير ذلك اليوم‏.‏
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا کہ ہم کوشعبہ نے خبر دی، ان سے انس بن سیرین نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انصارمیں سے ایک شخص ( عتبان بن مالک ) نے جو بہت موٹے آدمی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا ( مجھ کو گھر پر نماز پڑھنے کی اجازت دیجئے تو ) انہوں نے اپنے گھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا پکوایا اور ا ٓپ کو اپنے گھر بلایا اور ایک چٹائی کے کنارے کو آپ کے لیے پانی سے صاف کیا، آپ نے اس پر دو رکعت نمازپڑھی۔ اور فلاں بن فلاں بن جارود نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے تو آپ نے فرما یا کہ میں نے اس روز کے سوا آپ کو کبھی یہ نمازپڑھتے نہیں دیکھا۔

تشریح : حضرت امام رحمہ اللہ نے مختلف مقاصد کے تحت اس حدیث کو کئی جگہ روایت فرمایا ہے۔ یہاں آپ کا مقصد اس سے ضحی کی نماز حالت حضر میں پڑھنا اوربعض مواقع پر جماعت سے بھی پڑھنے کا جواز ثابت کرنا ہے۔ بالفرض بقول حضرت انس رضی اللہ عنہ کے صرف اسی موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز پڑھی تو ثبوت مدعا کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاایک دفعہ کام کو کر لینا بھی کافی وافی ہے۔ یوں کئی مواقع پر آپ سے اس نماز کے پڑھنے کا ثبوت موجود ہے۔ ممکن ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو ان مواقع میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہونے کا موقع نہ ملا ہو۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب التہجد
باب : ظہر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھنا

حدیث نمبر : 1180
حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب، عن نافع، عن ابن عمر ـ رضى الله عنهما ـ قال حفظت من النبي صلى الله عليه وسلم عشر ركعات ركعتين قبل الظهر، وركعتين بعدها، وركعتين بعد المغرب في بيته، وركعتين بعد العشاء في بيته، وركعتين قبل صلاة الصبح، وكانت ساعة لا يدخل على النبي صلى الله عليه وسلم فيها‏.‏
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دس رکعت سنتیں یاد ہیں۔ دو رکعت سنت ظہر سے پہلے، دو رکعت سنت ظہر کے بعد، دو رکعت سنت مغرب کے بعد اپنے گھر میں، دو رکعت سنت عشاءکے بعد اپنے گھر میں اور دو رکعت سنت صبح کی نماز سے پہلے اور یہ وہ وقت ہوتا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی نہیں جاتا تھا۔

حدیث نمبر : 1181
حدثتني حفصة، أنه كان إذا أذن المؤذن وطلع الفجر صلى ركعتين‏.‏
مجھ کو ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ مؤذن جب اذان دیتا اور فجر ہوجاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے۔

حدیث نمبر : 1182
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، عن شعبة، عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر، عن أبيه، عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ أن النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يدع أربعا قبل الظهر وركعتين قبل الغداة‏.‏ تابعه ابن أبي عدي وعمرو عن شعبة‏.‏
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحیٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے، ان سے ابرہیم بن محمد بن منتشر نے، ان سے ان کے باپ محمد بن منتشر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعت سنت اور صبح کی نماز سے پہلے دو رکعت سنت نماز پڑھنی نہیں چھوڑتے تھے۔ یحیٰ کے ساتھ اس حدیث کو ا بن ابی عدی اور عمرو بن مرزوق نے بھی شعبہ سے روایت کیا۔

یہ حدیث باب کے مطابق نہیں کیونکہ باب میں دو رکعتیں ظہر سے پہلے پڑھنے کا ذکر ہے اور شاید ترجمہ باب کا یہ مطلب ہو کہ ظہر سے پہلے دوہی رکعتیں پڑھنا ضروری نہیں، چار بھی پڑھ سکتا ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب التہجد
باب : مغرب سے پہلے سنت پڑھنا

حدیث نمبر : 1183
حدثنا أبو معمر، حدثنا عبد الوارث، عن الحسين، عن ابن بريدة، قال حدثني عبد الله المزني، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ صلوا قبل صلاة المغرب‏"‏‏. ‏ ـ قال في الثالثة ـ لمن شاء كراهية أن يتخذها الناس سنة‏.‏
ہم سے ابو معمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے حسین معلم نے، ان سے عبد اللہ بن بریدہ نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبد اللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مغرب کے فرض سے پہلے ( سنت کی دورکعتیں ) پڑھا کرو۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ جس کا جی چاہے کیونکہ آپ کو یہ بات پسند نہ تھی کہ لوگ اسے لازمی سمجھ بیٹھیں۔

حدیث اور باب میں مطابقت ظاہر ہے کہ مغرب کی جماعت سے قبل ان دو رکعتوں کو پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے۔

حدیث نمبر : 1184
حدثنا عبد الله بن يزيد، قال حدثنا سعيد بن أبي أيوب، قال حدثني يزيد بن أبي حبيب، قال سمعت مرثد بن عبد الله اليزني، قال أتيت عقبة بن عامر الجهني فقلت ألا أعجبك من أبي تميم يركع ركعتين قبل صلاة المغرب‏.‏ فقال عقبة إنا كنا نفعله على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم‏.‏ قلت فما يمنعك الآن قال الشغل‏.
ہم سے عبد اللہ بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے مرثد بن عبداللہ یزنی سے سنا کہ میں عقبہ بن عامر جہنی صحابی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا آپ کو ابو تمیم عبدا للہ بن مالک پر تعجب نہیں آیا کہ وہ مغرب کی نماز فرض سے پہلے دو رکعت نفل پڑھتے ہیں۔ اس پر عقبہ نے فرمایا کہ ہم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسے پڑھتے تھے۔ میں نے کہا پھر اب اس کے چھوڑنے کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ دنیا کے کاروبار مانع ہیں۔

تشریح : ہر دو احادیث سے ثابت ہوا کہ اب بھی موقع ملنے پر مغرب سے پہلے ان دو رکعتوں کو پڑھا جا سکتا ہے۔ اگر چہ پڑھنا ضروری نہیں مگر کوئی پڑھ لے تو یقینا موجب اجر وثواب ہوگا۔ بعض لوگوں نے کہا کہ بعد میں ان کے پڑھنے سے روک دیا گیا۔ یہ بات بالکل غلط ہے پچھلے صفحات میں ان دورکعتوں کے استحباب پر روشنی ڈالی جا چکی ہے۔ عبد اللہ بن مالک جثانی یہ تابعی مخضرم تھا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود تھا،پر آپ سے نہیں ملا، یہ مصر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں آیا، پھر وہیں رہ گیا۔ ایک جماعت نے ان کو صحابہ میں گنا۔ اس حدیث سے یہ بھی نکلا کہ مغرب کا وقت لمبا ہے اور جس نے اس کو تھوڑا قرار دیا اس کا قول بے دلیل ہے۔ مگر یہ رکعتیں جماعت کھڑی ہونے سے پہلے پڑھ لینا مستحب ہے۔ ( وحیدی
 
Top