• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وہ مسائل جن کو دیوبندی قابل عمل نہیں سمجھتے !!!!

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
873
ری ایکشن اسکور
2,347
پوائنٹ
180
اس پر ایک لطیفہ پیش خدمت ہے۔۔۔
ایک عامی نے ملنگ بابا سے سوال پوچھا۔۔۔
ملنگ بابا بیوی کا کوئی حل بتائیں۔۔۔
ملنگ بابا نے لمبی سانس بھری اور جواب دیا بیٹا۔۔۔
اگر بیوی کا کوئی حل ہوتا تو یہ بابا آج ملنگ نہ ہوتا۔۔۔
حرب صاحب لطیفہ کو سمجھ ہی نہیں سکے
جس طرح بیوی کا کوئی حل نہ دیکھ کر ’’بابا‘‘ملنگ بن گئے
اسی طرح بعض مسائل کے حل میں ناکام یہ بے چارے ’’غیرمقلد‘‘بن گئے ہیں۔
بابا نے دنیاسے ہی ہاتھ اٹھالیا
ان بے چاروں سے تقلید کو ہی ترک کردیا
سمجھنے والا لطیفہ ہے۔۔۔
بشرطیکہ بے چاروں کے پاس سمجھ ہو
 

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
873
ری ایکشن اسکور
2,347
پوائنٹ
180
حرب بن شداد صاحب!کب کس وقت کیابات کہہ دیں گے بتانامشکل ہے۔ وہ موضوع سے الگ موضوع چھیڑیں گے اورپھر نصیحت بھی کریں گے کہ موضوع سے باہر نہیں جاناچاہئے۔ یہ کہناتومشکل ہے کہ یہ کوئی نفسیاتی پیچیدگی ہے یانیٹ کے باافراط استعمال سے کچھ مضراثرات مرتب ہوئے جس کے یہ نتائج ہیں۔

بہرحال مذکورہ تھریڈ کسی صاحب نے شروع کیاتھاجس کاعنوان تھاوہ مسائل جس کو دیوبندی قابل عمل نہیں سمجھتے۔
اس میں کچھ حدیثیں پیش کیں اوربتایاکہ چونکہ احناف ان احادیث پر عمل نہیں کرتے لہذا وہ حدیث کے مخالف ٹھہرے۔

اس پر پوچھاگیاکہ پہلے ’’مخالفت حدیث‘‘کاحدوداربعہ واضح کردیاجائے کہ مخالفت حدیث کس کو کہیں گے ۔ اس کی کچھ مناسب تشریح وتوضیح کردیاجائے تاکہ انہی کے مقررکردہ معیاراورمیزان پر ہم شوافع حنابلہ مالکیہ اورخودامام بخاری کے اجتہادات کو تول سکیں۔

چونکہ احناف کو مخالفت حدیث کا طعنہ بارہااہل حدیث حضرات دیتے ہی رہتے ہیں اسی لئے میں نے مجلس علماء میں بھی تمام شرکاء فورم سے درخواست کی تھے کہ وہ موضوع پر اظہارخیال کریں۔

حرب بن شداد صاحب کو توچاہئے تھاکہ وہ سوال کا مناسب جواب دیتے اورجوکچھ ان کا مطالعہ ہے فورم کے قارئین کے سامنے پیش کرتے لیکن انہوں نے الگ ہی راگ چھیڑدیا۔
میرے سوال کے جواب میں جوان کا مراسلہ تھاوہ یہ ہے

س کے کیا ہوگا۔۔۔
آباواجداد کی روش سے بغاوت کرپائیں گے؟؟؟۔۔۔
کیا یہ بحث نئی ہے؟؟؟۔۔۔
اس پر میں نے جواب دیاکہ
صولاتوآپ کو سوال کا جواب دیناچاہئے۔ لیکن شاید اس میں مشکلات زیادہ ہیں اس لئے بحث کا رخ دوسری سمت موڑنے کی کوشش ہے
اس پر انہوں نے مخالفت حدیث پر بات کرنے کے بجائے یہ ارشاد فرمایا

جمشد صاحب۔۔۔ کسی بھی موضوع میں گفت شنید کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہوتا کے بیان کئے گئے موقف کے ایک حصے کو اپنی خوشی سے تسلیم کریں اور دوسرے کو نظر انداز کرجائیں اگر یہ ہی طریقہ ہے تو پھر جو دل میں آئے لکھتے رہیں۔۔۔
بہرحال ہم نے امید کا دامن نہیں چھوڑاہے۔ اقبال کہہ گئے ہیں کہ ’’پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ‘‘کہ حرب بن شداد ،شاہد نذیرصاحب یاکوئی بھی دوسراشخص جس کولگتاہے کہ احناف نے مذکورہ حدیثوں کی یاعام طورپر حدیثوں کی مخالفت کرتے ہیں وہ مخالفت حدیث کی مناسب تشریح وتعریف ضرور پیش کرے گا۔تاکہ بات کو مثبت انداز میں آگے بڑھایاجاسکے۔
 

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
1,961
ری ایکشن اسکور
6,266
پوائنٹ
412
حرب صاحب لطیفہ کو سمجھ ہی نہیں سکے
جمشید صاحب مقلد ہوکر بھی خود کو بہت سمجھدار سمجھتے ہیں حالانکہ انکا تقلید اختیار کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ان میں ذرہ برابر بھی عقل نہیں اسی لئے بیچارے تقلید کی لاٹھی پر چلتے ہیں۔ جمشید صاحب میں آپکی باتوں سے متفق ہوں لیکن اس کی مزید وضاحت کردوں۔

جس طرح بیوی کا کوئی حل نہ دیکھ کر ’’بابا‘‘ملنگ بن گئے
اسی طرح بعض مسائل کے حل میں ناکام یہ بے چارے ’’غیرمقلد‘‘بن گئے ہیں۔
جی بالکل درست فرمایا جس طرح ابوحنیفہ بقول اشرف علی تھانوی اور طحاوی یقینی ’’غیرمقلد‘‘ بن گئے لیکن ابو حنیفہ کا معاملہ اہل حدیث سے تھوڑا مختلف ہے اہل حدیث کچھ مسائل کا حل نہ پاکر غیر مقلد ہوئے لیکن ابوحنیفہ کسی بھی مسئلہ کا حل نہ پاکر دین میں رائے زنی کے ماہر ہوئے اور غیر مقلدیت کو بھی داغ دار کرگئے۔

ان بے چاروں سے تقلید کو ہی ترک کردیا
لیکن ابوحنیفہ نے تقلید کو ترک نہیں‌ کیا بلکہ رائے میں اپنے استاد امام نخعی کے سچے اور پکے مقلد رہے۔
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,346
پوائنٹ
437
بات نہ حلالہ کی ہے اور نہ تقلید کی ۔ بات صرف اتنی ہے جن احادیث کو آپ اپنے نظریہ سے صحیح سمجھتے ہیں اگر حنفی مجتھد کا قول اس حدیث کے جو آپ کے نذدیک صحیح ، غیر منسوخ ہے مخالف پاتے ہیں تو فورا اس حنفی مجتھد پر حدیث کی مخالفت کا فتوی جڑ دیتے ہیں لیکن یہاں وہی صورت الحال ہے ۔ جس حدیث سے البانی صاحب استدلال کر رہے ہیں آپ کے نذدیک یا وہ حدیث صحیح نہیں ، یا وہ مطلب نہیں جو البانی صاحب نے سمجھا ہے تو آپ ایسا کوئی واویلا نہیں کرتے ۔ بلکہ بات حلالہ اور تقلید کی طرف لے گئے ۔ دیکھنے والے دیکھ سکتے ہیں موضوع کون بدل رہا ہے !!!!

یہ دہرا معیار کیوں ؟؟؟؟

باقی اگر البانی صاحب کا کئی معاملات میں احناف سے اختلاف ہے بھی تو ہمارے نذدیک وہ صرف اجتھادی اختلاف ہے اور یہ آپ لوگ ہیں جو اجتھادی اختلافات میں حدیث مخالفت کے فتوے لگاتے ہیں
اس پوری محنت پر سوال؟؟؟۔۔۔
جب ہم شیخ البانی کا موقف حلالہ پر جاننا چاہ رہے ہوتے ہیں۔۔۔
اُس وقت آپ ہم پر یہ الزام ڈال دیتے ہیں کے ہم موضوع کو بدل رہے ہیں۔۔۔
میں یہ جاننا چاہتا ہوں کے میں تصویرکے اس ہی رخ کو کیوں دیکھو جو آپ مجھے دکھانا چاہ رہے ہیں۔۔۔
اب فرض کیجئے میں آپ کی بات کو تسلیم کرلوں۔۔۔
کے شیخ البانی نے حدیث پر اپنے فہم سے اپنا نظریہ پیش کیا تو وہ درست ہے۔۔۔
پھر آپ بھی اس بات کے مجاز ہیں۔۔۔
کے باقی اُن معاملات میں شیخ البانی رحمہ اللہ کے فہم پر آپ اُن کے ہر اس نظریہ کے جو وہ اپنی زندگی میں پیش کرچکے تھے ماننے کے مجاز ہیں۔۔۔
اگر دیکھا جائے تو یہ سودا میرے لئے قطعی گھاٹے کا نہیں لیکن۔۔۔
سوال آپ کے عقیدے اور مسلک کا ہے۔۔۔

اب ہمارا کوئی بھی بھائی شیخ البانی کے وہ اعتراضات یہاں پیش کردیں۔۔۔
جو شیخ نے حنفی مجتھد کے اجتہاد پر اعتراض پیش کیا۔۔۔
تاکہ یہ غیرضروری نظریہ امامت کا عقیدے سے عامی کو محفوظ رکھا جائے۔۔۔

شیخ البانی رحمہ اللہ کا کئی معاملات میں احناف سے اختلاف ہے۔۔۔
جسے آپ اجتہادی مسئلہ بنا کر پیش کررہے ہیں۔۔۔
تو کیا شیخ البانی رحمہ اللہ علیہ سے اگر یہ سوال پوچھا جاتا۔۔۔
تو وہ بھی یہ ہی موقف یا نظریہ پیش کرتے جو آپ پیش کرتی تھی۔۔۔
سوچیں ہم کہاں کھڑے ہیں۔۔۔
 

ہابیل

سینئر رکن
شمولیت
ستمبر 17، 2011
پیغامات
961
ری ایکشن اسکور
2,910
پوائنٹ
225

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,099
پوائنٹ
1,155

Hasan

مبتدی
شمولیت
جون 02، 2012
پیغامات
103
ری ایکشن اسکور
428
پوائنٹ
0
جہالت کا علاج ہوسکتاہے لیکن ضد کی بیماری لاعلاج ہے۔اورہمارے مہربان اس ضد پر تلے بیٹھے ہیں کہ ایک حدیث لیں گے اوردوسری جانب فقہ حنفی کامسئلہ رکھ دیں گے اورکہیں گے کہ احناف حدیث کے خلاف عمل کرتے ہیں۔اوریہ ضد آج کی نہیں کافی قدیم ہے ابن ابی شیبہ کے زمانے سے چلی آرہی ہے اوران ہفوات وخرافات کے جوابات کے باوجود وہی مرغے کی ایک ٹانگ ۔
کچھ نہیں تو کم ازکم نصب الرایہ ہی ایک مرتبہ پڑھ لیتے کہ ان مسائل میں احناف کے کیادلائل ہیں لیکن ظاہر سی بات ہے کہ جب احناف کے موقف سے آدمی جاہل ہو اوراس پر ضد کی بھی آمیزش تویہ کریلااورنیم چڑھا اپنااثردکھائے بغیر کہاں رہے گا۔
اگر حديث کی مخالفت کا یہی پیمانہ ہے کہ کسی حدیث کا ترجمہ دیکھا خصوصا بخاری و مسلم میں تو اگر کسی کا قول اس سے مخالف پایا تو اس پر حديث کے مخالف ہونے کا فتوی جڑ دیا ۔ نہ اصول حدیث سے واقفیت نہ اصول فقہ سے اور نہ صرف و نحو کا علم اگر کچھ پتا ہے تو صرف اتنا کہ فلاں مسلک حدیث کا مخالف ہے ۔
محترم البانی رحمہ اللہ نے جہری نماز میں مقتدی کو سورہ فاتحہ پڑہنے سے منع کیا ہے اور سجدوں کے وقت کبھی کبار رفع الیدین کا کہا ہے ۔ اور انہوں نے اپنے طور پر صحیح احادیث بھی پیش کی ہیں ۔ اب آپ حضرات کے نذدیک یا تو اس حدیث کا وہ مطلب نہیں نکلتا جو محترم البانی رحمہ اللہ نے لیا ہے یا وہ احادیث آپ کے نذدیک صحیح نہیں یا منسوخ ہیں ۔
کیا آپ لوگ یہ کہتے ہیں البانی رحمہ اللہ صحیح احادیث کی مخالفت کرتے تھے ۔ ان پر اور ان جیسے دوسرے افراد پر کوئی الزام نہیں بس الزام ہے تو فقہاء احناف پر ۔

اس کی کیا وجہ ہے جب احناف ایسی احادیث پر عمل کرتے ہیں جو آپ کے نذدیک ضعیف ہیں تو احناف کو الزام دیتے ہیں احناف حدیث چھوڑ کر امام کے قول پر عمل کرتے ہیں اور جب البانی رحمہ اللہ ایسی حدیث پر عمل کر رہے ہیں جو آپ کے نذدیک یا تو منسوخ ہے یا وہ مطلب نہیں جو البانی رحمہ اللہ نے لیا تو ان پر کوئی الزام نہیں
ایسی دوغلی (اپنوں کے لئیے معیار اور مخالفیں کے لئیے پیمانہ اور) پوسٹس کرنے سے پہلے سوچ لیں کہ کل کہیں حق کی مخالفیں کی صف میں آپ کا شمار نہ ہوجائے
ندوی، تلمیذ اور جمشید بھائی سے گزارش ہے کہ موجودہ مناظرہ انداز گفتگو میں اصول کے باضابطہ اقرار اور غیرضروری لفظی پیچ و خم میں الجھ کر تمام صلاحیتیں کھپادی جاتی ہیں- حالانکہ اصل اختلاف بہت واضح ہوتا ہے- مثلا مسئلہ تقلید میں عوام کیلئے دلیل کی تحقیق لازم ہونے کا کوئی فریق قائل نہیں- اصل مسئلہ تقلید شخصی کا ہے مگر وقت دونوں طرف سے غیر متعلقہ ابحاث پر ضائع ہوتاہے-

ایک آسان راستہ تلمیذ بھائی نے الالبانی رحمہ اللہ کے اجتہادات کی مثال دے کر پیش کیا-

میری رائے میں ایک اختلاف دونوں طرف مساوی دلائل کی بناء پر ہوتا ہے- دوسرے میں دلائل غیرمساوی ہوتے ہیں- دوسرے کی مثال میں عرض ہے کہ حنفیہ تیسری اور چوتھی رکعت میں فرائض میں بھی فاتحہ کے وجوب کے قائل نہیں- نہ امام کیلئے نہ مقتدی نہ مفرد کیلئے- اس کی کیا وجہ ہے ؟جماعتوں میں یہ مسئلہ سکھایا جاتا ہے اور سفر کے دوران تبلیغی ساتھی اس پر عمل پیرا بھی رہتے ہیں- اسے حدیث کی مخالفت کا عنوان دیے بغیر ٹھنڈے ماحول میں زیر بحث لائیں-
 

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
873
ری ایکشن اسکور
2,347
پوائنٹ
180
ثلا مسئلہ تقلید میں عوام کیلئے دلیل کی تحقیق لازم ہونے کا کوئی فریق قائل نہیں- اصل مسئلہ تقلید شخصی کا ہے مگر وقت دونوں طرف سے غیر متعلقہ ابحاث پر ضائع ہوتاہے-
کچھ غلطیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ذہن میں اتنی راسخ ہوجاتی ہے کہ اس تعلق سے صحیح بات غلط لگتی ہے اورجس غلطی میں اورغلط فہمی میں مبتلاہیں وہ درست اورصحیح لگتاہے۔ اسکی بہت ساری مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔

مثلآتقلید شخصی کا مسئلہ آپ نے پیش کیاہے۔


تقلید شخصی کسے کہتے ہیں اورتقلید شخصی جسے منع کیاگیاہے وہ ہے کہ کسی ایک ہی شخص کی تمام کی تمام آراء کو ماناجائے ۔ یہ چیز بھی بذات خود اگرچہ جائز ہے لیکن اس بحث سے قطع نظر موجودہ مذاہب اربعہ میں تقلید شخصی کاکوئی وجودنہیں ہے۔

کون ساشافعی ہے جو ہرہرمسئلہ میں امام شافعی کی تمام آراء کا پابند ہے۔ وہ کون ساحنفی ہے جو ہرہرمسئلہ میں امام ابوحنیفہ کی تمام آراء کا پابند ہے۔

عامی حضرات اصولی طور اس کے پابند ہیں کہ وہ مفتی حضرات سے مسائل معلوم کریں اورعمل کریں اورمفتی حضرات جواجتہاد کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں اس کے پابند ہیں کہ وہ مفتی بہ مسائل پر فتوی دیں ۔

اگرآپ کتب فقہ کی ورق گردانی کریں گے کچھ نہیں توکم ازکم شامی وغیرہ کا ہی مطالعہ کرلیں اس میں آپ پائیں گے کہ بہت سارے مسائل ایسے ہیں جہاں فتوی صاحبین کے قول پر ہے مثلارضاعت کا مسئلہ ہے امام ابوحنیفہ ڈھائی سال کے قائل ہیں جب کہ امام ابویوسف اورامام محمد دوسال کے قائل ہیں اور اسی پر فتوی ہے اوراحناف کا عمل ہے۔ تواس طرح کے مسائل سینکڑوں میں ہیں جہاں فتوی امام صاحب کے برخلاف صاحبین کے قول پر ہے۔ علماء احناف کی تصریحات کے مطابق چودہ مسائل میں فتوی صاحبین اورامام ابوحنیفہ کے برخلاف امام زفر کے قول پر ہے۔ کچھ مسائل ایسے بھی ہیں جہاں فتوی امام زیاد بن حسن لولوئی کے قول پر ہے۔ بہت سارے مسائل ایسے ہیں جہاں عرف وعادت اورزمانہ کے تغیرات کی وجہ سے متاخرین فقہاء کے قول پر ہے۔ اس طرح کے مثالیں اگرہم پیش کرناچاہیں جہاں فتوی امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے قول پر نہیں ہے تواس کیلئے بلامبالغہ ایک دفتر بے پایاں درکار ہوگا اورحالت یہ ہوگی ورق تمام ہوا اورمدح باقی ہے۔ اورسفینہ چاہئے اس بحربیکراں کیلئے۔

اوریہی چیز شوافع مالکیہ اورحنابلہ کے یہاں ہے کہ وہاں بھی ہرہرقول میں فتوی ائمہ مجتہدین کے قول پر نہیں بلکہ ان کے تلامذہ اوربعد کے مجتہدین وفقہاء کے اقوال پر ہے۔
اس مختصر سی تحریر سے اتنامعلوم ہوگیاہوگاکہ تقلید شخصی جو ان مذاہب اربعہ میں پائی جاتی ہے وہ اصلا’’تقلید حکمی‘‘ ہے یعنی کسی فرد واحد کے ہرہرقول کی نہیں بلکہ ایک مکتبہ فکر کی پیروی کی جاتی ہے اوراس مکتبہ فکر سے وابستہ مجتہدین اورفقہاء کے اقوال کی پابندی کی جاتی ہے لہذا اس کو معروف معنوں میں تقلید شخصی سمجھناہی غلط ہے۔
اس مختصر سی تحریر سے اتنامعلوم ہوگیاہوگاکہ مذاہب اربعہ علی العموم اوراحناف کے یہاں بالخصوص تقلید شخصی کاکوئی وجود نہیں ہے ۔ اگرکسی کواصرار ہے تو وہ تقلید شخصی کے تعلق سے اپنانظریہ واضح کرے۔
 

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
873
ری ایکشن اسکور
2,347
پوائنٹ
180
دوسرے میں دلائل غیرمساوی ہوتے ہیں- دوسرے کی مثال میں عرض ہے کہ حنفیہ دوسری اور تیسری رکعت میں فرائض میں بھی فاتحہ کے وجوب کے قائل نہیں- نہ امام کیلئے نہ مقتدی نہ مفرد کیلئے- اس کی کیا وجہ ہے ؟جماعتوں میں یہ مسئلہ سکھایا جاتا ہے اور سفر کے دوران تبلیغی ساتھی اس پر عمل پیرا بھی رہتے ہیں- اسے حدیث کی مخالفت کا عنوان دیے بغیر ٹھنڈے ماحول میں زیر بحث لائیں-
کوئی حدیث لکھ کر اوراس کے بالمقابل احناف کا کوئی قول نقل کرکے مخالفت حدیث کی تحریک چلانے والے غیرمقلدین حضرات ہیں۔ ان کو اس روش اورطرز سے بچنے کی نصیحت کرنے کا واقعی وقت کا تقاضاہے۔ میں نے اپنی تحریر ’’مخالفت حدیث کا الزام واقعیت اورحقیقت‘‘میں بحث کونمایاں کیاہے کہ کسی حدیث کی ظاہری مخالفت سے یہ فرض کرنا کہ واقعتاحدیث کی مخالفت ہوئی ہے تنگ ذہن اورنظر کے حاملین کاکام ہواکرتاہے۔
جہاں تک آپ نے احناف کی جانب سے یہ کہاہے کہ احناف فرائض کی دوسری اورتیسری رکعت مین وجوب فاتحہ کے قائل نہیں ۔ اس کا حوالہ پیش کردیں۔ والسلام
 
Top