یہ بھی پڑھ لیں -
ابن جریر طبری اپنی تاریخ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:
قارئین کتاب کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ میں نے جو اخبار و آثار (روایتیں) اس کتاب میں نقل کیے ہیں، اس میں میرا اعتماد انہی روایات پر ہے جنہیں میں نے ذکر کیا ہے اور جن کے ساتھ ان کی سندیں بھی موجود ہیں۔ اس میں وہ حصہ بہت ہی کم ہے جنہیں میں نے عقلی دلائل کے ادراک اور وجدانی استنباط کے بعد ذکر کیا ہے کیونکہ گزشتہ واقعات کی خبروں کا نہ ذاتی طور پر ہمارا مشاہدہ ہے اور نہ وہ زمانہ ہی ہم نے پایا ہے۔ ان کا علم ہمیں صرف ناقلین اور راویوں کی بیان کردہ خبروں ہی سے ہو سکتا ہے نہ کہ عقلی دلائل اور وجدانی استنباط سے۔ پس ہماری کتاب میں جو بعض ایسی روایات ہیں، جنہیں ہم نے پچھلے لوگوں سے نقل کیا ہے، ان کے بارے میں اگر اس کتاب کے پڑھنے یا سننے والے اس بنا کر کوئی برائی یا عجیب پن محسوس کریں کہ اس میں انہیں صحت کی کوئی وجہ اور معنی میں کوئی حقیقت نظر نہ آئے، تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم نے انہیں خود اپنی طرف سے درج نہیں کیا ہے بلکہ ان کا ماخذ وہ ناقل (نقل کرنے والے) ہیں جنہوں نے وہ روایات ہمیں بیان کیں۔ ہم نے وہ روایات اسی طرح بیان کر دی ہیں جس طرح ہم تک پہنچیں [طبری۔ مقدمہ۔ 1/17]
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خود امام طبری رحم الله کا نقطہ نظر ہرگز یہ نہیں ہے کہ " میرا فرمایا ہوا مستند ہے ۔" ان تک جو روایتیں پہنچیں، انہوں نے انہیں آگے نقل کر دیا۔ اور یہی اصول اکثر باقی آئمہ و شارحین کا روایت سے متعلق رہا ہے-
ابو زرعۃ الرازی فرماتے ہیں :
جب آپ کسی ایسے شخص کو دیکھیں جو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی کی کردار کشی کرتا ہے تو جان لیجیے کہ وہ شخص زندیق ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برحق ہیں، قرآن برحق ہے اور جو کچھ حضور لائے ہیں ، حق ہے۔ یہ سب کچھ ہم تک صحابہ کرام ہی کے واسطے سے پہنچا ہے تو ان صحابہ پر اعتراض کرنے کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا ہے کہ وہ ہمارے گواہوں کو مجروح کریں تاکہ اس طرح قرآن اور حدیث ہی کو بے کار بنا کر رکھ دیں۔ اس سے بدرجہا بہتر ہے کہ خود ایسے لوگوں کو قابل اعتراض اور مجروح قرار دیا جائے- [ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ۔ مقدمہ۔ 1/24]۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو صحابہ کرام کی کردار کشی سے متعلق متعدد روایت دوسری و تیسری صدی میں وضع کی گئیں اور مقاصد اپنے سیاسی عزائم کی پایا تکمیل تک پہنچنا تھا- اسلام کے دیرینہ دشمنوں عراقیوں و کوفیوں کے پاس ایک یہی حربہ تھا کہ ایسی روایات گھڑی جائیں جو نہ صرف صحابہ کرام اور ان کی آل اولاد کے پاکیزہ کردار کو داغ دار کریں بلکہ امامت کے عقیدے کے ذریے رسالت کے عقیدے کو بھی مشکوک بنا دیا جائے- اور اسی ہی طرح وہ اسلام کی دیوارون کو کمزور کر سکتے- اس کام کا لئے سب سے زیادہ جس ہستی کا نام استمعال ہوا- وہ حضرت علی رضی الله عنہ تھے- ظاہر ہے ان کی عظمت سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا تھا اس لئے ان کا اور ان کی آل اولاد کا نام بنو امیہ کو بدنام کرنے کے لئے متعدد روایات میں موازنے کے طور پر پیش کیا گیا - اور سادہ لوح عوام اس دھوکہ و فریب میں آسانی سے گرفتار ہو گئے -
محترم ،
اہل علم میں سے کوئی ایک بھی ایسا دکھا دیں جو یہ کہتا ہو میرا لکھا حرف آخر اور قطعی ہے اور اس میں غلطی کی گنجائش نہیں ہے ایسا اہل علم اپ کو ایک بھی نہیں ملے گا ہاں ایسے جاہل بے شمار مل سکتے ہیں مگر اس کے باوجود ہم اور اپ اور دیگر اہل علم بھی آئمہ کے حوالے کوڈ کرتے ہیں اس لئے کہ وہ اہل علم ہے ان کو امت بحیثیت امام مانتی ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ انہوں نے قرآن اور سنت کو سمجھا ہے اور اس کے مطابق اپنا موقف بیان کرتے ہیں
اپ نے امام طبری کے حوالے سے جو لکھا ہے اس سے صرف یہی ثابت ہوتا ہے کہ ان کا اعتماد ان روایات پر ہے جو سند کے ساتھ بیان ہوئی ہے اور یہ باتیں انہوں نے تاریخ کے کتب کے حوالے سے لکھی ہے اور میں اپ کو بار ہا عرض کر چکا کہ میں تاریخ کی بات کر ہی نہیں رہا میں اپ کو کتب احادیث میں سے صحیح سند کے ساتھ فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے اثار پیش کر رہا ہوں اور اس پر آئم کے تبصرہ جو انہوں نے شروحات میں یا اس حوالے سے دیگر کتب میں نقل کیے ہیں اور اپ مجھے بار بار تاریخ کی کتب کے حوالے سے جواب عنایت کر رہے ہیں جیسا ابھی بھی اپ نے امام طبری کی تاریخ کی کتب کا حوالہ نقل کیا ہے میں آپ سے مودبانہ عرض کرتا ہیں کہ تاریخ کی کتب کا پیچھا چھوڑ کر کتب احادیث سے اس مسئلہ کو سمجھے کہ امت پر کیا قیامت گزری ہے کس طرح ان بنو مروان اور بنو امیہ میں سے کچھ حکمرانوں نے دین کو برباد کیا خلافت کو برباد کیا ہے اس کے لئے میں نے کسی تاریخ کی کتب کا حوالہ نہیں دیا ہے میں پھر عرض کر رہا ہوں میں نے کتب احادیث سے سب بیان کیا ہے۔
اور اپ نے جو امام ابو الزرعہ رازی کا قول نقل کیا ہے اس کے مطابق اپ لوگوں نے جو کردار کشی کا معنی اختراع کیا ہوا ہے اس حساب سے بڑے بڑے آئمہ محدثین اور اکابرین زندیق ہو جائیں گے (نعوذباللہ) مثال کے لئے چند حوالے دیتا ہوں
بسر بن ارطاۃ
اس کے بارے میں تھذیب میں حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ
مختلف في صحبته
اس کے صحابی ہونی میں اختلاف ہے یعنی اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو ہے مگر صحبت نہیں پائی ہے۔
چنانچہ اس کے ترجمہ میں حافظ صاحب نے علل کے امام دارقطنی کا قول نقل کیا ہے کہ وہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی ہے اور اس کے بعد کیا لکھا ہے پڑھ لیں
وقال الدارقطني له صحبة ولم يكن له استقامة بعد النبي صلى الله عليه وسلم
ترجمہ: امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ اگرچہ انہوں نےصحبت اٹھائی ہے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد استقامۃ پر نہیں رہے۔
یہ امام دارقطنی کا قول ہے اب آپ یہی فرمایں گے کہ ان کا صحابی ہونا ثابت نہیں ہے مگر میرا مدعا یہ نہیں کہ یہ صحابی ہے یا نہیں میرا مدعا یہ ہے کہ امام دارقطنی نے اس کو صحابی مانا ہے "له صحبة" اس کے بعد یہ لکھا ہے کہ" ولم يكن له استقامة بعد النبي صلى الله عليه وسلم" تو کیا امام دارقطنی زندیق ہو گئے کیا انہوں نے قرآن نہیں پڑھا ہے یا صحابہ کی عظمت وہ نہیں جانتے تھے یہ کوئی فقہی مسئلہ نہیں کہ اس میں غلطی ہو گئی یہ ایمان کا مسئلہ ہے اور یہ دین کے اصول میں سے بات ہے تو پھر امام دارقطنی نے یہ بات کیوں لکھ دی کیا وہ صحابہ کرام کی عظمت کے قائل نہیں تھے۔
اور اپ ایسے صحابی رضی اللہ عنہ کے بارے میں سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کا قول ہے جن کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
(2) امام ابن کثیر نے البدایہ والنھایہ میں امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے اپ بھی پڑھ لیں۔
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يَقُولُ: مَا كَانَتْ فِي عَلِيٍّ خَصْلَةٌ تَقْصُرُ بِهِ عَنِ الْخِلَافَةِ، ولم يكن في معاوية خصلة ينازع بها علياً.(البدایہ والنھایہ جلد 8 ص 130)
امام ابن المدینی فرماتے ہیں میں نے سفیان بن عیینہ سے سنا وہ فرماتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ میں ایک بھی ایسی خامی نہیں تھی جس کی وجہ سے وہ خلافت کے اہل نہ ہوں اورمعاویہ رضی اللہ عنہ میں ایک بھی ایسی خوبی نہیں تھی جو اس (خلافت پر) علی رضی اللہ عنہ سے لڑے تھے۔
اب بھائی اس کو میرے سر نہیں مڈ دینا یہ امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کا قول ہے اور اس کی سند سنابلی صاحب کی شرائط پر صحیح ہے
یہ صرف دو مثالیں دی ہیں جن میں بقول اپ کے کردار کشی کا پہلو ہے تو اپ یہ دونوں امام زندیق ہو گئے ابھی اور بھی حوالے ہیں اور بڑے بڑے امام موجود ہے مثال کے طور چند لکھ دیتا ہوں۔
(1) امام ابن عبدالبر
(2) امام طحاوی حنفی
(3) امام ذہبی
(4) حافظ ابن حجر
(5) قاضی عیاض
(6) امام عراقی
یہ چند نام ہیں اور اس میں اور بھی بہت سے نام باقی ہے اور بہت سے حوالےبھی ہیں۔
محترم
کردار کشی کا معنی جو آئمہ نے بیان کیا ہے وہ روافضی کے لئے بیان کیا ہے کہ وہ نعوذ باللہ لعن طعن کرتے برا بولتے تھے اور کردار کشی کو آئمہ نے اسی معنوں میں لیا ہے وگرنہ اگر کسی صحابی کی غلطی بیان کرنایا کوئی ایسی بات جس سے دین کا کوئی نقصان ہوا ہے اس کو کردار کشی کے معنی میں بیان کرنا ہوتا تو پھر آئمہ میں سے کسی ایک نے بھی یہ بیان نہ کیا ہوتا ان کے تو ایمان کے لالے پڑ جاتے اس لئے پھر وہی عرض کرتا ہوں اپ نےجو معنی کردار کشی کا اختراع کیا ہے وہ یہی ہے کہ صحابہ کرام کو معصوم عن الخطا مان لیا ہے کہ ان سے غلطی نہیں ہو سکتی حالانکہ محدثین نےتو خود احادیث میں بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہھم کی غلطی والی روایات نقل کی ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے خود لکھوائی بھی ہیں جیسا ان تین اصحاب رضی اللہ عنہم کا تذکرہ جن سے مکمل 50 دن بات چیت کرنا بند کر دیا گیا تھا کتب احادیث میں وہ روایات بھی موجود ہیں اور محدثین نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے ہی نقل کی ہے تو کردار کشی کا مفہوم جو اپ نے بنایا ہوا ہے وہ آئمہ اور سلف میں سے کسی کا نہیں ہے وگرنہ وہ یہ باتیں کبھی نہ لکھتے ان کے تو ایمان برباد ہو جاتے
محترم اللہ نے دین میں کسی نبی کے اصحاب کو یہ استثناء نہیں دی کہ جس نے بھی ایک بار دیکھ لیا وہ جو بھی کریں ان کو استثناء حاصل ہے
بلکہ جن کا رتبہ بڑا ہوتا ہے ان کی اللہ نے پکڑ بھی سخت رکھی ہے
قرآن میں کیا یہ ارشاد نہیں پڑھا " اے نبی کی ازواج اگر تم میں سے کوئی بحیائی کی مرتکب ہو گی تو اس کو دوگنا عذاب ہو گا)
اللہ کا دین عدل پر مبنی ہے وہ دین جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میری بیٹی بھی چوری کرے(نعوذ باللہ ) تو اس کے بھی ہاتھ کاٹ دوں گا۔
ہمارا ایمان ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے جو بھی خطا ہوئی ہیں اللہ نے ان کو بخش دیا ہے اور میں بارہا عرض کر چکا یہ نہ جنت کا معاملہ ہے اور نہ جہنم کا یہ خلافت کا مسئلہ ہے جو برباد ہوئی ہے اس پر میرا رونا ہے میں معاویہ رضی اللہ عنہ کا ادب وہ احترام اسی طرح کرتا ہوں جیسا ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا کرنے کا حق ہے۔ مگر ان کی جن خطاؤں کی وجہ سے خلافت ملوکیت میں بدل گئی اس پر اللہ سے دعا گو ہوں کہ اللہ ان سے درگزر کرے اور ان کو وہ درجہ عطا کرے جو ان کا حق ہے اور ہم اس سے عبرت حاصل کریں اور اس خلافت کی کوشش کریں جس کے لئے ہر مسلمان پیدا ہوتا ہے۔
اور آخر میں میرے تین سوالات اب بھی ویسے ہی باقی ہیں ان کا جواب ضرور عنایت کیجیئے گا
(1) آئمہ نے کیا قرآن نہیں پڑھا جو یہ سب اپنی کتب میں لکھ گئے؟
(2) کیا ایسی باتیں لکھ کر وہ صحابہ کی عظمت کو گھٹانے والے نہیں بن گئے؟
(3) کیا ان کی ان توجہات کے بعد آپ ان اکابرین کو امام مانتے جبکہ ان کی ہی توجہات پیش کر کے میں کیچڑ اچھانے والا بن گیا اور وہ اس سے بری ہیں؟
اللہ سب کو ہدایت دے