- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
71- بَاب فِي تَعْمِيقِ الْقَبْرِ
۷۱ -باب: قبرگہری کھو دنے کا بیان
3215- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ [الْقَعْنَبِيُّ] أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَهُمْ عَنْ حُمَيْدٍ -يَعْنِي ابْنَ هِلالٍ- عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: جَائَتِ الأَنْصَارُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالُوا: أَصَابَنَا قَرْحٌ وَجَهْدٌ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: < احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا، وَاجْعَلُوا الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلاثَةَ فِي الْقَبْرِ > قِيلَ: فَأَيُّهُمْ يُقَدَّمُ؟ قَالَ: < أَكْثَرُهُمْ قُرْآنًا >، قَالَ: أُصِيبَ أَبِي يَوْمَئِذٍ، عَامِرٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ، أَوْ قَالَ: وَاحِدٌ ۔
* تخريج: ت/الجھاد ۳۳ (۱۷۱۳)، ن/الجنائز ۸۶ (۲۰۱۲)، ۸۷ (۲۰۱۳)،۹۰ (۲۰۱۷)، ۹۱ (۲۰۲۰)، ق/الجنائز ۴۱ (۱۵۶۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۳۱، ۱۸۶۷۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۹،۲۰) (صحیح)
۳۲۱۵- ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: غزوہ احد کے دن انصار رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم زخمی اور تھکے ہوئے ہیں آپ ہمیں کیسی قبر کھو دنے کا حکم دیتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا :'' کشا دہ قبر کھو دو اور ایک قبر میں دو دو تین تین آدمی رکھو'' ، پوچھا گیا: آگے کسے رکھیں ؟فرمایا:'' جسے قرآن زیادہ یادہو''۔
ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے والد عامر رضی اللہ عنہ بھی اسی دن شہید ہوئے اور دو یا ایک آدمی کے سا تھ دفن ہوئے۔
3216- حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ -يَعْنِي الأَنْطَاكِيَّ- أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ -يَعْنِي الْفَزَارِيَّ- عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ فِيهِ: < وَأَعْمِقُوا >۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۳۱، ۱۸۶۷۶) (صحیح)
۳۲۱۶- اس سند سے بھی حمید بن ہلا ل سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں اتنا زیادہ ہے کہ: ''خوب گہری کھودو'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : قبر گہری کھودنے کا فائدہ یہ ہے کہ مردے کی عفونت زمین پر رہنے والوں پر اثر انداز نہیں ہوتی اور بدبو نہیں آتی ۔
3217-حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ -يَعْنِي ابْنَ هِلالٍ- عَنْ سَعْدِ ابْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ بِهَذَا [الْحَدِيثِ]۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۳۲۱۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۳۱، ۱۸۶۷۶) (صحیح)
۳۲۱۷- سعد بن ہشام بن عامر سے یہی حدیث مر وی ہے۔