- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
3- بَاب فِي طَلَبِ الْقَضَائِ وَالتَّسَرُّعِ إِلَيْهِ
۳-باب: عہدئہ قضا کو طلب کرنا اور فیصلہ میں جلدی کرنا صحیح نہیں ہے
3577- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلائِ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالا: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ رَجَائٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ [الأَنْصَارِيِّ] الأَزْرَقِ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلانِ مِنْ أَبْوَابِ كِنْدَةَ -وَأَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ جَالِسٌ فِي حَلْقَةٍ- فَقَالا: أَلا رَجُلٌ يُنَفِّذُ بَيْنَنَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْحَلْقَةِ: أَنَا، فَأَخَذَ أَبُو مَسْعُودٍ كَفًّا مِنْ حَصًى فَرَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: مَهْ؛ إِنَّهُ كَانَ يُكْرَهُ التَّسَرُّعُ إِلَى الْحُكْمِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۹۹۹۷) (ضعیف الإسناد)
(اس کے رواۃ ''رجاء '' اور '' عبدالرحمن '' دونوں لین الحدیث ہیں )
۳۵۷۷- عبدالرحمن بن بشر انصاری ازرق کہتے ہیں کہ کندہ کے دروازوں سے دوشخص جھگڑتے ہو ئے آئے اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ایک حلقے میں بیٹھے ہو ئے تھے، تو ان دونوں نے کہا: کوئی ہے جو ہما رے درمیان فیصلہ کر دے! حلقے میں سے ایک شخص بول پڑا: ہاں، میں فیصلہ کر دوں گا، ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مٹھی کنکری لے کر اس کو مارا اور کہا: ٹہر (عہدنبوی میں) قضا میں جلد بازی کو مکروہ سمجھا جاتا تھا ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : کیونکہ جلد بازی میں اکثر غلطی ہوجاتی ہے۔
3578- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى، عَنْ بِلالٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَنْ طَلَبَ الْقَضَاءَ وَاسْتَعَانَ عَلَيْهِ وُكِلَ إِلَيْهِ، وَمَنْ لَمْ يَطْلُبْهُ وَلَمْ يَسْتَعِنْ عَلَيْهِ أَنْزَلَ اللَّهُ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ >.
[وقَالَ وَكِيعٌ: عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِالأَعْلَى، عَنْ بِلالِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ .
وَقَالَ أَبُو عَوَانَةَ: عَنْ عَبْدِالأَعْلَى عَنْ بِلالِ بْنِ مِرْدَاسٍ الْفَزَارِيِّ عَنْ خَيْثَمَةَ الْبَصْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ]۔
* تخريج: ت/الأحکام ۱ (۱۳۲۳)، ق/الأحکام ۱ (۲۳۰۹)، (تحفۃ الأشراف: ۲۵۶)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۱۸، ۲۲۰) (ضعیف)
(اس کے راوی'' بلال '' لین الحدیث ہیں)
۳۵۷۸- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے سنا:'' جو شخص منصبِ قضا کا طالب ہوا اور اس (عہدے) کے لئے مدد چا ہی ۱؎ وہ اس کے سپرد کردیا گیا ۲ ؎ ، جو شخص اس عہدے کا خواستگا ر نہیں ہو ا اور اس کے لئے مدد نہیں چاہی تواللہ تعالی اس کے لئے ایک فرشتہ نازل فرماتا ہے جو اسے راہ صواب پر رکھتا ہے''۔
وضاحت ۱ ؎ : یعنی سفارشیں کرائے گا۔
وضاحت ۲؎ : یعنی اللہ کی مدد اس کے شامل حال نہ ہوگی۔
3579- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ ابْنُ هِلالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < لَنْ نَسْتَعْمِلَ، أَوْ لا نَسْتَعْمِلُ، عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ >۔
* تخريج: خ/ الإجارۃ ۱ (۲۶۶۱)، المرتدین ۲ (۶۹۲۳)، م/ الإمارۃ ۳ (۱۷۳۳)، ن/ الطہارۃ ۴ (۴)، (تحفۃ الأشراف: ۹۰۸۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۰۹)، وأعادہ المؤلف فی الحدود (۴۳۵۴) (صحیح)
۳۵۷۹- ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:'' ہم ہر گز کسی ایسے شخص کو عامل مقرر نہیں کریں گے جو عامل بننا چاہے''۔