- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,589
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
71-بَاب الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
۷۱- باب: عضو تناسل چھونے سے وضو نہ کرنے کی رخصت کا بیان
۷۱- باب: عضو تناسل چھونے سے وضو نہ کرنے کی رخصت کا بیان
182- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، فَجَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ بَدَوِيٌّ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! مَا تَرَى فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَ مَا يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: < هَلْ هُوَ إِلا مُضْغَةٌ مِنْهُ >، أَوْ قَالَ: < بَضْعَةٌ مِنْهُ >۔
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَجَرِيرٌ الرَّازِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ۔
* تخريج: ت/الطھارۃ ۶۲ (۸۵)، ن/الطھارۃ ۱۱۹ (۱۶۵)، ق/الطھارۃ ۶۴ (۴۸۳)، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۲۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۲، ۲۳) (صحیح)
۱۸۲- طلق بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اتنے میں ایک شخص آیا وہ دیہاتی لگ رہا تھا، اس نے کہا: اللہ کے نبی! وضو کر لینے کے بعد آدمی کے اپنے عضو تناسل چھونے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ تو اسی کا ایک لوتھڑا ہے‘‘، یا کہا: ’’ٹکڑا ہے‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : طلق بن علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں عضو تناسل کے چھونے سے وضو نہ ٹوٹنے کی دلیل ہے، جب کہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ عضو تناسل کے مس (چھونے) کرنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، دونوں حدیثیں صحیح ہیں، اس لئے علماء نے ان دونوں کے درمیان تطبیق و توفیق کی صورت یہ نکالی ہے کہ عضو تناسل پر پردہ ہو تو وضو نہیں ٹوٹے گا، اور پردہ نہ ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا۔
طلق بن علی کی حدیث کے الفاظ ’’الرجل يمس ذكره في الصلاة‘‘ سے یہی مفہوم نکلتا ہے، دوسری صورت تطبیق کی یہ ہے کہ اگر شہوت کے ساتھ ہے تو ناقض وضو ہے بصورت دیگر نہیں، واللہ اعلم بالصواب۔
183- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَقَالَ فِي الصَّلاةِ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۲۳) (صحیح)
۱۸۳- مسدد کا بیان ہے کہ ہم سے محمد بن جابر نے بیان کیا ہے، محمد بن جابر نے قیس بن طلق سے، قیس نے اپنے والد طلق سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے، اور اس میں "في الصلاة‘‘ کا اضافہ ہے۔