- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
113 - بَاب مَا يَقُولُ إِذَا هَاجَتِ الرِّيحُ؟
۱۱۳-باب: جب آندھی آئے تو کیا پڑھے؟
5097- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ وَسَلَمَةُ -يَعْنِي ابْنَ شَبِيبٍ- قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ -قَالَ سَلَمَةُ: فَرَوْحُ اللَّهِ- تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ، وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَلاتَسُبُّوهَا، وَسَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا، وَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا >۔
* تخريج: ق/الأدب ۲۹ (۳۷۲۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۳۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۵۰، ۲۶۷، ۴۰۹، ۴۳۶، ۵۱۸) (صحیح)
۵۰۹۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ریح (ہوا) اللہ کی رحمت میں سے ہے(سلمہ کی روایت میں 'مِن رَوْحِ اللهِ' ہے)، کبھی وہ رحمت لے کر آتی ہے، اور کبھی عذاب لے کر آتی ہے، تو جب تم اسے دیکھو تو اسے برا مت کہو، اللہ سے اس کی بھلائی ما نگو، اور اس کے شر سے اللہ کی پنا ہ چاہو۔
5098- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَطُّ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ، وَكَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا أَوْ رِيحًا عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! النَّاسُ، إِذَا رَأَوُا الْغَيْمَ فَرِحُوا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْمَطَرُ، وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عُرِفَتْ فِي وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةُ، فَقَالَ: < يَا عَائِشَةُ! مَا يُؤَمِّنُنِي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ؟ قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ، [وَ] قَدْ رَأَى قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوا: {هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا}>۔
* تخريج: خ/بدء الخلق ۵ (۳۲۰۶)، تفسیر سورۃ الأحقاف (۴۸۲۹)، الأدب ۶۸ (۶۰۹۳)، م/الاستسقاء ۳ (۸۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۱۳۶)، وقد أخرجہ: ت/تفسیر القرآن ۴۶ (۴۸۲۸)، ق/الدعاء ۲۱ (۶۰۹۲)، حم (۶/۱۹۰) (صحیح)
۵۰۹۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی کھلکھلا کر ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کے کو ے کو دیکھ سکوں، آپ تو صر فتبسم فرماتے ( ہلکا سا مسکر اتے) تھے، آپ جب بدلی یا آندھی دیکھتے تو اس کا اثر آپ کے چہرے پر دیکھا جاتا ( آپ تر دد اورتشویش میں مبتلا ہو جاتے)تو(ایک بار) میں نے عرض کیا:اللہ کے رسول! لوگ تو جب بدلی دیکھتے ہیں تو خوش ہو تے ہیں کہ با رش ہو گی، اور آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ جب بدلی دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے سے ناگواری( گھبرا ہٹ اور پر یشانی)جھلکتی ہے ( اس کی وجہ کیا ہے؟)آپ نے فرمایا:'' اے عائشہ! مجھے یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، کیونکہ ایک قوم ( قوم عا د)ہوا کے عذاب سے دو چار ہو چکی ہے، اور ایک قوم نے (بدلی کا) عذاب دیکھا،تووہ کہنے لگی {هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا} ۱؎ :یہ بادل توہم پر بر سے گا (وہ برسا تو لیکن، با رش پتھروں کی ہوئی، سب ہلا ک کردیے گئے)۔
وضاحت ۱؎ : قوم ثمود کی طرف اشارہ ہے، مدائن صالح (سعودی عرب) میں اس قوم کے آثار موجود ہیں۔
5099- حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا رَأَى نَاشِئًا فِي أُفُقِ السَّمَاءِ تَرَكَ الْعَمَلَ وَإِنْ كَانَ فِي صَلاةٍ، ثُمَّ يَقُولُ: < اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا > فَإِنْ مُطِرَ قَالَ: < اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا >۔
* تخريج: ق/الدعاء ۲۱ (۳۸۸۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۱۴۶)، وقد أخرجہ: ن/ الاستسقاء ۱۵ (۱۵۲۲) (صحیح)
۵۰۹۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب آسمان کے گو شے سے بدلی اٹھتے دیکھتے تو کام (دھام ) سب چھوڑ دیتے یہاں تک کہ صلاۃ میں ہو تے تواُسے بھی چھوڑ دیتے، اور یوں دعا فرماتے:''اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا'' (اے اللہ! میں اس کے شر سے تیری پنا ہ ما نگتا ہوں) پھر اگر بارش ہو نے لگتی، تو آپ فرماتے:''اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا'' ( اے اللہ! اس با رش کو زوردار اور خوشگوار و با برکت بنا ۔