• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
33- بَاب حَقِّ السَّائِلِ
۳۳- باب: سائل کے حق کا بیان​

1665- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لِلسَّائِلِ حَقٌّ وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۳۴۱۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۰۱) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’یعلی‘‘ مجہول ہیں)
۱۶۶۵- حسین بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سائل کا حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر آئے‘‘ ۔

1666- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ شَيْخٍ، قَالَ: رَأَيْتُ سُفْيَانَ عِنْدَهُ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهَا، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، مِثْلَهُ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف :۱۰۰۷۱) (ضعیف)
(اس کی سند میں ’’شیخ‘‘ ایک مبہم راوی ہے)
۱۶۶۶- اس سند سے علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔

1667- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ ابْنِ بُجَيْدٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ -وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ- أَنَّهَا قَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابِي فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنْ لَمْ تَجِدِي لَهُ شَيْئًا تُعْطِينَهُ إِيَّاهُ إِلا ظِلْفًا مُحْرَقًا فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ >.
* تخريج: ت/الزکاۃ ۲۹ (۶۶۵)، ن/الزکاۃ ۷۰ (۲۵۶۶) ( تحفۃ الأشراف :۱۸۳۰۵)، وقد أخرجہ: ط/صفۃ النبی ۵ (۸)، حم (۴/۷۰) (صحیح)

۱۶۶۷- ام بجید رضی اللہ عنہا یہ ان لوگوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی، وہ کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے دروازے پر مسکین کھڑا ہوتا ہے لیکن میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جو میں اسے دوں، رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ’’اگر تمہیں کوئی ایسی چیز نہ ملے جو تم اسے دے سکو سوائے ایک جلے ہوئے کھر کے تو وہی اس کے ہاتھ میں دے دو‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
34- بَاب الصَّدَقَةِ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ
۳۴- باب: ذمّی کو صدقہ دینے کا بیان​

1668- حَدَّثَنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي رَاغِبَةً فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ وَهِيَ رَاغِمَةٌ مُشْرِكَةٌ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِمَةٌ مُشْرِكَةٌ أَفَأَصِلُهَا؟ قَالَ: < نَعَمْ، فَصِلِي أُمَّكِ >۔
* تخريج: خ/الھبۃ ۲۹ (۲۶۲۰)، والجزیۃ ۱۸ (۳۱۸۳)، والأدب ۸ (۵۹۷۸)، م/الزکاۃ ۱۴ (۱۰۰۳)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۴۴، ۳۴۷، ۳۵۵) (صحیح)

۱۶۶۸- اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس میری ماں آئیں جو قریش کے دین کی طرف مائل اور اسلام سے بیزار اور مشرکہ تھیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں میرے پاس آئی ہیں اور وہ اسلام سے بیزار اور مشرکہ ہیں، کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’ ہاں، اپنی ماں سے صلہ رحمی کرو‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
35- بَاب مَا لا يَجُوزُ مَنْعُهُ
۳۵- باب: جس چیز کا روکنا جائز نہیں اس کا بیان​

1669- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ -رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ- عَنْ أَبِيهِ، عَنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا بُهَيْسَةُ؛ عَنْ أَبِيهَا قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ ﷺ فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ فَجَعَلَ يُقَبِّلُ وَيَلْتَزِمُ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا الشَّيْئُ الَّذِي لا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: < الْمَاءُ > قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! مَا الشَّيْئُ الَّذِي لايَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ:[< الْمِلْحُ > قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا الشَّيْئُ الَّذِي لا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ:] <أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ویأتي برقم : (۳۴۷۶)، ( تحفۃ الأشراف :۱۵۶۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/ ۸۰، ۸۱)، دي/البیوع ۷۰ (۲۶۵۵) (ضعیف)
(اس کے رواۃ ’’سیار‘‘ اوران کے والد لین الحدیث ہیں اور بہیسہ مجہول ہیں)
۱۶۶۹- بہیسہ اپنے والد (عمیر) کہتی ہیں کہ میرے والد نے نبی اکرم ﷺ سے (آپ کے پاس آنے کی) اجازت طلب کی، (اجازت دے دی تو وہ آئے) اور وہ آپ ﷺ کے اور آپ کی قمیص کے درمیان داخل ہو گئے (یعنی آپ کی قمیص اٹھا لی) اور آپ ﷺ کے بدن مبارک کو چومنے اور آپ سے لپٹنے لگے، پھر انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون سی شیء ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’پانی‘‘، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی! وہ کون سی شیء ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نمک‘‘،انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! وہ کون سی شیء ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم جتنی نیکی کرو اتنی ہی وہ تمہارے لئے بہتر ہے (یعنی پانی نمک تو مت روکو اس کے علاوہ اگر ممکن ہو تو دوسری چیزیں بھی نہ روکو)‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
36- بَاب الْمَسْأَلَةِ فِي الْمَسَاجِدِ
۳۶- باب: مسجد کے اندر سوال کرنے کا بیان​

1670- حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَطْعَمَ الْيَوْمَ مِسْكِينًا؟ > فَقَالَ أَبُوبَكْرٍ رَضِي اللَّه عَنْه: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا أَنَا بِسَائِلٍ يَسْأَلُ، فَوَجَدْتُ كِسْرَةَ خُبْزٍ فِي يَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَأَخَذْتُهَا مِنْهُ فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۹۶۹۰) (صحیح) تراجع الألباني (141)
(قصہ کے تذکرے کے بغیر ابوہریرہ کی روایت سے یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس سند میں مبارک مدلس راوی ہیں اور بذریعہ ’’عن‘‘ روایت کئے ہوئے ہیں)
۱۶۷۰- عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم میں سے ایسا کوئی ہے جس نے آج کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہو؟‘‘، ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک بھکاری مانگ رہا ہے، میں نے عبد الرحمن کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا پایا تو ان سے اُسے لے کر میں نے بھکاری کو دے دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
37- بَاب كَرَاهِيَةِ الْمَسْأَلَةِ بِوَجْهِ اللَّهِ تَعَالَى
۳۷- باب: اللہ کے نام پر مانگنے کی کراہت کا بیان​

1671- حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقِلَّوْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُعَاذٍ التَّمِيمِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا يُسْأَلُ بِوَجْهِ اللَّهِ إِلا الْجَنَّةُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۳۰۴۰) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’سلیمان‘‘ ضعیف ہیں)
۱۶۷۱- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کے نام پر سوائے جنت کے کوئی چیز نہ مانگی جائے‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
38- بَاب عَطِيَّةِ مَنْ سَأَلَ بِاللَّهِ
۳۸- باب: جو شخص اللہ کے نام پر مانگے اسے دینے کا بیان​

1672- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنِ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ سَأَلَ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ، وَمَنْ صَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُونَهُ فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَرَوْا أَنَّكُمْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ >۔
* تخريج: ن/الزکاۃ ۷۲ (۲۵۶۸)، ( تحفۃ الأشراف: ۷۳۹۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۶۸، ۹۵، ۹۹، ۱۷۲) (صحیح)

۱۶۷۲- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو اللہ کے نا م پر پناہ مانگے اسے پناہ دو، جو اللہ کے نام پر سوال کرے اسے دو، جو تمہیں دعوت دے اسے قبول کرو، اور جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے تم اس کا بدلہ دو، اگر تم بدلہ دینے کے لئے کچھ نہ پاؤ تو اس کے حق میں اس وقت تک دعا کرتے رہو جب تک کہ تم یہ نہ سمجھ لو کہ تم اسے بدلہ دے چکے‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
39- بَاب الرَّجُلِ يَخْرُجُ مِنْ مَالِهِ
۳۹- باب: اگر آدمی اپنا پورا مال صدقہ کر دے تو کیسا ہے؟​

1673- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ الأَنْصَارِيِّ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِذْ جَائَ[هُ] رَجُلٌ بِمِثْلِ بَيْضَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَبْتُ هَذِهِ مِنْ مَعْدِنٍ، فَخُذْهَا فَهِيَ صَدَقَةٌ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رُكْنِهِ الأَيْمَنِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رُكْنِهِ الأَيْسَرِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ، فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَحَذَفَهُ بِهَا، فَلَوْ أَصَابَتْهُ لأَوْجَعَتْهُ أَوْ لَعَقَرَتْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < يَأْتِي أَحَدُكُمْ بِمَا يَمْلِكُ فَيَقُولُ هَذِهِ صَدَقَةٌ، ثُمَّ يَقْعُدُ يَسْتَكِفُّ النَّاسَ، خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۳۰۹۷)، وقد أخرجہ: دي/الزکاۃ ۲۵ (۱۷۰۰) (ضعیف)
(اس کے راوی’’ابن اسحاق‘‘ مدلس ہیں، اور بذریعہ ’’عن‘‘ روایت کئے ہوئے ہیں)
۱۶۷۳- جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ ایک شخص انڈے کے برابر سونا لے کر آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے یہ ایک کان میں سے ملا ہے، آپ اسے لے لیجئے، یہ صدقہ ہے اور اس کے علاوہ میں کسی اور چیز کا مالک نہیں، رسول اللہ ﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا، وہ پھر آپ ﷺ کے پاس آپ کی دائیں جانب سے آیا اور ایسا ہی کہا، رسول اللہ ﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا، پھر وہ آپ ﷺ کے پاس آپ کی بائیں جانب سے آیا، رسول اللہ ﷺ نے پھر اس سے منہ پھیر لیا، پھر وہ آپ ﷺ کے پیچھے سے آیا آپ نے اسے لے کر پھینک دیا، اگر وہ اسے لگ جاتا تو اس کو چوٹ پہنچاتا یا زخمی کر دیتا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں ایک اپنا سارا مال لے کر چلا آتا ہے اور کہتا ہے: یہ صدقہ ہے، پھر بیٹھ کر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے، بہترین صدقہ وہ ہے جس کا مالک صدقہ دے کر مال دار رہے‘‘۔

1674- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ: < خُذْ عَنَّا مَالَكَ، لا حَاجَةَ لَنَا بِهِ >۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف :۳۰۹۷) (ضعیف)

۱۶۷۴- اس سند سے بھی ابن اسحاق سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: ’’خُذْ عَنَّا مَالَكَ، لا حَاجَةَ لَنَا بِهِ‘‘ (اپنا مال ہم سے لے لو ہمیں اس کی ضرورت نہیں)۔

1675- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ ﷺ أَنْ يَطْرَحُوا ثِيَابًا فَطَرَحُوا فَأَمَرَ لَهُ بِثَوْبَيْنِ ثُمَّ حَثَّ عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ فَطَرَحَ أَحَدَ الثَّوْبَيْنِ فَصَاحَ بِهِ وَقَالَ خُذْ ثَوْبَكَ۔
* تخريج: ن/الجمعۃ ۲۶ (۴۰۹)، والزکاۃ ۵۵ (۲۵۳۷)، (تحفۃ الأشراف:۴۲۷۴)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۲۵۰ (الجمعۃ ۱۵) (۵۱۱)،حم (۳/۲۵) (حسن)

۱۶۷۵- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتیے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کپڑے (بطور صدقہ) ڈال دیں، انہوں نے ڈال دیا، پھر آپ ﷺ نے اس شخص کے لئے ان میں سے دو کپڑوں (کے دیئے جانے) کا حکم دیا، پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو صدقہ پر ابھارا تو وہ شخص دو میں سے ایک کپڑا ڈالنے لگا، آپ نے اسے دانٹا اور فرمایا: ’’اپنے کپڑے۱؎ لے لو‘‘۔
وضاحت۱؎: رسول اللہ ﷺنے اس آدمی کا صدقہ قبول نہیں کیا کیونکہ اس کو صرف دو کپڑے ملے تھے اور وہ اس کی ضرورت سے زائد نہیں تھے۔

1676- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ خَيْرَ الصَّدَقَةِ مَا تَرَكَ غِنًى، أَوْ تُصُدِّقَ بِهِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۱۲۳۵۶)، وقد أخرجہ: خ/الزکاۃ ۱۸ (۱۴۲۶)، والنفقات ۲ (۵۳۵۵)، م/الزکاۃ ۳۵ (۱۰۴۲)، ت/الزکاۃ ۳۸ (۶۸۰)، ن/الزکاۃ ۵۳ (۲۵۳۵)، حم (۲/۲۳۰، ۲۴۳، ۲۷۸، ۲۸۸، ۳۱۹، ۳۶۲، ۳۹۴، ۴۳۴) (صحیح)

۱۶۷۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بہترین صدقہ وہ ہے جو آدمی کو مال دار باقی رکھے یا (یوں فرمایا) وہ صدقہ ہے جسے دینے کے بعد مالک مال دار رہے اور صدقہ پہلے اسے دو جس کی تم کفالت کرتے ہو‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
40- بَاب فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
۴۰- باب: سارا مال صدقہ کرنے کی اجازت کا بیان​

1677- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ؛ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: < جُهْدُ الْمُقِلِّ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۱۴۸۱۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۵۸) (صحیح)

۱۶۷۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کم مال والے کا تکلیف اٹھا کر دینا اور پہلے ان لوگوں کو دو جن کا تم خرچ اٹھاتے ہو‘‘۔

1678- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالا: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِي اللَّه عَنْه يَقُولُ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمًا أَنْ نَتَصَدَّقَ، فَوَافَقَ ذَلِكَ مَالا عِنْدِي، فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا، فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَاْ أَبْقَيْتَ لأَهْلِكَ؟ > قُلْتُ: مِثْلَهُ، قَالَ: وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ رَضِي اللَّه عَنْه بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَا أَبْقَيْتَ لأَهْلِكَ؟ > قَالَ: أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قُلْتُ: لا أُسَابِقُكَ إِلَى شَيْئٍ أَبَدًا۔
* تخريج: ت/المناقب ۱۶ (۳۶۷۵)، ( تحفۃ الأشراف :۱۰۳۹۰)، وقد أخرجہ: دي/الزکاۃ ۲۶ (۱۷۰۱) (حسن)

۱۶۷۸- اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ایک دن ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم صدقہ کریں، اتفاق سے اس وقت میرے پاس دولت تھی، میں نے کہا: اگر میں کسی دن ابو بکر رضی اللہ عنہ پر سبقت لے جا سکوں گا تو آج کا دن ہو گا، چنانچہ میں اپنا آدھا مال لے کر آیا، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ’’اپنے گھر والوں کے لئے تم نے کیا چھوڑا ہے؟‘‘، میں نے کہا: اسی قدر یعنی آدھا مال، اور ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال لے کر حاضر ہوئے، رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: ’’اپنے گھر والوں کے لئے تم نے کیا چھوڑا ہے؟‘‘، انہوں نے کہا میں ان کے لئے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں۱؎، تب میں نے (دل میں) کہا: میں آپ سے کبھی بھی کسی معاملے میں نہیں بڑھ سکوں گا۔
وضاحت۱؎: گذشتہ باب کی حدیثوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سارا مال اللہ کی راہ میں دینے سے اللہ کے رسول نے روکا ہے، جب کہ باب کی اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری دولت اللہ کی راہ میں دے دی، اور یہ بات آپ کی فضیلت و بزرگی کا باعث بھی بنی، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ممانعت کا حکم ایسے لوگوں کے لئے ہے جن کے اعتماد اور توکل میں کمزوری ہو، اور وہ مال دینے کے بعد مفلسی سے گھبرائیں اور ندامت و شرمندگی محسوس کریں، لیکن اس کے برخلاف اگر کسی شخص کے اندر ابو بکر رضی اللہ عنہ جیسا جذبہ، اللہ کی ذات پر اعتماد و توکل ہو تو اس کے لئے اس کام میں کوئی حرج نہیں بلکہ باعث خیر و برکت ہو گا، ان شاء اللہ ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
41- بَاب فِي فَضْلِ سَقْيِ الْمَاءِ
۴۱- باب: پانی پلا نے کی فضیلت کا بیان​

1679- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، أَنَّ سَعْدًا أَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْجَبُ إِلَيْكَ؟ قَالَ: < الْمَاءُ >۔
* تخريج: ن/الوصایا ۹ (۳۶۹۴)، ق/الأدب ۸ (۳۶۸۴)، ( تحفۃ الأشراف :۳۸۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۸۵، ۶/۷) (حسن)

۱۶۷۹- سعد بن عبادہ انصاری خزرجی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آکرعرض کیا: کون سا صدقہ آپ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’پانی (کا صدقہ)‘‘۱؎ ۔
وضاحت۱؎: پانی کا صدقہ: مثلاً کنواں کھدوانا، نل لگوانا، مسافروں، مصلیوں اور دیگر ضرورت مندوں کے لئے پانی کی سبیل لگانا۔

1680- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَالْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، نَحْوَهُ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف :۳۸۳۴) (حسن)

۱۶۸۰- اس سند سے بھی سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔

1681- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ رَجُلٍ؛ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ مَاتَتْ، فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: < الْمَاءُ >، قَالَ: فَحَفَرَ بِئْرًا، وَقَالَ: هَذِهِ لأُمِّ سَعْدٍ.
* تخريج: انظر حدیث رقم : ۱۶۷۸، ( تحفۃ الأشراف :۳۸۳۴) (حسن)
(حدیث نمبر۱۶۷۹ سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ خود اس کی سند میں ’’رجل‘‘ ایک مبہم راوی ہے)
۱۶۸۱- سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ام سعد (میر ی ماں) انتقال کر گئیں ہیں تو کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’پانی‘‘۔
راوی کہتے ہیں: چنانچہ سعد نے ایک کنواں کھدوایا اور کہا: یہ ام سعد ۱؎ کا ہے۔

وضاحت۱؎ : یعنی اس کا ثواب ام سعد رضی اللہ عنہا کے لئے ہے۔

1682- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ [بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِشْكَابَ]، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ -الَّذِي كَانَ يَنْزِلُ فِي بَنِي دَالانَ- عَنْ نُبَيْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < أَيُّمَا مُسْلِمٍ كَسَا مُسْلِمًا ثَوْبًا عَلَى عُرْيٍ كَسَاهُ اللَّهُ مِنْ خُضْرِ الْجَنَّةِ، وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ أَطْعَمَ مُسْلِمًا عَلَى جُوعٍ أَطْعَمَهُ اللَّهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ سَقَى مُسْلِمًا عَلَى ظَمَإٍ سَقَاهُ اللَّهُ مِنَ الرَّحِيقِ الْمَخْتُومِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۴۳۸۷)، وقد أخرجہ: ت/صفۃ القیامۃ ۱۸ (۲۴۴۹)، حم (۳/۱۳) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’نبیح‘‘ لین الحدیث ہیں)
۱۶۸۲- ابو سعید خُدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’جس مسلمان نے کسی مسلمان کو کپڑا پہنایا جب کہ وہ ننگا تھا تو اللہ اسے جنت کے سبز کپڑے پہنائے گا، اور جس مسلمان نے کسی مسلمان کو کھلایا جب کہ وہ بھوکا تھا تو اللہ اسے جنت کے پھل کھلائے گا اور جس مسلمان نے کسی مسلمان کو پانی پلایا جب کہ وہ پیاسا تھا تو اللہ اسے (جنت کی) مہر بند شراب پلائے گا‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
42- بَاب فِي الْمَنِيحَةِ
۴۲- باب: عطیہ دینے کا بیان​

1683- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ (ح) وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى -وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ، وَهُوَ أَتَمُّ- عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <أَرْبَعُونَ خَصْلَةً أَعْلاهُنَّ مَنِيحَةُ الْعَنْزِ، مَا يَعْمَلُ رَجُلٌ بِخَصْلَةٍ مِنْهَا رَجَاءَ ثَوَابِهَا وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِهَا إِلا أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ >. [قَالَ أَبودَاود] فِي حَدِيثِ مُسَدَّدٍ قَالَ حَسَّانُ: فَعَدَدْنَا مَا دُونَ مَنِيحَةِ الْعَنْزِ مِنْ رَدِّ السَّلامِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِمَاطَةِ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَنَحْوَهُ، فَمَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نَبْلُغَ خَمْسَةَ عَشَرَ خَصْلَةً۔
* تخريج: خ/الھبۃ ۳۵ (۲۶۳۱)، ( تحفۃ الأشراف :۸۹۶۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۶۰، ۱۹۴، ۱۹۶) (صحیح)

۱۶۸۳- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’چالیس خصلتیں ہیں ان میں سب سے بہتر خصلت بکری کا عطیہ دینا ہے، جو کوئی بھی ان میں سے کسی (خصلت نیک کام) کو ثواب کی امید سے اور (اللہ کی طرف سے) اپنے سے کئے ہوئے وعدے کو سچ سمجھ کر کرے گا اللہ اسے اس کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: مسدد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ حسان کہتے ہیں: ہم نے بکری عطیہ دینے کے علاوہ بقیہ خصلتوں اعمال صالحہ کو گنا جیسے سلام کا جواب دینا، چھینک کا جواب دینا اور راستے سے کوئی بھی تکلیف دہ چیز ہٹا دینا وغیرہ تو ہم پندرہ خصلتوں تک بھی نہیں پہنچ سکے۔
 
Top