• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
67- بَاب مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ
۶۷- باب: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کا بیان​

494- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وأََبُو مُعَاوِيَةَ؛ قَالا: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ؛ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ؟ فَقَالَ: < تَوَضَّئُوا مِنْهَا >۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۷۲ (۱۸۴)، ت/ الطہارۃ ۶۰ (۸۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۸۸، ۳۰۳) (صحیح)

۴۹۴- براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا: کیا اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس سے وضو کرو''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اونٹ کا گوشت ناقض وضو ہے، یہی صحیح مذہب ہے، اور عام طور پر اصحاب حدیث کی یہی رائے ہے، جو لوگ اسے ناقض وضو نہیں مانتے وہ اس حدیث کی تاویل کرتے ہیں کہ یہاں وضو سے وضو شرعی مراد نہیں ہے، بلکہ اس سے وضو لغوی یعنی ہاتھ منہ دھونا مراد ہے۔

495- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ وَإِسْرَائِيلُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَائِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ؛ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ وَلا نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ۔
* تخريج: م/الحیض ۲۵ (۳۶۰)، (تحفۃ الأشراف: ۲۱۳۱)، وقد أخرجہ: حم (۵/۸۶، ۸۸، ۹۲، ۱۱۰، ۱۰۲، ۱۰۵، ۱۰۸) (صحیح)

۴۹۵- جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اونٹ کا گوشت کھائیں تو وضو کریں، اور بکری کا گوشت کھائیں تو وضو نہ کریں۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اونٹ اور بکری کے گوشت میں تفریق کی حکمت اور وجہ جاننا ضروری نہیں کیونکہ یہ تعبدی احکام ہیں، ان کی حکمت کا عقل میں آنا ضروری نہیں، شارع کے نزدیک اس میں کوئی نہ کوئی حکمت ومصلحت ضرور پوشیدہ ہو گی گو وہ ہماری عقل میں نہ آئے۔

496- حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَرَوِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ - وَكَانَ ثِقَةً، وَكَانَ الْحَكَمُ يَأْخُذُ عَنْهُ- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <لاتَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِ الْغَنَمِ وَتَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِ الإِبِلِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴، ومصباح الزجاجۃ: ۲۰۴)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۵۲، ۵/۱۲۲) (ضعیف)
(سند میں حجاج بن ارطاۃ ضعیف اور مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور سابقہ صحیح احادیث میں اونٹ کے گوشت وضو کا حکم ہے، نہ کہ اونٹنی کے دو دھ پینے سے)
۴۹۶- اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بکری کا دودھ پی کر وضو نہ کرو، البتہ اونٹنی کا دودھ پی کروضو کرو''۔

497- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ خَالِدِ ابْنِ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ هُبَيْرَةَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ؛ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَارِبَ بْنَ دِثَارٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < تَوَضَّئُوا مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ، وَلا تَوَضَّئُوا مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ، وَتَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِ الإِبِلِ، وَلا تَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِ الْغَنَمِ، وَصَلُّوا فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ، وَلاتُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الإِبِلِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۴۱۶، ومصباح الزجاجۃ: ۲۰۵) (ضعیف)
(سند میں بقیہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز خالد بن یزید مجہول ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، اور حدیث کا دوسرا ٹکڑا ''وَتَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِ الإِبِلِ وَ لا تَتَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِ الْغَنَمِ'' ضعیف اور منکر ہے، بقیہ حدیث یعنی پہلا اور آخری ٹکڑا شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، یعنی اونٹ کے گوشت سے وضو اور بکر ی کے گوشت سے عدم وضو، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود : ۱۷۷)
۴۹۷- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ''اونٹ کے گوشت سے وضو کر لیا کرو، اور بکری کے گوشت سے وضو نہ کرو، اور اونٹنی کے دودھ سے وضو کیا کرو، اور بکری کے دودھ سے وضو نہ کرو، بکریوں کے باڑوں میں صلاۃ پڑھو، اور اونٹ کے باڑوں میں صلاۃ نہ پڑھو''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: آگ پر پکی دیگر چیزوں کے استعمال سے وضو ضروری نہیں ہے، لیکن اونٹ کے گوشت کا معاملہ جدا ہے، اسی لئے شریعت نے اس کو الگ ذکر کیا ہے، اب ہماری سمجھ میں اس کی مصلحت آئے یا نہ آئے ہمیں فرماں برداری کرنا ضروری ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
69- بَاب الْوُضُوءِ مِنَ الْقُبْلَةِ
۶۹- باب: بوسہ لے کروضو کرنے کابیان​

502- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، قُلْتُ مَا هِيَ إِلا أَنْتِ، فَضَحِكَتْ۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۶۹ (۱۷۹)، ت/الطہارۃ ۶۳ (۸۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۳۷۱، ومصباح الزجاجۃ: ۲۰۹)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۰۷) (صحیح)

۵۰۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی کسی بیوی کا بوسہ لیا، پھر صلاۃ کے لئے نکلے اور وضو نہیں کیا، (عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ) میں نے (ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے) کہا: وہ آپ ہی رہی ہوں گی! تو وہ ہنس پڑیں۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ عورت کو بوسہ لینے سے یا اسے چھونے سے خواہ شہوت کے ساتھ ہو یا بغیر شہوت کے وضو نہیں ٹوٹتا۔

503- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عنْ زَيْنَبَ السَّهْمِيَّةِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يُقَبِّلُ وَيُصَلِّي ولا يَتَوَضَّأُ، وَرُبَّمَا فَعَلَهُ بِي۔
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۴۲، ومصباح الزجاجۃ: ۲۰۹)، وقد أخرجہ: حم (۶/۹۲) (ضعیف)
(سند میں حجاج مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، اور زینب کے حالات معلوم نہیں، ان کے بارے میں دار قطنی کا قول ہے: ''لا تقوم بہا حجۃ'' قابل اعتماد نہیں ہیں)
۵۰۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وضو کرتے پھر بوسہ لیتے، اور بغیر وضو کئے صلاۃ پڑھتے، اور بعض دفعہ آپ ﷺ نے میرے ساتھ بھی ایسا کیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
70- بَاب الْوُضُوءِ مِنَ الْمَذْيِ
۷۰- باب: مذی سے وضو کے حکم کا بیان​

504- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ؛ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْمَذْيِ فَقَالَ: < فِيهِ الْوُضُوئُ، وَفِي الْمَنِيِّ الْغُسْلُ >۔
* تخريج: ت/الطہارۃ ۸۳ (۱۱۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۲۵)، وقد أخرجہ: خ/الغسل ۱۳ (۲۶۹)، د/الطہارۃ ۸۳ (۲۰۷)، ن/الطہارۃ ۱۱۲ (۱۵۷)، الغسل ۲۸ (۴۳۶)، حم (۱/۸۲، ۱۰۸، ۱۱۰) (صحیح)
(ملاحظہ ہو: الإرواء: ۴۷، ۱۲۵)
۵۰۴- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ سے مذی۱؎ کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ''اس میں وضو ہے، اور منی ۱۲؎ میں غسل ہے'' ۔
وضاحت۱؎: مذی: وہ لیس دار پتلا پانی ہے، جو ابتداء شہوت میں مرد کے عضو تناسل سے بغیر اچھلے نکلتا ہے اور جس پر وضو ہے۔
وضاحت۲؎: منی سے مراد وہ رطوبت ہے، جو شہوت کے وقت عضو تناسل سے اچھل کر نکلتی ہے، جس پر غسل واجب ہے۔

505- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ عَنِ الرَّجْلِ يَدْنُو مِنِ امْرَأَتِهِ فَلا يُنْزِلُ؟ قَالَ: <إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ، يَعْنِي لِيَغْسِلْهُ، وَيَتَوَضَّأْ>۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۸۳ (۲۰۷)، ن/الطہارۃ ۱۱۲ (۱۵۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۴۴)، وقد أخرجہ: ط/الطہارۃ ۱۳ (۵۳)، حم (۱/۱۲۴، ۶/۴، ۵) (صحیح)

۵۰۵- مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جو اپنی بیوی سے قریب ہوتا ہے، اور اسے انزال نہیں ہوتا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''جب ایسا ہو تو آدمی اپنی شرم گاہ پر پانی ڈال لے یعنی اسے دھولے، اور وضو کرلے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اگر قربت سے انزال نہ ہو تب بھی اس کو بہرحال غسل کرنا ہو گا، مقداد کی یہ حدیث منسوخ ہے: ''إذا التقى الختان'' سے، یعنی جب دو ختنے باہم مل جائیں تو غسل واجب ہے، انزال ہو یا نہ ہو۔

506- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً، فَأُكْثِرُ مِنْهُ الاغْتِسَالَ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: < إِنَّمَا يُجْزِيكَ، مِنْ ذَلِكَ، الْوُضُوءُ > قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي؟ قَالَ: < إِنَّمَا يَكْفِيكَ كَفٌّ مِنْ مَاءٍ تَنْضَحُ بِهِ مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَ >۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۸۳ (۲۱۰)، ت/الطہارۃ ۸۴ (۱۱۵)، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۶۴)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۸۵)، دي/الطہارۃ ۴۹ (۷۵۰) (حسن)

۵۰۶- سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے شدت سے مذی آتی تھی جس کی وجہ سے میں کثرت سے غسل کیا کرتا تھا، چنانچہ میں نے رسول اکرم ﷺ سے پو چھا تو آپ نے فرمایا: ''اس سے وضو کافی ہے''، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! جو کپڑے میں لگ جائے اس کا حکم کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم ایک چلو پانی لو، اور جہاں پہ دیکھو کہ مذی لگ گئی ہے وہا ں پہ چھڑک دو، بس یہ تمہارے لئے کافی ہو گا''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: لیکن یہ تبھی ہے جب یقین ہو کہ یہ مذی ہے، اگر یقین ہو کہ منی ہے، تو غسل کرنا ہی ہو گا۔

507- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي حَبِيبِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُنْيَةَ؛ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَتَى أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَمَعَهُ عُمَرُ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمَا، فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ مَذْيًا، فَغَسَلْتُ ذَكَرِي وَتَوَضَّأْتُ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَ يُجْزِءُ ذَلِكَ ؟ قَالَ: نَعَمْ . قَالَ: أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ؟ قَالَ: نَعَمْ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۱، ومصباح الزجاجۃ: ۲۱۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۲۰، ۵/۱۱۷) (ضعیف الإسناد)
(سند ابو حبیب کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے)
۵۰۷- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ ان دونوں کو اندر چھوڑ کر باہر چلے گئے (پھرواپس آئے) اور کہنے لگے: مجھے مذی۱؎ آگئی تھی میں نے اپنی شرم گاہ کو دھویا، اور وضو کیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا یہ کافی ہو گا؟ کہا: ہاں، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے رسول اکرم ﷺ سے یہ بات سنی ہے؟ کہا: ہاں (سنی ہے)۔
وضاحت۱؎: مذی اور اسی طرح پیشاب اور پاخانہ کے راستہ سے جو چیز بھی نکلے اس سے وضو ٹوٹنے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
71- بَاب وُضُوءِ النَّوْمِ
۷۱- باب: سونے کے لئے وضو کرنے کا بیان​

508- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، سَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ يَقُولُ لِزَائِدَةَ ابْنِ قُدَامَةَ: يَا أَبَا الصَّلْتِ! هَلْ سَمِعْتَ فِي هَذَا شَيْئًا؟ فَقَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، فَدَخَلَ الْخَلاءَ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ، ثُمَّ نَامَ.
* تخريج: خ/الدعوات۱۰(۶۳۱۶)، م/الحیض ۵ (۳۰۴)، المسافرین ۲۶ (۷۶۳)، د/الأدب ۱۰۵ (۵۰۴۳)، ت/الشمائل (۲۵۸)، ن/الکبري الصلاۃ ۴۳ (۳۹۷)، (تحفۃ الأشراف: ۶۳۵۲)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۳۴، ۲۸۳، ۲۸۴، ۲۸۴، ۳۴۳) (صحیح)

۵۰۸- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رات میں بیدار ہوئے، بیت الخلاء گئے اور قضائے حاجت کی، پھر اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر سو گئے۔

508- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنْبَأَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ أَنْبَأَنَا بُكَيْرٌ، عَنْ كُرَيْبٍ قَالَ: فَلَقِيتُ كُرَيْبًا فَحَدَّثَني عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فَذَكَرَ نَحْوَهُ۔
۵۰۸- اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسی جیسی حدیث نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً ذکر کی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
72- بَاب الْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلاةٍ وَالصَّلَوَاتِ كُلِّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ
۷۲- باب: ہر صلاۃ کے لئے وضو کرنے اور ایک وضو سے ساری صلاتیں پڑھنے کا بیان​

509- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاةٍ، وَكُنَّا نَحْنُ نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ۔
* تخريج:خ/الطہارۃ ۵۴ (۲۱۴)، د/الطہارۃ ۶۶ (۱۷۱)، ت/الطہارۃ ۴۴ (۶۰)، ن/الطہارۃ ۱۰۱ (۱۳۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/ ۱۳۲، ۱۹۴، ۲۶۰)، دي/الطہارۃ ۴۵ (۷۴۷) (صحیح)

۵۰۹- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر صلاۃ کے لئے وضو کرتے تھے، اور ہم ساری صلاۃ ایک وضو سے پڑھ لیا کرتے تھے۔

510- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاةٍ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ صَلَّى الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ۔
* تخريج: م/الطہارۃ ۲۵ (۲۷۷)، د/الطہارۃ ۶۶ (۱۷۲)، ت/الطہارۃ ۴۵ (۶۱)، ن/الطہارۃ ۱۰۱ (۱۳۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۵۰، ۳۵۱، ۳۵۸)، دي/الطہارۃ ۳ (۶۸۳) (صحیح)

۵۱۰- بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہر صلاۃ کے لئے وضو کیا کرتے تھے، لیکن فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے ایک وضو سے ساری صلاۃ پڑھیں۱؎ ۔
وضاحت۱؎: آپ ﷺ کی عام عادت مبارکہ یہی تھی، فتح مکہ سے پہلے بھی آپ کا ایسا کرنا ثابت ہے۔

511- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُبَشِّرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللَّهِ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَصْنَعُ هَذَا، فَأَنَا أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۵۷۱، ومصباح الزجاجۃ: ۲۱۱) (صحیح)
(اس حدیث کی سند میں ''الفضل بن مبشر'' ضعیف ہیں، لیکن سابقہ شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے)
۵۱۱- فضل بن مبشر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کو ایک ہی وضو سے کئی صلاۃ پڑھتے دیکھا، تو میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ عرض کیا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے، چنانچہ میں بھی ویسے ہی کرتا ہوں جیسے رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اگر وضو باقی ہے ٹوٹا نہیں ہے، تو ایک وضو سے کئی صلاۃ پڑھی جا سکتی ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
73- بَاب الْوُضُوءِ عَلَى الطَّهَارَةِ
۷۳- باب: وضو پر وضو کر نے کا بیان​

512- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِءُ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ الْهُذَلِيِّ ؛ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فِي مَجْلِسِهِ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلاةُ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى، ثُمَّ عَادَ إِلَى مَجْلِسِهِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى، ثُمَّ عَادَ إِلَى مَجْلِسِهِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْمَغْرِبُ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى، ثُمَّ عَادَ إِلَى مَجْلِسِهِ، فَقُلْتُ: أَصْلَحَكَ اللَّهُ، أَفَرِيضَةٌ أَمْ سُنَّةٌ، الْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلاةٍ؟ قَالَ: أَوَ فَطِنْتَ إِلَيَّ، وَإِلَى هَذَا مِنِّي؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: لا، لَوْ تَوَضَّأْتُ لِصَلاةِ الصُّبْحِ لَصَلَّيْتُ بِهِ الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا، مَا لَمْ أُحْدِثْ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى كُلِّ طُهْرٍ فَلَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَإِنَّمَا رَغِبْتُ فِي الْحَسَنَات ".
* تخريج: د/لطہارۃ ۳۲ (۶۲)، ت/الطہارۃ ۴۴ (۵۹)، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۹، ومصباح الزجاجۃ: ۲۱۲)(ضعیف)
(اس حدیث کی سند میں ''ابو غطیف'' مجہول وعبد الرحمن بن زیاد افریقی ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: /۹)
۵۱۲- ابو غطیف ہذلی کہتے ہیں کہ میں نے مسجد میں عبد اللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے ان کی مجلس میں سنا، پھرجب صلاۃ کا وقت ہوا، تو وہ اٹھے وضو کیا، اور صلاۃ ادا کی، پھر مجلس میں دوبارہ حاضر ہوئے، پھر جب عصر کا وقت آیا تو اٹھے وضو کیا، اور صلاۃ پڑھی، پھر اپنی مجلس میں واپس آئے، پھر جب مغرب کا وقت ہوا تو اٹھے وضو کیا، اور صلاۃ ادا کی پھر اپنی مجلس میں دوبارہ حاضر ہوئے تو میں نے کہا: اللہ آپ کو سلامت رکھے، کیا یہ وضو (ہر صلاۃ کے لیے) فرض ہے یا سنت؟ کہا: کیا تم نے میرے اس کام کو سمجھ لیا اور یہ سمجھا ہے کہ یہ میں نے اپنی طرف سے کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، بولے: نہیں، (ہر صلاۃ کے لئے وضو کرنا فرض نہیں) اگر میں صلاۃ فجرکے لئے وضو کرتا تو اس سے وضو نہ ٹوٹنے تک ساری صلاۃ پڑھتا، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ''جس شخص نے وضو ہوتے ہوئے وضو کیا، تو اس کے لئے دس نیکیاں ہیں''، اور مجھ کو ان نیکیوں ہی کا شوق ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
74- بَاب لا وُضُوءَ إِلا مِنْ حَدَثٍ
۷۴- باب: حدث کے بغیر وضو کے واجب نہ ہونے کا بیان​

513- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ؛ وَعَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ؛ قَالَ: شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ الرَّجُلُ يَجِدُ الشَّيْئَ فِي الصَّلاةِ، فَقَالَ: < لا، حَتَّى يَجِدَ رِيحًا، أَوْ يَسْمَعَ صَوْتًا >۔
* تخريج: خ/الوضوء ۴ (۱۳۷)، ۳۴ (۱۷۷)، البیوع ۵ (۲۰۵۶)، م/الحیض ۲۶ (۳۶۱)، د/الطہارۃ ۶۸ (۱۷۶)، ن/الطہارۃ ۱۱۵ (۱۶۰)، (تحفۃ الأشراف: ۵۲۹۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۹، ۴۰) (صحیح)

۵۱۳- عباد بن تمیم کے چچا عبد اللہ بن زید بن عاصم انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس اس شخص کا معاملہ لے جایا گیا جس نے صلاۃ میں (حدث کا) شبہ محسوس کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ''نہیں، شک وشبہ سے وضو نہیں ٹوٹتا جب تک کہ وہ گوز کی آواز نہ سن لے، یا بو نہ محسوس کرے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: بعض لوگ شبہات کا شکار ہو جاتے ہیں، اور اکثر شیطان ان کو صلاۃ میں وہم دلاتا رہتا ہے، یہ حکم ان کے لئے ہے۔

514- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ؛ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ ﷺ عَنِ التَّشَبُّهِ فِي الصَّلاةِ، فَقَالَ: < لا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۴۸، ومصباح الزجاجۃ: ۲۱۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۹۶) (صحیح)
(اس سند میں ضعف ہے، اس لئے کہ محاربی کا معمر سے سماع ثابت نہیں ہے، نیز وہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، زہری کے حفاظ تلامذہ نے اس حدیث کو زہری عن ابن المسیب عن عبد اللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، جو صحیحین اور سنن ابی داود، و نسائی میں ہے، ملاحظہ ہو: (۵۱۳) اس سابقہ حدیث سے تقویت پا کر اصل حدیث صحیح ہے، نیز ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث دوسرے طریق سے مسند احمد میں بھی ہے، (۳/۳۷)
۵۱۴- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے صلاۃ میں حدث کا شبہ ہو جانے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''جب تک کہ آواز نہ سن لے یا بو نہ محسوس کرلے صلاۃ نہ توڑے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: مطلب یہ ہے کہ جب ہوا کے خارج ہونے کا یقین ہو جائے، تب صلاۃ توڑے، اور جا کر وضو کرے محض شک اور وہم کی بناء پر نہیں۔

515- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،(ح) وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُالرَّحْمَنِ قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا وُضُوءَ إِلا مِنْ صَوْتٍ أَوْ رِيحٍ >۔
* تخريج: ت/الطہارۃ ۵۶ (۷۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۶۸۳)، وقد أخرجہ: م/الحیض ۲۶ (۳۶۲)، د/الطہارۃ ۶۸ (۱۷۷)، حم (۲/۴۱۰، ۴۳۵) (صحیح)

۵۱۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بغیر آواز یا بو کے وضو واجب نہیں ہے'' ۔

516- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِالْعَزِيزِ ابْنِ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ قَالَ : رَأَيْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ يَشُمُّ ثَوْبَهُ، فَقُلْتُ: مِمَّ ذَلِكَ ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < لا وُضُوئَ إِلا مِنْ رِيحٍ أَوْ سَمَاعٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۷۹۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۲۶) (صحیح)
(سند میں عبد العزیز بن عبید اللہ الأحمصی ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ شواہد سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)
۵۱۶- محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ میں نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہما کو اپنا کپڑا سونگھتے دیکھا، میں نے پوچھا: اس کا سبب کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: ''بغیر بو سونگھے یا آواز سنے وضو واجب نہیں ہے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یہ سب روایتیں شک کی صورت پر محمول ہیں کہ جب ہوا خارج ہو نے میں شک ہو تو شک سے وضو باطل نہیں ہوتا، ہاں اگر یقین ہو جائے تو وضو باطل ہو جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
75- بَاب مِقْدَارِ الْمَاءِ الَّذِي لا يُنَجَّسُ
۷۵- باب: پانی کی وہ مقدار جس میں نجاست پڑنے سے پانی نجس نہیں ہوتا​

517- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ سُئِلَ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ بِالْفَلاةِ مِنَ الأَرْضِ، وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذَا بَلَغَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْئٌ >.
* تخريج: د/الطہارۃ ۳۳ (۶۴)، ت/الطہارۃ ۵۰ (۶۷)، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۰۵)، وقد أخرجہ: ن/الطہارۃ ۴۴ (۵۲)، دي/الطہارۃ ۵۴ (۷۵۸) (صحیح)

۵۱۷- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے صحراء اور میدان میں واقع ان گڈھوں کے پانی کے بارے میں پوچھا گیا جن سے مویشی اور درندے پانی پیتے رہتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''جب پانی دو قلہ (دو بڑے مٹکے کے برابر) ہو تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اگر پانی دو قلہ سے زیادہ ہو گا تو بدرجہ اولی ناپاک نہ ہو گا، اور اگر اس کا رنگ، بو، یا مزہ یا ان میں سے کوئی کسی ناپاک چیز کے پڑنے سے بدل جائے، تو ناپاک ہو جائے گا، دو قلہ کا اندازہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے حجۃ اللہ البالغہ میں یہ بیان کیا ہے کہ کسی ایسے حوض میں کہ جس کی زمین برابر ہوا گر پانی جمع کریں تو تقریباً سات بالشت لمبا اور پانچ بالشت چوڑا ہو گا، اور یہ ادنیٰ درجہ ہے حوض کا اور اعلیٰ درجہ ہے برتنوں کا، عرب میں اس سے بڑا برتن نہیں ہوتا تھا۔
''قلہ'': کے معنی مٹکے کے ہیں یہاں مراد ہجر کے مٹکے ہیں کیونکہ عرب میں یہی مٹکے مشہور تھے، اس میں ڈھائی سو رطل پانی سمانے کی گنجائش ہوتی تھی، اس اعتبار سے دو قلوں کے پانی کی مقدار پانچ سو رطل ہوئی، جو موجودہ زمانے کے پیمانے کے مطابق دو سو ستائیس گلوگرام (۲۲۷) بنتی ہے۔

517- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، نَحْوَهُ۔
۵۱۷- اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔

518- حَدّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا، لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْئٌ>.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۰۵، ومصباح الزجاجۃ: ۲۱۵) (صحیح)
(''أو ثلاثاً'' کا لفظ صرف اس روایت میں ہے، اصحاب حماد نے اس کے بغیر روایت کی ہے کما تقدم)
۵۱۸- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب پانی دو یا تین قلہ ہو تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی''۔

[ز] 518/أ- قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، وَأَبُوسَلَمَةَ، وَابْنُ عَائِشَةَ الْقُرَشِيُّ ؛ قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
۵۱۸/أ- اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
76- بَاب الْحِيَاضِ
۷۶- باب: حوض اور تالاب کا بیان​

519- حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ سُئِلَ عَنِ الْحِيَاضِ الَّتِي بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، تَرِدُهَا السِّبَاعُ وَالْكِلابُ وَالْحُمُرُ، وَعَنِ الطَّهَارَةِ مِنْهَا؟ فَقَالَ: < لَهَا مَا حَمَلَتْ فِي بُطُونِهَا، وَلَنَا مَا غَبَرَ، طَهُورٌ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۱۸۶، ومصباح الزجاجۃ: ۲۱۶) (ضعیف)
(عبد الرحمن بن زید ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۱۶۰۹)
۵۱۹- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان جو حوض و تالاب واقع ہیں، اور ان پر درندے، کتے اور گدھے پانی پینے آتے ہیں، تو ایسے حوضوں و تالابوں کا اور ان کے پانی سے طہارت حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''جو کچھ انہوں نے اپنی تہ میں سمیٹ لیا، وہ ان کا حصہ ہے، اور جو پانی حوض (تالاب) میں بچا، وہ ہمارے لئے پاک کرنے والا ہے''۔

520 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ طَرِيفِ ابْنِ شِهَابٍ؛ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: انْتَهَيْنَا إِلَى غَدِيرٍ، فَإِذَا فِيهِ جِيفَةُ حِمَارٍ، قَالَ فَكَفَفْنَا عَنْهُ، حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: < إِنَّ الْمَاءَ لايُنَجِّسُهُ شَيْئٌ > فَاسْتَقَيْنَا وَأَرْوَيْنَا وَحَمَلْنَا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۱۴) (صحیح)
(سند میں طریف بن شہاب اور شریک القاضی ضعیف ہیں، اس لئے یہ اسناد ضعیف ہے، اور ''جیفہ حمار'' کا قصہ صحیح نہیں ہے، لیکن بقیہ مرفوع حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ۱۴، وصحیح ابی داود: ۵۹)
۵۲۰- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک تالاب پر پہنچے تو دیکھا کہ اس میں ایک گدھے کی لاش پڑی ہوئی ہے ہم اس (کے استعمال) سے رک گئے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس پہنچے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی'' (یہ سنا) تو ہم نے پیا پلایا، اور پانی بھر کر لاد لیا۔

521- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيَّانِ، قَالا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ، أَنْبَأَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ الْمَاءَ لا يُنَجِّسُهُ شَيْئٌ، إِلا مَا غَلَبَ عَلَى رِيحِهِ وَطَعْمِهِ وَلَوْنِهِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۶۰، ومصباح الزجاجۃ: ۲۱۸) (ضعیف)
(رشدین اور راشد بن سعد دونوں ضعیف ہیں، یہ حدیث صحیح نہیں ہے، لیکن علماء کا اس کے عمل پر اجماع ہے، یعنی اگر نجاست پڑنے سے پانی میں تبدیلی پیدا ہو جائے تو وہ پانی نجس ہے)
۵۲۱- ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ''پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی مگرجو چیز اس کی بو، مزہ اور رنگ پر غالب آجائے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: نجاست پڑنے کے بعد اگر پانی میں بو، رنگ اور مزہ کی تبدیلی ہو جائے تو وہ پانی کم ہو یا زیادہ نجس و ناپاک ہو جائے گا، اس پر علماء کا اجماع ہے کما تقدم۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
77- بَاب مَا جَاءَ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ الَّذِي لَمْ يُطْعَمْ
۷۷- باب: کھانا نہ کھانے والے بچے کے پیشاب کا حکم​

522- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ قَابُوسَ ابْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ لُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ؛ قَالَتْ: بَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ ﷺ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَعْطِنِي ثَوْبَكَ وَالْبَسْ ثَوْبًا غَيْرَهُ، فَقَالَ: < إِنَّمَا يُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الذَّكَرِ، وَيُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الأُنْثَى >۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۱۳۷(۳۷۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۵۵)، ویأتی عند المؤلف في تعبیر الرؤیا (۳۹۲۳) (حسن صحیح)

۵۲۲- لبابہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم ﷺ کی گود میں پیشاب کر دیا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے اپنا کپڑا دے دیجیے اور دوسرا کپڑا پہن لیجیے (تاکہ میں اسے دھو دوں)، آپ ﷺ نے فرمایا: ''بچے کے پیشاب پہ پانی چھڑکا جاتا ہے، اور بچی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: ابو داود کی ایک روایت میں ''مالم يطعم'' (جب تک وہ کھانا نہ کھانے لگے) کی قید ہے، اس لئے جو روایتیں مطلق ہیں مقید پر محمول کی جائیں گی، مؤلف نے ترجمۃ الباب میں ''الصبى الذي لم يطعم'' کہہ کر اسی جانب اشارہ کیا ہے۔

523- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ؛ قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ ﷺ بِصَبِيٍّ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَأَتْبَعَهُ الْمَاءَ، وَلَمْ يَغْسِلْهُ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۲۸۴، ومصباح الزجاجۃ: ۲۱۹)، وقد أخرجہ: خ/الوضوء ۹۵ (۲۲۲)، العقیقۃ ۱ (۵۴۶۸)، الأدب ۲۱ (۶۰۰۲)، الدعوات ۳۰ (۶۳۵۵)، م/الطہارۃ ۳۱ (۲۸۶)، ن/الطہارۃ ۱۸۹(۳۰۴)، ط /الطہارۃ ۳۰ (۱۰۹)، حم (۶/۵۲، ۲۱۰، ۲۱۲) (صحیح)

۵۲۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک بچہ لایا گیا، اس نے آپ کے اوپر پیشاب کر دیا، آپ نے اس پر صرف پانی بہا لیا، اور اسے دھویا نہیں۔

524- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ؛ قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ؛ قَالَتْ: دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ، فَرَشَّ عَلَيْهِ۔
* تخريج:خ/الوضوء ۵۹ (۲۲۳)، الطب ۱۰(۵۶۹۳)، م/الطہارۃ ۳۱ (۲۸۷)، د/الطہارۃ ۱۳۷(۳۷۴)، ت/ الطہارۃ ۵۴ (۷۱)، ن/الطہارۃ ۱۸۹ (۳۰۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۳۴۲)، وقد أخرجہ: ط/الطہارۃ ۳۰ (۱۱۰)، حم (۶/۳۵۵، ۳۵۶)، دي /الطہارۃ ۵۳ (۷۶۸) (صحیح)

۵۲۴- ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنے ایک شیر خوار بچے کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے آپ کے اوپر پیشاب کر دیا، آپ نے پانی منگوا کر اس پر چھڑک دیا۔

525- حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ؛ قَالا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ِشَامٍ، أَنْبَأَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ؛ أنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ، فِي بَوْلِ الرَّضِيعِ < يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلامِ، وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ >.
* تخريج: د/الطہارۃ ۱۳۷ (۳۷۷)، ت/الطھارۃ ۵۴ (۶۱۰)، الصلاۃ ۴۳۰ (۶۱۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۳۱)، وقد أخرجہ: حم (۱/۹۷) (صحیح)

۵۲۵- علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے شیر خوار بچے کے پیشاب کے بارے میں فرمایا: ''بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جائے، اور بچی کا پیشاب دھویا جائے''۔

[ز] 525/أ - قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ مَعْقِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْمِصْرِيُّ قَالَ: سَأَلْتُ الشَّافِعِيَّ عَنْ حَدِيثِ النَّبِيِّ ﷺ < يُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلامِ، وَيُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ > وَالْمَائَانِ جَمِيعًا وَاحِدٌ، قَالَ: لأَنَّ بَوْلَ الْغُلامِ مِنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ، وَبَوْلَ الْجَارِيَةِ مِنَ اللَّحْمِ وَالدَّمِ، ثُمَّ قَالَ لِي: فَهِمْتَ؟ أَوْ قَالَ: لَقِنْتَ؟ قَالَ، قُلْتُ: لا ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمَّا خَلَقَ آدَمَ خُلِقَتْ حَوَّاءُ مِنْ ضِلْعِهِ الْقَصِيرِ، فَصَارَ بَوْلُ الْغُلامِ مِنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ، وَصَارَ بَوْلُ الْجَارِيَةِ مِنَ اللَّحْمِ وَالدَّمِ، قَالَ: قَالَ لِي: فَهِمْتَ ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ لِي: نَفَعَكَ اللَّهُ بِهِ۔ (مصباح الزجاجۃ : ۲۱۹)[/arb]
۵۲۵ /أ - ابو الیمان مصری کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی سے نبی اکرم ﷺ کی اس حدیث ''يرش من الغلام، ويغسل من بول الجارية '' بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جائے اور بچی کا پیشاب دھویا جائے کے متعلق پوچھا کہ دونوں میں فرق کی کیا وجہ ہے جب کہ پیشاب ہونے میں دونوں برابر ہیں؟ تو امام شافعی نے جواب دیا: لڑکے کا پیشاب پانی اور مٹی سے بنا ہے، اور لڑکی کا پیشاب گوشت اور خون سے ہے، اس کے بعد مجھ سے کہا: کچھ سمجھے؟ میں نے جواب دیا: نہیں، انہوں نے کہا: جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا، تو ان کی چھوٹی پسلی سے حوا پیدا کی گئیں، تو بچے کا پیشاب پانی اور مٹی سے ہوا، اور بچی کا پیشاب خون اور گوشت سے، پھر مجھ سے پوچھا: سمجھے؟ میں نے کہا: ہاں، اس پر انہوں نے مجھ سے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے نفع بخشے۔

526- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْعَظِيمِ؛ قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو السَّمْحِ؛ قَالَ: كُنْتُ خَادِمَ النَّبِيِّ ﷺ فَجِيئَ بِالْحَسَنِ أَوِ الْحُسَيْنِ، فَبَالَ عَلَى صَدْرِهِ، فَأَرَادُوا أَنْ يَغْسِلُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < رُشَّهُ، فَإِنَّهُ يُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ، وَيُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلامِ >۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۱۳۷ (۳۷۶)، ن/الطہارۃ ۱۹۰(۳۰۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۵۱، ۱۲۰۵۲) (صحیح)

۵۲۶- ابو سمح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کا خادم تھا، آپ کے پاس حسن یا حسین کو لایا گیا، انہوں نے آپ ﷺ کے سینے پر پیشاب کر دیا، لوگوں نے اسے دھونا چاہا، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس پر پانی چھڑک دو، اس لئے کہ بچی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جاتا ہے''۔

527- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيّ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < بَوْلُ الْغُلامِ يُنْضَحُ، وَبَوْلُ الْجَارِيَةِ يُغْسَلُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۳۵۰، ومصباح الزجاجۃ: ۲۲۰)، وقد أخرجہ: حم (۶/ ۴۲۲، ۴۴۰، ۴۶۴) (صحیح)
(اس سند میں انقطاع ہے اس لئے کہ عمرو بن شعیب کا ام کرز سے سماع نہیں ہے، لیکن سابقہ حدیث اور دوسرے شواہد سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)
۵۲۷- ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جائے، اور بچی کا پیشاب دھویا جائے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ لڑکے اور لڑکی کے پیشاب میں شریعت نے فرق رکھا ہے، اس کو روکنے کے لئے طرح طرح کی تاویلات فاسدہ کرنا محض تعصب بے جا کی کرشمہ سازی ہے، مسلمان کو اس کے رسول کا فرمان کافی ہے، اس کے سامنے اسے کسی دوسری طرف نہیں دیکھنا چاہئے۔
 
Top