T.K.H
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 05، 2013
- پیغامات
- 1,129
- ری ایکشن اسکور
- 335
- پوائنٹ
- 156
یہ وہی لوگ ہیں جو آپ کی روایت پرستی سے دل برداشتہ ہو گئے تھے ۔اہل ِ حدیث کی روایت پرستی کو چھوڑ کر وہ ادھر ہی جانا پسند کرتے ہیں۔یہ کون سے نیے لوگوں کا زکر کردیا ہے
یہ وہی لوگ ہیں جو آپ کی روایت پرستی سے دل برداشتہ ہو گئے تھے ۔اہل ِ حدیث کی روایت پرستی کو چھوڑ کر وہ ادھر ہی جانا پسند کرتے ہیں۔یہ کون سے نیے لوگوں کا زکر کردیا ہے
ان کے نام تو بتایں پلیزیہ وہی لوگ ہیں جو آپ کی روایت پرستی سے دل برداشتہ ہو گئے تھے ۔اہل ِ حدیث کی روایت پرستی کو چھوڑ کر وہ ادھر ہی جانا پسند کرتے ہیں۔
بھئی میں تو صحیح بخاری پڑھانے والوں کی جوتیاں اٹھانے والا ہوں ،اسحاق سلفی نے کہا ہے: ↑
یہ اصول کس نے وضع کیا ؟آ پ ہی پیش فرما دیں کیونکہ آپ تو ”اہلِ حدیث“ ہیں !!
تین جھوٹ والی روایت تو لکھیں ،پھر واضح کر کے بتائیں اس کی کون سی بات خلاف قرآن ہے ؟
میرا چیلنج ہے آپ صحیح بخاری کی ایسی کوئی حدیث مرفوع نہیں دکھا سکتے جو خلاف قرآن ہو ۔
اور یاد آپ نے ابھی تک میری پہلی سوالیہ پوسٹ کا جواب نہیں دیا ۔
Click to expand...
اسی بناء پر حضرت ابراہیم ؑ سے متعلق تین جھوٹ والی روایات صحیح نہیں ہیں۔
میرے محترم ! ایمان داری سے بتائیں کہ آپ نے ”منکرینِ حدیث“ کے لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے ؟بھئی میں تو صحیح بخاری پڑھانے والوں کی جوتیاں اٹھانے والا ہوں ،
بھلا میں صحیح بخاری کی احادیث ،،کے خلاف کچھ کہوں گا ؟
آپ سے گزارش ہے کہ حسب دعوی آپ صحیح بخاری کی خلاف ِقرآن دو احادیث پیش کریں
میں نے منکر احادیث کی علامات۔زکر کی ہیں۔ان پر غور کریںمیرے محترم ! ایمان داری سے بتائیں کہ آپ نے ”منکرینِ حدیث“ کے لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے ؟
وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا ﴿٤١﴾ابراہیم علیہ السلام کے تین جھوٹ
اعتراض نمبر23
مصنف اپنی کتاب کے صفحہ 62پرلکھتا ہے :
لیکن بخاری صاحب خلیل اللہ علیہ السلام کو جھوٹ بولنے والا نبی روایت کررہا ہے ۔''لم یکذب ابراھیم الاثلث کذبات ''(بخاری 761/2)اوراس صحیح حدیث کو راویوں کا جھوٹ گردانا ہے اور قرآن کے خلاف ظاہر کرکے اسے رد کرنے کی ناپاک جسارت کی ہے ۔
جواب :۔
حدیث کے الفاظ تو مصنف کو جھوٹ معلوم ہوئے اور اس حدیث پرپرزوررد کی کوشش کی ہے جو کہ محل نظر ہے ۔اگر مصنف قرآن کریم کا مطالعہ کرتا تو وہ بخوبی اس مسئلے کو سمجھ جاتا ۔جس جھوٹ کا ذکر نبی کریم ﷺ کی حدیث میں ہے اس کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
وَتَاللّٰہِ لَأَکِیْدَنَّ أَصْنَامَکُمْ بَعْدَ أَن تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ فَجَعَلَہُمْ جُذَاذاً إِلا کَبِیْرًا لَّہمْ لَعَلَّہُمْ إِلَیْْہِ یَرْجِعُونَ (الانبیاء 57-58/21)
''اور اللہ کی قسم میں ضرور تمہارے بتوں کے ساتھ چال چلوں گا تمہارے پیٹھ پھیرکر چلے جانے کے بعد ۔ پس ٹکڑ ے ٹکڑے کرڈالے ان بتوں کو سوائے بڑے بت کے تاکہ وہ اس کی طرف لوٹیں'' ۔
پھر جب وہ مشرکین بت خانہ میں آئے تو بہت برہم ہوئے اور پوچھا :
' قَالُوْآ َٔأَنْتَ فَعَلْتَ ہَذَا بِآلِہَتِنَا یَا إِبْرَاہِیْمُoقَالَ بَلْ فَعَلَہُ کَبِیْرُہُمْ ہَذَا فَاسْأَلُوہُمْ إِن کَانُوا یَنطِقُوْنَ (الانبیاء 62-63/21)
''اے ابراہیم کیا ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت تم نے کی ہے ؟ابراہیم نے جواب دیا نہیں بلکہ یہ کام اس بڑے بت نے کیا ہے ان بتوں ہی سے پوچھو اگر یہ بولتے ہیں ''۔
قارئین کرام یہ قرآن مجید کی آیت آپ کے سامنے ہیں اب آپ بتائیں بت توڑے ابراہیم علیہ السلام نے اور الزام ٹھہرایا بڑے بت پر کیا یہ جھوٹ نہیں ؟اگر نہیں تو پھر جھوٹ کیا ہے ؟ اورجھوٹ کس چیز کا نام ہے ؟
لہٰذا مصنف قرآن کریم کی آیت کا جواب دے وگرنہ حدیث کو قبول کرے ۔
http://forum.mohaddis.com/threads/ابراہیم-علیہ-السلام-کے-تین-جھوٹ-.22852/
آپ میرے مطالعہ کو چھوڑیں ۔اور موضوع پر رہیں ۔۔۔موضوع پر بات کریں میرا مطالعہ خود سامنے آئے گا ۔میرے محترم ! ایمان داری سے بتائیں کہ آپ نے ”منکرینِ حدیث“ کے لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے ؟