• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی حدیث دوستی

تلمیذ

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 12، 2011
پیغامات
765
ری ایکشن اسکور
1,506
پوائنٹ
191
عزیز بھائی تلمیذ کیا ثابت کرنا ہے۔اور کیا نہیں کرنا اور امام صاحب حدیث کو دیکھ کر کیا کرتے تھے اور کیا نہیں کرتے تھے۔امام صاحب اس دنیا سے چل بسے اللہ تعالیٰ ان کی تمام انسان ہونے کے ناطے سرزد ہونے والے وہ اعمال جن پر رب کریم سزا دیتے ہیں۔معاف فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے۔آمین
محترم بھائی اس بات کے علاوہ جو اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ کیا احناف حدیث کو جانتے بوجھتے ہوئے بھی حدیث کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں؟ کیا حنفی ودیوبندی وبریلوی وغیرہ بھی تقلید کے بجائے صحیح حدیث پر عمل کو ترجیح دیتے ہیں یا پھر تقلید پر ہی مر مٹتے ہیں۔
یہ ہے وہ سوال جس پر بات کی جائے۔اب آپ مجھے بتائیں کہ احناف کا عمل کیا ہے۔قرآن وحدیث پر عمل یا بس تقلید آنکھیں بند کرکے؟[/QUOTE
بھائی موضوع ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ صحیح حدیث پانے کے بعد اپنی رائے سے رد کرتے تھے یا حدیث کو قبول کرتے تھے ۔
دعوے تو یہ ہوئے کہ ابو حنیفہ صحیح حدیث کو رد کرکے اپنی رائے پر چلتے تھے لیکن ثابت کچھ نہ ہوا
باقی جہاں تک احناف کے متعلق سوال ہے اس کے لئیے الگ تھریڈ شروع کریں ۔ یہاں جو موضوع ہے اس پر کچھ بات کرسکتے ہیں ثابت کریں ورنا بات کو مت الجھائیں
 

گڈمسلم

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 10، 2011
پیغامات
1,407
ری ایکشن اسکور
4,918
پوائنٹ
292
بھائی موضوع ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ صحیح حدیث پانے کے بعد اپنی رائے سے رد کرتے تھے یا حدیث کو قبول کرتے تھے ۔
آپ اس بارے کیا کہتے ہیں کہ وہ کیا کرتے تھے ؟
باقی جہاں تک احناف کے متعلق سوال ہے اس کے لئیے الگ تھریڈ شروع کریں ۔ یہاں جو موضوع ہے اس پر کچھ بات کرسکتے ہیں ثابت کریں ورنا بات کو مت الجھائیں
جی بھائی اس عنوان سے تھریڈ پوسٹ کردیا ہے۔
 

تلمیذ

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 12، 2011
پیغامات
765
ری ایکشن اسکور
1,506
پوائنٹ
191
آپ اس بارے کیا کہتے ہیں کہ وہ کیا کرتے تھے ؟

جی بھائی اس عنوان سے تھریڈ پوسٹ کردیا ہے۔
آپ کے نئے تھریڈ پر جواب دے دیا گيا ہے ۔ اب میری طرف سے یہ تھریڈ کلوز ہے ۔ جہاں امام ابو حنیفہ کے خلاف ایک الزام لگايا گيا اور ثابت نہ کیا جاسکا ۔
 

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
2,024
ری ایکشن اسکور
6,267
پوائنٹ
437
اب میری طرف سے یہ تھریڈ کلوز ہے ۔ جہاں امام ابو حنیفہ کے خلاف ایک الزام لگايا گيا اور ثابت نہ کیا جاسکا ۔
واہ کیا بات ہے! تلمیذ صاحب تو جاگتے میں خواب دیکھ رہے ہیں اور خواب میں بھی انہیں جھوٹ نظر آرہا ہے۔
مقلدین کی کثرت سے جھوٹ بولنے کی عادت سے قطع نظر ہم نے دعویٰ کیا کہ ابوحنیفہ اپنی رائے کو احادیث پر مقدم رکھتے تھے یا یوں کہیں کہ احادیث کو اپنی رائے کے سامنے ٹھکرا دیتے تھے۔ اس دعویٰ کو ہم نے صحیح روایات سے ثابت کردیا لیکن تلمیذ صاحب ہماری پیش کردہ دلیل کو کمزور یا ضعیف ثابت نہیں کر پائے۔لیکن اب شور مچارہے ہیں کہ کچھ بھی ثابت نہیں ہوا۔ اگر کوئی شخص جھوٹ بولنے کا تہیہ کرلے اور جھوٹ ہی کا اپنا دین اور ایمان بنا لے تو ہم کیا کرسکتے ہیں؟

تلمیذ صاحب کے ایک سفید جھوٹ کی جھلک

میں نے جو دعویٰ کیا تھا اور جس پر بحث ہوتی رہی وہ یہ تھا:
دعویٰ کا تحریری وجود نہیں ہے تو کیا ہوا بحث تو اسی موضوع پر ہورہی ہے۔ لیجئے دعویٰ ایک مرتبہ پھر پیش خدمت ہے: کلیم حیدر بھائی نے ایک روایت پیش کی جس کی بنیاد پر دعویٰ کیا گیا کہ ابوحنیفہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے اپنی رائے کو چھوڑ دیتے تھے۔ (اگرچہ کلیم حیدر بھائی کا یہ دعویٰ ابھی محل نظر ہے کیونکہ رفیق طاہر حفظہ اللہ نے اس پر ایک مضبوط اعتراض قائم کردیا ہے)۔ اس پر میں نے جواباً کہا کہ تصویر کا دوسرا اور حقیقی رخ بھی لوگوں کو بتائیں اور وہ یہ ہے کہ صحیح روایات سے ثابت ہے کہ ابوحنیفہ اپنی رائے کے بالمقابل آنے والی احادیث کو رد کردیتے تھے۔
اسی دعویٰ کو خود تلمیذ صاحب نے بھی دھرایا۔دیکھئے:
دعوی تو یہ تھا امام ابوحنیفہ حدیث رسول کر ٹھکرا کر اپنے قول پر فتوی دیتے تھے
لیکن بعد میں تلمیذ صاحب نے کذب بیانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس دعویٰ کو یوں تبدیل کردیا:
بھائی موضوع ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ صحیح حدیث پانے کے بعد اپنی رائے سے رد کرتے تھے یا حدیث کو قبول کرتے تھے ۔
دعوے تو یہ ہوئے کہ ابو حنیفہ صحیح حدیث کو رد کرکے اپنی رائے پر چلتے تھے لیکن ثابت کچھ نہ ہوا اور اب تھریڈ کو دوسری طرف موڑ دیا گيا ہے ۔
اگر کسی کے پاس دلائل ہیں تو پیش کرے ورنہ دوسرے موضوعات اس تھریڈ پر نہ شروع کریں
بھائی موضوع ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ صحیح حدیث پانے کے بعد اپنی رائے سے رد کرتے تھے یا حدیث کو قبول کرتے تھے ۔
دعوے تو یہ ہوئے کہ ابو حنیفہ صحیح حدیث کو رد کرکے اپنی رائے پر چلتے تھے لیکن ثابت کچھ نہ ہوا
باقی جہاں تک احناف کے متعلق سوال ہے اس کے لئیے الگ تھریڈ شروع کریں ۔ یہاں جو موضوع ہے اس پر کچھ بات کرسکتے ہیں ثابت کریں ورنا بات کو مت الجھائیں
اس موضوع کو شروع سے پڑھ کر دیکھا جاسکتا ہے کہ ہم نے اپنے موضوع یا دعویٰ کو ثابت کردیا ہے لیکن تلمیذ صاحب نے ہمارے دعویٰ میں ترمیم اس لئے کی کہ انہیں یہ بھی ثابت کرکے دیا جائے کہ ابوحنیفہ نے جن احادیث کو ٹھکرایا ہے وہ خود امام صاحب کے نزدیک بھی صحیح تھیں اور وہ یقینی علم رکھتے تھے کہ وہ صحیح احادیث کا انکار کرہے ہیں۔ تاکہ یہ کہا جاسکے کہ ابوحنیفہ نے تو اپنے نزدیک ضعیف یا موضوع حدیث کو ٹھکرایا ہے جو نہ تو بری بات ہے اور نہ ہی احادیث کی توہین۔ حالانکہ تلمیذ صاحب کا یہ مطالبہ انتہائی بچکانہ اورمضحکہ خیز تھا بلکہ اصل موضوع سے فرار کی ایک بھونڈی کوشش تھا۔ لیکن اللہ کے فضل سے ہم نے اس بھونڈے مطالبے کو بھی پورا کردیا۔ دیکھئے:
مفتی تقی عثمانی لکھتے ہیں: بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک حدیث امام ابوحنیفہ کو صحیح سند کے ساتھ پہنچی جس پر انھوں نے عمل کیا، لیکن ان کے بعد کے راویوں میں سے کوئی راوی ضعیف آگیا، اس لئے بعد کے ائمہ نے اسے چھوڑ دیا، لہذٰا امام ابوحنیفہ پر کوئی الزام عائد نہیں کیا جاسکتا۔(تقلید کی شرعی حیثیت، صفحہ ١٤٤)
پس اس دیوبندی حوالے سے ثابت ہوا کہ امام صاحب تک پہنچنے والی احادیث صحت کے اعتبار سے صحیح تھیں۔اسکا مطلب یہ ہے کہ ابوحنیفہ نے جتنی احادیث کو ٹھکرایا ہے وہ انکے نزدیک بھی صحیح تھیں۔
الحمداللہ اب ہر طرح سے ہمارا یہ دعویٰ ثابت ہوگیا کہ ابوحنیفہ اپنے رائے کے مقابلے میں احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھکرا دیتے تھے۔
 

تلمیذ

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 12، 2011
پیغامات
765
ری ایکشن اسکور
1,506
پوائنٹ
191
واہ کیا بات ہے! تلمیذ صاحب تو جاگتے میں خواب دیکھ رہے ہیں اور خواب میں بھی انہیں جھوٹ نظر آرہا ہے۔
مقلدین کی کثرت سے جھوٹ بولنے کی عادت سے قطع نظر ہم نے دعویٰ کیا کہ ابوحنیفہ اپنی رائے کو احادیث پر مقدم رکھتے تھے یا یوں کہیں کہ احادیث کو اپنی رائے کے سامنے ٹھکرا دیتے تھے۔ اس دعویٰ کو ہم نے صحیح روایات سے ثابت کردیا لیکن تلمیذ صاحب ہماری پیش کردہ دلیل کو کمزور یا ضعیف ثابت نہیں کر پائے۔لیکن اب شور مچارہے ہیں کہ کچھ بھی ثابت نہیں ہوا۔ اگر کوئی شخص جھوٹ بولنے کا تہیہ کرلے اور جھوٹ ہی کا اپنا دین اور ایمان بنا لے تو ہم کیا کرسکتے ہیں؟
بچے عید پر مختلف رنگ کے چشمے لگاتے ہیں ۔ اور جس رنگ کا چشمہ ہوتا ہے اسی رنگ کا ماحول نظر آتا ہے ۔ جب آنکھوں پر تعصب اور فریب کا لینس لگا ہوا ہو تو سچی بات بھی جھوٹ لگتی ہے ۔

تلمیذ صاحب کے ایک سفید جھوٹ کی جھلک
کلیم حیدر بھائی نے ایک روایت پیش کی جس کی بنیاد پر دعویٰ کیا گیا کہ ابوحنیفہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے اپنی رائے کو چھوڑ دیتے تھے۔
آگے چل کر شاہد نذیر صاحب نے دعوی کیا
تصویر کا دوسرا اور حقیقی رخ بھی لوگوں کو بتائیں اور وہ یہ ہے کہ صحیح روایات سے ثابت ہے کہ ابوحنیفہ اپنی رائے کے بالمقابل آنے والی احادیث کو رد کردیتے تھے۔
جس پر میں نے کچھ بات شاہد نذیر کے دعوی کے متعلق کہی اور کچھ بات موضوع کے متعلق (موضوع سے مراد کلیم حیدر صاحب کی پیش کردہ روایت تھی اور دعوی سے مراد شاہد نذیر صاحب کا کھوکھلا دعوی )
اب بات شاہد نذیر صاحب نے بات دعوی کی ہے اور میرے موضوع سے متعلق بات کو ملون کیا ۔
دھوکہ دہی کہاں ہے یہ ہر عاقل بالغ سمجھ سکتا ہے

شاہد نذیر صاحب نے یہ حوالہ دیا

مفتی تقی عثمانی لکھتے ہیں: بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک حدیث امام ابوحنیفہ کو صحیح سند کے ساتھ پہنچی جس پر انھوں نے عمل کیا، لیکن ان کے بعد کے راویوں میں سے کوئی راوی ضعیف آگیا، اس لئے بعد کے ائمہ نے اسے چھوڑ دیا، لہذٰا امام ابوحنیفہ پر کوئی الزام عائد نہیں کیا جاسکتا۔(تقلید کی شرعی حیثیت، صفحہ ١٤٤)
اور یہ نتیجہ اخذ کیا
پس اس دیوبندی حوالے سے ثابت ہوا کہ امام صاحب تک پہنچنے والی احادیث صحت کے اعتبار سے صحیح تھیں
محترم تقی عثمانی صاحب ایک حدیث کا لفظ استعمال کر رہیں ہیں اور وہ بھی بطور مثال اور شاہد نذیر صاحب کہ رہے ہیں احادیث ، یعنی امام ابو حنیفہ تک کوئی ضعیف حدیث نہیں پہنچی ۔
فیصلہ آپ کا
 
شمولیت
نومبر 15، 2025
پیغامات
1
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
2
میں نے ایک اصولی اور جائز بات کی ہے کہ بھلا ایک مقلد کیسے صحیح سند کا مطالبہ کرسکتا ہے؟ ۔آپ کو ایسے مطالبے کرنے سے پہلے سوچ لینا چاہیے
مقلدوں کے لئے انتہائی تشویشناک اور قابل غور بات ہے کہ امام ابوحنیفہ کی محدیثین کی نظر میں حیثیت ایک مجروح اور ضعیف راوی کی ہے۔ ایسی صورت میں تو مقلدوں کی جانب سے ابوحنیفہ کو دئے گئے القابات جیسے امام اعظم، محدث، مجتہداعظم، فقیہ وغیرہ خودبخود ہی بے وقعت محسوس ہونے لگتے ہیں۔

اپنی یہ بات آپ خود ہی ذہن نشین کرلیں کیونکہ محدیثین نے امام صاحب کو گمراہ قرار دیا ہے بلکہ ان کی گمراہی پر اجماع کیا ہے۔ اب چاہیں آپ تربوز کو آم کہیں یا آم کو تربوز کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔امام ابوحنیفہ کے بارے میں محدیثین کرام نے واضح موقف بیان کردیا ہے اب مقلدین کے جھوٹے واویلے سے امام صاحب حق پر ثابت نہیں ہوسکتے۔تیر کمان سے نکل چکا ہے۔

میں نے وضاحت کردی تھی کہ پوسٹ کی عبارت میں نے خود ختم کی ہے۔ اور اس لئے نہیں کہ بے تکی تھی اور اس کو ثابت نہیں کیا جاسکتا تھا۔ امام صاحب سے متعلق کوئی ایسی چیز جسے واقعی ثابت نہیں کیا جاسکتا وہ ان کی ثقاہت ہے۔باقی ہم نے تو اپنا دعویٰ ثابت کردیا ہے۔ملاحظہ فرمالیں: حالات ابوحنیفہ صحیح روایات کی روشنی میں
تنبیہ: یہاں روایات کے اصل متن کے ساتھ اسناد بھی ذکر کردی گئیں ہیں اور روای کے نام پر کلک کرنے سے اس کے حالات بھی معلوم کئے جاسکتے ہیں۔


جب بھی ابوحنیفہ کے دفاع کی بات آتی ہے مقلدین کا کشکول دلائل سے خالی ہوجاتا ہے اور اگر کچھ رہ جاتا ہے تو وہ بودی، لولی لنگڑی تاویلیں۔ میرے بھائی اگر آپ نے امام صاحب کا دفاع خود پر واجب کرلیا ہے تو کم ازکم دفاع میں کچھ ایسا پیش کرو جس میں کچھ معقولیت ہو۔دفاع کے نام پر ایسے لطیفے پیش کرنے سے احتراز کرو۔ میں اسی روایت کو مکمل پیش کررہا ہوں اردو ترجمے کے ساتھ۔جس کو پڑھ کر سب کو معلوم ہوجائے گا کہ تلمیذ صاحب نے کتنی بھونڈی تاویل کی ہے۔ ملاحظہ کریں:
خطیب بغدادی رحمہ اللہ (المتوفى:643) نے کہا:
أخبرنا ابن رزق، أَخْبَرَنَا أَحْمَد بْن جعفر بْن سلم، حَدَّثَنَا أحمد بن علي الأبار، حدّثنا محمّد بن يحيى النّيسابوريّ- بنيسابور- حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرِ عَبْدُ اللَّه بْنُ عَمْرِو بن أبي الحجّاج ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ: كُنْتُ بِمَكَّةَ- وَبِهَا أَبُو حَنِيفَةَ- فَأَتَيْتُهُ وَعِنْدَهُ نَفَرٌ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ مَسْأَلَةٍ، فَأَجَابَ فِيهَا، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: فَمَا رِوَايَةٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ؟ قَالَ: ذَاكَ قَوْلُ شَيْطَانٍ. قَالَ: فَسَبَّحْتُ، فَقَالَ لِي رَجُلٌ: أَتَعْجَبُ؟ فَقَدْ جَاءَهُ رَجُلٌ قَبْلَ هَذَا فَسَأَلَهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ فَأَجَابَهُ. قال: فَمَا رِوَايَةٌ رُوِيَتْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» ؟ فَقَالَ: هَذَا سَجْعٌ. فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: هَذَا مَجْلِسٌ لا أَعُودُ فِيهِ أَبَدًا. [تاريخ بغداد:13/ 388 ، السنة لعبد الله بن أحمد 1/ 226 واسنادہ صحیح]۔

ترجمہ: بخاری و مسلم کے ثقہ راوی عبد الوارث بن سعيد بن ذكوان کہتے ہیں کہ : میں مکہ میں تھااور وہاں ابوحنیفہ بھی تھے ، تو میں بھی ان کے پاس آیا اس وقت وہاں اورلوگ بھی تھے ، اسی بیچ ایک شخص نے ابوحنیفہ سے ایک مسئلہ پوچھا جس کا ابوحنیفہ نے جواب دیا ، جواب سن کراس شخص نے کہا کہ پھر عمربن الخطاب سے مروی روایت کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں تو ابوحنیفہ نے کہا کہ یہ تو شیطان کی بات ہے ، اس پر انہوں نے سبحان اللہ کہا ، یہ سن کر ایک شخص نے کہا کہ کیا تمہیں تعجب ہورہا ہے ؟؟؟ ارے ابھی اس سے پہلے بھی ایک صاحب نے سوال کیا تھا جس کا ابوحنیفہ نے جواب دیا تو سائل نے کہا کہ پھر آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے بارے میں کیا کہتے ہیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» ؟؟؟؟تو ابوحنیفہ نے کہا کہ یہ تو تک بندی ہے ۔ یہ سب سن کرمیں میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں ایسی مجلس میں آئندہ کبھی نہیں آؤں گا۔

اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے سندکے تمام طبقات میں تحدیث کی صراحت ہے یعنی سندمتصل ہے اورسارے راوی ثقہ ہیں ، اس سند کے کسی بھی راوی کے بارے میں جاننے کے لئے اس پر کلک کرتفصیل معلوم کرلیں۔ بشکریہ: کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ

پس اس میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہا کہ ابوحنیفہ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو شیطان کہا ہے۔ کیونکہ امام صاحب نے یہ سننے اور جان لینے کے بعد کہ عمربن خطاب﷜ نے ایسا کہا ہے ایک جلیل القدر صحابی کے بارے ایسے توہین آمیز کلمات کہے۔ اور اس مجلس میں موجود لوگوں نے بھی امام صاحب کے ان الفاظ کو عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہی سمجھا اسی لئے انہوں نے اس پر حیرت اور تعجب کا اظہار کیا بلکہ حاضرین میں سے ایک شخص نے تو یہ تک کہہ دیا کہ تمہیں عمر رضی اللہ عنہ کو شیطان کہنے پر حیرت ہورہی ہے۔ ابوحنیفہ نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو تک بندی کہہ کررد کردیا ہے۔ حنفیوں کے امام کے نزدیک حدیث کی کوئی اہمیت نہیں تھی اسی لئے وہ صحابہ تک کو بڑی آسانی سے شیطان کہہ دیتے تھے۔ نعوذباللہ من ذالک۔ہم ایسے امام سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔

اب تلمیذ صاحب کو بھی معلوم ہوگیا ہوگا کہ ان کا یہ کہنا کہ امام صاحب نے صحابی کو شیطان نہیں کہا کتنا غلط ہے۔امام ابوحنیفہ کے ساتھ اس وقت موجود لوگوں نے یہی سمجھا کہ امام صاحب نے صحابی رسول کی گستاخی کی ہے اسی لئے عبد الوارث بن سعيد بن ذكوان نے آئیندہ ابوحنیفہ کی مجلس سے توبہ کرلی تھی۔ثابت ہوا کہ تلمیذ صاحب کی الٹی سمجھ کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔یہ صاحب محض اپنے امام کے دفاع میں دھوکہ دہی کے مرتکب ہورہے ہیں۔

تنبیہ!
نامناسب الفاظ کو نکال دیا گیا ہے۔(انتظامیہ)
شاہد بھائی لنک نہیں کھل رہی مجھے سند کی مکمل تحقیق درکار تھی ۔
خصوصا عبدالوارث کا ابو حنیفہ سے لقاء ہے یا نہیں
 
Top