میں نے ایک اصولی اور جائز بات کی ہے کہ بھلا ایک مقلد کیسے صحیح سند کا مطالبہ کرسکتا ہے؟ ۔آپ کو ایسے مطالبے کرنے سے پہلے سوچ لینا چاہیے
مقلدوں کے لئے انتہائی تشویشناک اور قابل غور بات ہے کہ امام ابوحنیفہ کی محدیثین کی نظر میں حیثیت ایک مجروح اور ضعیف راوی کی ہے۔ ایسی صورت میں تو مقلدوں کی جانب سے ابوحنیفہ کو دئے گئے القابات جیسے امام اعظم، محدث، مجتہداعظم، فقیہ وغیرہ خودبخود ہی بے وقعت محسوس ہونے لگتے ہیں۔
اپنی یہ بات آپ خود ہی ذہن نشین کرلیں کیونکہ محدیثین نے امام صاحب کو گمراہ قرار دیا ہے بلکہ ان کی گمراہی پر اجماع کیا ہے۔ اب چاہیں آپ تربوز کو آم کہیں یا آم کو تربوز کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔امام ابوحنیفہ کے بارے میں محدیثین کرام نے واضح موقف بیان کردیا ہے اب مقلدین کے جھوٹے واویلے سے امام صاحب حق پر ثابت نہیں ہوسکتے۔تیر کمان سے نکل چکا ہے۔
میں نے وضاحت کردی تھی کہ پوسٹ کی عبارت میں نے خود ختم کی ہے۔ اور اس لئے نہیں کہ بے تکی تھی اور اس کو ثابت نہیں کیا جاسکتا تھا۔ امام صاحب سے متعلق کوئی ایسی چیز جسے واقعی ثابت نہیں کیا جاسکتا وہ ان کی ثقاہت ہے۔باقی ہم نے تو اپنا دعویٰ ثابت کردیا ہے۔ملاحظہ فرمالیں:
حالات ابوحنیفہ صحیح روایات کی روشنی میں
تنبیہ: یہاں روایات کے اصل متن کے ساتھ اسناد بھی ذکر کردی گئیں ہیں اور روای کے نام پر کلک کرنے سے اس کے حالات بھی معلوم کئے جاسکتے ہیں۔
جب بھی ابوحنیفہ کے دفاع کی بات آتی ہے مقلدین کا کشکول دلائل سے خالی ہوجاتا ہے اور اگر کچھ رہ جاتا ہے تو وہ بودی، لولی لنگڑی تاویلیں۔ میرے بھائی اگر آپ نے امام صاحب کا دفاع خود پر واجب کرلیا ہے تو کم ازکم دفاع میں کچھ ایسا پیش کرو جس میں کچھ معقولیت ہو۔دفاع کے نام پر ایسے لطیفے پیش کرنے سے احتراز کرو۔ میں اسی روایت کو مکمل پیش کررہا ہوں اردو ترجمے کے ساتھ۔جس کو پڑھ کر سب کو معلوم ہوجائے گا کہ تلمیذ صاحب نے کتنی بھونڈی تاویل کی ہے۔ ملاحظہ کریں:
خطیب بغدادی رحمہ اللہ (المتوفى:643) نے کہا:
أخبرنا ابن رزق، أَخْبَرَنَا أَحْمَد بْن جعفر بْن سلم، حَدَّثَنَا أحمد بن علي الأبار، حدّثنا محمّد بن يحيى النّيسابوريّ- بنيسابور- حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرِ عَبْدُ اللَّه بْنُ عَمْرِو بن أبي الحجّاج ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ: كُنْتُ بِمَكَّةَ- وَبِهَا أَبُو حَنِيفَةَ- فَأَتَيْتُهُ وَعِنْدَهُ نَفَرٌ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ مَسْأَلَةٍ، فَأَجَابَ فِيهَا، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: فَمَا رِوَايَةٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ؟ قَالَ: ذَاكَ قَوْلُ شَيْطَانٍ. قَالَ: فَسَبَّحْتُ، فَقَالَ لِي رَجُلٌ: أَتَعْجَبُ؟ فَقَدْ جَاءَهُ رَجُلٌ قَبْلَ هَذَا فَسَأَلَهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ فَأَجَابَهُ. قال: فَمَا رِوَايَةٌ رُوِيَتْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» ؟ فَقَالَ: هَذَا سَجْعٌ. فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: هَذَا مَجْلِسٌ لا أَعُودُ فِيهِ أَبَدًا. [تاريخ بغداد:13/ 388 ، السنة لعبد الله بن أحمد 1/ 226 واسنادہ صحیح]۔
ترجمہ: بخاری و مسلم کے ثقہ راوی عبد الوارث بن سعيد بن ذكوان کہتے ہیں کہ : میں مکہ میں تھااور وہاں ابوحنیفہ بھی تھے ، تو میں بھی ان کے پاس آیا اس وقت وہاں اورلوگ بھی تھے ، اسی بیچ ایک شخص نے ابوحنیفہ سے ایک مسئلہ پوچھا جس کا ابوحنیفہ نے جواب دیا ، جواب سن کراس شخص نے کہا کہ پھر عمربن الخطاب سے مروی روایت کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں تو ابوحنیفہ نے کہا کہ یہ تو شیطان کی بات ہے ، اس پر انہوں نے سبحان اللہ کہا ، یہ سن کر ایک شخص نے کہا کہ کیا تمہیں تعجب ہورہا ہے ؟؟؟ ارے ابھی اس سے پہلے بھی ایک صاحب نے سوال کیا تھا جس کا ابوحنیفہ نے جواب دیا تو سائل نے کہا کہ پھر آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے بارے میں کیا کہتے ہیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «
أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» ؟؟؟؟تو ابوحنیفہ نے کہا کہ یہ تو تک بندی ہے ۔ یہ سب سن کرمیں میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں ایسی مجلس میں آئندہ کبھی نہیں آؤں گا۔
اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے سندکے تمام طبقات میں تحدیث کی صراحت ہے یعنی سندمتصل ہے اورسارے راوی ثقہ ہیں ، اس سند کے کسی بھی راوی کے بارے میں جاننے کے لئے اس پر کلک کرتفصیل معلوم کرلیں۔
بشکریہ: کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ
پس اس میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہا کہ ابوحنیفہ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو شیطان کہا ہے۔ کیونکہ امام صاحب نے یہ سننے اور جان لینے کے بعد کہ عمربن خطاب نے ایسا کہا ہے ایک جلیل القدر صحابی کے بارے ایسے توہین آمیز کلمات کہے۔ اور اس مجلس میں موجود لوگوں نے بھی امام صاحب کے ان الفاظ کو عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہی سمجھا اسی لئے انہوں نے اس پر حیرت اور تعجب کا اظہار کیا بلکہ حاضرین میں سے ایک شخص نے تو یہ تک کہہ دیا کہ تمہیں عمر رضی اللہ عنہ کو شیطان کہنے پر حیرت ہورہی ہے۔ ابوحنیفہ نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو تک بندی کہہ کررد کردیا ہے۔ حنفیوں کے امام کے نزدیک حدیث کی کوئی اہمیت نہیں تھی اسی لئے وہ صحابہ تک کو بڑی آسانی سے شیطان کہہ دیتے تھے۔
نعوذباللہ من ذالک۔ہم ایسے امام سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔
اب تلمیذ صاحب کو بھی معلوم ہوگیا ہوگا کہ ان کا یہ کہنا کہ امام صاحب نے صحابی کو شیطان نہیں کہا کتنا غلط ہے۔امام ابوحنیفہ کے ساتھ اس وقت موجود لوگوں نے یہی سمجھا کہ امام صاحب نے صحابی رسول کی گستاخی کی ہے اسی لئے عبد الوارث بن سعيد بن ذكوان نے آئیندہ ابوحنیفہ کی مجلس سے توبہ کرلی تھی۔ثابت ہوا کہ تلمیذ صاحب کی الٹی سمجھ کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔یہ صاحب محض اپنے امام کے دفاع میں دھوکہ دہی کے مرتکب ہورہے ہیں۔
تنبیہ!
نامناسب الفاظ کو نکال دیا گیا ہے۔(انتظامیہ)