الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
جناب ہم حضور کو نوع بشر مانتے نور نہیں۔ہاں آپ کی حقیقت کو نور سمجھتے ہیں جسکی بدولت جسم انور بھی نورانی تھی۔
یعنی آپ بشر تھے ساتھ میں نور ہدایت تھے اور اس کے ساتھ نور حسی بھی تھے
اس کی وضاحت جاءالحق میں مفتی صاحب نے شاید آخری اعتراض کے جواب میں کی ہے۔
اور ہاں جی ہم بشر بھی مانتے ہیں محمد ابن عبد اللہ بھی مانتے ہیں زبان سے اقرار بھی کرتے ہیں عقیدہ کے بیان میں آپ کو بشر کہنا بھی درست مانتے ہیں مگر بشر کہہ کر پکارنا یعنی اے بشر اے بشر یہ کہنا درست نہیں سمجھتے
اس تکفیر کا ٹھیکہ تو جناب آپ لوگوں نے لے رکھا ہےجو ہر بات پر شرک کا فتوی بلکہ بے نمازی پر بھی انمالمشرکون نجس والی آیت پڑھتے ہیں۔اکثریت امت کو مشرک بنا ڈالا ۔باقی جن حضرات کی اعلی حضرت نے تکفیر کی تھی آپ کی اطلاع کے لئے عرض آج آپ کے حضرات بھی ان عبارات کو کفریہ کہتے ہیں۔الدیوبندیہ از طالب رحمان...
حضرت بالکل درست مگر اس کے جھوٹے ہونے سے یہ بات بالکل ثابت نہیں ہوتی کہ رسول اللہ خواب میں نہیں آسکتے ہم اس کو جھوٹا اس کے کردار کی وجہ سے کہتے ہیں اس بات کی وجہ سے نہیں ایسے ہی بالفرض رجل مجہول نے جھوٹ بھی بولا ہو۔اگر یہ شرک یا ناجائز ہوتا تو اس پر فتوی لگتا۔
اس کا جواب دے چکا
کیاں اس میں کوئی...
روایت کے کونسے الفاظ میری وضاحت کے خلاف ہیں؟؟
اگر مگر کی بات نہیں یہ حقیقت ہے کہ وہ مالک دار خازن عمر تھے۔اور انہوں نے یہ واقعہ اپنے مشاہدے کا بیان کیا ہے
جناب من ابھی آپ اردو ادب کی رعنائیوں کی لذت سے ناآشنا ہیں۔جب آُ کو اس بحر عمیق سے
جواب ممتاز قادری والی مثال سے دیا جا چکا ہے غور کریں۔
حضرت دیکھیں میں نے پہلے کہا تھا کہ میں اپنے بچوں سے بیان کروں کہ طاہر قادری کو خواب میں رسول اللہ کی زیارت ہوئی؟تومیں اس کا خواب دیکھا ہے؟ِکہ حالات کا مشاہدہ...
پہلی بات تو سند مالک دار سے شروع ہوتی ہے۔دوسری بات اس کا قصہ خواب کے سنانے تک ہے۔اگلی حضرت عمر کے جو الفاظ ہیں وہ رجل مجہول نے نہیں مالک دار نے خود اپنے مشاہدے سے نقل کیے ہیں۔کیوں کہ وہ خازن تھے اس لیے یہ چیز ان کے علم میں تھی۔
سبحان اللہ حضرت آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ یہ بات نہیں پہنچیِ۔پھر جب اس کی سند صحیح ثابت ہو گءی تو بات۔ختم۔اور اگر یہ من گھڑت ہے تو مالک دار ثقہ کیسے؟کیا آپ لوگ محدثین سے زیادہ علم رکھتےہیں۔بات صرف اتنی ہے آپ نے تسلیم نہیں کرنا۔اب لاجواب ہوکر ادھر ادھر کت قیاسات شروع کر دیے۔
مجھے یہ بتاءیے کہ حضرت...
پوری عبارت ہے
آپ کے مقبولہ محدثین کے نزدیک
کیا سمجھے یہاں الزامی جراح ہے۔اسی طرح آگے بھی اعلی حضرت نے الزامی گفتگو کی ہے۔
http://s595909773.online-home.ca/KB/ftawa%20rizvia%205/wqb.pdf
جناب میں پہلے کہ چکا کہ رجل کی جہالت کا تو تعلق ہی نہیں۔بالفرض اگر یہ بھی ثابت ہو جائے کہ اس نے یہ قصہ جھوٹ گھڑا تھا تو بھی نقصان نہیں ہوتا۔کیونکہ حضرت عمر نے اس کو قبول کیا۔اگر اس بات کا کوئی جواب ہے تو عنایت کریں۔
حضرت پوری سند پڑھ لیتے بات ختم ہو جاتی جو میں نے پیج لگایا ہے وہاں ان کی سند کو حسن کہا گیا ہے۔غور سے دیکھیں۔
چلیں اگر اس دلیل سے قطع نظر بھی کر لیں تو حضرت آدم کا حضور کا وسیلہ لینا جس کی توثیق ابن تیمیہ سے نقل ہو چکی