الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
اس کو یہ کہا جائے گا کہ جب اللہ کے رسول ﷺ نے اس کام کو جاری رکھنا کسی وجہ سے پسند نہیں فرمایا تو بعد والے کون ہوتے ہیں جاری رکھنے والے (ابتسامہ)۔
بھائی پہلا سوال یہ ہے کہ کیا نبی کریم ﷺ نے جو تین دن تراویح پڑھائی تھیں وہ بیس رکعت تھیں؟
اگر بیس رکعت نہیں تھیں (یا بیس رکعت کا ثبوت نہیں ہے) تو پھر...
محترم اسحاق سلفی بھائی ظاہر تو وہ ہے جو ہمارے سامنے ہو رہا ہے اور معروف ہے۔ اور ثبوت دینا خلاف ظاہر والے کے ذمہ ہوتا ہے کیوں کہ خلاف ظاہر کا داعی مدعی ہوتا ہے۔ تو ثبوت تو آپ کے ذمہ ہوگا نہ کہ عبد الرحمان بھٹی بھائی کے۔
تو یہاں فہم حدیث میں کیا اختلاف ہے؟
اور یہ عمل مستقل تو یقینا ہو رہا ہے لیکن کیا اس سے سنت "موکدہ" ہونا ثابت ہوتا ہے؟ اس سے تو استحباب ثابت ہونا چاہیے اور جو چیز صراحتا نبی کریم ﷺ کے عمل کے طور پر منقول ہے اس سے سنت موکدہ ثابت ہونی چاہیے۔ اصول تو یہی کہتا ہے۔
اگر ہم پوری بیس رکعات کو اسی طرح...
انتہائی محترم @عبدالرحمن بھٹی بھائی۔ فقہائے احناف میں سے ایک جماعت کا واقعی یہ مذہب ہے جو کہ اوپر تحریر ہوا ہے۔
اور یہ مذہب ایک حد تک مضبوط بھی معلوم ہوتا ہے۔ اگر امام اعظمؒ سے اس بارے میں مروی الفاظ کا محمل اداء تراویح اور جماعت تراویح سمجھا جائے (جو کہ عین ممکن ہے) تو یہ قرین قیاس نظر آتا ہے...
ایک ہی بات کو گھما کر پھر کر دینا تو مناسب نہیں ہے۔
ذرا کہیں سے باحوالہ بتائیے کہ فعل مضارع جب حال بنے تو ہمیشگی اور تسلسل پر ہمیشہ دلالت کرتا ہے۔ میرے علم میں اضافہ ہوگا۔
صرف آپ کے کہنے سے تو مضارع یہ کام نہیں کرنے لگ جائے گا۔
خلاصہ کلام۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں جانب کے علماء نے یہ کام کیا ہے۔
اس لیے ساتھی اب بجائے اپنی توانائیاں اپنوں کا دفاع اور غیروں پر تھو تھتکار میں ضائع کرنے کے کسی مفید جگہ لگا لیں۔ جزاکم اللہ خیرا۔
محترم @عبدہ بھائی۔ میں نے ویڈیو نہیں دیکھی لیکن تمام کمنٹس ضرور پڑھے ہیں۔
آپ کن کی بات پر غصہ ہو رہے ہیں۔ ان اللہ کے بندے نے بینکنگ کے مسئلے میں مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم (جنہیں شیخ الاسلام کہا جاتا ہے اور جو مجلس فقہ الاسلامی کے نائب رئیس ہیں) کے بارے میں بھی بہت سی باتیں کی ہیں۔ ان کے...
معذرت چاہتا ہوں۔ یہ اصل مسئلہ آپ کا پیدا کیا ہوا ہے۔ یعنی تحقیق کا مسئلہ۔
ورنہ فقہی مسئلہ کی تحقیق اور چیز ہوتی ہے اور حدیث کی اور چیز۔ ایک مسئلہ کی تحقیق کے لیے قرآن کریم بھی ملحوظ ہوتا ہے اور احادیث کثیرہ بھی۔ اور دیگر اشیاء بھی۔
لیکن ایک راوی کی تحقیق کے لیے ایسا کچھ نہیں ہوتا۔
پھر اگر آپ...
ایک مشہور اصول ہے کہ جرح مفسر تعدیل سے راجح ہوتی ہے۔ اور ذہبی کی جرح مفسر ہے۔
نسائی نے بهی جرح مفسر كی ہے:
و قال أبو على النيسابورى الحافظ : سمعت أبا عبد الرحمن النسائى يذكر فضل نعيم ابن حماد و تقدمه فى العلم و المعرفة و السنن ، ثم قيل له فى قبول حديثه ،
فقال : قد كثر تفرده عن الأئمة المعروفين...
تو جملے کو تھوڑا سا تبدیل کر لیتے ہیں کہ "اگر بات ما قبل علماء کی تحقیق سے استفادہ کی ہی ہے تو میں علماء احناف کی تحقیق سے استفادہ نہ کر لوں؟"
چھوڑیں بھائی جان میں اتنی بار یہ بحث کر چکا ہوں کہ اب تھک چکا ہوں۔ یہ لا حاصل بحث ہے۔ اس کے لیے دلائل جمع کرنا اور وقت لگانا بے فائدہ ہی ہے۔
میرے محترم بھائی۔ آپ جس سنت کا ذکر کر رہے ہیں وہ محدثین کی اصطلاح کی سنت ہے۔ اور بھٹی بھائی جس سنت کا ذکر کر رہے ہیں وہ فقہاء کی اصطلاح کی ہے۔
فقہاء سنت اسے کہتے ہیں جس پر نبی کریم ﷺ نے مواظبت فرمائی ہو۔ ظاہر ہے یہ عمل منسوخ میں ممکن نہیں۔ جب کہ محدثین کے نزدیک سنت کو چاہے حدیث سے عام مانا جائے...
بخاریؒ اور ابن قیمؒ دونوں کا فرمان سر آنکھوں پر۔ دونوں ہمارے بڑے ہیں اور جو کہا ہوگا سوچ کر تحقیق کر کے کہا ہوگا۔
لیکن اگر بات تقلید کی ہی ہے اور دوسرے کی تحقیق کو ماننے کی ہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو ان کی تقلید کے بجائے یہ بہتر نہیں ہے کہ میں ائمہ احناف کی تقلید کر لوں؟
براہ کرم اصل کتب کے حوالہ جات دینا اگر ممکن ہوں تو وہاں سے دیا کریں۔ نقل در نقل سے بات نہ صرف سیاق و سباق سے کٹ جاتی ہے بلکہ بسا اوقات معنی میں تبدیل بھی ہو جاتی ہے۔