الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
خضر بھائی۔ آپ درست کہہ رہے ہیں کہ امام مالک، ثوری، اوزاعی، شافعی، احمد وغیرہ سب فقہ کے بھی امام تھے۔ ان کی امامت تسلیم بھی ہے اور سر آنکھوں پر بھی۔ لیکن دو چیزوں کا ان میں اور ابو حنیفہؒ میں فرق تھا۔ ایک تو ابو حنیفہؒ مدون اول ہیں اور جب کسی چیز کی تدوین ابتداء ہوتی ہے تو اس پر وہ محنت ہوتی ہے...
اس بارے میں کیا ارشاد فرمائیں گے؟
بكير بن عَبْدِ اللَّهِ بن الأشج القرشي (1) ، مولى بني مخزوم، ويُقال: مولى المسور بْن مخزمة الزُّهْرِيّ، ويُقال: مولى أشجع، أَبُو عبد الله، ويُقال: أَبُو يُوسُف، المدني، نزيل مصر. وهو أخو يعقوب بْن عَبْدِ اللَّهِ بْن الأشج، وعُمَر بْن عَبْدِ اللَّهِ بْن الأشج،...
حدثنا أبو بكر قال: نا أبو عبد الرحمن المقري، عن سعيد بن (ابی) أيوب، عن يزيد بن (ابی) حبيب، عن بكير بن عبد الله بن الأشج، عن ابن عباس أنه سئل عن صلاة المرأة، فقال: «تجتمع وتحتفر»
مصنف ابن ابی شیبہ 2۔505 ط علوم القرآن
کیا اس روایت پر بھی کوئی جرح ہے؟
شاید میں آپ کو اپنی بات سمجھا نہیں سکا۔
مثال دیتا ہوں: ایک نسخہ ہے مصنف ابن ابی شیبہ کا جسے مرتضی زبیدی کا نسخہ کہا جاتا ہے اور شیخ عوامہ نے ت کے رمز سے ذکر کیا ہے۔ اس کے ناسخ ہیں یوسف بن عبد اللطیف بن عبد الباقی الحرانی۔ کیا ان کی تفصیل اور جس نسخے سے یا سند سے انہوں نے نقل کیا ہے اس کی تفصیل...
ایک عام آدمی تو جو کچھ علماء جرح و تعدیل نے کہا اور کسی نے ان متفرق اقوال کا نتیجہ نکال لیا اسے آنکھیں بند کرکے تقلیدا قبول کر لیتا ہے۔ لیکن ہم تو ان چیزوں کو چھلنی سے گزار سکتے ہیں تو ہم اپنی عقل کو بند کیوں کریں؟
اس کے لیے جن محققین نے مصنف کی تحقیق کی ہے ان کے مقدمات دیکھیے جو نسخوں کے بارے میں ہیں۔
میں اس سلسلے میں مسلکی بحث کی خاطر یہ بات نہیں کر رہا اس لیے آپ کا کوئی رد نہیں کروں گا۔ ایک علمی رائے پیش کر رہا ہوں صرف۔
تتمة الحكاية: قال: قلت: فإن سمعت الحديث وكتبته حتى لم يكن في الدنيا أحفظ مني؟...
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
خضر بھائی۔ یہ جو آپ نے فرمایا:
اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ لوگ رواۃ کتاب ہیں۔ رواۃ حدیث نہیں۔ جس طرح دیگر حدیث کی کتب کے جو نسخہ جات موجود ہیں وہ مصنف کے بہت بعد کے ہیں (بطور مثال مصنف ابن ابی شیبہ کو ہی لے لیں) اور ناقلین اور صاحب کتاب کے درمیان کے رواۃ...
السلام علیکم و رحمۃ اللہ
کہیں آپ یہ تو نہیں کہنا چاہتے کہ "یہ بات ابر آلود رات کی طرح تاریک ہے اپنی کیفیت میں کہ ایک عامی شخص غیر مقلد ہونے کے بعد قرآن و حدیث سے بغیر کسی اور علم کے استفادہ کر سکتا ہے؟ حتی کہ ان علوم کے بغیر بھی جنہیں سیوطی اور ابن حجر نے حدیث کے لیے یا جنہیں شاہ ولی اللہ دہلوی...
ویسے تو انور شاہ کشمیری صاحب دیوبندی اور بھی بہت کچھ مختلف مقامات پر فرماتے ہیں (ابتسامہ)۔ بہر حال جو نسخے انہوں نے دیکھے قول ان کے بارے میں ہے۔
فی الحال ایسے نسخے دریافت ہو چکے ہیں جو تحقیق کی شرائط کو بھی پوراکرتے ہیں اور ان میں یہ لفظ موجود بھی ہے۔ تفصیل کے لیے مصنف ابن ابی شیبہ شیخ عوامہ کی...
اس پورے کے جواب میں میں صرف ایک قاعدہ عرض کرتا ہوں کہ "جرح مفسر تعدیل سے راجح ہوتی ہے" اور کثیر الخطاء کی جرح مفسر ہے۔
اور امام احمد نے تو خود صراحتا جرح کی ہے تو بھلا ان کی باتوں سے تعدیل اخذ کرنا کیسے درست ہے؟
پچھلی حدیث پر بات کر لیں پھر اس پر کرتے ہیں۔ ویسے ان پر میں فورم پر کافی پہلے بات کر بھی چکا ہوں۔
یعنی آپ کی بات کا مطلب یہ ہوا کہ چوں کہ امام ابو حاتم متشدد ہیں اس لیے ان کی جرح قبول ہی نہیں ہوگی؟؟؟
علم حدیث میں اگر متشدد عالم کسی پر جرح کرے اور دیگر توثیق کریں تو اس کی جرح قبول نہیں ہوتی...
معذرت چاہتا ہوں۔ کتاب پڑھنے کی فرصت نہیں ہوتی۔ آپ کا جو استدلال ہے وہ یونیکوڈ میں تحریر فرما دیا کیجیے۔
قال أبو بكر بن أبي خيثمة ، عن يحيى بن معين: ثقة.
وقال عثمان بن سعيد الدارمي : قلت ليحيى بن معين: أي شيء حال مؤمل في سفيان؟ فقال: هو ثقة. قلت: هو أحب إليك أو عبيد الله؟ فلم يفضل أحدا على الآخر...
@محمد کاشف بھائی۔ آپ کی صرف پہلی صحیح ابن خزیمہ والی حدیث ہی آپ کے دعوی پر صریح ہے لیکن اس میں مومل بن اسماعیل ضعیف ہیں۔
حضرت علی رض کی تفسیر کی روایت کی سند کی تحقیق پیش فرمائیں گے؟
محترم بھائی۔ یہ کہاں سے ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ امام ترمذیؒ کا اپنا مشاہدہ ہے؟ علل ترمذی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام ترمذی جو یہ مذاہب بیان فرماتے ہیں وہ اپنے مشاہدہ سے نہیں اپنی اسانید سے بیان فرماتے ہیں۔
اور نوویؒ نے ترمذیؒ کے مشاہدہ پر باب قائم نہیں کیا جس کی آپ اس سے تائید کرنا چاہیں بلکہ روایت...