الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
ماضی کے علماء نے ایسے مقامات پر ایسی باتیں کی ہیں اور ان باتوں کو علماء کرام نے قبول کیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارا انداز تھوڑا تبدیل ہوگیا ہے۔ ہم مخالف کی حدیث نہیں چھوڑتے اور تضعیف کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں تو قول کیا حیثیت رکھتا ہے۔
صرف یہ تعلق ہے کہ ان کی بات احناف کے ہاں بلا تحقیق قابل اعتماد نہیں ہوگی کیوں کہ عین ممکن ہے وہ اپنی کسی روایت کی تصحیح یا مخالف کی روایت کی تضعیف کے لیے کسی کو بھی معتدل یا متعصب کہہ جائیں۔ یہ اسی طرح ہے جیسے اہل حدیث حضرات کے نزدیک امین صفدر اوکاڑویؒ کی بات قابل قبول نہیں ہوگی۔
ٹھیک ہے جی یہ مقام بحث نہیں ہے۔
میں نے ایک مثال دی تھی۔ آپ اپنا کام کرتے رہئے۔ اللہ پاک آپ کے کام میں برکت دے۔
آپ اپنے نقطہ نظر سے کہہ رہے ہوں گے شاید۔ احناف کے بارے میں ان کی شدت کسی سے مخفی نہیں ہے۔ فورم پر ہی ایک دو جگہوں پر شیخ نے جہاں درست استدلال نہیں کیا کسی روایت سے اور واضح چیز کو...
اگر ان کی تفصیلات ان کو معتدل یا متشدد قرار دینے والوں کی مکمل تفصیلات مثلا ان کا علاقہ، ان کا مسلک اور عقیدہ، ان کی اپنی حالت وغیرہ بھی بیان ہو جائیں تو بہت بہتر ہوگا۔ اور اس سلسلے میں شیخ زبیر کی مدد نہ لی جائے تو نافع بھی بہت ہوگا ان شاء اللہ
جیسے ابن الجوزی نے خطیب بغدادی کو التحقیق میں...
جزیت خیرا۔
جواب:۔
عند الاحناف اشیاء ستہ منصوصہ میں ربا کی علت قدر مع الجنس ہے۔ کرنسی اور نقدین کی جنس بھی ایک نہیں اور مقدار کا پیمانہ بھی الگ الگ ہے۔ اس لیے دونوں شرطیں نہیں ہوں گی۔
البتہ یہ ان کے نزدیک ہوگا جو کرنسی کو سونے کا بدل یا رسید نہیں سمجھتے۔
اصولی جواب تو یہی ہے۔ باقی اللہ اعلم۔
آپ نے اس کا مطالعہ کیا جو میں نے کہا ہے؟
اوپر جو کچھ میں نے لکھا ہے اسی سے اتفاق کرتا ہوں۔ مزید تفصیل آپ اس کتاب میں پڑھ لیجیے اور بلا وجہ کی بحث میں مجھے نہ الجھائیے۔
یہی سہی لیکن اختلاف بھی اسی پر ہوا تھا۔
میں نے اس کے صحیح یا غلط ہونے کی بحث نہیں کی۔ یہ تو انتہائی فلسفیانہ بحث ہو جائے گی جو مجھے خود نہیں پسند کیوں کہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔
یار یہاں کسی بندہ کے وسیلے واسطہ کی بات نہیں ہو رہی۔ لفظ مقعد العز من عرشک کے الفاظ کی بات ہو رہی ہے اور ان الفاظ سے دعا کرنے میں اختلاف ہے۔
دوسری بات عبارت میں لاینبغی ہے لا یجوز نہیں جس کا معنی ہے مناسب نہیں ہے نہ کہ درست نہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے علم ہے کہ صرف آپ کے لکھ دینے سے تو کچھ نہیں ہو جاتا۔ کسی مسئلہ کو جب دلائل کے ساتھ فہم صحیح کی کسوٹی پر رکھا جاتا تب علم ہوتا ہے کہ کیا درست اور کیا غلط ہے۔
اس طرح تو میں بھی کسی بھی مسئلہ پر مدلل اور طویل مضمون لکھ سکتا ہوں۔ (ابتسامہ)