الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
جزاک اللہ خیرا
خلاصہ یہ کہ آپ اور ارسلان بھائی کسی قسم کی تقلید کو نہیں مانتے۔
عبدہ بھائی اور خضر حیات بھائی کیا آپ ان سے متفق ہیں؟ برائے مہربانی بغیر بحث کے بتائیے گا۔ اور عبدہ بھائی کیا آپ اس تحریر کی روشنی میں اپنے موقف سے رجوع کرنا چاہتے ہیں یا آپ کا وہی موقف ہے؟
اس دلیل پر آپ کو کوئی اعتراض ہے؟ یا یہ دلیل نہیں لگ رہی؟
حدود کا یہ اصول ہے کہ وہ معمولی شبہات سے بھی ساقط ہو جاتی ہیں۔
اور حدیث میں ہے أنت ومالك لأبيك (سنن ابن ماجہ) تو اور تیرا مال تیرے باپ کے ہیں۔ اس سے اس کے کہنے کے باوجود شبہہ موجود ہے۔ اس لیے حرام تو ہوگی پر حد نہیں لگے گی۔
چلیں مضمون بعد میں پڑھ لیجیے گا۔ میں اپنی رائے بیان کر دیتا ہوں۔
اس کے لیے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ مختلف دلائل کی روشنی میں ایک قاعدہ بنایا جاتا ہے اور اس قاعدہ پر کسی مسئلہ کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔
جیسے ایک مسئلہ ہے کہ جس شخص کو سمت قبلہ کا علم نہ ہو اور معلوم بھی نہ کر سکتا ہو تو وہ کیا کرے۔ احناف...
بھائی اگر یہی بات اہل حدیث کہیں تو اعتراض کون کرتا ہے؟ اعتراض تب ہوتا ہے جب کوئی شخص علم نہیں رکھتا اور کسی ایک حدیث کو پڑھ کر نہ صرف خود عمل شروع کر دیتا ہے بلکہ اپنے علاوہ دوسروں پر مخالفت حدیث کا الزام بھی لگاتا ہے۔ یہ تو ظاہر ہے عجیب بات ہے۔
یہ حضرات اگر کہیں اپنی رائے مختلف پاتے ہیں تو...
اس میں اعتراض کیا ہے؟ اگر آپ ایک یا دو جملوں میں واضح کر سکیں؟
یہ بات تو میں بھی کہتا ہوں اور دیگر احناف بھی کہ یہ اختلاف ہے اور یہی علمی دیانتداری کا ثبوت بھی۔
پھر اعتراض کیا ہے؟
محمد ارسلان بھائی کافی دیر سے نیٹ کے مختلف مقامات کی سیر کر رہا ہوں۔ کئی جگہ اس موضوع پر بحث ہوئی ہے اور اس کی وضاحت کی گئی ہے۔ بعض جگہ ناقص اور بعض جگہ کامل۔
مجھے سب سے مناسب اور تفصیلی جواب اون اسلام کا محسوس ہوا تو بجائے کاپی پیسٹ کرنے کے اس کا لنک دیدیتا ہوں۔ لنک
اس میں کوئی بات قابل وضاحت...
جمشید بھائی ما قبل میں جواب دے چکے ہیں۔ میری رائے جاننا چاہتے ہیں تو ملاحظہ فرمائیں لنک
چوں کہ جمشید بھائی جواب دے چکے ہیں اس لیے میں مزید بحث سے معذرت چاہوں گا۔
الله پاك نے آنکھوں کی جگہ بٹنوں سے تو نہیں نواز دیا بھائی؟
یہ کیا ہے؟
یہ دلیل ہے جناب۔ آگے فقہ شافعی کی تو الگ بات کی ہے کہ صرف فقہ حنفی کا نام لے کر کیوں الزام لگایا ہے جناب نے؟
حدیث سے تو دلیل بیان کر دی ہے۔
اب آپ پر لازم ہے کہ صحیح صریح غیر معارض حدیث لائیں کہ بیٹے کی باندی سے...
یہ تو آپ کو بتانا چاہیے نا۔ کیوں کہ میں تو وہ بتاؤں گا جو فقہ میں لکھا ہوگا یعنی وہ عاقل، بالغ، دین دار متبع شریعت ہو وغیرہ۔
فقہ کو آپ مانتے نہیں اس لیے حدیث میں جہاں ذکر ہے عدالت کا وہاں سے ہی لکھ دیں۔
آپ کی غلط فہمی ہے۔
دلائل کی نظر میں دیکھا جاتا ہے۔
جن اشیاء کو آپ شرک کہتے ہیں وہ...
جو تحقیق کر سکتا ہو اور کرے وہ مقلد کی تعریف سے نہیں نکلتا۔
اور جو تحقیق نہیں کر سکتا ہو کم علمی یا بے مائیگی کے باعث اسے تحقیق میں گھسنا مناسب نہیں کیوں کہ جب وہ کر ہی نہیں سکتا تو گھس کر کیا کرے گا؟ اسے شوق ہو تو علم حاصل کرنا چاہیے۔
میری بات میں جواب موجود تھا۔ اس لیے کہ یہ قرآنی آیات استنباط کے موافق ہے اور یہی آزمائش ہے کہ جو علم رکھتا ہے وہ غور و فکر کرے اور جو جتنا علم نہیں رکھتا اتنا فاسئلوا اہل الذکر پر عمل کرے۔
جی نہیں فی الحال بحث میں موجود افراد کی بات کررہا ہوں۔ ویسے کچھ اسی سے ملتی جلتی بات شاہ ولی اللہؒ نے...
پیچھے بھی پڑھ لیں کہ احناف کے نزدیک رفع یدین ان مقامات میں منسوخ ہے۔
بندہ عرض کرتا ہے کہ اسی لیے احناف کے نزدیک ترک رفع اولی ہے اور رفع غیر اولی اور غیر اولی میں ثواب اولی کی بنسبت کم ہوتا ہے۔
اشکال کیا ہے؟
حدود کا یہ اصول ہے کہ وہ معمولی شبہات سے بھی ساقط ہو جاتی ہیں۔
اور حدیث میں ہے أنت ومالك لأبيك (سنن ابن ماجہ) تو اور تیرا مال تیرے باپ کے ہیں۔ اس سے اس کے کہنے کے باوجود شبہہ موجود ہے۔ اس لیے حرام تو ہوگی پر حد نہیں لگے گی۔
اوپر لکھا ہے فقہ حنفی کی حیا سوز تعلیمات۔ یہ دیکھیے معالم السنن شرح...