الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
وفات
آخر بیسیوں سال ان گونا گوں امراض کی مسلسل ضربات سہتے سہتے آپ نڈھال ہوگئے اور ۲۶؍ مئی ۱۹۰۶ء کو دنیا سے اس شان کے ساتھ تشریف لے گئے کہ آپ کی موت، آپ کے کذاب ودجال اور مفتری علی اللہ ہونے کا نشان الٰہی بن گئی، کیونکہ آپ نے مرنے سے ایک سال پہلے مولانا ثناء اللہ اَمر تسریؒ کے بالمقابل یہ...
اَمراضِ جسمانی
مرزا غلام اَحمد قادیانی مندرجہ ذیل بیماریوں کا شکار تھے، ہڑیا، مراق، مالیخولیا، حافظہ کی کمزوری، ضعف دِماغ کے دورے، ذیابیطس، دن میں بقول مرزا صاحب سو سو دفعہ پیشاب کرنا، دردِ سر، تشنج، بدہضمی واسہال، دق وسل، قولنج، دائم المریض اور جسم کا بیکار ہونا۔
غیر محرم عورتیں
لائل پور سے شائع ہونے والے ماہنامہ المنبر نے موثوق قادیانی ذرائع کی بنیاد پر لکھا ہے کہ مرزا صاحب نا محرم عورتوں سے ٹانگیں دبوایا کرتے تھے، یہ نا محرم عورتیں بوڑھی بھی ہو تی تھیں اور جوان بھی، آپ کی جمالیاتی حس اس قدر تیز اور مشاہدہ اس قدر گہرا وپختہ تھاکہ عورتوں کا صرف چہرہ...
دادِ عیش
مرزا صاحب اَمیرانہ ٹھاٹھ باٹھ میں رہتے تھے، رنگا رنگ کے پکوان اور میوہ جات وغیرہ آپ کی مرغوب غذائیں تھیں، اِزار بند عموماً ریشمی ہوتا تھا، فینسی پارچہ جات اور نفیس اشیاء خریدنے کیلئے آپکی اہلیہ خود لاہور تشریف لے جاتیں اور عرصہ دراز تک لاہور میں ہی قیام کرتیں۔ آپ افیون کے بھی بڑے...
شراب کا استعمال
مرزا صاحب شراب کا استعمال بھی کرتے، وہ بھی معمولی درجہ کی نہیں بلکہ نہایت اعلیٰ درجہ کی خالص ولایتی شراب۔ چنانچہ آپ اپنے ایک مرید کو خط میں لکھتے ہیں:
’’حکیم محمد حسین صاحب ایک بوتل ٹانک وائن پلو مر کی دکان سے خرید دیں، مگر ٹانک وائن چاہیے، اس کا لحاظ رہے۔‘‘
اخلاق وکردار
علامہ اقبالؒ کے عربی اور فارسی کے اُستاد مولوی اَمیر حسن سیالکوٹی ؒکا بیان ہے کہ مرزا صاحب کے پاس جو تلاوت کا قرآن تھا اس میں مرزا صاحب نے خاتمہ قرآن پر قوتِ باہ کا نسخہ لکھ رکھا تھا، جس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ آپ کے دل میں قرآن کی کیا وقعت تھی، یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اہل...
مرزا صاحب اس ناکامی سے مایوس ہو کر قادیان واپس آئے اور مذہبی لبادہ اوڑھ کر غیر مسلموں سے مناظرے شروع کر دیئے۔ اپنی پہلی کتاب ’براہین اَحمدیہ‘ کے متعلق مشہور کر دیا کہ اس کی پچاس جلدیں ہیں اور اس میں صداقت ِقرآن اور حقانیت ِاسلام پر تین سو سے زائد دلائل درج ہیں جن کا جواب کسی غیر...
سیالکوٹ میں آپ کچہری میں پندرہ روپے ماہوار پر ملازم ہوگئے، مرزا صاحب کے واقف کاروں کا بیان ہے کہ موصوف نے اس ملازمت کے دوران رشوت ستانی سے خوب ہاتھ رنگے اور یہی نا جائز کمائی تھی جس سے آپ نے ۴۰۰۰ روپے کا زیور اپنی دوسری بیوی کے لیے بنوایا تھا۔ اسی ملازمت کے دوران انہیں وکلاء کے آزاد پیشے اور...
مجرمانہ حرکات
مرزا صاحب کے باپ کو انگریز حکومت کی طرف سے سات سو روپے سالانہ پنشن ملتی تھی جو موجودہ دور کی قیمتوں کے لحاظ سے خاصی بڑی رقم تھی، ایک دفعہ مرزا صاحب کو انکے والد نے یہ رقم لینے کے لیے بھیج دیا، مرزا صاحب نے اپنے چچیرے بھائی امام الدین کے ساتھ جا کر رقم وصول کی اور دونوں نے خوب...
شادی
اسی دوران آپ کی شادی بھی ہوگئی، اہلیہ مرزا شیر علی ہوشیار پوری کی بہن تھیں۔ شادی کے وقت مرزا صاحب کی عمر پندرہ برس تھی، اگلے سال ۱۸۵۶ء میں ایک لڑکا پیدا ہوا اور دوسال بعد پھر ایک لڑکے کی پیدائش ہوئی، پہلے کا نام سلطان اَحمد اور دوسرے کا نام فضل اَحمد رکھا گیا۔
تعلیم
چھ سات سال کی عمر میں مولوی فضل الٰہی سے قرآنِ کریم اور فارسی وغیرہ کی تعلیم شروع کی، ساتھ ہی صرف و نحو کا بھی آغاز کیا، باپ چونکہ طبیب تھے لہٰذا طب کی تعلیم گھر پر ہی پائی۔
بچپن
مرزا صاحب بچپن میں چڑیاں پھنسانے کے شوقین تھے، چاقو نہ ہوتا تو سرکنڈے سے ہی ہاتھ آیا شکار ذبح کر لیتے تھے، گھر اور ننھیال میں پورا دِن اسی مشغلے میں گزرتا تھا۔ خاصے ضدی اور بگڑے ہوئے تھے، ایک دفعہ ماں سے روٹی کے ساتھ کھانے کو کچھ مانگا، ماں نے گڑ دیا تو قبول نہ کیا، کوئی دوسری چیز دی تو...
پیدائش
مرزا صاحب نے ’کتاب البریہ‘ میں اپنی پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء بتائی ہے، جبکہ ان کی کتاب ’تریاق القلوب‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ۱۸۴۵ء میں پیدا ہوئے۔ جائے پیدائش آبائی وطن ’قصبہ قادیان‘ ہے، جو لاہور سے شمال مشرق کی طرف تقریباً ۵۰ میل کے فاصلے پر ضلع گورداس پور، پنجاب (ہند) میں واقع ہے۔
غلام اَحمد قادیانی، ایک جھلک
سمیع اللہ
نام ونسب
مرزا قادیانی کے باپ کا نام غلام مرتضیٰ، دادا کا نام عطا محمد اور پڑدادا کا نام گل محمد تھا، ماں کا نام چراغ بی بی تھا، اس کی تصدیق میں جناب نے خود اپنی تصانیف میں اپنا طویل نسب نامہ درج کیا ہے، لیکن دعوائے مسیحیت و مہدویت کے بعد آپ نے کبھی...
عہد رسالت میں بھی کوئی بدبخت اہانت کی جسارت کرتا تو حضور مکرمﷺ اپنے جانثار صحابہ سے فرماتے «من یکفینی عدوی »’’کون ہے جو میرے اس دشمن کو کیفرکردار تک پہنچائے‘‘آپﷺ کے اس سوال کا عملی جواب دینے کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم برجستہ ٹوٹ پڑتے اور ایسے ملعون گستاخ کا سرتن سے جدا کئے بغیر سکون نہ...
نبی مکرم ﷺ سے عقیدت و محبت ایمان کی اولین شرط ہے اور یہ شرط معدوم ہونے پر انسان دائرہ ایمان سے خارج ہوجاتاہے۔ جیسا کہ فرمان نبویﷺ ہے:
«لایومن أحدکم حتیٰ أکون أحب إلیه من والدہ وولدہ والناس أجمعین»
لیکن محبت کے برعکس اگر کوئی دریدۂ دہن شخص رسول مکرمﷺ کی شان اَقدس میں ہرزہ سرائی کرتا ہے تو...
خلاصۂ کلام
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ کفار کی طرف سے اہانت رسول پر مسلمانوں کا شدید ردّعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ ان میں حب ِ رسولﷺ کا جذبہ باقی ہے مگر یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ حب ِ رسولﷺ کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی ادنیٰ ترین اِہانت سے بھی خود کو بچایا جائے۔ آپﷺ کی سنت کی اِتباع کی...
بہرحال آج اگر کوئی شخص داڑھی منڈوا کر سمجھے کہ وہ زیادہ خوبصورت ہے تو اس کامطلب یہ ہے کہ اسے رسول اللہﷺ کے چہرے سے زیادہ یہود و نصاریٰ کا چہرہ پسند ہے اور یقیناً یہ آپﷺ کی توہین ہے۔
یہ تو چند اَمثلہ تھیں ان کے علاوہ بھی کئی ایسے اُمور گنوائے جاسکتے ہیں جو اِہانت رسول پر مبنی ہیں مگر شب و روز...
نبیﷺ کے چہرے کے مقابلے میں کفار کے چہرے کو پسند کرنا
نبی کریمﷺ کا چہرہ کائنات میں ہر شخص سے زیادہ خوبصورت تھا۔ چنانچہ حضرت براء بن عازبفرماتے ہیں کہ آپﷺ کا چہرہ لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھا۔ (صحیح البخاري:۳۵۴۹)
اور حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ
اس میں شک نہیں کہ آپﷺ کا...
قانون سازی میں نبوی تعلیمات کی طرف رجوع نہ کرنا
نبوی تعلیمات تو یہ ہیں کہ قانون سازی اور جھگڑوں کے فیصلوں میں کتاب و سنت کی طرف رجوع کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کسی بھی قانون کے خلاف کوئی قانون نہ بنایا جائے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اور ایک دوسرا ارشاد یوں ہے کہ
لیکن اگر...