• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    کبھی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا میرا ذوق انکی چاہت میرا شوق ان پر مرنا کبھی چلے چلے تھمنا اور تھم کے بیٹھ جانا کبھی لڑ کھڑا کے گرنا اور گر کے پھر سمبھلنا کبھی رات رات رونا کبھی دن چڑھے سسکنا کبھی دریا دریا رہنا کبھی بوند بوند کو ترسنا راہِ عشق سے ہمیشہ کوئی واسطہ ھے اپنا یہی زندگی ھے...
  2. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ہوائے درد چلی اور اس کی یاد آئی لو پھر سے شام ڈھلی اور اس کی یاد آئی کسی نے چپکے سے آ کے ہمیں یوں تھام لیا نظر' نظر سے ملی اور اس کی یاد آئی ذرا سے ہونٹ ہلے تھے کہ اشک بہہ نکلے پھر اک چپ سی لگی اور اس کی یاد آئی کسی کی باتوں کی بارش میں ہم بھی بھیگ کئے کسی نے بات نہ کی اور اس کی یاد آئی
  3. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ہر مُسکرانے والے کو خوش نصیب نہ سمجھو فراز۔ کچھ لوگ مُسکراتے ہیں‌غم چُھپانے کے لیے۔
  4. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    نہیں‌سجدے کیئے ہم نے کبھی غیروں کی چوکھٹ پر۔ ہمیں‌جتنی ضرورت ہو خُدا سے مانگ لیتے ہیں۔
  5. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہ ضروری نہیں‌کہ جس کو چاہا جائے وہ مُقدر ہو ۔ ضروری یہ ہے کہ اتنا ٹوٹ کر چاہا جائے کہ تقدیر ہی بدل جائے۔
  6. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اُس کی آنکھوں‌میں‌کوئی دُکھ بسا ہے شاید۔ یا شاید مجھے خود سے وہم سا ہوا ہے شاید۔ میں‌نے پوچھا کہ بھول گئے ہو تم بھی، پونچھ کر آنکھیں،‌مجھے اُس نے کہا شاید۔
  7. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    دلوں کی امارتوں‌میں‌کبھی بندگی نہیں‌۔ اور پتھر کی مسجدوں میں‌خُدا ڈھونڈتے ہیں‌لوگ۔
  8. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اُس نے دیکھا ہی نہیں‌غور سے اپنی ہتیھلی کو کبھی۔ اُس میں‌دُھندلی سی میرے نام کی بھی لکیر ہو گی۔
  9. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    آج ٹوٹ کر اُس کی یاد آتی تو احساس ہوا فراز۔ اُتر جائیں‌جو دل میں‌ وہ بھولائے نہیں‌جاتے۔
  10. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہ ہم تسلیم کرتے ہیں‌ہمیں‌فُرصت نہیں‌ملتی فراز۔ مگر یہ بھی ذرا سوچو تمہیں‌جب یاد کرتے ہیں تو زمانہ بھول جاتے ہیں۔
  11. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    غم کی موجوں میں ابھرنا سیکھو ڈوب کر پار اترنا سیکھو کربلا والے سبھی زندہ ہیں کربلا والوں سے مرنا سیکھو
  12. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اپنوں نے مجھے اتنے زخم دئیے ہیں کہ اب تو یہ سےنے سے بھی نہ جا پائیں گے دل میں اک ویرانی اور تنہائی سی ھے کوئی تو ہو گا جس کو یہ درد سنائیں گے
  13. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہ محبت کے حادثے اکثر شیشہ دل کو توڑ دیتے ہیں تم تو منزل کی بات کرتے ہو لوگ راہوں میں چھوڑ دیتے ہیں
  14. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    وہ میری طرح ریاضت تو کرے مرنے کی وہ میری طرح تمناؤں کو مارے تو سہی پھر میں ایک ہنستی ہوئی صبح اسے لا کر دوں رات وہ میری لئے رو کے گزارے تو سہی
  15. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اُسے تیری عبادتوں‌پر یقین ہی نہیں‌محسن۔ جس کی خوشیوں‌تو رَب سے رو رو کر مانگتی ہے۔
  16. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اُٹھا تھا وقتِ تہجد اُسے مانگنے کے لیے خُدا سے محسن۔ وہ پہلے ہی کھڑا تھا ہاتھ اُٹھائے کسی اور کے لیے۔
  17. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    طاقت نہیں‌مجھ میں‌کہ اُسے دُنیا سے چھین لوں۔ لیکن خُدا سے مانگنے کا حق تو ہے مجھے۔
  18. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    خؤشی میری تلاش میں‌یونہی پھرتی رہی ۔ کبھی اُسے میرا گھر نہ ملا اور کبھی اُسے میں‌گھر نہ ملا۔
  19. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    بھول جائیں‌گے تم کو یہ تم سے وعدہ ہے فراز۔ بدن سے سانس کا رشتہ تو ٹوٹ جانے دو۔
  20. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    بہت رویا تھا میں‌جب پیدا ہوا تھا اور ہنس رہی تھی دُنیا۔ بدلہ لوں‌گا اِک دن دُنیا سے ہنستا ہوا جائوں‌گا میں‌اور روئے گی دُنیا۔
Top