گھر لوٹ کر پہنچے تو ایسا لگا
کچھ اپنا اپنا مگر بیگانہ سا لگا
سب بدل گئے، کوئی اپنا نہ رہا
ممتا کا پیار تھا، جو اپنا سا لگا
ماں کو اپنے لئے، وہاں تڑپتے پایا
وہی مجھے وہاں، اپنا شناسا لگا
گھر کے درو دیوار، اور میرا بچپن
گررا تھا جہاں، کچھ انجانا سا لگا
ماں کو اب کہاں، ہوش تھا وہاں
بس ایک گود کا وہ...