الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
حضرات مالک، ابو حنیفہ اور احمد رحمہم اللہ کا کہنا ہے کہ انسان جب اپنے سسرال کی طرف سفر کرے یا ایسے شہر سے گزرے جہاں اس کی بیوی رہتی ہو تو نماز قصر کی بجائے مکمل پڑھے گا، کیونکہ بیوی وطن کے حکم میں ہے۔
(أضواء البيان للشنقيطي : 443/1)
”اسلام اور مسلمانوں کو رونے اور رُلانے والوں سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ بلکہ ان سے فائدہ پہنچتا ہے جو خود بھی ڈٹے رہیں، اور دوسروں کو بھی مضبوط کریں؛ اسلام بلند رہنے کیلیے آیا ہے، جھکنے کیلیے نہیں۔“
(شیخ صالح العصيمي حفظه الله)
”ایک روز مجھے دور دراز کے علاقے سے اپنے محبوب کی موت کی خبر پہنچی۔ میں اپنے آپ سے بھاگ کر قبروں کے درمیان جا پہنچا۔ چل رہا تھا اور گنگنا رہا تھا ... اے کاش کہ آج زمین الٹ دی جائے، جو مر گیا ہے وہ اٹھ کھڑا ہو، جو چل رہا ہے وہ دفن ہو جائے! کاش میں اس سانحے سے پہلے ہی مر گیا ہوتا کہ جس نے جگر میں...
ابنِ حزم رحمہ اللہ اپنی داستانِ عشق و فراق کہتے ہوئے لکھتے ہیں ...
”فراق کی ایک صورت موت ہے کہ جس میں واپسی کی کوئی امید نہیں ہوتی۔ یہ آفت گُھلا دیتی ہے، یہ دکھ کمر توڑ دیتا ہے۔ یہ عمر بھر کا روگ ہے، یہی وَیل ہے، اسی کے دم سے شب تاریک ہے۔ ہر امید کو فنا، ہر چاہت کا اختتام، ہر ملاقات سے بیزاری۔...
”اگرچہ وہ مشرق کے ایک کونے میں اور میں مغرب کے دوسرے کونے میں ہوں، مگر ہمارے درمیان محض ایک دن کی مسافت ہے۔ صبح کو سورج طلوع اس کے ہاں سے ہوتا ہے، اور شام کو غروب میرے پاس ہوتا ہے۔“
(طوق الحمامة لابن حزم : 101)
ابن حزم رحمہ اللہ کا ایک عرصہ جدائی کے بعد اپنی لونڈی کو اچانک دیکھنا ...
”ہمارے گھر سے ایک جنازہ اٹھا۔ میں نے اسے دیکھا کہ وہ رونے والیوں کے عین درمیان کھڑی ہے، نوحہ کرتے ہوئے اس کی آواز بلند ہو گئی۔ ہائے!! اس آواز نے میرے دفن شدہ وجدان کو بھڑکا دیا، بے جان لاشے کو حرکت دی، مجھے وہ عہدِ رفتہ،...
طلحہ البغدادی کہتے ہیں : میں امام احمد رحمہ اللہ کے ساتھ کشتی میں سوار ہوا۔ امام صاحب مسلسل خاموش رہتے تھے، جب بولتے تو کہتے : ”اللهم أمتنا على الإسلام والسنة!“ اے اللہ! ہمیں اسلام اور سنت پر موت دینا۔
(طبقات الحنابلة : 179/1)
”علم والے جب جہنم کی حقیقت سمجھ لیتے ہیں تو اپنی ذات کے درپے پر دشمن کو معاف کر دیتے ہیں۔ انہیں گوارا نہیں ہوتا کہ کوئی ان کی وجہ سے جہنم میں ڈالا جائے، بھلا کیسا ہی بڑا مخالف ہو ...“
(محسن بو علی)
”دنیا میں گناہ کے بعد افسوس کے وقت دل میں عجیب بھونچال کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، آخرت میں جو ندامت ہوگی اس کی کیفیت کتنی اذیت ناک ہوگی ! اے ہمارے رب! روزِ قیامت ہمیں رسوائی سے بچانا۔“
(شیخ ابو محمد العادلى حفظه الله)
سردیوں کے غسل کی قضا ...
ایک اعرابی گرمی کے موسم میں نہر پر نہا رہا تھا۔ وہ نہر میں غوطہ لگاتا، باہر آتا، اپنے پاس موجود دھاگے کو گرہ لگاتا، پھر غوطہ لگاتا، باہر آتا اور گرہ لگاتا ؛ اور مسلسل یہی عمل دہراتا۔ ایک بندے نے پوچھا کیا کر رہے ہو؟ کہنے لگا : ”میں سردیوں کے غسل گن لیا کرتا ہوں، پھر...
”او صاحبِ دل جو الٹے قدموں پھر چکے، او اللہ کے ساتھ وقت گزارنے والے جو اپنی روش چھوڑ چکے، سحری کا قیام تمہیں یاد کرتا ہے، دن کا روزہ تمہارے بارے میں پوچھتا ہے، وصال کی راتیں انقطاع آ جانے پر نوحہ کناں ہیں!“
|[ مجموع رسائل ابن رجب رحمه الله : 156/1 ]|
”قرآن مجید روح کا سکون، نفس کا چین، دل کی بہار، باطن کا نور، گفتگو کی چاشنی اور سانسوں کی مہک ہے۔ اس کی توصیف میں جو بھی کہو کم ہے، کہ یہ اللہ کا کلام ہے، اللہ کی طرف لے جانے والی واحد رسی!“
(شيخ صالح العصيمي حفظه الله)